Category: قرآن
سورۃ الفاتحۃ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿۱﴾
«(بسم) جار ومجرور متعلق بمحذوف خبر. والمبتدأ محذوف تقديره: ابتدائي (الله) لفظ الجلالة مضاف إليه مجرور وعلامة الجر الكسرة. (الرحمن) نعت للفظ الجلالة تبعه في الجر. (الرحيم) نعت ثان للفظ الجلالة تبعه في الجر.»وجملة: «الحمد لله .. » لا محل لها ابتدائية.
﴿کتاب:جدول الاعراب في القران﴾
«بِسْمِ» جار و مجرور ہے اور اس کا تعلق ایک محذوف خبر سے ہے، جبکہ اس کا مبتدا بھی محذوف ہے، جس کی تقدیر «ابتدائي» (یعنی میری ابتدا اللہ کے نام سے ہے) ہے۔
«اللّٰهِ» لفظِ جلالہ، مضاف الیہ ہے اور حالتِ جر میں ہے، جس کی علامت زیر (کسرہ) ہے۔
«الرَّحْمٰنِ» لفظِ جلالہ «اللّٰهِ» کی صفت (نعت) ہے، اس لیے اس نے بھی اعراب میں اس کی پیروی کرتے ہوئے حالتِ جر اختیار کی ہے۔
«الرَّحِيمِ» بھی لفظِ جلالہ «اللّٰهِ» کی دوسری صفت (نعت) ہے، اس لیے یہ بھی اس کے تابع ہونے کی وجہ سے حالتِ جر میں ہے۔
﴿کتاب:جدول الاعراب في القران﴾
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
«اسم» میں ابدال (حرف کی تبدیلی) واقع ہوئی ہے۔ اس کی اصل «سمو» تھی۔ اس میں حرفِ علت (جو کلمہ کا لام تھا) حذف کر دیا گیا اور اس کے بدلے ہمزۂ وصل لایا گیا۔ اس کی اصل میں واو ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی جمع أسماء اور أسامي آتی ہے، اور اس کی تصغیر سُمَيّ ہے۔ اصل صورتیں أسماو، أسامو اور سموي تھیں، پھر ان میں قواعدِ صرف کے مطابق اعلال بالقلب (حروف کی تبدیلی) واقع ہوئی۔
«اللّٰه» کی اصل «الإله» ہے۔ پہلے ہمزہ کی حرکت لامِ تعریف کی طرف منتقل کی گئی، پھر ہمزہ ساکن ہونے کے بعد حذف کر دیا گیا۔ اس کے بعد دو ساکن حروف کے جمع ہونے کی وجہ سے پہلی الف حذف ہوئی، پھر دونوں لاموں کو آپس میں ادغام کر دیا گیا، اور کثرتِ استعمال کی وجہ سے دوسری لام کے بعد والی الف بھی حذف کر دی گئی۔ «إله» فعل أَلِهَ يَأْلَهُ سے مصدر ہے، جس کے معنی عبادت کرنا ہیں، اور یہاں مصدر اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، یعنی معبود۔
«الرَّحْمٰن» ایک مشتق صفت ہے جو صیغۂ مبالغہ میں سے ہے۔ اس کا وزن فَعْلَان ہے اور یہ فعل رَحِمَ يَرْحَمُ (باب فَرِحَ) سے مشتق ہے۔
«الرَّحِيم» بھی ایک مشتق صفت ہے۔ یہ یا تو صیغۂ مبالغہ ہے یا صفتِ مشبہہ باسمِ فاعل۔ اس کا وزن فَعِيل ہے اور یہ بھی فعل رَحِمَ يَرْحَمُ سے مشتق ہے۔
﴿کتاب:جدول الاعراب في القران﴾
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
یہ حرفِ جر ہے۔ اس کا کوئی مادہ، وزن یا صرفی اشتقاق نہیں ہوتا۔ یہ اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرتا ہے اور یہاں استعانت، ابتدا یا مصاحبت کے معنی دیتا ہے۔
یہ اسم ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (س، م، و) ہیں اور اس کا مادہ “سمو” ہے۔ اس کا وزن اِفْعٌ (اصل: سِمْوٌ) ہے۔ صیغے کے لحاظ سے یہ اسمِ جنس، واحد، مذکر اور یہاں حرفِ جر کی وجہ سے مجرور ہے۔ اس میں ہمزۂ وصل زائد ہے، جبکہ ہفت اقسام میں یہ لفیف مفروق اور شش اقسام میں ثلاثی مجرد ہے۔
یہ لفظ اسمِ علم ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کا خاص نام ہے۔ مشہور قول کے مطابق اس کی اصل “الإِلٰه” ہے، جس کے حروفِ اصلیہ (ا، ل، ہ) ہیں اور اس کا مادہ “أَلَهَ” ہے، جس کے معنی ہیں: عبادت کرنا۔ “الإله” میں تخفیف، حذف اور ادغام کے بعد “اللّٰه” بنا۔ صیغے کے اعتبار سے یہ اسمِ جامد، علمِ ذات ہے۔ چونکہ اس سے پہلے حرفِ جر “بِ” موجود ہے، اس لیے یہ مجرور ہے۔ اس میں الف لام تعظیم و تخصیص کے لیے ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ مہموز الفاء (اصل “إله” کے اعتبار سے) ہے، اور شش اقسام میں ثلاثی مجرد ہے۔
یہ لفظ صفتِ مشتقہ ہے اور صیغۂ مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ر، ح، م) ہیں اور اس کا مادہ “رحم” ہے۔ اس کا وزن “فَعْلَان” ہے، جو کثرت اور وسعتِ رحمت پر دلالت کرتا ہے۔ صیغے کے اعتبار سے یہ صیغۂ مبالغہ، واحد، مذکر، معرفہ ہے۔ اس میں زائد حروف الف، نون، اور الف لام ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ صحیح سالم ہے، کیونکہ اس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت یا ہمزہ نہیں، اور شش اقسام میں یہ ثلاثی مجرد مادہ سے مشتق ہے۔
یہ لفظ بھی صفتِ مشتقہ ہے، جو صیغۂ مبالغہ یا صفتِ مشبہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ر، ح، م) ہیں اور اس کا مادہ “رحم” ہے۔ اس کا وزن “فَعِيل” ہے۔ صیغے کے اعتبار سے یہ صفتِ مشبہ/صیغۂ مبالغہ، واحد، مذکر، معرفہ ہے۔ اس میں زائد حروف یاء اور الف لام ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ صحیح سالم ہے، کیونکہ اس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت یا ہمزہ نہیں، اور شش اقسام میں یہ ثلاثی مجرد مادہ سے مشتق ہے۔
یہ پورا جملہ جار و مجرور (بِاسْمِ اللَّهِ) پر مشتمل ہے، جو ایک محذوف فعل (تقدیر: أبدأ = میں شروع کرتا ہوں) یا محذوف مبتدا کی خبر (تقدیر: ابتدائي باسم الله) سے متعلق ہے۔ “اسمِ” حرفِ جر “بِ” کی وجہ سے مجرور اور مضاف ہے، “اللّٰهِ” اس کا مضافٌ الیہ ہے، جبکہ “الرَّحْمٰنِ” اور “الرَّحِيمِ” دونوں لفظِ “اللّٰهِ” کی صفت (نعت) ہیں، اس لیے وہ بھی اس کی اتباع میں مجرور ہیں۔
یہ حرفِ جر ہے، مبنی بر کسر ہے، اس کا اعراب تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کا عمل یہ ہے کہ اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرتا ہے۔ یہاں یہ “اسم” کو جر دے رہا ہے۔ نحوی اعتبار سے یہ جار کا حصہ ہے، جو اپنے مجرور کے ساتھ مل کر جار و مجرور بناتا ہے اور ایک محذوف خبر (یا بعض کے نزدیک محذوف فعل) سے متعلق ہے۔
یہ اسمِ مجرور ہے، کیونکہ اس سے پہلے حرفِ جر “بِ” داخل ہوا ہے۔ اس کی علامتِ جر کسرہ ہے۔ یہ مضاف ہے اور اس کے بعد آنے والا لفظ “اللّٰهِ” اس کا مضافٌ الیہ ہے۔ “بِاسْمِ اللَّهِ” مل کر جار و مجرور بنتے ہیں، جو ایک محذوف خبر (تقدیر: ابتدائي باسم الله) یا بعض نحویین کے نزدیک محذوف فعل (تقدیر: أبدأ باسم الله) سے متعلق ہیں۔
“بِسْمِ” دراصل “بِ + اسْمِ” ہے۔ لفظ “اسم” کے شروع میں موجود الف، ہمزۂ وصل ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب ہمزۂ وصل سے پہلے کوئی حرف آ جائے، جیسے یہاں “بِ”، تو ہمزۂ وصل تلفظ میں ساقط ہو جاتا ہے اور رسمِ عثمانی میں اکثر لکھا بھی نہیں جاتا۔ اسی لیے “بِاسْمِ” کی بجائے “بِسْمِ” لکھا اور پڑھا جاتا ہے، جبکہ اصل لفظ “اسم” ہی ہے۔
یہ لفظ اسمِ جلالہ ہے، جو “اسمِ” کی طرف مضافٌ الیہ ہے، اس لیے مجرور ہے اور اس کی علامتِ جر کسرہ ہے۔
یہ لفظ “اللّٰهِ” کی صفت (نعت) ہے، اس لیے اپنے منعوت کی اتباع میں مجرور ہے، اور اس کی علامتِ جر کسرہ ہے۔
یہ بھی “اللّٰهِ” کی دوسری صفت (نعتِ ثانی) ہے، اس لیے یہ بھی اپنے منعوت کی اتباع میں مجرور ہے، اور اس کی علامتِ جر کسرہ ہے۔
1 – التكرير: لقد كرّر الله سبحانه وتعالى ذكر الرحمن الرحيم لأن الرحمة هي الإنعام على المحتاج وقد ذكر المنعم دون المنعم عليهم فأعادها مع ذكرهم وقال: «ربّ العالمين الرحمن» بهم أجمعين.
