Category: رد شیعت
اللہ نے آدم کو سب نام سکھائے، فرشتوں کو نہیں سکھائے۔ تو آدم کا فرشتوں سے مقابلہ کیسے بنا؟
عنوان: اللہ کی لعنت ہو سوار پر، آگے سے کھینچنے والے پر اور پیچھے سے ہانکنے والے پر
2- اسے ابنِ بزار نے اپنی مسند “البحر الزخار” میں رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہؓ کی مسند میں روایت کیا ہے: انہوں نے کہا کہ ہم سے سکن بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبد الصمد نے بتایا، انہوں نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، اور (دوسری سند) ہم سے حماد بن سلمہ نے سعید بن جمہان کے واسطے سے، انہوں نے حضرت سفینہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر گزرا، جس کے آگے ایک قائد (نکیل پکڑ کر کھینچنے والا) تھا اور اس کے پیچھے ایک سائق (پیچھے سے ہانکنے والا) تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی لعنت ہو قائد (کھینچنے والے)، سائق (ہانکنے والے) اور راکب (سوار) پر۔” ﴿البحر الزخار، جلد 9، صفحہ 182، حدیث: 3246﴾۔
اور ہمارے لیے اس حدیث کی تخریج کی زحمت علامہ ہیثمی نے “مجمع الزوائد” میں اٹھائی ہے، وہ فرماتے ہیں: “اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔” ﴿مجمع الزوائد، جلد 1، صفحہ 113﴾۔
تاہم، بلاذری نے اسے اپنی سند کے ساتھ “انساب الاشراف” میں ان (افراد) کے ناموں کی وضاحت کے ساتھ روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے خلف نے بیان کیا، ہم سے عبد الوارث بن سعید نے سعید بن جمہان کے واسطے سے، انہوں نے حضرت ام سلمہؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہ سے روایت کیا کہ: نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے کہ ابو سفیان ایک اونٹ پر سوار ہو کر گزرے جبکہ معاویہ اور ان کا ایک بھائی ان کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک اونٹ کو آگے سے کھینچ رہا تھا اور دوسرا پیچھے سے ہانک رہا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ کی لعنت ہو اٹھانے والے (اونٹ)، اٹھائے گئے (سوار)، کھینچنے والے اور ہانکنے والے پر۔” ﴿انساب الاشراف، القسم الرابع، الجزء الاول﴾۔
مقدمہ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ م دینِ اسلام کے اولین محافظ، قرآنِ مجید کے حامل اور رسول اللہ ﷺ کے براہِ راست تربیت یافتہ شاگرد ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کو امت تک پہنچایا، اور انہی کے ذریعے قرآن و سنت کی امانت ہم تک منتقل ہوئی۔ اسی لیے ان کے بارے میں گفتگو کرتے وقت عدل، دیانت اور علمی اصولوں کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے۔
آج کے دور میں بعض مقررین اور مصنفین نے اپنی گفتگو کا ایک بڑا حصہ ایسی روایات جمع کرنے میں صرف کر دیا ہے جن سے صحابۂ کرامؓ، خصوصاً سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی اعتراض یا شبہ پیدا کیا جا سکے۔ ان ہی ناموں میں محمد علی مرزا بھی شامل ہیں۔ جس کی تقاریر میں بار بار ایسی روایات پیش کی جاتی ہیں جن سے سامع کے دل میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو، جبکہ ان روایات کی سند، متن اور محدثین کے فیصلے پر عموماً وہ تفصیلی گفتگو نہیں کی جاتی ۔ زیرِ نظر روایت بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے، جسے بڑی شدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا تحقیقی جائزہ ایک بالکل مختلف تصویر سامنے لاتا ہے۔محمد علی مرزا کے الفاظ اس بارے میں کچھ یوں ہیں:
“وہ روایت تھی مسند البزار میں، مجمع الزوائد میں صحیح سند کے ساتھ، کہ نبی علیہ السلام نے تین لوگوں پہ لعنت فرمائی۔
آپ کے سامنے سے ایک اونٹ گزر رہا تھا۔ آپ نے فرمایا:
‘جو اونٹ پر بیٹھا ہوا ہے، اس پر بھی اللہ کی لعنت۔ جو اونٹ کو ہانک رہا ہے، اس پر بھی اللہ کی لعنت۔ اور جس نے اس کی مہار پکڑی ہوئی ہے، اس پر بھی اللہ کی لعنت۔’
یہ روایت ختم ہو جاتی ہے، مسند البزار میں، مجمع الزوائد میں۔ اسے کہا جاتا ہے ‘اونٹ والی حدیث’۔
اونٹ پر بیٹھنے والے پر بھی، ہانکنے والے پر بھی، اور مہار پکڑنے والے پر بھی۔ کیوں لعنت؟ یہ بندے کون ہیں؟ کوئی ذکر نہیں۔
انساب الاشراف میں موجود ہے کہ وہ تین بندے کون تھے جن پر اصل میں لعنت کی گئی تھی۔
انساب الاشراف میں لکھا ہے کہ اونٹ پر یزید کے دادا ابو بیٹھے ہوئے تھے۔ ہاں جی، اونٹ کی مہار یزید کے ابا جی کے ہاتھ میں تھی، اور اونٹ کو ہانکنے والا یزید کا چچا تھا۔ چچا، ایک چشتی چاچو تھا نا، ایک یزید کا بھی چاچو آیا ہے۔
تو اب یہ تین نام میں نے اس لیے نہیں بتائے کہ اب وہ کلپ کو کاٹیں گے۔ میں نے آپ کو اشارتاً بتا دیا کہ اونٹ پر یزید کا دادا بیٹھا ہوا تھا، مہار اس کے ابے کے ہاتھ میں تھی، اور ہانکنے والا اس کا چچا تھا۔ نام آپ سب کو پتا ہے، ورنہ ہمارے سٹوڈنٹس کمنٹس میں خود لکھ دیں گے، یہ تین بندوں کے نام۔”
