میں ایک بزنس مین ہوں اللہ نے بہت سارے مال سے نوازا ،
اچھی گاڑی اچھا گھر دوستوں کے ساتھ اچھا وقت گزرتا ،کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ اللہ نے سب کچھ نوازا ہے تو اس کی راہ میں بھی خرچ کیا جائے، سب کچھ ہے لیکن سکون نہیں،
ایک دن ایک دوست نے کہا کہ چلو پاس ہی ایک سینٹر ہے وہاں میرا ایک دوست کام کرتا ہے اسکے پاس چلتے ہیں، جب وہاں گئے تو دیکھا کہ وہاں پر بہت سے بچے ہیں جو کہ معذور ہیں اور مختلف قسم کی پریشانی میں مبتلا ہیں تو وہاں جا کر احساس ہوا کہ ان کی کچھ مدد کر دی جائے،
دوست کو کچھ پیسے دیئے کہ ھماری طرف سے بچوں کو کچھ کھلا پلا دیا جائے،
اور دل ہی دل میں خوش ہوا کہ چلو اچھی جگہ پیسے خرچ کر دئیے اور ایک انہونی سی خوشی کے ساتھ دل کا سکوں بھی پایا،
اس کے بعد مجھے چسکا لگ گیا کہ وہاں جایا جائے اور سکون خاصل کیا جائے،
میں اکثر وہاں خرچ کرنے لگا اور خوشی بھی فیل کرتا،
ایک بار دوست نے بتایا کہ ہمارے سینٹر میں وہیل چیئرز کی ضرورت ہے
میں نے کچھ چیئرز کا انتظام کیا اور وہاں پہنچا دوست نے معذور بچوں کو چیئرز پر بٹھایا بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر خوشی ہوئی،
ایک بچہ بار بار میرے پاس آتا اور مجھے تکتا جاتا مجھے عجیب لگا،
میں بچے کو بار بار دور ہٹانے کی کوشش کرتا لیکن وہ پھر سے وہی کرتا مجھے غصہ آنے لگا کہ عجیب بچہ ہے،
اچانک مجھے خیال آیا کہ شاید اس کو کسی اور چیز کی ضرورت ہے میں نے پوچھا بیٹے میں کافی دیر سے آپ کو برداشت کر رہا ہوں آپ جا کیوں نہیں رہے، “کچھ چاہیے کیا؟”
بچہ: نہیں کچھ نہیں چاہیئے بس میں آپ کا چہرہ یاد کر رہا ہوں اور میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں۔۔
اور مجھے یہ بات اور بھی عجیب لگی میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی تو “بچہ بولا کہ جب میں جنت میں جاوں گا تو آپ کا چہرہ یاد رکھوں گا اور اللہ کو دکھاؤں گا کہ انہوں نے ہمارے لیے آسانی پیدا کی “🥹🫀
خلاصہ _/
اپنا مال اطمینان قلب کے لیے خرچ کرتے رہیں کیا پتا کس کو آپکی نیکی یاد رہے اور وہ اللہ کے حضور سفارش کے لیے آپ کا چہرہ یاد رکھے۔🥺🥹
اللہ رب العالمین ہم سب کو ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرنے والے بنا دے آمین 🤲🏻😔