2 – قدم سبحانه الرحمن على الرحيم مع أن الرحمن أبلغ من الرحيم، ومن عادة العرب في صفات المدح الترقي في الأدنى الى الأعلى كقولهم: فلان عالم نحرير. وذلك لأنه اسم خاص بالله تعالى كلفظ «الله» ولأنه لما قال «الرحمن» تناول جلائل النعم وعظائمها وأصولها، وأردفه «الرحيم» كتتمة والرديف ليتناول ما دقّ منها ولطف. وما هو من جلائل النعم وعظائمها وأصولها أحق بالتقديم مما يدل على دقائقها وفروعها. وافراد الوصفين الشريفين بالذكر لتحريك سلسلة الرحمة.
فباسم الله تعالى تتم معاني الأشياء ومن مشكاة {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ} تشرق على صفحات الأكوان أنوار البهاء.
﴿کتاب:جدول الاعراب في القران﴾
1- تکرار:
اللہ تعالیٰ نے «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» کا ذکر دوبارہ فرمایا، کیونکہ رحمت محتاجوں پر انعام کرنے کا نام ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر بطور منعم (نعمت دینے والے) کیا گیا، لیکن جن پر نعمت کی گئی ان کا ذکر نہیں آیا۔ پھر جب فرمایا: ﴿رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ تو تمام مخلوقات کا ذکر ہو گیا، اس کے بعد دوبارہ ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ فرمایا، تاکہ واضح ہو جائے کہ وہ تمام جہانوں پر رحمت فرمانے والا ہے۔
2- «الرَّحْمٰن» کو «الرَّحِيم» پر مقدم کرنے کی حکمت:
اگرچہ «الرَّحْمٰن»، «الرَّحِيم» سے زیادہ مبالغہ والا لفظ ہے، اور عربوں کی عادت یہ ہے کہ تعریف میں کم درجے سے زیادہ درجے کی طرف ترقی کرتے ہیں، لیکن یہاں «الرَّحْمٰن» کو پہلے لانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نام ہے، جیسے «اللہ»۔ نیز «الرَّحْمٰن» اللہ تعالیٰ کی عظیم، بنیادی اور عمومی نعمتوں کو شامل ہے، جبکہ «الرَّحِيم» ان باریک، لطیف اور خصوصی نعمتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو پہلی نعمتوں کی تکمیل ہیں۔ اس لیے بڑی اور بنیادی نعمتوں کا ذکر پہلے اور ان کی تکمیل کرنے والی نعمتوں کا ذکر بعد میں کیا گیا۔ ان دونوں مبارک صفات کو الگ الگ ذکر کرنے کا مقصد بندوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کو مزید بیدار کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نام سے ہی تمام چیزوں کے معانی مکمل ہوتے ہیں، اور ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ ہی وہ نورانی سرچشمہ ہے جس سے پوری کائنات کے صفحات پر حسن و جمال اور رحمت کی روشنیاں پھیلتی ہیں۔
﴿کتاب:جدول الاعراب في القران﴾
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
لفظ سماء ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کے اوپر ہو، اسی لیے آسمان، بارش اور بعض اوقات نباتات کو بھی سماء کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ بلندی سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن میں سماء واحد اور جمع (سماوات) دونوں صورتوں میں آیا ہے، اور عربی میں یہ کبھی مذکر اور کبھی مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ دوسری طرف اسم کی اصل سِمْوٌ ہے، جس کے معنی بلندی اور علامت کے ہیں۔ اسم کسی چیز کی پہچان اور معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ قرآن میں ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ سے مراد صرف الفاظ نہیں بلکہ اشیاء کی حقیقت، ان کے معانی اور ان سے متعلق علم بھی ہے۔ اسی طرح ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى﴾ میں اللہ تعالیٰ کے ایسے کامل نام مراد ہیں جو اس کی صفاتِ کمال پر دلالت کرتے ہیں، جبکہ مشرکین کے معبود محض ناموں کے سوا کچھ نہ تھے کیونکہ ان میں الوہیت کی حقیقی صفات موجود نہیں تھیں۔ لہٰذا قرآن میں اسم صرف نام نہیں بلکہ اس کے حقیقی معنی، صفات اور مسمّٰی کی حقیقت پر بھی دلالت کرتا ہے۔
سَمَائٌ: ہر شے کے بالائی حصہ کو سَمَائٌ کہا جاتا ہے شاعر نے ایک گھوڑے کے وصف میں کہا ہے۔ (1) (238) وَاَحْمَرُ کَالدِّیْبَاجِ اَمَّا سَمَاتُہٗ فَرَیًّا وَاَمَّا اَرْضُہٗ فَمَحُوْلٌ وہ دیباج کی طرح سرخ ہے اس کا بالائی حصہ موتا اور گداز ہے اور زیریں حصہ لاغر اور سخت ہے۔ بعض نے کہا ے (کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے) کہ ہر ’’سمائٌ‘‘ اپنے ماتحت کے لحاظ سے سَمَائٌ ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے اَرْضٌ کہلاتا ہے بجز سماء علیا (فلک الافلاک) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا۔ اور آیت: (اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَہُنَّ) (65:12) خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمینیں۔ کو اسی معنیٰ پر محمول کیا ہے۔ نیز مَطَرَ (بارش) کو بھی سَمَائٌ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اوپر سے آتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ سماء اس بارش کو کہا جاتا ہے جو ہنوز زمین پر نہ گری ہو تو اس میں بھی بلندی کے معنیٰ ملحوظ ہیں۔ اور نباتات کو بھی سَمَائٌ کہا جاتا ہے یا تو اس لئے کہ وہ بارش سے اُگتے ہیں اور یا اس لئے کہ وہ زمین سے بلند ہوتے ہیں پھر لفظ سماء جو ارض کے بالمقابل ہے مؤنث ہے لیکن کبھی مذکر بھی آجاتا ہے اور واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىہُنَّ) (2:29) پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا۔ اور کبھی اس کی جمع سَمٰوٰتٌ بھی بنالیتے ہیں چنانچہ فرمایا: (خَلَقَ السَّمٰوٰتِ) (31:10) اسی نے آسمانوں کو … پیدا کیا۔ (قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ ) (13:16) ان سے پوچھو کہ آسمانوں … کا پروردگار کون ہے؟ اور آیت: (السَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ) (73:18) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ میں سماء کو مذکور استعمال کیا ہے لیکن کئی ایک آیات جیسے: (اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ ) (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور آیت: (اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ) (82:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ میں مؤنث استعمال ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سماء کا لفظ اشجار میں نَخْلٌ یا اس قسم کے دوسرے اسماء جنس کی طرح ہے جو مذکر و مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں اور سقمَائٌ کے معنیٰ بارش ہوں تو یہ ہمیشہ مذکر استعمال ہوگا اور اس کی جمع اَسْمِیَۃٌ آئے گی۔ اور کسی بلند چیز کے کالبد کو سَمَاوَۃٌ کہا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا ہے۔ (2) (239) سَمَاوَۃُ الْھَلَالِ حَتّٰی اِحْقُوَقَفَا (راتیں تدریجاً) افق پر ابھرے ہوئے چاند کو (لپیٹتی رہیں) حتیٰ کہ وہ ٹیڑھا ہوگیا۔ اور سقمَالِیَ الشَّیْئُ کے معنیٰ ہیں: دور سے کسی چیز کا بلند شکل میں ظاہر ہونا۔ اور سَمَا الْفَحْلُ عَلٰی الشَّوْلِ سَمَاوَۃً: سانڈھ اونٹ اونٹنی پر چڑھ گیا۔ اِلْاِسْمُ: کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے۔ یہ اصل میں سِمْوٌ ہے کیونکہ اس کی جمع اَسْمَائٌ اور تصغیر سُمَیٌّ آتی ہے۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں ہے: (وَ قَالَ ارۡکَبُوۡا فِیۡہَا بِسۡمِ اللّٰہِ مَجۡرٖىہَا) (11:41) اور (نوح علیہ السلام نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا (ہے) سوار ہوجاؤ۔ (اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ) (27:30) وہ سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور (مضمون یہ ہے) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ اور آیت: (وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ ) (2:31) اور اس آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں۔ خواہ مفرد ہوں یا مرکب، اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ ایک اصطلاحی معنیٰ میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے۔ جیسے رَجُلٌ وفَرَسٌ دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے (کلمہ کی) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ (اسم) خبر اور رابطہ (حرف) تینوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور آیت کریمہ میں یہی دوسرے معنیٰ مراد ہیں کیونکہ آدم علیہ السلام نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسی طرح افعال و حروف کا علم بھی انہیں حاصل ہوگیا تھا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا۔ مثلاً اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے۔ بلکہ ہمارا علم انہی چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمیٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے۔ لہٰذا آیت: (وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ ) میں اسماء سے کلام کو انواع ثلاثہ اور صؤر مسمیانت بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت: (مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ ) (12:40) جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اصنام ان اوصاف سے عاری تھے۔ جن کا وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے۔ اور آیت: (وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡہُمۡ) (13:33) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کررکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تولو۔ میں سَمُّوْھُمْ سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات، عزیَّ وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ جن کو تم اِلٰہٌ (معبود) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو (یعنی نہیں) اسی لئے اس کے بعد فرمایا: (اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَہٗ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاہِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ) (13:33) (کہ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) ۔ اور آیت: (تَبٰرَکَ اسۡمُ رَبِّکَ ) (55:78) تمہارے پروردگار … کا نام بڑا بابرکت ہے۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس کی صفات، الکریم، العلیم، الباری، الرحمن، الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیساکہ کہ دوسری جگہ فرمایا: (سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ) (87:1) (اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو۔ (وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی) (7:180) اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں۔ اور آیت: (اسۡمُہٗ یَحۡیٰی ۙ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِیًّا) (19:7) جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا۔ میں سَمِیًّا کے معنیٰ ’’ہم نام‘‘ کے ہیں اور آیت: (ہَلۡ تَعۡلَمُ لَہٗ سَمِیًّا) (19:65) بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو۔ میں سَمِیًّا کے معنیٰ نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہو اور حقیقتاً اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ کیا تم کسی کو ایسا بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہو کیونکہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیراللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معانی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں۔ اور آیت: (لَیُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ تَسۡمِیَۃَ الۡاُنۡثٰی) (53:27) اور وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنیٰ یہ ہیں۔ کہ وہ فرشتوں کو ’’بنات اللہ‘‘ کہتے ہیں۔
لفظ اللہ کے بارے میں اہلِ لغت کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ اصل میں إلٰه تھا جس پر الف لام لا کر اسے خاص طور پر ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ إلٰه عام لفظ ہے جو ہر معبود کے لیے بولا جا سکتا ہے، خواہ وہ حق ہو یا باطل۔ اس کے اشتقاق کے بارے میں بھی مختلف آراء ہیں: بعض کے نزدیک یہ أَلَهَ سے ہے جس کے معنی عبادت کرنا ہیں، اس لحاظ سے إلٰه کا معنی معبود ہوگا۔ بعض کے نزدیک یہ آلِهَ (حیران ہونا) سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وَلِهَ سے ہے جس کے معنی شدید محبت اور وارفتگی کے ہیں، کیونکہ تمام مخلوق فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہے۔ ایک اور قول کے مطابق یہ لَاهَ سے ہے جس کے معنی پردے میں چھپ جانا ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ اسی طرح اللّٰهم دراصل یا اللہ کے معنی میں آتا ہے اور اس میں میم حرفِ ندا کے بدلے میں آئی ہے۔
اللہ :(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں إلٰه ہے ہمزہ (تخفیفاً) حذف کر دیا گیا ہے اور اس پر الف لام (تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے اسی تخصیص کی بنا پر فرمایا: (هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا) کیا تمہیں اس کے کسی ہم نام کا علم ہے۔ إلٰه کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے (خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبودِ باطل) اور وہ سورج کو اِلاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا۔ إلٰه کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ اَلَهَ (ف) یَاْلَهٗ فُلَانٌ وَتَاَلَّهَ سے مشتق ہے جس کے معنی پرستش کرنا ہے اس بنا پر اِلٰہَ کے معنی ہوں گے: معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آلِہَ (س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک سے چونکہ عقول، متیحر اور درماندہ ہیں اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: (1) (كُلُّ دُوْنَ صِفَاتِهٖ تَحْبِيْرُ الصِّفَاتِ وَضَلَّ هُنَاكَ تَصَارِيْفُ اللُّغَاتِ) اے بروں از وہم وقال وقبل من خاک بر فرق من و تمثیل من اس لیے کہ انسان جس قدر صفات الہیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: (2) (تَفَكَّرُوْا فِيْ اٰلَاءِ اللهِ وَلَا تَفَكَّرُوْا فِي اللهِ) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو۔
(2) بعض نے کہا ہے کہ اِلٰہَ اصل میں وِلَاہَ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر اِلاھہ بنا لیا ہے اور وَلِہَ (س) کے معنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں
(3) اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان۔ اسی لیے بعض حکماء نے کہا ہے کہ ذات باری تعالیٰ تمام اشیاء کو محبوب ہے او رآیت کریمہ: (وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لَاھَ یَلُوْہُ لِیَاھً سے ہے جس کے معنی پردہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ نیز آیت کریمہ: (وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ) میں “الباطن” کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اِلٰہَ: یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لیے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا، اس لیے اٰلِهَةٌ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے۔ قرآن پاک میں ہے: (اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچائیں۔ (وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہو جائیں۔ ایک قرأت میں وَاِلَاھَتَکَ ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں لَاھَ اَنْتَ۔ یہ اصل میں لِلّٰہِ اَنْتَ سے ایک لام کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا گیا ہے۔ اللّٰھُمَّ: بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یَا اَللہُ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یاء حرفِ ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ اصل میں یَا اَللہُ اُمَّنَا بِخَیْرٍ (اے اللہ! تو خیر کے ساتھ ہماری طرف توجہ فرما) ہے (کثرتِ استعمال کی بنا پر) حَیْھَلَا کی طرح مرکب کر کے اللّٰھُمَّ بنا لیا گیا ہے۔
(4) (جیسے عَلَم) اِلیٰ: حرف (جر) ہے اور جہاتِ ستہ میں سے کسی جہت کی نہایت حد بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔
رحم اصل میں عورت کے اس عضو کو کہتے ہیں جہاں بچہ پرورش پاتا ہے، پھر اسی مناسبت سے یہ لفظ قرابت اور رشتہ داری کے لیے بھی استعمال ہونے لگا، کیونکہ تمام قریبی رشتہ دار ایک ہی رحم سے تعلق رکھتے ہیں۔ رحمت سے مراد ایسی شفقت اور مہربانی ہے جو کسی پر احسان کرنے کا سبب بنے۔ مخلوق کے لیے رحمت میں نرمیِ دل اور شفقت شامل ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مراد صرف اس کا انعام، فضل اور احسان ہے۔ اسی لیے حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے رحم کا نام اپنے اسم الرحمٰن سے مشتق قرار دیا اور صلہ رحمی کرنے والوں کے لیے اپنے قرب اور رحمت کا وعدہ فرمایا۔
الرحمٰن اور الرحیم دونوں مبالغے کے صیغے ہیں، لیکن الرحمٰن اس ہستی کے لیے خاص ہے جس کی رحمت ہر چیز کو محیط ہو، اس لیے یہ نام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ الرحیم کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ بعض مخلوق، جیسے رسول اللہ ﷺ، پر بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک الرحمٰن اللہ تعالیٰ کی عام رحمت پر دلالت کرتا ہے جو دنیا میں مؤمن و کافر سب کو شامل ہے، جبکہ الرحیم اس خاص رحمت پر دلالت کرتا ہے جو آخرت میں صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہوگی۔