شیعہ بھی اس روایت کے ذریعے ان حضرات پر طعن کرتے ہیں ۔محمد علی مرزا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ پر سوار تین افراد پر لعنت فرمائی تھی، اور پھر أنساب الأشراف کی ایک روایت کی بنیاد پر اشاروں کنایوں میں ان تینوں افراد کو سیدنا ابو سفیانؓ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی کے ساتھ جوڑ دیا۔اس کہ بعد محمد علی مرزا نے اعتراف کیا کہ یہ روایت تو دور انساب الاشراف کتاب ہی ثابت نہیں ہے۔البتہ جو فتنہ پیدا ہونا تھا ہو ہوگیا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ انہوں نے ان حضرات کے نام براہِ راست لینے کے بجائے بار بار “یزید کا دادا”، “یزید کا ابا” اور “یزید کا چچا” جیسے الفاظ استعمال کیے۔
کاٹا ہو پر فتن کلپ
مکمل وضاحت والا کلپ
یہ طرزِ بیان خود غور طلب ہے۔ اگر مقصد صرف ایک تاریخی روایت بیان کرنا تھا تو سیدنا ابو سفیانؓ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی کے معروف نام لینے میں کیا رکاوٹ تھی؟ ان کے بجائے بار بار “یزید” کی نسبت اختیار کرنا بظاہر سامع کے ذہن میں ایک خاص تاثر پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے، کیونکہ جن لوگوں کے نزدیک یزید ایک نہایت منفی شخصیت ہے، ان کے سامنے صحابۂ کرام کے ناموں کے بجائے مسلسل اسی کی نسبت دہرانا نفسیاتی اثر ضرور چھوڑتا ہے۔یوں سمجھ لیں کہ کیونکہ ان کے نزدیک یزید ایک گالی ہے اسی لیے یہ بار بار اسے صحابہ کے ساتھ منسوب کر رہا ہے۔
اگر یہی اسلوب کسی دوسرے مقام پر اختیار کیا جائے تو کیا اسے پسند کیا جائے گا؟ مثال کے طور پر اگر کوئی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ہر مرتبہ یہ کہے کہ “یزید کی پھوپھی ” تو کیا اس اندازِ بیان کو علمی اور منصفانہ کہا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ ایسی تعبیرات اصل تاریخی حقیقت بیان کرنے کے بجائے سامع کے ذہن پر ایک خاص نفسیاتی اثر ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
محمد علی مرزا خود کو نئی نسل کا استاد قرار دیتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو نئی نسل کو سب سے پہلے یہ سکھایا جانا چاہیے کہ اختلافِ علمی میں بھی زبان شائستہ، منصفانہ اور ذمہ دارانہ ہو۔ خصوصاً جب معاملہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کا ہو، جن کے بارے میں قرآن و سنت میں ادب و احترام کی واضح تعلیم موجود ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کی نئی نسل کو الحاد، دینی جہالت، نماز سے غفلت، حرام ذرائعِ آمدن، اخلاقی زوال اور بے عملی جیسے بے شمار فتنوں کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کسی تاریخی روایت کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ سامع کے دل میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے بارے میں نفرت یا بدگمانی پیدا ہو، تو اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایسی ہر روایت کو جذبات سے ہٹ کر اصولِ حدیث، اقوالِ محدثین، تاریخی شواہد اور عقلی دلائل کی روشنی میں پرکھا جائے، نہ کہ محض خطیبانہ انداز یا نفسیاتی تاثر کی بنیاد پر قبول کر لیا جائے۔
غیر ثابت روایات کو عوام کے سامنے بیان کرنے کی قباحت
دینی دعوت اور علمی تحقیق میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ ہر روایت عوام کے سامنے بیان کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ خصوصاً ایسی روایات جو سنداً ثابت نہ ہوں، یا ایسی کتابوں میں موجود ہوں جن کی نسبت ہی اہلِ علم کے نزدیک محلِ نظر ہو، انہیں لاکھوں عام لوگوں کے سامنے پیش کرنا بہت بڑے فتنہ کا سبب بن سکتا ہے۔
اس مسئلے کی ایک نمایاں مثال وہ روایت ہے جس میں تین اشخاص پر لعنت کا ذکر کیا جاتا ہے، اور بعض شیعہ مصنفین یا مقررین اس روایت کو سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، ان کے والد سیدنا ابو سفیان اور ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان پر منطبق کرتے ہیں۔ اہلِ سنت کے نزدیک یہ روایت ثابت نہیں، بلکہ جس کتاب میں یہ روایت مذکور ہے، خود اس کتاب کی نسبت کو بھی اہلِ علم نے محلِ نظر قرار دیا ہے۔
محمد علی مرزا نے اس روایت کا ذکر ایک “الزامی جواب” کے طور پر کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اگر مخالف فریق اپنی پسند کی غیر ثابت روایات کو دلیل بناتا ہے تو اسی نوعیت کی دوسری روایات بھی موجود ہیں۔ بعد میں اسی گفتگو میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نہ یہ روایت قابلِ اعتماد ہے اور نہ ہی وہ کتاب ثابت ہے، اور اس ضمن میں شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ جیسے محدث کا حوالہ بھی دیا گیا۔
