متبع
علیٰ بصیرۃ نحن متبعون
ہم بصیرت کے ساتھ اتباع کرنے والے ہیں
آپ کہہ دیجئے : کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کروپھر اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران:31)
متبع
علیٰ بصیرۃ نحن متبعون
ہم بصیرت کے ساتھ اتباع کرنے والے ہیں
آپ کہہ دیجئے : کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کروپھر اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران:31)

حَدْيث ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذاً رضي الله عنه عَلى الْيَمنِ قَالَ: إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلى قَوْمِ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبادَةُ اللهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَواتٍ في يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكاةً مِنْ أَمْوالِهِمْ وَتَردُّ عَلى فُقَرائِهِمْ فَإِذا أَطَاعُوا بِها فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرائِم أَمْوالِ النَّاسِ
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ دیکھو تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب (عیسائی یہودی) ہیں اس لیے سب سے پہلے انہیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں (یعنی اسلام قبول کر لیں) تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں جب وہ اسے بھی ادا کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض قرار دی ہے جو ان کے سرمایہ داروں سے لی جائے گی (جو صاحب نصاب ہوں گے) اور انہیں کے فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی جب وہ اسے بھی مان لیں تو ان سے زکوۃ وصول کرنا البتہ ان کی عمدہ چیزیں (زکوۃ کے طور پر لینے سے) پرہیز کرنا۔
﴿ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 41 باب لا تؤخذ كرائم أموال الناس في الصدقة﴾
عقائدِ اسلام
اسلام کے بنیادی عقائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں جانیے۔
توحید، رسالت، آخرت اور ایمان کے دیگر بنیادی اصولوں کو صحیح فہم کے ساتھ سمجھیے۔
عقائد جانیے
فقہ السنہ
نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر عبادات کے مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں سیکھیے۔
اپنی عبادات کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کے لیے مستند رہنمائی حاصل کیجیے۔
اعمال سیکھیے
سیرتِ نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی، اخلاق، معاملات اور دعوتی جدوجہد کا مطالعہ کیجیے۔
آپ ﷺ کی سیرت سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی اور عملی سبق حاصل کیجیے۔
سیرت پڑھیں
کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟
دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔
واللہ اعلم
غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟
غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89)
واللہ اعلم






