علم کی فضیلت کے بیان میں۔ (بخاری)
کتاب: علم کے بیان میں
باب: علم کی فضیلت کے بیان میں۔
احادیث:1
ترجمة الباب
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا العِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ [المجادلة: 11] وَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [طه: 114]
وقول الله تعالى:﴿يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات والله بما تعملون خبير﴾[المجادلة: 11]وقولہ عز وجل ﴿وقل رب زدني علما﴾ [طه: 114]
جو تم میں ایماندار ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے اللہ ان کے درجات بلند کرے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ طہ میں ) فرمایا ( کہ یوں دعا کیا کرو ) پروردگار مجھ کو علم میں ترقی عطا فرما۔حضرت امام قدس سرہ نے فضیلت علم کے بارے میں قرآن مجید کی ان دوآیات ہی کو کافی سمجھا، اس لیے کہ پہلی آیت میں اللہ پاک نے خوداہل علم کے لیے بلنددرجات کی بشارت دی ہے اور دوسری میں علمی ترقی کے لیے دعا کرنے کی ہدایت کی گئی۔ نیز پہلی آیت میں ایمان وعلم کا رابطہ مذکور ہے اور ایمان کو علم پر مقدم کیا گیا ہے۔ جس میں حضرت امام قدس سرہ کے حسن ترتیب بیان پر بھی ایک لطیف اشارہ ہے کیونکہ آپ نے بھی پہلے کتاب الایمان پھر کتاب العلم کا انعقاد فرمایا ہے۔ آیت میں ایمان اور علم ہردو کو ترقی درجات کے لیے ضروری قراردیا۔ درجات جمع سالم اور نکرہ ہونے کی وجہ سے غیرمعین ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان درجات کی کوئی حد نہیں جواہل علم کو حاصل ہوں گے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو درجات کے اعتبار سے بلندی عطا فرمائے گا جو ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ اس کے علاوہ فرمان الٰہی ہے: ’’(آپ کہہ دیجیے: ) میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 82
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْث، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْعِلْمَ".
حدثنا سعيد بن عفير، قال: حدثني الليث، قال: حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، ان ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" بينا انا نائم، اتيت بقدح لبن فشربت حتى إني لارى الري يخرج في اظفاري، ثم اعطيت فضلي عمر بن الخطاب، قالوا: فما اولته يا رسول الله، قال: العلم".
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ’’میں ایک مرتبہ سو رہا تھا کہ میرے سامنے دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب ؓ کو دے دیا۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ’’اس کی تعبیر ’’علم‘‘ ہے۔‘‘
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ’’میں ایک مرتبہ سو رہا تھا کہ میرے سامنے دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب ؓ کو دے دیا۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ’’اس کی تعبیر ’’علم‘‘ ہے۔‘‘
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
Sahih Muslim Urdu Translation
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 22,500Current price is: ₨ 22,500.
Sahih al-Bukhari Urdu Translat
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 25,000Current price is: ₨ 25,000.
Mishkat ul Masabih 3 Volume
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 8,000 Original price was: ₨ 8,000.₨ 5,000Current price is: ₨ 5,000.