اگرچہ علی مرزا کا مقصود روایت کو صحیح ثابت کرنا نہیں تھا، لیکن یہاں ایک اہم اصولی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی روایت کو ابتدا ہی میں لاکھوں عوام کے سامنے بیان کرنا مناسب تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ عام لوگ اصولِ حدیث، جرح و تعدیل، اسانید، اور کتبِ حدیث کے مراتب سے واقف نہیں ہوتے۔ وہ اکثر گفتگو کا صرف ایک حصہ سنتے ہیں، جبکہ بعد کی وضاحت یا علمی تفصیل ان تک نہیں پہنچتی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر مختصر کلپس، ریلز اور شارٹس عام ہو چکے ہیں، جن میں گفتگو کا ایک چھوٹا سا حصہ الگ کرکے پھیلایا جاتا ہے۔ ایسا ہو ہے محمد علی مرزا کی کئی گھنٹے کی ویڈیو میں چند سیکنڈ کا ایسا حصہ نکال لیا جائے جس میں صرف روایت بیان کی گئی ہے ، اب دیکھنے والے کے ذہن میں یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ شاید یہ روایت درست اور قابلِ استدلال ہے۔
آج فیس بک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی متعدد مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں صرف اسی روایت یا اسی قسم کے مختصر کلپس کو پھیلایا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے یا متعلقہ کتاب ہی ثابت نہیں، تو بعض لوگ علمی تحقیق کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں، اسے مختلف القابات دیتے ہیں، اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا روایت کو صرف اس لیے رد کیا جا رہا ہے کہ اس میں بعض صحابہ کا ذکر آ گیا ہے۔ اس طرح تحقیق کی جگہ تعصب لے لیتا ہے، اور فتنہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فقہ کا عظیم اصول سدِّ ذرائع سامنے آتا ہے۔
سدِّ ذرائع کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی جائز کام بھی کسی بڑے فساد، گمراہی یا خرابی کا ذریعہ بن رہا ہو تو اس راستے کو بند کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر غیر محرم کی طرف بار بار نظر کرنا زنا تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے شریعت نے اس سے بھی منع فرمایا۔ اسی اصول کی بنا پر بہت سے ایسے امور سے روکا جاتا ہے جو براہِ راست حرام نہیں ہوتے، لیکن ان کا انجام فساد ہوتا ہے۔
اسی اصول کو دعوت اور تدریس میں بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اگر معلوم ہو کہ کوئی غیر ثابت روایت لاکھوں عوام کے سامنے بیان کرنے سے غلط فہمی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بدگمانی، یا فرقہ وارانہ فساد پیدا ہوگا، تو علی مرزا کو چاہیے تھا کہ ایسی روایت کوالزامی جواب بیان کرنے کے بجائے ابتدا ہی میں واضح کر دینا زیادہ مناسب ہے کہ یہ جیسے مخالفین پیش کر رہیں ہیں وہ روایت ثابت نہیں، حتی متعلقہ کتاب ہی قابلِ اعتماد نہیں۔ اس سے مقصد بھی حاصل ہو جاتا ہے اور فتنہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔
اس حقیقت کو ایک ذاتی تجربہ بھی واضح کرتا ہے۔ میں خود ایک عرصہ تک انہی بیانات کو سنتا رہا۔ جب پہلی مرتبہ یہ روایت سنی تو میرے ذہن میں یہی تاثر پیدا ہوا کہ شاید واقعی رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاویہ، سیدنا ابو سفیان اور یزید بن ابی سفیان پر لعنت فرمائی ہے۔ بعد میں جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ روایت ہی ثابت نہیں اور متعلقہ کتاب بھی قابلِ اعتماد نہیں۔ لیکن اس وقت تک پہلا تاثر ذہن میں راسخ ہو چکا تھا۔ یہی کیفیت میرے کئی دوستوں کی بھی تھی۔ ہم اس روایت کو درست سمجھتے رہے، یہاں تک کہ بعض اوقات اس بنیاد پرصحابہ اکرام پر مذاق بھی کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس کوتاہی کو معاف فرمائے۔
یہی انسانی نفسیات ہے کہ انسان کو متنازع اور چونکا دینے والی بات جلد یاد رہ جاتی ہے، جبکہ اس کے بعد آنے والی علمی تفصیلات اور احتیاطیں اکثر ذہن سے محو ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر جب لیکچر کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل ہو، تو ہر شخص پوری گفتگو کو یاد نہیں رکھتا، بلکہ صرف وہی حصہ یاد رہ جاتا ہے جو زیادہ حیران کن یا جذباتی ہو۔
اسی لیے دعوت و اصلاح کے میدان میں مقررین کی ذمہ داری عام لوگوں سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ علی مرزا جیسا شخص جس کے لاکھوں سامعین ہیں ، اس کی ہر بات خطرناک اثرات رکھتی ہے۔ اگر وہ کسی ضعیف یا غیر ثابت روایت کا ذکر کرے، تو اس کے بعد کی وضاحت ہرگز اس بات کی ضمانت نہیں کہ تمام سامعین وہ وضاحت بھی سنیں گے یا اسے یاد بھی رکھیں گے۔ اس کے برعکس مختصر کلپس، سوشل میڈیا پوسٹس اور جذباتی اقتباسات زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں، اور انہی کی بنیاد پر لوگوں کے عقائد و تصورات تشکیل پاتے ہیں۔