اَلرَّحِمُ: عور ت کا رحم۔ اور رَحوم اس عورت کو کہتے ہیں جسے خرابی رحم کی بیماری ہو اور استعارہ کے طور پر رحم کا لفظ قرابت کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ تمام اقرباء ایک ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور اس میں رحِمٌ وَرُحْمٌ دولغت ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ) (18:81) اور قرابت میں (اس سے) بہتر (ہو)۔ اَلرَّحْمَۃُ: وہ رقت قلب جو مرحوم (یعنی جس پر رحم کیا جائے) پر احسان کی مقتضی ہو۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنٰی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنٰی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو۔ جیسے: رَحِمَ اللہُ فُلَانًا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جب اس کے ساتھ ذات باری تعالیٰ متصف ہو تو اس سے صرف احسان مراد ہوگا جیساکہ مروی ہے: (151) اِن الرَّحمۃ مِنَ اللہِ اِنْعام وافضال وَمن الادمیین رقۃ وتعطف: کہ اللہ کی طرف سے رحمت اس کے انعام و فضل سے عبارت ہوتی ہے اور لوگوں کی طرف سے رقّت اور شفقت کے معنٰی میں آتی ہے۔ اسی معنٰی میں آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے۔(1) (152) (اَنَّہٗ لَمَّا خَلَقَ اللہُ الرَّحِمَ قَالَ لَہٗ اَنَا الرَّحْمٰنُ وَاَنْتَ الرَّحِمُ شَقَقْتُ اسْمَکَ مِن اسْمِیْ فَمَنْ وَصَلَکَ وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَکَ قَطْعَتُہٗ۔) کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس نے فرمایا: ’’میں رحمان ہوں اور تو رحم ہے میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہیپس جو تجھے ملائے گا۔ (یعنی صلہ رحمی کرے گا) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرے گا میں اسے پارہ پارہ کروں گا۔‘‘(2) اس حدیث میں بھی معنٰی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے اور احسان کو اپنے لیے خاص کرلیا ہے تو جس طرح لفظ رحم، رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اس کا وہ معنٰی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے وہ بھی اس معنٰی سے ماخوذ ہے جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنٰی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے۔ اَلرَّحْمٰنُ، الرَّحِیْمُ: یہ دونوں فَعلَان وَفَعِیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں(3) جیسے نَدْمَانٌ ونَدِیْمٌ پھر رحمن کا اطلاق اس ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سمالیا ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے۔ اور رحیم بھی اسماء حسنٰی سے ہے اور اس کے معنٰی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر بھی جائز ہے۔ چنانچہ فرمایا: (اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ) (2:173) بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا: (لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ) (9:128) لوگو! تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے (اور) ان کو تمہاری بہبود کاہؤکا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق (اور) مہربان ہیں۔ بعض نے رحمٰن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمٰن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے۔ جو مؤمن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی۔ جیساکہ آیت: (وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ) (7:156) اور ہماری جو رحمت ہے وہ (اہل و نااہل) سب چیزوں کو شامل ہے پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے جو پرہیزگاری اختیار کریں گے۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الٰہی عام ہے اور مومن و کافر دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مؤمنین کے ساتھ مختص ہوگی (اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے۔)
رحم اصل میں عورت کے اس عضو کو کہتے ہیں جہاں بچہ پرورش پاتا ہے، پھر اسی مناسبت سے یہ لفظ قرابت اور رشتہ داری کے لیے بھی استعمال ہونے لگا، کیونکہ تمام قریبی رشتہ دار ایک ہی رحم سے تعلق رکھتے ہیں۔ رحمت سے مراد ایسی شفقت اور مہربانی ہے جو کسی پر احسان کرنے کا سبب بنے۔ مخلوق کے لیے رحمت میں نرمیِ دل اور شفقت شامل ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مراد صرف اس کا انعام، فضل اور احسان ہے۔ اسی لیے حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے رحم کا نام اپنے اسم الرحمٰن سے مشتق قرار دیا اور صلہ رحمی کرنے والوں کے لیے اپنے قرب اور رحمت کا وعدہ فرمایا۔
الرحمٰن اور الرحیم دونوں مبالغے کے صیغے ہیں، لیکن الرحمٰن اس ہستی کے لیے خاص ہے جس کی رحمت ہر چیز کو محیط ہو، اس لیے یہ نام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ الرحیم کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ بعض مخلوق، جیسے رسول اللہ ﷺ، پر بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک الرحمٰن اللہ تعالیٰ کی عام رحمت پر دلالت کرتا ہے جو دنیا میں مؤمن و کافر سب کو شامل ہے، جبکہ الرحیم اس خاص رحمت پر دلالت کرتا ہے جو آخرت میں صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہوگی۔
اَلرَّحِمُ: عور ت کا رحم۔ اور رَحوم اس عورت کو کہتے ہیں جسے خرابی رحم کی بیماری ہو اور استعارہ کے طور پر رحم کا لفظ قرابت کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ تمام اقرباء ایک ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور اس میں رحِمٌ وَرُحْمٌ دولغت ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ) (۱۸:۸۱) اور قرابت میں (اس سے) بہتر (ہو)۔ اَلرَّحْمَۃُ: وہ رقت قلب جو مرحوم (یعنی جس پر رحم کیا جائے) پر احسان کی مقتضی ہو۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنٰی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنٰی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو۔ جیسے: رَحِمَ اللہُ فُلَانًا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جب اس کے ساتھ ذات باری تعالیٰ متصف ہو تو اس سے صرف احسان مراد ہوگا جیساکہ مروی ہے: (۱۵۱) اِن الرَّحمۃ مِنَ اللہِ اِنْعام وافضال وَمن الادمیین رقۃ وتعطف: کہ اللہ کی طرف سے رحمت اس کے انعام و فضل سے عبارت ہوتی ہے اور لوگوں کی طرف سے رقّت اور شفقت کے معنٰی میں آتی ہے۔ اسی معنٰی میں آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے۔(1) (۱۵۲) (اَنَّہٗ لَمَّا خَلَقَ اللہُ الرَّحِمَ قَالَ لَہٗ اَنَا الرَّحْمٰنُ وَاَنْتَ الرَّحِمُ شَقَقْتُ اسْمَکَ مِن اسْمِیْ فَمَنْ وَصَلَکَ وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَکَ قَطْعَتُہٗ۔) کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس نے فرمایا: ’’میں رحمان ہوں اور تو رحم ہے میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہیپس جو تجھے ملائے گا۔ (یعنی صلہ رحمی کرے گا) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرے گا میں اسے پارہ پارہ کروں گا۔‘‘(2) اس حدیث میں بھی معنٰی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے اور احسان کو اپنے لیے خاص کرلیا ہے تو جس طرح لفظ رحم، رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اس کا وہ معنٰی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے وہ بھی اس معنٰی سے ماخوذ ہے جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنٰی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے۔ اَلرَّحْمٰنُ، الرَّحِیْمُ: یہ دونوں فَعلَان وَفَعِیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں(3) جیسے نَدْمَانٌ ونَدِیْمٌ پھر رحمن کا اطلاق اس ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سمالیا ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے۔ اور رحیم بھی اسماء حسنٰی سے ہے اور اس کے معنٰی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر بھی جائز ہے۔ چنانچہ فرمایا: (اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ) (۲:۱۷۳) بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا: (لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ) (۹:۱۲۸) لوگو! تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے (اور) ان کو تمہاری بہبود کاہؤکا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق (اور) مہربان ہیں۔ بعض نے رحمٰن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمٰن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے۔ جو مؤمن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی۔ جیساکہ آیت: (وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ) (۷:۱۵۶) اور ہماری جو رحمت ہے وہ (اہل و نااہل) سب چیزوں کو شامل ہے پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے جو پرہیزگاری اختیار کریں گے۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الٰہی عام ہے اور مومن و کافر دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مؤمنین کے ساتھ مختص ہوگی (اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے۔)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿ ۲﴾
وجملة: «الحمد لله .. » لا محل لها ابتدائية.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
اور جملہ: «الحمد لله .. » لا محل لہا (یعنی اس کا کوئی اعرابی محل نہیں) کیونکہ یہ ابتدائیہ ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
(ربّ) مصدر يرب باب نصر، ثم استعمل صفة كعدل وخصم، وزنه فعل بفتح فسكون.
