بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین

حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین

احناف کے نزدیک ترکِ رفع الیدین کی سب سے مشہور دلیل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اس روایت کو بعض حضرات رفع الیدین کے نسخ یا ترک پر دلیل بناتے ہیں، جبکہ اصولِ حدیث کی روشنی میں اس روایت پر متعدد علمی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ ذیل میں اسی روایت کا سندی اور اصولی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھائی اور اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے مگر صرف پہلی مرتبہ۔

﴿سنن ترمذي:كتاب الصلاة:حدیث: 257

فہرستِ مباحث

کسی بھی حدیث کو قبول یا رد کرنے سے پہلے محدثین نے چند بنیادی اصول مقرر کیے ہیں، جن کی روشنی میں ہر روایت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ کسی روایت کے صحیح ہونے کے لیے صرف راویوں کا ثقہ ہونا کافی نہیں، بلکہ سند کا متصل ہونا، روایت کا شذوذ اور علت سے محفوظ ہونا، نیز تفرد اور نسخ جیسے مسائل کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر گفتگو سے پہلے مناسب ہے کہ ان اصولوں کو مختصراً بیان کر دیا جائے تاکہ بعد میں آنے والی تحقیق کو سمجھنا آسان ہو جائے۔

چند ضروری اصولِ حدیث

حديث صحيح كى تعريف

“یہ (حدیثِ صحیح) وہ ہے جس کا مدار ایسے راوی پر ہو جو عادل اور پختہ کار (ضابط) ہو، اور اس کی سند متصل ہو۔ پس اگر وہ ‘مرسل’ (جس کی سند میں انقطاع ہو) ہو، تو اس سے استدلال کرنے (دلیل پکڑنے) میں اختلاف ہے۔ اور اہل برحق (محدثین) نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ وہ شذوذ (انفرادیت یا مخالفت) اور علت (پوشیدہ عیب) سے محفوظ ہو۔ اور فقہاء کے نقطہ نظر کے مطابق اس (شرط) میں غور و فکر کی گنجائش ہے، کیونکہ وہ بہت سی علتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔”

﴿الموقظة:23

شاذ كى تعريف

“یہ وہ (حدیث) ہے جس کے راوی نے اپنے سے زیادہ قابلِ اعتماد (ثقہ) راویوں کی مخالفت کی ہو، یا اسے ایسے راوی نے اکیلے روایت کیا ہو جس کا حال (یا مرتبہ) اس کے اکیلے روایت کرنے کو قبول کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔”

﴿الموقظة:42

تفرد كى تعريف

اس سے مراد یہ ہے کہ کوی راوی جب اپنی روایت بیان کرنے میں منفرد ہوجاۓ۔

کلام كى تعريف

تفرد ثقہ و صدوق دونوں مقبول ہے اگر کسی متواتر یا اس سے قوی روایت مخالفت نہ کرے۔

ناسخ و منسوخ پر ائمہ احناف

چوں کہ آج کل کہ حنفی حضرات کہتے ہے کہ رافع الیدین ترک ہوگیا یا منسوخ ہوگیا اس پر ائمہ احناف کا کلام ملاحظہ کرے کہ منسوخ پر وہ کیا عمل ركہتے:

امام سرخسی رحمہ اللہ لکہتے:

“ابوبکر الرازی (جصاص) فرماتے ہیں: یہ متواتر کی دو اقسام میں سے ایک ہے، اس معنی میں کہ اس کے ذریعے علمِ یقین (ایسا علم جس میں کوئی شک نہ ہو) ثابت ہوتا ہے۔”

﴿اصول السرخسى:292/1

اگے مزید کہتے:

“کسی ناسخ (منسوخ کرنے والی) نص کی بنیاد پر۔ اور جو حکم یقین کا فائدہ دیتا ہو، اس کا منسوخ ہونا ثابت نہیں ہوتا مگر اسی جیسی دلیل سے جو علمِ یقین کا فائدہ دیتی ہو۔”

