(بخاری) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرنا کہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال (قحط) کے گزرے ہیں
کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرنا کہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال (قحط) کے گزرے ہیں
احادیث:2
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ"، قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: عَنْ أَبِيهِ هَذَا كُلُّهُ فِي الصُّبْحِ.
حدثنا قتيبة، حدثنا مغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رفع راسه من الركعة الآخرة يقول:" اللهم انج عياش بن ابي ربيعة، اللهم انج سلمة بن هشام، اللهم انج الوليد بن الوليد، اللهم انج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف، وان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: غفار غفر الله لها واسلم سالمها الله"، قال ابن ابي الزناد: عن ابيه هذا كله في الصبح.
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب آخری رکعت (کے رکوع) سے اپنا سر اٹھاتے تو دعا کرتے: ’’اللہ! عیاش بن ربیعہ کو نجات دے۔ اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! بےبس اور ناتواں اہل ایمان کو نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت فرما، اللہ! ان پر ایسی قحط سالی ڈال جیسی حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں تھی۔‘‘ اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’قبیلہ غفار کو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا۔‘‘ (راوی حدیث) حضرت ابو زناد اپنے باپ سے بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ مذکورہ دعائیں صبح کی نماز میں تھیں۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سر مبارک آخری رکعت (کے رکوع) سے اٹھاتے تو یوں فرماتے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» کہ یا اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ یا اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ یا اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ یا اللہ! بےبس ناتواں مسلمانوں کو نجات دے۔ یا اللہ! مضر کے کافروں کو سخت پکڑ۔ یا اللہ! ان کے سال یوسف علیہ السلام کے سے سال کر دے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غفار کی قوم کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم کی قوم کو اللہ نے سلامت رکھا۔ ابن ابی الزناد نے اپنے باپ سے صبح کی نماز میں یہی دعا نقل کی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا، قَالَ:" اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَالْجِيَفَ وَيَنْظُرَ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى الدُّخَانَ مِنَ الْجُوعِ"، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى سورة الدخان آية 10 - 16، فَالْبَطْشَةُ: يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَتِ الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ.
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال: حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال: كنا عند عبد الله، فقال: إن النبي صلى الله عليه وسلم لما راى من الناس إدبارا، قال:" اللهم سبع كسبع يوسف، فاخذتهم سنة حصت كل شيء حتى اكلوا الجلود والميتة والجيف وينظر احدهم إلى السماء فيرى الدخان من الجوع"، فاتاه ابو سفيان، فقال: يا محمد إنك تامر بطاعة الله وبصلة الرحم، وإن قومك قد هلكوا فادع الله لهم، قال الله تعالى: فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين إلى قوله إنكم عائدون يوم نبطش البطشة الكبرى سورة الدخان آية 10 - 16، فالبطشة: يوم بدر وقد مضت الدخان والبطشة واللزام وآية الروم.
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے لوگوں کی اسلام سے سرتابی دیکھی تو بددعا کی: ’’اے اللہ! انہیں سات برس تک قحط سالی میں مبتلا کر دے جیسا کہ حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں قحط پڑا تھا۔‘‘ چنانچہ قحط نے انہیں ایسا دبوچا کہ ہر چیز نیست و نابود ہو گئی یہاں تک کہ لوگوں نے چمڑے، مردار اور گلے سڑے جانور کھانے شروع کر دیے۔ اور ان میں سے اگر کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو بھوک کی وجہ سے اسے دھواں سا دکھائی دیتا۔ آخر ابوسفیان نے آ کر آپ کی خدمت میں عرض کی: اے محمد! آپ اللہ کی اطاعت اور اقرباء پروری کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم مری جا رہی ہے، آپ ان کے لیے اللہ سے دعا فرمائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ:١٠﴾ تا ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ﴾ ’’اے نبی! اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے ایک صاف دھواں ظاہر ہو گا‘‘ اس فرمان الہٰی تک’’ جب ہم انہیں سختی سے پکڑیں گے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: الْبَطْشَةَ یعنی سخت پکڑ بدر کے دن ہوئی۔ قرآن مجید میں جس دھویں، پکڑ اور قید کا ذکر ہے، اسی طرح آیت روم کا مصداق، سب واقع ہو چکے ہیں۔
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے (دوسری سند) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور بن مسعود بن معتمر سے بیان کیا، اور ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار قریش کی سرکشی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی «اللهم سبع كسبع يوسف» کہ اے اللہ! سات برس کا قحط ان پر بھیج جیسے یوسف علیہ السلام کے وقت میں بھیجا تھا چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ ہر چیز تباہ ہو گئی اور لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھا لیے۔ بھوک کی شدت کا یہ عالم تھا کہ آسمان کی طرف نظر اٹھائی جاتی تو دھویں کی طرح معلوم ہوتا تھا آخر مجبور ہو کر ابوسفیان حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اب تو آپ ہی کی قوم برباد ہو رہی ہے، اس لیے آپ اللہ سے ان کے حق میں دعا کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن کا انتظار کر جب آسمان صاف دھواں نظر آئے گا آیت «انکم عائدون» تک (نیز) جب ہم سختی سے ان کی گرفت کریں گے (کفار کی) سخت گرفت بدر کی لڑائی میں ہوئی۔ دھویں کا بھی معاملہ گزر چکا (جب سخت قحط پڑا تھا) جس میں پکڑ اور قید کا ذکر ہے وہ سب ہو چکے اسی طرح سورۃ الروم کی آیت میں جو ذکر ہے وہ بھی ہو چکا۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
Sahih Muslim Urdu Translation
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 22,500Current price is: ₨ 22,500.
Sahih al-Bukhari Urdu Translat
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 25,000Current price is: ₨ 25,000.
Mishkat ul Masabih 3 Volume
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 8,000 Original price was: ₨ 8,000.₨ 5,000Current price is: ₨ 5,000.