(العالمين) جمع العالم، وهو اسم جمع لا واحد له من لفظه، وهو مشتق إما من العلم بكسر العين أو من العلامة، وزنه فاعل بفتح العين، وكذلك جمعه.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
(ربّ) یہ ‘يَرُبُّ’ (بابِ نصر) سے مصدر ہے، پھر اسے ‘عَدْل’ اور ‘خَصْم’ کی طرح بطورِ صفت استعمال کیا گیا، اور اس کا وزن ‘فَعْل’ (فاء پر فتحہ اور عین پر سکون) ہے۔
(العالمین) یہ ‘العالَم’ کی جمع ہے، اور یہ ایسا اسمِ جمع ہے جس کا اپنے لفظ سے کوئی واحد نہیں، یہ یا تو ‘العِلْم’ (عین کے کسرہ کے ساتھ) سے مشتق ہے یا ‘العلامة’ سے، اس کا وزن ‘فَاعَل’ (عین کے فتحہ کے ساتھ) ہے، اور اسی طرح اس کی جمع کا وزن بھی ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کلمہ اسم ہے اور اپنی ذات میں کمالِ مبالغہ رکھتا ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ح، م، د) ہیں اور اس کا مادہ “حمد” ہے۔ اگر اس کے وزن کی بات کی جائے تو یہ “فَعْلٌ” کے وزن پر آتا ہے۔ صیغے کے لحاظ سے یہ اسمِ مصدر ہے اور معرفہ (الف لام کی وجہ سے) ہے۔ حروفِ زائدہ اس میں الف اور لام (تعریف کے لیے) ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ “صحیح” ہے کیونکہ اس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت یا ہمزہ نہیں، اور شش اقسام میں یہ “ثلاثی مجرد” کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ مرکب ہے “لِ” (حرفِ جر) اور “اللہ” سے۔ لفظ اللہ کے حروفِ اصلیہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں، مشہور قول کے مطابق اس کے حروف (ا، ل، ہ) ہیں اور اس کا مادہ “إلٰه” (الاہ) ہے۔ اس کا وزن “اَلْفَعَّال” سے بگڑا ہوا مانا جاتا ہے یا یہ “اَلْفِعَال” کے قریب ہے۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ جامد اور علم (خالقِ کائنات کا مخصوص نام) ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف لام ہیں جو تعظیم اور تخصیص کے لیے ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ “مہموز الفاء” (اگر اصل ‘إلہ’ ہو) یا “اجوف” کہلائے گا، اور شش اقسام میں “ثلاثی مجرد” ہے۔
لفظ “رَبّ” کے حروفِ اصلیہ (ر، ب، ب) ہیں، یعنی اس میں حرفِ “ب” دو بار ہے۔ اس کا مادہ “رَبْب” ہے اور وزن “فَعْلٌ” ہے۔ صیغہ کے لحاظ سے یہ صفتِ مشبہ یا اسمِ مصدر ہے جو فاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (یعنی پالنے والا)۔ اس میں کوئی حرفِ زائد نہیں ہے سوائے اس کے کہ ادغام کی وجہ سے ایک “ب” دوسری میں مدغم ہے۔ ہفت اقسام میں یہ “مضاعف ثلاثی” ہے (کیونکہ دو حروفِ اصلیہ ایک جیسے ہیں) اور شش اقسام میں “ثلاثی مجرد” ہے۔
یہ لفظ “عَالَم” کی جمعِ سالم ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ع، ل، م) ہیں اور اس کا مادہ “علم” (نشانی) ہے۔ اس کا وزن (واحد کی حالت میں) “فَاعَلٌ” ہے اور جمع کی حالت میں “فَاعَلِیْن”۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ آلہ کے وزن پر ہے (وہ چیز جس کے ذریعے خالق کو پہچانا جائے) اور حالتِ جری میں جمع مذکر سالم ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف (ع کے بعد) اور جمع کے لیے “ی” اور “ن” ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ “صحیح” ہے اور شش اقسام میں “ثلاثی مزید فیہ” کے مشابہ وزن رکھتا ہے۔
لِلّٰهِ: یہ “لِ” حرفِ جر اور “اللّٰهِ” اسمِ مجرور پر مشتمل جار و مجرور ہے۔ “لِ” حرفِ جر ہونے کی وجہ سے “اللّٰهِ” کو مجرور کرتا ہے، اس لیے اس پر کسرہ آیا ہے۔ نحوی اعتبار سے یہ پورا جار و مجرور جملہ “اَلْحَمْدُ” کی خبر ہے۔ اکثر نحویین کے نزدیک اس کی اصل تقدیر “الحمدُ ثابتٌ للهِ” یا “الحمدُ مستقرٌّ للهِ” ہے، یعنی “تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ثابت ہے۔” یہاں “ثابتٌ” یا “مستقرٌّ” محذوف خبر ہے۔ “اللّٰهِ” اسمِ مجرور ہونے کے ساتھ آگے آنے والے لفظ “رَبِّ” کا موصوف بھی ہے۔ “رَبِّ” اس کی صفت (یا بدل) ہونے کی وجہ سے مجرور ہے، اور “الْعَالَمِينَ”، “رَبِّ” کا مضافٌ الیہ ہے، اس لیے وہ بھی مجرور آیا ہے۔
اَلْحَمْدُ اسم ہے، معرفہ ہے کیونکہ اس پر “ال” داخل ہے۔ یہ مصدر حَمِدَ – يَحْمَدُ سے ہے، جس کے معنی تعریف اور ثنا کے ہیں۔ نحوی اعتبار سے یہ مبتدا ہے، اس لیے مرفوع ہے اور اس کی علامتِ رفع ضمہ ہے۔ اس سے مراد ہر قسم کی کامل تعریف ہے، اور اس کا خبر بعد میں آنے والا “لِلّٰهِ” ہے۔
لِ حرفِ جر ہے، مبنی بر کسر ہے، اس کا اعراب کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کا کام اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرنا ہے۔ یہاں اس نے لفظ “اللّٰهِ” کو مجرور کیا ہے۔ نحوی اعتبار سے یہ اپنے مجرور کے ساتھ مل کر جار و مجرور بناتا ہے، جو “اَلْحَمْدُ” کی خبر ہے۔ اکثر نحویین کے نزدیک اس کی اصل تقدیر “الحمدُ ثابتٌ للهِ” یا “الحمدُ مستقرٌّ للهِ” ہے، یعنی “تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ثابت ہے۔”
لِ حرفِ جر ہے، مبنی بر کسر ہے، اس کا اعراب کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کا کام اپنے بعد آنے والے اسم کو مجرور کرنا ہے۔ یہاں اس نے لفظ “اللّٰهِ” کو مجرور کیا ہے۔ نحوی اعتبار سے یہ اپنے مجرور کے ساتھ مل کر جار و مجرور بناتا ہے، جو “اَلْحَمْدُ” کی خبر ہے۔ اکثر نحویین کے نزدیک اس کی اصل تقدیر “الحمدُ ثابتٌ للهِ” یا “الحمدُ مستقرٌّ للهِ” ہے، یعنی “تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ثابت ہے۔”
رَبِّ اسم ہے، معنی ہیں: مالک، پرورش کرنے والا، تدبیر کرنے والا۔ یہ “اللّٰهِ” کی صفت (نعت) یا بدل ہے، اس لیے مجرور ہے اور اس کی علامتِ جر کسرہ ہے۔ یہ مضاف بھی ہے، اس لیے اس کے بعد “الْعَالَمِينَ” مضافٌ الیہ آیا ہے۔
الْعَالَمِينَ اسم ہے، جمع مذکر سالم ہے، واحد عَالَم ہے۔ یہ “رَبِّ” کا مضافٌ الیہ ہے، اس لیے مجرور ہے۔ چونکہ یہ جمع مذکر سالم ہے، اس لیے اس کی علامتِ جر یاء ہے، نہ کہ کسرہ۔ اس سے مراد تمام جہان ہیں، یعنی انسان، جن، فرشتے اور اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات۔
2 – لما افتتح سبحانه وتعالى كتابه بالبسملة وهي نوع من الحمد ناسب أن يردفها بالحمد الكلي الجامع لجميع أفراده البالغ أقصى درجات الكمال.
3 – أما حمد الله تعالى نفسه فإنه إخبار باستحقاق الحمد وأمر به أو أنه مقول على ألسنة العباد، أو مجاز عن إظهار الصفات الكمالية الذي هو الغاية القصوى من الحمد.