﴿اصول السرخسى:292/1

آسان الفاظ میں “اگر کوئی شرعی حکم کسی پکی اور قطعی دلیل جیسے قرآن مجید یا حدیثِ متواتر سے ثابت ہو، تو وہ کسی کمزور یا شک والی دلیل سے ختم  نہیں ہو سکتا۔ اسے منسوخ کرنے کے لیے بھی اتنی ہی پکی اور یقینی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔”

الامام ابو بکر الجصاص رحمہ اللہ فرماتے:

“اگر  ناسخ (منسوخ کرنے والے حکم) کے لیے اپنے نظم ، صورت، حروف اور معانی میں منسوخ (جس حکم کو ختم کیا گیا) جیسا ہونا واجب ہوتا۔”

﴿الفصول فى الاصول:349/2

امام احمد بن الحسن الحنبلى رحمه الله فرماتے:

“قرآن اور حدیثِ متواتر کا (اخبارِ احاد کے ذریعے) منسوخ ہونا؛ پس یہ شرعی طور پر جائز (ممکن) نہیں ہے، جبکہ عقلی طور پر جائز ہے، اور یہی اکثر علماء کا قول (موقف) ہے۔”

﴿التمهيد فى اصول فقه:382/2

حدیث عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ

علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟“ پھر انہوں نے نماز پڑھائی اور اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے مگر صرف پہلی مرتبہ۔

﴿سنن ترمذي:كتاب الصلاة:حدیث: 257

اس پر كلام واضح ہے امام سفیان بن سعید الثوری مدلس ہے اور اس روایت کو بیان کرنے میں عاصم منفرد ہے جو آگے بیان کریں گے۔

علت نمبر 1: سفیان ثوری کی تدلیس

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہے:

سفيان بن سعيد الثورى مشهور به التدليس۔

﴿اسماء المدلسين:51

الامام ابو زرعة العرقی فرماتے:

سفيان بن سعيد الثورى مشهور به التدليس۔

﴿كتاب المدلسين:52

سفیان ائمہ محدثین کے نزدیک

2امام ابن حبان رحمه الله فرماتے ہے:

“وہ ثقہ (قابلِ اعتماد) راوی جو احادیث میں ‘تدلیس’ (راوی کا نام چھپانا یا مبہم کرنا) کرتے تھے، جیسے کہ قتادہ، یحییٰ بن ابی کثیر، اعمش، ابو اسحاق، ابن جریج، ابن اسحاق، ثوری، ہشیم اور ان جیسے دیگر راوی جن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کا شمار پسندیدہ ائمہ اور دین میں پرہیزگار لوگوں میں ہوتا ہے۔ یہ لوگ سب سے (احادیث) لکھتے تھے اور ان لوگوں سے بھی روایت کر دیتے تھے جن سے انہوں نے سنا ہوتا تھا، لیکن بعض اوقات وہ شیخ (استاد) سے سننے کے بعد اس میں کچھ ایسے ضعیف (کمزور) لوگوں کی طرف سے تدلیس کر دیتے تھے جن کی احادیث سے دلیل پکڑنا جائز نہیں ہوتا۔

چنانچہ جب تک مدلس (تدلیس کرنے والا) راوی ‘حدثني’ (مجھے حدیث بیان کی) یا ‘سمعت’ (میں نے سنا) نہ کہے، تو اس کی خبر (روایت) سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔ اور یہی امام شافعی [یعنی ابو عبداللہ محمد بن ادریس] رحمہ اللہ اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہمارے شیوخ کا اصول ہے۔ میں نے اس مسئلے کو اس کے تمام سوالات، جوابات، علتوں اور حکایات کے ساتھ اپنی کتاب ‘شرائط الأخبار’ میں تفصیل سے ذکر کر دیا ہے، اس لیے اس کتاب میں اسے دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں رہی۔”