اس لیے مناسب طرزِ عمل یہی ہے کہ عوام کے سامنے وہی روایات بیان کی جائیں جو ثابت ہوں، اور اگر کسی باطل استدلال کا رد مقصود ہو تو پہلے اس روایت یا کتاب کی حیثیت واضح کر دی جائے، یا حتیٰ الامکان ایسی غیر ثابت روایات کے ذکر سے اجتناب کیا جائے، تاکہ فتنہ کا دروازہ کھلنے ہی نہ پائے۔
یہ طریقہ نہ صرف اصولِ حدیث کے مطابق ہے بلکہ فقہ کے اصول سدِّ ذرائع سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے، کیونکہ شریعت کا مقصد صرف صحیح بات بیان کرنا نہیں بلکہ ایسے تمام ذرائع کو بھی بند کرنا ہے جو بعد میں گمراہی، غلط فہمی یا مسلمانوں کے درمیان فساد کا سبب بن جائیں۔
روایت کی سند کا جائزہ
کسی بھی روایت پر علمی گفتگو کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کا اصل متن اور بنیادی مصادر قاری کے سامنے رکھ دیے جائیں، تاکہ بحث براہِ راست اصل روایت پر ہو، نہ کہ اس کے بارے میں سنی سنائی باتوں پر۔ اسی اصول کے تحت پہلے اس روایت کا متن اور پھر اس کی تخریج پیش کی جاتی ہے۔
أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له ، أحدهما يقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسولﷺ: لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسابق
نبی ﷺبیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اونٹ پر سوار ہوئے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا، ان کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ایک بھائی تھے، ان میں سے ایک اونٹ کو چلا رہا تھا اور دوسرا ہانک رہا تھا۔ تو نبی ﷺنے فرمایا: اللہ کی لعنت ہو سواری پر، اور سوار پر، نیز چلانے والے پر، اور ہانکنے والے پر ۔
﴿انساب الاشراف للبلاذري: ط، دار الفكر: 5/ 136 و اخرجہ البزار فی مسندہ ﴿9/ 286﴾ من طریق سعیدبن جمھان بہ نحوہ﴾
یہ روایت کئی علتوں کی وجہ سے باطل ہے۔
علت نمبر 1 (کتاب ہی ثابت نہیں) :
زیرِ بحث روایت کا ایک اہم ماخذ أنساب الأشراف ہے، لیکن اس کتاب کے موجودہ مطبوعہ نسخے کے حوالے سے ایک بنیادی اشکال یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کی اصل سند معلوم نہیں۔ یعنی بلاذریؒ سے اس کتاب کو روایت کرنے والے راوی کا نام واضح طور پر معلوم نہیں، جس کی وجہ سے اس کے موجودہ نسخے کی سند کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے۔
اسی بنا پر بعض اہلِ علم نے انساب الاشراف کے موجودہ مطبوعہ نسخے سے استدلال کرتے وقت احتیاط کی تلقین کی ہے، خصوصاً ایسی روایات میں جو صحیح اور ثابت احادیث کے خلاف معلوم ہوں۔
چنانچہ حافظ زبیر علی زئیؒ لکھتے ہیں:
أنساب الأشراف کے مطبوعہ نسخے کی اصل سند نامعلوم ہے، اور بلاذری سے اس کتاب کے راوی کا نام معلوم نہیں۔ نیز اس کتاب میں متعدد ایسی روایات موجود ہیں جو صحیحین اور دیگر صحیح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے منکر اور مردود ہیں۔
﴿مقالات حافظ زبیر علی زئی:13 جون 2013ء :الحدیث رسالہ :ص :108 ﴾
علت نمبر 2 (راوی کی صراحت نہ ہونا) :
اس روایت کا پہلا راوی ” خلف” ہے۔
اور بلاذری کے رواۃ میں سے خلف نام کے دو راوی ہیں
1- خلف بن ھشام (یہ ثقہ ہے)
2- خلف بن سالم ( یہ ہے تو صدوق لیکن اس پر تشیع اورصحابہ کی خامیوں پر غریب روایتیں جمع کرنے کا الزام ہے)
پہلی بات : یہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا خلف نامی راوی ہے۔
دوسری بات : زیادہ درست بات یہی معلوم ہوتی ہے اس میں خلف بن سالم راوی مراد ہے ۔
اس کے متعلق
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
خلف بن سالم مخرمی یہ ثقہ حافظ ہے۔۔۔۔۔ اور اس پر تشیع کا الزام ہے۔۔۔۔
﴿تقریب التھذیب: ص299﴾
علامہ ذھبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
عبد الخالق سے مروی ہے ابن معین نے اسکو صدوق کہا ہے۔میں نے کہا : وہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ کی خامیوں کو بیان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا: وہ انہیں جمع تو کرتے تھے، لیکن انہیں بیان نہیں کرتے تھے۔
﴿میزان الاعتدال: ج:1 ، ص: 660﴾
اسی طرح علامہ ذہبی رحمہ اللّٰہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
خلف سالم اپنے وسیع حافظے کی وجہ سے وہ غریب احادیث کا پیچھا کرتا تھا (یعنی انکو جمع کرتا تھا)۔
پھر امام احمد سے روایت کرتےہیں:
وابوبکر المروذی نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ (امام احمد بن حنبل)رحمہ اللہ سے ان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا میں انہیں جھوٹ بولتے ہوئے نہیں جانتا، لوگوں نے ان پر یہ الزام لگایا کہ وہ غریب احادیث کی تلاش کرتے ہیں۔
﴿میزان الاعتدال : ج:1 ، ص :149﴾
اور شاید یہی وجہ ہے کہ امام ابو داود اس سے روایت کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اما ابو عبید آجری رحمہ نے کہا کہ امام ابو داود رحمہ اللہ خلف بن سالم سے روایت نہین کرتے تھے۔
﴿سیر اعلام النبلاء: ج:11،ص: 660﴾
شیعہ اور علی مرزا کے مقلدین سے گزارش ہے کہ راوی کی صراحت اور توثیق پیش کریں۔