وقد قدم الحمد على الاسم الجليل لاقتضاء المقام فريد اهتمام به، وإن كان ذكر الله تعالى أهم في نفسه والأهمية تقتضي التقديم.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
2- جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز ‘تسمیہ’ (بسم اللہ) سے کیا جو کہ خود حمد کی ایک قسم ہے، تو یہ مناسب تھا کہ اس کے فوراً بعد ایسی ‘حمدِ کلی’ لائی جائے جو حمد کی تمام اقسام کو جامع ہو اور کمال کے آخری درجے تک پہنچی ہوئی ہو۔
3- اللہ تعالیٰ کا اپنی حمد خود بیان کرنا دراصل اس بات کی خبر دینا ہے کہ وہی حمد کا مستحق ہے، اور یہ بندوں کو حمد کرنے کا حکم بھی ہے۔ یا پھر یہ (الحمدللہ) بندوں کی زبان سے کہلوایا گیا کلام ہے، یا یہ اللہ کی صفاتِ کمالیہ کے اظہار سے مجاز ہے، جو کہ حمد کا اصل اور آخری مقصد ہے۔
اور یہاں لفظِ جلالہ (اللہ) سے پہلے ‘الحمد’ کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ مقام کا تقاضا ہے کہ حمد پر خصوصی توجہ دی جائے، اگرچہ بذاتِ خود اللہ کا ذکر سب سے اہم ہے اور اہمیت کا تقاضا بھی تقدیم (پہلے آنا) ہی ہوتا ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
الحمد للّٰہ کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کی اس کی فضیلت اور اختیاری افعال پر تعریف و ثنا بیان کرنا۔ حمد، مدح اور شکر سے مختلف ہے؛ مدح کسی کے اختیاری کاموں اور پیدائشی اوصاف دونوں پر ہو سکتی ہے، جبکہ حمد صرف اختیاری افعال اور کمالات پر ہوتی ہے۔ شکر صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی کا احسان ہو، اس لیے ہر شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہوتی۔ جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کو حمید کہا گیا ہے یعنی وہ خود بھی قابلِ تعریف ہے اور بندوں کی حمد کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ نبی ﷺ کے نام احمد اور محمد بھی لفظ حمد سے نکلے ہیں؛ احمد کا معنی ہے سب سے زیادہ حمد کرنے والا یا سب سے زیادہ قابلِ حمد، اور محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اعلیٰ اخلاق اور اوصاف کی وجہ سے سب سے زیادہ قابلِ تعریف ہیں۔
الحمدُ للّٰہ (تعالیٰ) کے معنی اللہ تعالیٰ کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر صادر ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدائشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس طرح مال کے خرچ کرنے، علم و سخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اسی طرح اس کی درازیٔ قد و قامت اور چہرے کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حمد صرف افعال اختیاریہ پر ہوتی ہے نہ کہ اوصاف اضطراریہ پر، اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں۔ لہٰذا شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہے اور ہر حمد کے ساتھ شکر کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ (1) اور جس کی حمد کی تعریف کی جاتی ہے اسے محمود کہا جاتا ہے۔ مگر محمود صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو بکثرت قابلِ ستائش خصائل رکھتا ہو نیز جب کبھی کسی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿اللّٰهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے۔
حمید بمعنی محمود بھی ہو سکتا ہے اور حامد بھی۔ حَمِدَكَ أَن تَفْعَلَ كَذَا: معنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بہتر ہے۔ اور آیت کریمہ: ﴿وَمَبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ ان کی بشارت سناتا ہوں۔
لفظ احمد میں لفظ حمد سے آنحضرت ﷺ کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ ﷺ اپنے اخلاق و اطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی بشارت میں لفظ احمد (صفت تفضیل) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے پیشرو جملہ انبیاء سے افضل ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ﴾ (48:29) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میں لفظ محمد ﷺ کے بجائے حضرت احمد ﷺ کا نام ہے کیونکہ اس میں اجتذاب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ آیت کریمہ: ﴿إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾۔
بِفِعْلِهِ اسْمُ يَجْتَبِي (1:19) میں بیان ہو چکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیثیت پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذکور ہے۔
لفظ اللہ کے بارے میں اہلِ لغت کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ اصل میں إلٰه تھا جس پر الف لام لا کر اسے خاص طور پر ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ إلٰه عام لفظ ہے جو ہر معبود کے لیے بولا جا سکتا ہے، خواہ وہ حق ہو یا باطل۔ اس کے اشتقاق کے بارے میں بھی مختلف آراء ہیں: بعض کے نزدیک یہ أَلَهَ سے ہے جس کے معنی عبادت کرنا ہیں، اس لحاظ سے إلٰه کا معنی معبود ہوگا۔ بعض کے نزدیک یہ آلِهَ (حیران ہونا) سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وَلِهَ سے ہے جس کے معنی شدید محبت اور وارفتگی کے ہیں، کیونکہ تمام مخلوق فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہے۔ ایک اور قول کے مطابق یہ لَاهَ سے ہے جس کے معنی پردے میں چھپ جانا ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ اسی طرح اللّٰهم دراصل یا اللہ کے معنی میں آتا ہے اور اس میں میم حرفِ ندا کے بدلے میں آئی ہے۔
اللہ (ﷻ): بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں إلٰه ہے ہمزہ (تخفیفاً) حذف کر دیا گیا ہے اور اس پر الف لام (تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے اسی تخصیص کی بنا پر فرمایا: (هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا) کیا تمہیں اس کے کسی ہم نام کا علم ہے۔ إلٰه کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے (خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبودِ باطل) اور وہ سورج کو اِلاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا۔ إلٰه کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ اَلَهَ (ف) یَاْلَهٗ فُلَانٌ وَتَاَلَّهَ سے مشتق ہے جس کے معنی پرستش کرنا ہے اس بنا پر اِلٰہَ کے معنی ہوں گے: معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آلِہَ (س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک سے چونکہ عقول، متیحر اور درماندہ ہیں اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: (1) (كُلُّ دُوْنَ صِفَاتِهٖ تَحْبِيْرُ الصِّفَاتِ وَضَلَّ هُنَاكَ تَصَارِيْفُ اللُّغَاتِ) اے بروں از وہم وقال وقبل من خاک بر فرق من و تمثیل من اس لیے کہ انسان جس قدر صفات الہیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: (2) (تَفَكَّرُوْا فِيْ اٰلَاءِ اللهِ وَلَا تَفَكَّرُوْا فِي اللهِ) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو۔ (۲) بعض نے کہا ہے کہ اِلٰہَ اصل میں وِلَاہَ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر اِلاھہ بنا لیا ہے اور وَلِہَ (س) کے معنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں (3) اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان۔ اسی لیے بعض حکماء نے کہا ہے کہ ذات باری تعالیٰ تمام اشیاء کو محبوب ہے او رآیت کریمہ: (وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لَاھَ یَلُوْہُ لِیَاھً سے ہے جس کے معنی پردہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ نیز آیت کریمہ: (وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ) میں “الباطن” کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اِلٰہَ: یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لیے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا، اس لیے اٰلِهَةٌ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے۔ قرآن پاک میں ہے: (اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچائیں۔ (وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہو جائیں۔ ایک قرأت میں وَاِلَاھَتَکَ ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں لَاھَ اَنْتَ۔ یہ اصل میں لِلّٰہِ اَنْتَ سے ایک لام کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا گیا ہے۔ اللّٰھُمَّ: بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یَا اَللہُ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یاء حرفِ ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ اصل میں یَا اَللہُ اُمَّنَا بِخَیْرٍ (اے اللہ! تو خیر کے ساتھ ہماری طرف توجہ فرما) ہے (کثرتِ استعمال کی بنا پر) حَیْھَلَا کی طرح مرکب کر کے اللّٰھُمَّ بنا لیا گیا ہے۔ (4) (جیسے عَلَم) اِلیٰ: حرف (جر) ہے اور جہاتِ ستہ میں سے کسی جہت کی نہایت حد بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔
لفظ الرَّبّ کا اصل معنی ہے پرورش کرنے والا یا تربیت دینے والا، یعنی کسی چیز کو بتدریج نشوونما دے کر حد کمال تک پہنچانا۔ یہ مصدر استعارۃً فاعل کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور مطلق ہونے پر اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے کیونکہ وہ تمام مخلوقات کے مصالح اور کفیل ہے۔ اس سے مشتق الفاظ میں رَبِّی (میرا پروردگار)، رَبَّانِیّ (علم و تربیت دینے والا، اللہ والا)، رُبُوْبِیَّة (پروردگاری) شامل ہیں۔ عام زبان میں بھی رَبُّ الدّار، رَبُّ الفرس، رَبِّيب وغیرہ اسی معنی میں آتے ہیں۔ قرآن میں الرَّبُّ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص استعمال ہوا ہے، جبکہ کفار اپنی محدود تصورات کے مطابق أَرْبَاب کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ لفظ کا استعمال پرورش، کفالت اور اختیار کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے، جیسا کہ آیات میں “رَبِّ الْعَالَمِينَ” اور “اللّٰهُ رَبُّكُمْ” میں آیا ہے۔