﴿المجروحين لابن حبان:86/1

“اور رہے وہ مدلسین (تدلیس کرنے والے راوی) جو کہ ثقہ (قابلِ اعتماد) اور عادل ہیں، تو ہم ان کی اخبار (روایات) سے اس وقت تک دلیل نہیں پکڑتے جب تک کہ وہ ان روایات میں واضح طور پر اپنے سننے (سماع) کی وضاحت نہ کر دیں جو انہوں نے روایت کی ہیں۔ جیسے کہ ثوری، اعمش، ابو اسحاق اور ان جیسے دیگر ائمہ متقین (تقویٰ والے) اور دین میں پرہیزگار لوگ۔”

﴿صحيح ابن حبان التقاسيم والانواع:115/1

امام نووى رحمه الله فرماتے:

“بے شک سفیان مدلسین (تدلیس کرنے والے راویوں) میں سے ہیں، اور انہوں نے پہلی روایت علقمہ سے (عنعنہ کے ساتھ) بیان کی ہے، اور مدلس کی ‘عنعنہ’  سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی۔”

﴿صحیح مسلم شرح النووى:178/3

امام قسطلانى رحمه الله فرماتے ہے:

 “اور سفیان (ثوری) مدلسین  میں سے ہیں، اور مدلس کی ‘عن’ والی روایت  سے حجت نہیں پکڑی جاتی الا یہ کہ کسی دوسرے طریقے  سے ان کا سماع  ثابت ہو جائے۔”

﴿ارشاد السارى فى شرح صحيح البخارى:414/2

امام ذهبى رحمة الله عليه فرماتے:

“اور کہا جاتا ہے: وہ ان تمام باتوں سے رجوع کر چکے تھے (پیچھے ہٹ گئے تھے)، اور وہ بادشاہوں (حکمرانوں) پر انکار (نکیر) کرتے تھے، لیکن وہ (حکمرانوں کے خلاف) خروج (بغاوت) کے بالکل قائل نہ تھے۔ اور وہ اپنی روایت میں تدلیس کرتے تھے، اور بسا اوقات وہ ضعیف (کمزور) راویوں سے بھی تدلیس کر لیتے تھے۔”

﴿سیر اعلام النبلاء:242/7

حافظ العلائ رحمة الله عليه فرماتے ہے:

“اور تیسری قسم: وہ راوی جو ایسے مجہول (نامعلوم) لوگوں سے تدلیس کرتا ہے جن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ کون ہیں، جیسے کہ سفیان ثوری۔”

﴿جامع التحصيل:99

امام حاكم رضی اللہ عنہ فرماتے ہے:

“ابو عبداللہ (امام حاکم) نے فرمایا: ائمہ (حدیث) کی ایک جماعت نے مجہول  راویوں کی ایک جماعت سے روایت کی ہے، اور ان ائمہ میں سفیان ثوری بھی شامل ہیں۔”

﴿معرفة علوم الحديث الحاكم:106

امام شمس الدين البرماوى فرماتے ہے:

“پس بے شک سفیان مدلسین (تدلیس کرنے والے راویوں) میں سے ہیں، لہٰذا اس (اصول) کے ساتھ ان کی ‘عنعنہ’ (بغیر سماع کی صراحت کے ‘عن’ کہہ کر روایت کرنے) میں موجود اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔”

﴿اللامع الصبيح:117/6

امام كرمانى فرماتے ہے:

“اور سفیان (ثوری) مدلسین  میں سے ہیں، اور مدلس کی ‘عن’ والی روایت  سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔”

﴿شرح الكرمانى شرح صحيح البخارى:62/3

سفیان ائمہ احناف کے نزدیک

امام بدر الدين عينى حنفى فرماتے ہے:

“اور سفیان (ثوری) مدلسین  میں سے ہیں، اور مدلس کی ‘عن’ والی روایت  سے حجت نہیں پکڑی جاتی  الا یہ کہ کسی دوسرے طریقے  سے ان کا سماع  ثابت ہو جائے۔”