علت نمبر 3(مجہول راریوں کی موجودگی) :
عبد الوارث بن سعید بن جمھان مجھول الحال ہے۔
اس کی وہ سند مسند البزار میں موجود ہے ، جس میں معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد اور بھائی کے نام مذکور نہیں ،اس میں السکن بن سعید راوی مجھول ہے ، لہذا یہ سند بھی ثابت نہیں۔
شیعہ اور علی مرزا کے مقلدین سے گزارش ہے کہ ان راویوں کے حالات بیان کریں۔
علت نمبر 4(سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مرویات پر کلام) :
اس روایت کی ایک بڑی علت یہ ہے کہ اسے سعید بن جمہان، سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے ہیں، جبکہ محدثین نے خصوصاً سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے ان کی مرویات کے بارے میں کلام کیا ہے۔
چنانچہ امام ابو داؤد فرماتے ہیں:
سعید بن جمہان ان شاء اللہ ثقہ ہے اور کچھ محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے انہیں اس کے سفینہ والے طریق سے خوف ہے۔
﴿تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی) :جلد: 10 ،ص: 377﴾
علت نمبر 5(سعیدکا تفرد) :
اس روایت کی دوسری علت اس میں سعید بن جمہان کا تفرد ہے۔ محدثین کے نزدیک ہر ثقہ یا صدوق راوی کا تفرد یکساں درجے کا نہیں ہوتا، بلکہ بعض رواۃ ایسے ہوتے ہیں جن کی منفرد روایات کو قبول کرنے میں احتیاط برتی جاتی ہے۔ سعید بن جمہان بھی انہی رواۃ میں شمار ہوتے ہیں۔
امام ابنِ حجررحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
سعید چوتھے طبقہ کا صدوق راوی ہے اس سے منفرد روایات مروی ہیں۔
﴿تہذیب التھذیب : جلد :2 ،ص: 234﴾
امام ابنِ حجر رحمہ اللہ اس کے بارے میں تفصیل سے فرماتے ہیں امام ابو حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کی روایت لکھی جائے گی لیکن حجت قائم نہیں کی جائے گی امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی حدیثیں عجیب ہیں امام ساجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی حدیث کی اتباع نہیں کی گئی ۔
﴿تہذیب التھذیب : جلد: 2،ص: 11﴾
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“سعید بن جمہان صالح الحدیث ہیں، لیکن ان سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔”
﴿دیوان الضعفاء والمتروکین:ص: 156﴾
اسی طرح ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
“یہ اوسط درجے کے صدوق راوی ہیں، اور امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں کہ ان سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔”
﴿الکاشف:ج 1، ص: 433﴾
مزید برآں امام ذہبی رحمہ اللہ صدوق راوی کے تفرد کا اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“اگر ثقہ راوی کسی روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت صحیح غریب ہوتی ہے، لیکن اگر صدوق راوی منفرد ہو تو اس کی روایت منکر شمار ہوتی ہے۔”
﴿میزان الاعتدال:ج: 3، ص :170﴾
اسی منہج کی عملی مثال امام بخاریرحمہ اللہ کے ہاں بھی ملتی ہے۔ انہوں نے سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت نقل کرنے کے بعد صراحت کی:
“اس کی متابعت نہیں کی گئی۔”
پھر امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ بھی ذکر کیا کہ سعید بن جمہان خود بیان کرتے تھے کہ وہ مکہ میں سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کے پاس آٹھ راتیں رہے اور ان سے احادیث دریافت کرتے رہے۔
﴿التاریخ الکبیر: ج :3، ص: 117﴾
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ بھی سعید بن جمہان کی ایسی منفرد روایات کو بلا تحقیق قبول نہیں کرتے تھے جن کی کوئی متابعت موجود نہ ہو۔
اسی وجہ سے زیرِ بحث روایت، جو سعید بن جمہان عن سفینہ رضی اللہ عنہ کے منفرد طریق سے مروی ہے، محدثین کے اصول کے مطابق قابلِ استدلال نہیں رہتی۔
اسی طرح تاریخ طبری میں بھی یہ واقعہ بلا سند مذکور ہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ روایت کسی معتبر اور صحیح سند کے ساتھ منقول ہے، بلکہ اس کے تمام معروف طرق علتوں سے خالی نہیں ہیں۔ ایسے میں اس روایت کو بنیاد بنا کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کے بارے میں اتنا سنگین حکم لگانا علمی دیانت اور محدثین کے منہج، دونوں کے خلاف ہے۔
روایت کا متن اور رسول اللہﷺ کی سیرت
قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت رحمت، حلم اور عفو و درگزر سے بھرپور تھی۔ آپ ﷺ بلا وجہ کسی معین شخص پر لعنت کرنے والے نہ تھے، بلکہ عام حالات میں سخت ترین الفاظ بھی استعمال نہیں فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زیرِ بحث روایت کا متن بھی صحیح احادیث سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس سلسلے میں دو صحیح احادیث ملاحظہ فرمائیں:
پہلی حدیث :