اَلرَّبُّ: (ان) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کسی چیز کو بتدریج نشو و نما دے کر حد کمال تک پہنچانا کے ہیں اور رَبَّہٗ، وَرَبَّاہٗ وَرَبَّتَہٗ تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ (1) لِأَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ: کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے۔ رَبٌّ کا لفظ اصل میں مصدر ہے استعارۃً بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق (یعنی اضافت اور لام تعریف سے خالی) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چنانچہ ارشاد ہے: (بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ) عمدہ شہر اور (آخرت میں) گناہ بخشنے والا پروردگار نیز فرمایا: (وَلَا يَأْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۤىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا) اور وہ تم سے (کبھی بھی) یہ نہیں کہے گا کہ فرشتوں اور انبیاء کرام کو خدا مانو (یعنی انہیں معبود بناؤ) اور مسبب الاسباب اور مصالح عباد کو کفیل سمجھو۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا جاتا ہے اور دوسروں پر بھی۔ چنانچہ فرمایا: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) ہر طرح کی حمد خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) – (اَللّٰهُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۤىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ) یعنی اللہ تعالیٰ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا بھی۔ رَبُّ الدَّارِ: گھر کا مالک رَبُّ الْفَرَسِ: گھوڑے کا مالک اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا: (اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ) اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کرنا۔ سو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ (ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ) اپنے سرکار کے پاس لوٹ جاؤ۔ اور آیت کریمہ: (مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْ اَحْسَنَ مَثْوَایَ) (یوسف نے کہا) معاذ اللہ وہ (تمہارا شوہر) میرا آقا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رَبِّیْ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور بعض نے عزیزِ مصر مراد لیا ہے لیکن پہلا قول انسب معلوم ہوتا ہے۔ (2) رَبَّانِیٌّ: بقول بعض یہ رَبَّانٌ (صیغہ صفت) کی طرف منسوب ہے لیکن عام طور پر فَعْلَانُ (صفت) فَعِلَ سے آتا ہے۔ جیسے عَطْشَانُ، سَکْرَانُ اور فَعَلَ (فتحہ عین سے بہت کم آتا ہے) جیسے نَعْشَانُ (مِنْ نَعَسَ) بعض نے کہا کہ یہ رَبٌّ (مصدر) کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم کی پرورش کرے جیسے حکیم (یعنی جو حکومت کو فروغ دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ رَبٌّ مصدر کی طرف ہی منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم سے اپنی پرورش کرے درحقیقت یہ دونوں معنی باہم متلازم ہیں کیونکہ جس نے علم کی پرورش کی تو اس نے علم کے ذریعہ اپنی ذات کی بھی تربیت کی اور جو شخص اس کے ذریعہ اپنی ذات کی تربیت کرے گا وہ علم کو بھی فروغ بخشے گا۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ رَبٌّ بمعنی اللہ کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ بمعنی اِلٰھِیٌّ ہے (یعنی اللہ والا) اور اس میں الف نون زائدتان ہیں جیسا کہ جِسْمٌ و جُسْمَانِیٌّ و لِحْیَانِیٌّ کہا جاتا ہے (3) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: (168) اَنَا رَبَّانِیُّ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ: میں اس امت کا عالم ربانی ہوں اس کی جمع رَبَّانِیُّوْنَ ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (لَوْلَا يَنْهٰهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ) انہیں ان کے نبی (یعنی مشائخ) کیوں منع نہیں کرتے۔ (كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ) بلکہ دوسروں سے کہے گا کہ تم خدا پرست ہو کر رہو۔ اور بعض نے کہا ہے کہ رَبَّانِیٌّ اصل میں سریانی لفظ ہے اور یہی قول انسب معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ عربی زبان میں یہ لفظ بہت کم پایا جاتا ہے۔ (4) اور آیت کریمہ: (رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ) بہت سے اللہ والوں نے۔ میں رِبِّیٌّ بمعنی رَبَّانِیٌّ ہے۔ (5) اَلرُّبُوْبِيَّةُ وَالرِّبَابِيَّةُ: یہ دونوں مصدر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے رُبُوْبِیَّة کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اَرْبَابٌ (صیغہ صفت) جمع ارباب قرآن پاک میں ہے: (ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) بھلا دیکھو تو سہی کہ جدا جدا معبود اچھے یا خدائے یگانہ اور زبردست۔ اصل تو یہ تھا کہ رَبٌّ کی جمع نہ آتی۔ کیونکہ قرآن پاک میں یہ لفظ خاص کر ذات باری تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن عقیدہ کفار کے مطابق بصيغہ جمع استعمال ہوا ہے اور اَرْبَابٌ کے علاوہ اس کی جمع اَرِبَّةٌ و رُبُوْبٌ بھی آتی ہے۔ چنانچہ شاعر نے کہا ہے (6) (بسیط) (168) كَانَتْ أَرِبَّتُهُمْ بَهْزًا وَعَمَّهُمْ عَقْدُ الْجِوَارِ وَكَانُوْا مَعْشَرًا غُدُرًا ان کے ہم عہد بنی بہز تھے جنہیں عقدِ جوار نے مغرور کر دیا اور درحقیقت وہ غدار لوگ ہیں۔ دوسرے شاعر نے کہا ہے۔ (7) (طویل) (168) وَكُنْتُ امْرَئً أَفْضَتْ إِلَيْكَ رِبَابَتِي وَقَبْلَكَ رَبَّتْنِي فَضَعْتُ رُبُوْبُ تم وہ آدمی ہو جس تک میری سرپرستی پہنچی ہے تم سے پہلے بہت سے میرے سرپرست بن چکے ہیں۔ مگر میں ضائع ہو گیا ہوں۔ رِبَابَةٌ: عہد و پیمان یا اس چیز کو کہتے ہیں جس میں قمار بازی کے تیر لپیٹ کر رکھے جاتے ہیں۔ رَابَّةٌ: وہ بیوی جو پہلے شوہر سے اپنی اولاد کی تربیت کر رہی ہو۔ اس کا مذکر رَابٌّ ہے۔ لیکن وہ اولاد جو پہلے شوہر سے ہو اور دوسرے شوہر کی زیر تربیت ہو یا پہلی بیوی سے ہو اور دوسری بیوی کی آغوش میں پرورش پا رہی ہو۔ اسے رَبِيْبٌ یا رَبِيْبَةٌ کہا جاتا ہے اس کی جمع رَبَائِبُ آتی ہے قرآن پاک میں ہے: (وَرَبَاۤىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ) اور تمہاری بیویوں کی (پچھلی) اولاد جو تمہاری گودوں میں (پرورش پاتی) ہے۔ رَبَّبْتُ الْاَدِیْمَ بِالسَّمْنِ: میں نے چمڑے کو گھی لگا کر نرم کیا۔ رَبَّبْتُ الدُّهْنُ اَیْ بِالْعَسَلِ: میں نے شہد سے دوا کی اصلاح کی۔ سِقَاءٌ مَرِبُوبٌ: پانی مشک جسے تیل لگا کر نرم کیا گیا ہو۔ شاعر نے کہا ہے۔ (8) (طویل) (168) فَکُونِیْ لَہُ کَالشَّنِّ نَیَّثَ لَہُ الْاَدَمُ تم اس کے لئے ایسی ہو جاؤ جیسے رَبٌّ لگا ہوا چمڑا گھی کے لئے ہوتا ہے۔ اَلرَّبَابُ: بادل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ نباتات کی پرورش کرنا اور اسے بڑھاتا ہے اسی معنی کے اعتبار سے مِصُّ کُوْدٌ (دودھ) اور بادل کو تشبیہاً نَقُوءٌ (یعنی دودھ دینے والی اونٹنی) کہا جاتا ہے محاورہ ہے۔ اَرَبَّتِ السَّحَابَةُ: بدلی متواتر برستی رہی اور اس کے اصل معنی میں بدلی صاحب تربیت ہو گئی۔ اس کے بعد اس سے ٹھہرنے کا معنی لے کر یہ لفظ کسی جگہ پر مقیم ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے اَرَبَّ فُلَانٌ بِمَكَانِ کَذَا: اس نے فلاں جگہ پر اقامت اختیار کی۔ رُبَّ: تقلیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ (9) جیسے فرمایا: (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) کافر بہتیرے ہی ارمان کریں گے (کہ) اے کاش (ہم بھی) مسلمان ہوئے ہوتے۔
لفظ العِلْم کا مطلب ہے کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا، چاہے وہ ذات کی پہچان ہو یا اس کی صفات و احکام کا علم۔ علم دو طرح کا ہے: نظری (حاصل ہوتے ہی مکمل) اور عملی (عمل کے بغیر مکمل نہ ہونے والا)، نیز عقلی (عقل سے حاصل شدہ) اور سماعی (نقل یا تعلیم کے ذریعہ حاصل شدہ)۔ تعلیم اور اعلام سے علم دل میں القا یا یاد دہانی ہوتا ہے۔ قرآن میں علم کو اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جیسے: (عَلِيمُ الغَيْبِ) جو غیب جاننے والا ہے۔ لفظ العالم کسی شے یا کائنات کے علم حاصل کرنے والے کے لیے، اور العالمون اس کی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لیے غور و فکر کی تاکید بھی اسی سے ہے، جیسا کہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)۔