﴿عمدة القارى فى شرح صحيح البخارى:112/3

امام احمد بن اسماعيل الحنفى فرماتے ہے:

کیونکہ سفیان  مدلس ہیں، ان کی ‘عن’ والی روایت سے تب تک حجت  نہیں پکڑی جائے گی جب تک ثابت نہ ہو جائے۔”

﴿الكوثر الجاري:367/1

ملا على قارى فرماتے:

بہرام، تدلیس الاسناد (سند میں تدلیس کرنا) یہ ہے کہ راوی کسی ایسے شخص سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات ہوئی ہو یا وہ اس کے ہم عصر (ایک ہی زمانے میں) رہا ہو، لیکن اس نے وہ حدیث اس سے خود نہ سنی ہو، اور وہ (ایسے الفاظ کے ساتھ) یہ تاثر (وہم) دے کہ اس نے یہ حدیث اسی سے سنی ہے۔ وہ ‘أخبرنا’ (ہمیں خبر دی) یا اس کے ہم معنی الفاظ نہیں کہتا، بلکہ یوں کہتا ہے: ‘فلاں نے کہا’، یا ‘فلاں سے مروی ہے’، یا ‘بے شک فلاں نے کہا’ اور اس جیسے دیگر الفاظ۔

پھر کبھی (چھپایا جانے والا راوی) ان دونوں کے درمیان صرف ایک ہوتا ہے، اور کبھی ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اور بعض اوقات مدلس اپنے شیخ (استاد) کو نہیں گراتا، بلکہ اس کے بعد والے کسی ایسے شخص کو گرا دیتا ہے جو ضعیف ہو، یا عمر میں چھوٹا ہو، تاکہ اس طریقے سے وہ حدیث کو اچھا (بہتر) بنا سکے۔ اور (امام) اعمش، (سفیان) ثوری، (سفیان) بن عیینہ، اور ابن اسحاق وغیرہ اس قسم کی تدلیس کیا کرتے تھے۔”

﴿شرح نخبتہ الفکر القاری:420

علت نمبر 2 :سفيان الثورى كى خطا

امام ابو حاتم فرماتے ہے:

“میرے والد نے فرمایا: یہ غلطی ہے؛ کہا جائے گا کہ: (سفیان) ثوری کو اس میں وہم (بھول/غلط فہمی) ہوا ہے۔ اس حدیث کو عاصم سے (محدثین کی) ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور ان سب نے کہا ہے کہ: نبی کریم ﷺ نے (نماز کا) آغاز کیا، پس اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کیا، تو تطبیق کی (دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر ایک دوسرے میں ڈالا)، اور انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ اور کسی ایک نے بھی وہ بات نہیں کہی جو ثوری نے روایت کی ہے۔”

﴿العلل ابن ابى حاتم:124/2

علت نمبر 3 :ائمہ کا سفیان کی حدیث میں انقطاع کا بیان

امام خطیب البغدادی:

“ہمیں سلمہ بن کہیل نے حدیث بیان کی، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ سفیان نے ان (سلمہ) سے، انہوں نے ابو عمرو الشیبانی سے اور انہوں نے عبداللہ (بن مسعود) سے یہ روایت نہیں سنی جس میں انہوں نے کہا: ‘سائبہ (وہ غلام جسے بغیر کسی ولاء یا شرط کے آزاد کیا گیا ہو) اپنا مال جہاں چاہے رکھ سکتا (یعنی وصیت کر سکتا) ہے۔'”

ابو بکر (الخطیب ) نے فرمایا: سفیان نے یقیناً سلمہ بن کہیل سے (دیگر احادیث) سنی ہیں اور ان سے روایات کی اسناد بھی بیان کی ہیں، امام شعبہ نے اللہ کا شکر صرف اس بات پر ادا کیا تھا کہ سفیان نے ان سے خاص طور پر ‘سائبہ والی یہ حدیث’ نہیں سنی تھی۔”

﴿الجامع  الاخلاق الراوى و اداب السامع:141/2

امام نسائی نے فرمایا:

اور سفيان نے ابو زبیر سے نہیں سنا۔

﴿شرح النسائ السیوطی:88/8

﴿السنن الکبری النسائ:38/7

امام یحیی بن معین نے فرمایا:

اور سفیان نے سعید بن ابی بردۃ۔

﴿مسند ابن الجعد:93

امام الحمیدی فرماتے ہے:

سفیان نے امام زہری سے نہیں سنا۔

﴿مسند الحميدى:281/1

امام دارقطنى فرماتے ہےکہ امام یحیی بن معین نے کہا:

سفیان نے زبیر بن عربی سے نہیں سنا۔

﴿الموتلف المختلف:1683/2

امام ابو القاسم الرازی کہتے:

سفیان نے حکم بن عتیبہ سے نہیں سنا۔

﴿الفوائد:148/1

امام احمد بن حنبل کہتے ہے:

سفیان نے یہ عبد اللہ کی تشہد والی روایت نہیں سنی۔

﴿کتاب العلل و معرفة الرجال:139/3

امام دارمى کہتے ہے:

سفیان نے ابن ابی نجیح سے نہیں سنا۔

﴿سنن الدارمی:1588،1587/2

الزاماً عرض ہے

اگر مخالف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کی معنعن (عن والی) روایت مطلقاً قابلِ قبول ہے اور اس میں تدلیس کا احتمال نظر انداز کیا جائے گا، تو پھر اسے اسی اصول پر سفیان ثوری کی دوسری معنعن روایات بھی قبول کرنا ہوں گی، خواہ ان کے نتائج اس کے اپنے مسلک کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔

مثال نمبر 1

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:

ہمیں وکیع نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: “کیا میں رمضان میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟” تو انہوں نے فرمایا:

“خاموش رہو، جیسے تم گدھے ہو۔”

﴿مصنف ابن ابي شيبہ: 166/2

اگر سفیان ثوری کی ہر معنعن روایت بلا تحقیق قابلِ قبول ہے، تو پھر اس اثر کو بھی ماننا ہوگا۔

مثال نمبر 2

امام طبری (تہذیب الآثار) روایت کرتے ہیں:

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرحمن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے اعمش سے، انہوں نے ابو وائل سے روایت کیا، انہوں نے کہا:

“میں مسروق کے ساتھ السلسلہ میں تھا۔ ہمارے پاس سے ایک کشتی گزری جس میں سونے اور چاندی کے بت تھے، جنہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہندوستان فروخت کرنے کے لیے بھیج رہے تھے۔ مسروق نے کہا: اگر مجھے یقین ہوتا کہ صرف مجھے قتل کیا جائے گا تو میں اس کشتی کو ڈبو دیتا، لیکن میں فتنے سے ڈرتا ہوں۔”

﴿تهذيب الاثار -مسند علي: 241

حالانکہ نبی کریم ﷺ نے صاف طور پر فرمایا:

“بیشک اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔”

﴿صحیح البخاری: 2236، صحیح مسلم: 1581

یہ دونوں مثالیں اصل دلیل نہیں بلکہ الزاماً پیش کی جا رہی ہیں۔ اگر مخالف سفیان ثوری کی معنعن روایت کو بلا قید و شرط حجت مانتا ہے، تو پھر اسے انہی کی دوسری معنعن روایات بھی قبول کرنا ہوں گی، خواہ وہ اس کے اپنے موقف کے خلاف ہوں۔ اور اگر وہ ان روایات کو تدلیس یا عنعنہ کے احتمال کی بنا پر قبول نہیں کرتا، تو پھر انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ پہلی روایت کے بارے میں بھی یہی اصول اختیار کرے۔ ایک ہی راوی کی معنعن روایت کو ایک جگہ قبول کرنا اور دوسری جگہ رد کرنا علمی دیانت اور یکساں اصول کے خلاف ہے۔

