بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن مسجد ہی میں پانی کی دعا کی تو چادر نہیں الٹائی

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن مسجد ہی میں پانی کی دعا کی تو چادر نہیں الٹائی
احادیث:1

قسم الحديث: فعلی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1018

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَاكَ الْمَالِ وَجَهْدَ الْعِيَالِ،" فَدَعَا اللَّهَ يَسْتَسْقِي وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَلَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
حدثنا الحسن بن بشر، قال: حدثنا معافى بن عمران، عن الاوزاعي، عن إسحاق بن عبد الله، عن انس بن مالك، ان رجلا شكا إلى النبي صلى الله عليه وسلم هلاك المال وجهد العيال،" فدعا الله يستسقي ولم يذكر انه حول رداءه ولا استقبل القبلة".
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے ہاں مال کے ہلاک ہونے اور اہل و عیال کے مشقت میں مبتلا ہونے کی شکایت کی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا فرمائی۔ حضرت انس ؓ نے چادر پلٹنے یا استقبالِ قبلہ کا ذکر نہیں کیا۔
ہم سے حسن بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معافی بن عمران نے بیان کیا کہ ان سے امام اوزاعی نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (قحط سے) مال کی بربادی اور اہل و عیال کی بھوک کی شکایت کی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی۔ راوی نے اس موقع پر نہ چادر پلٹنے کا ذکر کیا اور نہ قبلہ کی طرف منہ کرنے کا۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

Sahih Muslim Urdu Translation

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 22,500.

Sahih al-Bukhari Urdu Translat

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 25,000.

Mishkat ul Masabih 3 Volume

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.