اَلْعِلْمُ: کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا۔ اور یہ دو قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرنا؛ دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو (فی الواقع) اس کے لیے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو (فی الواقع) اس سے منفی ہو۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: (لَا تَعْلَمُوْنَهُمُ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ) جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: (فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ) اگر تم کو معلوم ہو کہ وہ مؤمن ہیں۔ اور آیت (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ) کے آخر میں (لَا عِلْمَ لَنَا) سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش وحواس قائم نہیں رہیں گے۔ ایک دوسرے حیثیت سے علم کی دو قسمیں ہیں: (1) نظری (2) عملی۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہو جائے جیسے “علم جس کا تعلق موجوداتِ عالم سے ہے اور علم عملی وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جیسے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں: (1) عقلی۔ یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل و سماعت کے حاصل کیا جائے دراصل ہو سکے۔ (2) سماعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل اَعْلَمْتُهٗ وَعَلَّمْتُهٗ کے ایک معنی ہیں مگر اِعْلَامٌ جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تَعْلِیْمٌ کے معنی بار بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں۔ حتی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہو جائے۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کے لیے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تَعَلُّمٌ کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تَعْلِیْمٌ کا لفظ اِعْلَامٌ کی جگہ آتا ہے کہ جس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا: (اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِيْنِكُمْ) کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور حسبِ ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے: جیسے فرمایا: (اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ) خدا جو نہایت مہربان، اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی۔ (عَلَّمَ بِالْقَلَمِ) قلم کے ذریعہ (لکھنا) سکھایا۔ (عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ) اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے۔ (عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ) ہمیں خدا کی طرف سے جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ كُلَّهَا) اور اس نے آدم علیہ السلام کو سب چیزوں کے نام سکھائے۔ میں آدم علیہ السلام کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعداد رکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لیے ایک نام وضع کر لیا یعنی اس کے دل میں القا کر دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو اے کام سکھا دیے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمْنٰهٗ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا… قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا) اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھلایا گیا ہے اگر آپ مجھے اس میں سے کچھ رشد و ہدایت (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ اس سے ایک خاص علم مراد ہے جس پر انسان از خود واقف نہیں ہو سکتا اور جب تک اللہ تعالیٰ اس پر واقف نہ فرمائے لوگ اسے قابلِ انکار سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر کے ساتھ چلے تو جب تک انہوں نے ان واقعات کی حقیقت سے موسیٰ علیہ السلام کو باخبر نہیں کر دیا وہ ان باتوں کا انکار ہی کرتے رہے اور بعض نے کہا ہے کہ آیت کریمہ: (قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ) ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا، میں بھی علم کے یہی معنی مراد ہیں یعنی جسے علمِ خصوصی حاصل تھا اور آیت: (وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ) اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ مراتب علم کے اعتبار سے علماء کے بھی مختلف درجے اور مرتبے ہیں اور آیت کریمہ: (وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ) اور ہر علم والے سے دوسرا اعلم والا بڑھ کر ہے۔ میں عَلِیْمٌ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ علم و فضل کے اعتبار سے ایک انسان دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ عَلِیْمٌ صیغہ مبالغہ لاکر اس علمی فضیلت کو بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے سے کم درجہ کے اعتبار سے عَلِیْمٌ ہے گو اپنے سے بلند درجہ عالم کے اعتبار سے ایسا نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عَلِیْمٌ سے ذاتِ باری تعالیٰ مراد ہو گو یہ لفظ نکرہ ہے کیونکہ درحقیقت اس صفت کے ساتھ موصوف ہونے کی اہل تو ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے اس صورت میں كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ سے جملہ اہلِ علم بحیثیت مجموعی مراد ہوں گے اور ہر ایک بحیثیت انفرادی مراد نہیں ہوگا جیسا کہ پہلی صورت میں تھا۔ اور آیت کریمہ: (عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے اور کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں ہے اور آیت کریمہ: (عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا… اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ) وہی غیب کا جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ اپنے علم خصوصی سے صرف انہیں کو نوازتے ہیں جو اس کے اولیاء کی صف میں داخل ہوں اور اَلْعَالِمُ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات ہوتی ہے جس پر کوئی چیز بھی مخفی نہ ہو۔ جیسے فرمایا: (لَا تَعْلَمُ مِنْهَا خَافِیَةٌ) اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہیں رہے گی۔ اور یہ مفہوم صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے حق میں ہی صحیح ہو سکتا ہے کسی دوسرے کو اس معنی کے ساتھ متصف کرنا صحیح نہیں۔ اَلْعَلَامَةُ: ایسا نشان جس سے کوئی شے پہچانی جائے جیسے عَلَمُ الطَّرِیْقِ: اس نشان کو کہتے ہیں جو راستہ کی پہچان کے لیے اس میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اور فوج کے جھنڈے کو عَلَمُ الْجَیْشِ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے فوج کی پہچان ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک قرأت میں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) (وَ اِنَّهٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ) کہا گیا ہے یعنی وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ اور اس معنی کے اعتبار سے پہاڑ کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے۔ اس کی جمع اَعْلَامٌ ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے: (وَمِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور اس کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں جو گویا پہاڑ ہیں۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا: (وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَـٰٔاتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔ نیز اوپر کے ہونٹ کے شگاف اور کپڑے کے نقش و نگار کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے اور محاورہ ہے فُلَانٌ عَالَمٌ فلاں مشہور و معروف ہے جھنڈے کے ساتھ تشبیہ کے اعتبار سے یہی معنی مراد ہوتے ہیں۔ اَعْلَمْتُ کَذَا کے معنی کسی چیز پر نشان لگانا کے ہیں۔ اور مَعَالِمُ الدِّيْنِ وَالدُّنْیَا میں مَعْلَمَةٌ کا واحد مَعْلَمٌ ہے اور مَعْلَمٌ اس نشان کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کی پہچان ہو سکے محاورہ ہے۔ فُلَانٌ مَعْلَمٌ بِالْخَيْرِ: فلاں خیر و برکت کا نشان ہے۔ اَلْعَلَامُ: مہندی۔ اَلْعَالِمُ: فلک الافلاک اور جن وجواہر و اعراض پر وہ حاوی ہے سب کو اَلْعَالَمُ کہا جاتا ہے دراصل یہ فَاعَلَ کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے طَابَعٌ، خَاتَمٌ، مَا یُعْلَمُ بِہٖ وغیرہ اسی طرح عَالَمٌ بھی ہے جس کے معنی ہیں مَا عُلِمَ بِهٖ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لیے جملہ کائنات اَلْعَالَمُ کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک نے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت پر غور نہیں کیا۔ اور اَلْعَالَمُ کی جمع (اَلْعَالَمُوْنَ) اس لیے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقل عالم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً عالم الانسان، عالمِ النبات، عالمِ النار وغیرہ۔ نیز ایک روایت میں ہے۔ (1) (اِنَّ لِلّٰہِ بِضْعَةَ عَشَرَ اَلْفَ عَالَمٍ) کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کیے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ (واؤ نون کے ساتھ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے (جو ذوی العقول کے ساتھ مختص ہے) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عَالَمٌ میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لیے اس کی جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبًا اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عَالَمٌ سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے، جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ (2) اس لیے اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ لائی گئی ہے۔ امام جعفر رضی اللہ عنہ بن محمد کا قول ہے (3) کہ عَالَمِیْنَ سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد و بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لیا گیا ہے۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عَالَمٌ دو قسم پر ہے: (1) اَلْعَالَمُ الْکَبِیْرُ: یعنی فلک و ما فیہ (2) اَلْعَالَمُ الصَّغِیْرُ: یعنی انسان، کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جو عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ہے: (اَوَلَمْ یَنْتَهَوْا عَنِ الْعٰلَمِیْنَ) کیا ہم نے تم کو سارے جہاں کی حمایت و طرفداری سے منع نہیں کیا تھا۔ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ اور آیت کریمہ: (وَاَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ) کے بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصر اقوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلاء مراد لیے ہیں جن میں سے ہر ایک نوازشات الہی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عَالَمٌ سے موسوم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ: (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً) “بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک امت تھے” میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کہا ہے۔