علت نمبر 4: عاصم بن کلیب کا تفرد

عاصم بن كليب حب اپنے باپ کلیب سے روایت کرے تو اس کا تفرد قبول نہیں کیا جاۓ گا۔حلانکہ وہ ثقہ ہے اور ثقہ صدوق دونوں کا تفرد قبول ہوتا اگر روایت شاذ نہ ہو اور اوثق یا کسی حافظ راوی کے مخالف نہ ہو۔

امام علی بن مدینی فرماتے:

اس کی منفرد روایت سے حجت نہیں لی جاۓ گی۔

﴿کتاب الضعفاء والمتروکین:70/2

امام البزار نے عاصم کی منفرد روایت پر جرح کرتے ہوے کہا:

“اور اس حدیث کو عاصم بن کلیب نے روایت کیا ہے، اور عاصم کی حدیث میں اضطراب (کمزوری) پایا جاتا ہے۔

﴿مسند البزار:47/5

امام احمد بن حنبل فرماتے ہے:

“اور میرے علم کے مطابق اسے عاصم سے (ابو بکر) النَھشَلی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا۔ گویا کہ انہوں نے (امام احمد نے) اس کا انکار کیا (یا اسے ناپسند کیا)۔”

﴿العلل ومعرفة الرجال:374/1

﴿الجامع لعلوم الامام احمد: 14/ 234

ائمۂ حدیث کی تضعیف

اس روایت کے متعلق متعدد ائمۂ حدیث نے صراحت کی ہے کہ اس میں موجود “ثُمَّ لَمْ يَعُدْ” (پھر دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھائے) کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اس روایت کو قابلِ احتجاج قرار نہیں دیا۔ ذیل میں ائمۂ حدیث کی تصریحات ملاحظہ فرمائیں:

امام النووى رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“اور  ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ انہوں نے فرمایا: «کیا میں تمہیں نبی کریم ﷺ جیسی نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے (نماز پڑھائی اور) صرف ایک مرتبہ (شروع میں) ہاتھ اٹھائے۔» انہوں نے (یعنی محدثین نے) اس کو ضعیف (کمزور) قرار دینے پر اتفاق کیا ہے،”

﴿خلاصة الاحکام:353/1

اور اسی طرح امام دارقطنى رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اور اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں ایک ایسا لفظ ہے جو محفوظ (ثابت) نہیں ہے، جسے ابو حذیفہ نے سفیان ثوری سے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے، اور وہ لفظ ہے: “ثم لم يعد” (پھر انہوں نے دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھائے)۔

اسی طرح (یہی لفظ “ثم لم يعد”) الحِمَّانی نے وکیع سے نقل کیا ہے۔

لیکن جہاں تک امام احمد بن حنبل، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابنِ نمیر کا تعلق ہے، تو انہوں نے اسے وکیع سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اپنی روایات میں یہ نہیں کہا (یعنی “ثم لم يعد” کے الفاظ ذکر نہیں کیے)۔

اسی طرح معاویہ بن ہشام نے بھی اسے سفیان ثوری سے اسی طرح روایت کیا ہے جس طرح محدثین کی بڑی جماعت نے اسے وکیع سے روایت کیا ہے (یعنی اس لفظ کے بغیر)۔

چنانچہ جس راوی نے بھی “ثم لم يعد” (پھر دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھائے) کے الفاظ کہے ہیں، وہ محفوظ نہیں ہیں۔

﴿علل الدرقطنى:173,172/5

امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ایک طویل حدیث کا مختصر حصہ (اختصار) ہے، اور یہ حدیث ان الفاظ (الفظ) کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔

﴿سنن ابى داود:199/1

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

زائر عباس

زائر عباس

زائر عباس متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور شیعہ مطالعات کے محقق ہیں۔ سابقہ شیعہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے انہیں اثنا عشریہ مصادر اور عقائد کا خصوصی مطالعہ حاصل ہے۔ ان کی تحریریں بنیادی مراجع اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جاتی ہیں۔