بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) اللہ تعالی کا ایک کافر قوم پر سخت غصہ

متفرق ابواب
باب: اللہ تعالی کا ایک کافر قوم پر سخت غصہ
احادیث:1

حدیث نمبر: 101

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اشتد غضب الله على قوم فعلوا برسول الله صلى الله عليه وسلم وهو حينئذ يشير إلى رباعيته"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا اس قوم پر انتہائی سخت غضب ہوا جس نے اس کے رسول کے ساتھ ایسا کیا جب کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے والے چار دندان مبارک (جو شہید کیے گئے تھے) کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم