(بخاری) اس بارے میں کہ حیض کا آنا اور اس کا ختم ہونا کیونکر ہے؟
کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: اس بارے میں کہ حیض کا آنا اور اس کا ختم ہونا کیونکر ہے؟
احادیث:1
ترجمۃ الباب
وَكُنَّ نِسَاءٌ يَبْعَثْنَ إِلَى عَائِشَةَ بِالدُّرَجَةِ فِيهَا الْكُرْسُفُ فِيهِ الصُّفْرَةُ، فَتَقُولُ: لَا تَعْجَلْنَ حَتَّى تَرَيْنَ الْقَصَّةَ الْبَيْضَاءَ تُرِيدُ بِذَلِكَ الطُّهْرَ مِنَ الْحَيْضَةِ، وَبَلَغَ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ نِسَاءً يَدْعُونَ بِالْمَصَابِيحِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَنْظُرْنَ إِلَى الطُّهْرِ، فَقَالَتْ: مَا كَانَ النِّسَاءُ يَصْنَعْنَ هَذَا وَعَابَتْ عَلَيْهِنَّ.
وكن نساء يبعثن إلى عائشة بالدرجة فيها الكرسف فيه الصفرة، فتقول: لا تعجلن حتى ترين القصة البيضاء تريد بذلك الطهر من الحيضة، وبلغ بنت زيد بن ثابت ان نساء يدعون بالمصابيح من جوف الليل ينظرن إلى الطهر، فقالت: ما كان النساء يصنعن هذا وعابت عليهن.
عورتیں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ڈبیا بھیجتی تھیں جس میں کرسف ہوتا۔ اس میں زردی ہوتی تھی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتیں کہ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ صاف سفیدی دیکھ لو۔ اس سے ان کی مراد حیض سے پاکی ہوتی تھی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو معلوم ہوا کہ عورتیں رات کی تاریکی میں چراغ منگا کر پاکی ہونے کو دیکھتی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ عورتیں ایسا نہیں کرتی تھیں۔ انھوں نے ( عورتوں کے اس کام کو ) معیوب سمجھاکیونکہ شریعت میں آسانی ہے۔ فقہاءنے استحاضہ کے مسائل میں بڑی باریکیاں نکالی ہیں مگر صحیح مسئلہ یہی ہے کہ عورت کو پہلے خون کا رنگ دیکھ لینا چاہئیے۔ حیض کا خون کالا ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے۔ عورتوں کو اپنی حیض کی عادت کا بھی اندازہ کرلینا چاہئیے۔ اگر رنگ اور عادت دونوں سے تمیز نہ ہوسکے تو چھ یا سات دن حیض کے مقرر کرلے۔ کیونکہ اکثر مدت حیض یہی ہے اس میں نماز ترک کردے۔ جس پر جملہ مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ مگر خوارج اس سے اختلاف کرتے ہیں جو غلط ہے۔
عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ڈبیا بھیجتی تھیں جس میں کرسف ہوتا۔ اس میں زردی ہوتی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ صاف سفیدی دیکھ لو۔ اس سے ان کی مراد حیض سے پاکی ہوتی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو معلوم ہوا کہ عورتیں رات کی تاریکی میں چراغ منگا کر پاکی ہونے کو دیکھتی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ عورتیں ایسا نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے (عورتوں کے اس کام کو) معیوب سمجھا۔
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي".
حدثنا عبد الله بن محمد، قال: حدثنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن عائشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش كانت تستحاض، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغتسلي وصلي".
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ کو استحاضے کا عارضہ تھا۔ انھوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ حیض نہیں بلکہ رگ کا خون ہے، لہذا جب حیض کی آمد ہو تو نماز ترک کر دو اور جب حیض ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز ادا کرو۔‘‘
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے باپ سے، وہ عائشہ سے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
Sahih Muslim Urdu Translation
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 22,500Current price is: ₨ 22,500.
Sahih al-Bukhari Urdu Translat
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 25,000Current price is: ₨ 25,000.
Mishkat ul Masabih 3 Volume
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 8,000 Original price was: ₨ 8,000.₨ 5,000Current price is: ₨ 5,000.