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺفحش گو نہیں تھے، نہ آپ لعنت ملامت کرنے والے تھے اور نہ گالی دیتے تھے، آپ کو بہت غصہ آتا تو صرف اتنا کہہ دیتے، اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی پہ خاک لگے۔
﴿صحیح بخاری : 6046﴾
دوسری حدیث :
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ ﷺکی خدمت میں دو آدمی حاضر ہوئے اور آپ سے کسی چیز کے بارے میں گفتگو کی، مجھے معلوم نہیں وہ کیا مسئلہ تھا تو آپ کو غصہ دلادیا، چنانچہ آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور سخت کلامی کی تو جب وہ دونوں چلے گئے میں نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ!اور کسی کو تو خیر میسر آسکتی ہے یہ دونوں تو اس کو حاصل نہیں کر سکتے، آپ نے پوچھا “یہ کیوں؟”میں نے کہا، آپ نے ان پر لعنت بھیجی ہے اور ان کو برابھلا کہا ہے آپ نے فرمایا:”کیا تمھیں معلوم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا طے کیا ہے،کیا شرط کی ہے؟ میں نے کہا ہے اے اللہ! میں صرف بشر ہوں(الہ نہیں ہوں)تو جس مسلمان پر میں لعنت بھیجوں یا اس کو برا بھلا کہوں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور اجرکا باعث بنا دے۔”
﴿صحیح مسلم : 6614﴾
ان صحیح احادیث کی روشنی میں زیرِ بحث روایت کا متن انتہائی محلِ نظر معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی موقع پر تین معین افراد، بلکہ ان کی سواری تک پر لعنت فرمائی، جبکہ آپ ﷺ کی ثابت شدہ سیرت اس کے برعکس رحمت، حلم اور مسلمانوں کے لیے خیر خواہی پر مبنی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اس روایت کو صرف سند ہی کے اعتبار سے نہیں، بلکہ متن کے اعتبار سے بھی قابلِ تحقیق قرار دیا ہے۔
اگر ایک لمحے کے لیے یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ روایت صحیح ہے، تب بھی اس سے ایسے متعدد عقلی، شرعی اور تاریخی اشکالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب دینا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین کسی روایت کو صرف سند کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کے متن، تاریخی حقائق اور دیگر صحیح نصوص کی روشنی میں بھی پرکھتے تھے۔
اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ واقعی ملعون تھے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کیوں کی؟
رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں پہلے ہی خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرا دے گا۔(صحيح البخاری: 3746) بعد میں یہی ہوا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے امت کے اتحاد کی خاطر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی جماعت ایک قیادت پر جمع ہو گئی اور اس سال کو عام الجماعۃ کہا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ واقعی رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے ملعون قرار پا چکے تھے، تو کیا نواسۂ رسول ﷺ ایک ایسے شخص کے سپرد امت کی قیادت کر سکتے تھے؟ کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اس حقیقت سے بے خبر تھے، یا پھر اس روایت کی بنیاد ہی محلِ نظر ہے؟
کیا ایک ملعون شخص کو کاتبِ وحی بنایا جا سکتا ہے؟
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے کاتبِ وحی تھے۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ایک عظیم امانت تھی، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے لکھنے کے لیے چند منتخب صحابہ رضی اللہ عنہ پر اعتماد فرمایا۔
اگر کوئی شخص پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت کا مستحق قرار پا چکا ہو، تو کیا رسول اللہ ﷺ اسے وحی لکھنے جیسے مقدس منصب پر برقرار رکھتے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی حکمت اور منصبِ نبوت کے شایانِ شان معلوم ہوتا ہے؟
کیا ایک ملعون شخص کی قیادت میں نکلنے والے لشکر کو جنت کی بشارت دی جا سکتی ہے؟
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سمندر کے راستے جہاد کرنے والے پہلے لشکر کو جنت کی بشارت دی۔(صحيح البخاری: 2895) تاریخی طور پر یہ بھی معلوم ہے کہ اس لشکر کی قیادت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی۔
اب اگر یہی شخصیت رسول اللہ ﷺ کی لعنت کا مستحق تھی، تو پھر اسی کی قیادت میں نکلنے والے لشکر کو جنت کی بشارت کیسے دی جا سکتی ہے؟ ایک طرف لعنت اور دوسری طرف جنت کی بشارت، یہ دونوں باتیں ایک ہی شخص کے بارے میں بیک وقت کیسے درست ہو سکتی ہیں؟
اگر کوئی شخص پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت کا مستحق قرار پا چکا ہو، تو کیا رسول اللہ ﷺ اسے وحی لکھنے جیسے مقدس منصب پر برقرار رکھتے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی حکمت اور منصبِ نبوت کے شایانِ شان معلوم ہوتا ہے؟
کیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ ایک ملعون شخص کے پیچھے نماز پڑھتے اور اس کی بیعت کرتے؟
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بہت سے اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ انہوں نے ان کے ساتھ معاملات کیے، ان کی امارت میں جہاد کیا، اور مسلمانوں کا اجتماعی نظام ان کے دور میں قائم رہا۔
اگر رسول اللہ ﷺ نے کھلے الفاظ میں ان پر لعنت فرمائی ہوتی، تو کیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اس حقیقت سے ناواقف رہ سکتے تھے؟ اور اگر وہ اس سے واقف تھے، تو پھر ان کا عملی طرزِ عمل اس کے بالکل برعکس کیوں نظر آتا ہے؟
کیا رسول اللہ ﷺ امت کو اس عظیم خطرے سے واضح طور پر آگاہ نہ کرتے؟
رسول اللہ ﷺ کا منصب صرف وحی وصول کرنا نہیں تھا بلکہ اسے پوری امانت کے ساتھ امت تک پہنچانا بھی تھا۔اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مستقبل میں امت کے لیے اتنے بڑے فتنے کا سبب بننے والے تھے کہ ان پر لعنت فرمائی گئی، تو کیا رسول اللہ ﷺ امت کو واضح الفاظ میں اس سے خبردار نہ کرتے؟ کیا آپ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ:
“اس شخص کو کبھی اپنا حاکم نہ بنانا۔”یا”اس کی اقتدا اور اطاعت سے بچنا۔”
حالانکہ اس کے برعکس کسی صحیح حدیث میں ایسی کوئی واضح اور دوٹوک ہدایت موجود نہیں۔
اتنا بڑا واقعہ صرف ایک غیر معروف روایت میں کیوں محفوظ رہا؟
اگر رسول اللہ ﷺ نے ایک مجلس میں سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی پر لعنت فرمائی ہوتی، تو یہ معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ میں مشہور ہوتا، متعدد صحابہ اور ثقہ راوی اسے روایت کرتے، اور حدیث کی بنیادی کتابوں میں مختلف صحیح اسانید سے محفوظ ہوتا۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پورے دعوے کی بنیاد ایک ایسی روایت پر ہے جس کی سند پر خود محدثین نے کلام کیا ہے اور جس کے تمام معروف طرق علتوں سے خالی نہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے کبھی اس روایت سے استدلال کیوں نہیں کیا؟
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ ایک تاریخی حقیقت ہیں، لیکن کسی صحیح سند سے یہ ثابت نہیں کہ سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے جلیل القدر صحابی نے کبھی اس روایت کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بطور دلیل پیش کیا ہو۔
اگر یہ روایت واقعی صحیح، اور قطعی ہوتی، تو سب سے پہلے اسی دور کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اس سے استدلال کرتے، نہ کہ صدیوں بعد اسے بنیاد بنا کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی عدالت پر حملہ کیا جاتا۔
اگر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی تھی تو:
یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب اس روایت کو صحیح ماننے والوں کو دینا چاہیے۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺاپنے کسی سفر پر جارہے تھے اور ایک انصاری عورت ایک اونٹنی پر سوار تھی، اس سے اکتا گئی اور اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی رسول اللہ ﷺنے بھی اس کو سن لیا، چنانچہ فرمایا:”اس پر جو سازو سامان ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑدو۔ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔”حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، گویا کہ میں اسے بھی لوگوں میں چلتی پھرتی دیکھ رہا ہوں، کوئی شخص اس سے تعرض نہیں کر رہا۔”
﴿صحیح مسلم : 6604﴾
غور کیجیے! ایک جانور پر لعنت ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس سے بھی اجتناب کرنے کا حکم دیا، کیونکہ لعنت اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی علامت ہے۔
اب اگر زیرِ بحث روایت کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ، جنہیں اس روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے خود لعنت فرمائی، وہ اس اونٹنی سے بھی کم درجے کے ٹھہرتے ہیں جس پر صرف ایک عورت نے لعنت کی تھی۔
پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ ایک لعنت زدہ شخص کو اپنے کاتبِ وحی کے منصب پر برقرار رکھیں؟
اسی شخص پر اعتماد کرتے ہوئے وحیِ الٰہی لکھوائیں؟
بعد میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اسی شخص سے صلح کریں اور امت کی خلافت اس کے سپرد کر دیں؟
اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اس کی امارت کو قبول کریں، اس کے ساتھ نماز ادا کریں اور مسلمانوں کا اجتماعی نظام اس کے دور میں قائم رہے؟
اگر ایک جانور پر لعنت ہونے کے بعد اس سے دور رہنے کی تعلیم دی جا رہی ہے، تو پھر ایک ایسے انسان کو—جو معاذ اللہ واقعی رسول اللہ ﷺ کی لعنت کا مستحق ہو—اتنے عظیم مناصب اور ایسی عظیم ذمہ داریاں کیسے سونپی جا سکتی ہیں؟
کے اختتام پر میں ایک ذاتی بات ضرور کہنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ایک وقت میں محمد علی مرزا کی ویڈیوز سے شدید متاثر تھے۔ میں نے یہ روایت بھی سب سے پہلے انہی کی زبان سے سنی تھی۔
جب میں نے ان کی یہ گفتگو سنی تو میرے دل میں سیدنا امیر معاویہ کے بارے میں شدید نفرت پیدا ہو گئی۔ میں نے اس روایت کی سند نہیں دیکھی، محدثین کی تحقیق نہیں پڑھی، نہ ہی اس کے متن پر غور کیا۔ میں نے صرف یہ سمجھ لیا کہ چونکہ مرزا صاحب یہ بات پوری قوت کے ساتھ بیان کر رہے ہیں، اس لیے یقیناً یہ درست ہوگی۔
بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے تحقیق کی توفیق دی تو معلوم ہوا کہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ کسی یوٹبری سکالر پر اندھا اعتماد کرنا انسان کو کس قدر بڑی غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہے۔
میں شیعہ اور محمد علی مرزا کے مقلدین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ اس روایت کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت کی دلیل سمجھتے ہیں تو اس مضمون میں پیش کیے گئے تمام علمی، حدیثی، عقلی اور تاریخی دلائل کا مفصل جواب دیں۔ صرف ایک روایت پڑھ دینا یا چند علماء کے اقوال نقل کر دینا کافی نہیں، بلکہ ان تمام اشکالات کا جواب بھی ضروری ہے:
محدثین کی جرح و تعدیل کا جواب۔
اور ان تمام عقلی و تاریخی سوالات کا جواب جو اس روایت کو صحیح ماننے سے لازم آتے ہیں۔
خاص کر:
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی صلح کا جواب۔
کاتبِ وحی ہونے کا جواب۔
میں محمد علی مرزا کے تمام مقلدین اور سامعین سے بھی ایک مخلصانہ گزارش کرتا ہوں کہ شخصیتوں کی تقلید چھوڑ کر دلیل کی پیروی کریں۔ اگر ہمارا یہ جواب غلط ہے تو اسے قرآن، صحیح سنت اور ائمۂ حدیث کے اصولوں کی روشنی میں رد کر دیں، اور اگر یہ دلائل درست ہیں تو صرف اس وجہ سے انہیں رد نہ کریں کہ یہ آپ کے پسندیدہ یوٹبری سکالر کے خلاف ہیں کیونکہ مسلمان کی اصل نسبت کسی یوٹبری سکالر ، عالم یا داعی سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح سنت سے ہونی چاہیے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی محبت، انصاف اور علمی دیانت سے مزین فرمائے۔
خلاصہ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم دینِ اسلام کے اولین محافظ اور قرآن و سنت کے امین ہیں، اس لیے ان کے بارے میں کوئی بھی دعویٰ قبول کرنے سے پہلے اس کی سند، متن اور محدثین کے فیصلے کا تحقیقی جائزہ لینا ضروری ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں محمد علی مرزا کی جانب سے بیان کی جانے والی “اونٹ والی حدیث” کا اصولِ حدیث، اقوالِ محدثین، تاریخی شواہد اور عقلی دلائل کی روشنی میں مفصل جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اس مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ روایت متعدد سندی علتوں سے معلول ہے، بلکہ جس کتاب انساب الاشراف سے اس کی تفصیل نقل کی جاتی ہے، اس کے موجودہ نسخے کی نسبت بھی اہلِ علم کے نزدیک محلِ نظر ہے۔ مزید برآں، اس روایت کے رواۃ، اس کے تفرد، اور اس کے متن پر محدثین کے اقوال سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس روایت کو سیدنا ابو سفیان، سیدنا امیر معاویہ اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم کے خلاف دلیل بنانا علمی اصولوں کے خلاف ہے۔
مضمون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر بالفرض اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے متعدد شرعی، تاریخی اور عقلی اشکالات لازم آتے ہیں، جن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح، ان کا کاتبِ وحی ہونا، ان کی قیادت میں جہاد کرنے والے لشکر کے لیے جنت کی بشارت، اور اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ان کی امارت کو قبول کرنا جیسے اہم مسائل شامل ہیں، جن کا کوئی معقول جواب موجود نہیں۔
اسی کے ساتھ مضمون میں اس اصولی مسئلے پر بھی گفتگو کی گئی ہے کہ غیر ثابت روایات کو “الزامی جواب” کے نام پر عوام کے سامنے بیان کرنا کس طرح فتنہ، غلط فہمی اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بدگمانی کا سبب بن سکتا ہے، اور دعوت و تدریس میں سدِّ ذرائع کے اصول کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
آخر میں قارئین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ شخصیتوں کے بجائے قرآن، صحیح سنت اور ائمۂ حدیث کے منہج کو معیار بنائیں، ہر روایت کو تحقیق کے بعد قبول کریں، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں عدل، ادب اور علمی دیانت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
واللہ اعلم بالصواب
علمی تدوین و اضافہ
محمد اویس سبحانی
محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