(بخاری) اس بارے میں کہ اس وقت (جب دشمن کے) قلعوں کی فتح کے امکانات روشن ہوں اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو رہی ہو تو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم۔
کتاب: نماز خوف کا بیان
باب: اس بارے میں کہ اس وقت (جب دشمن کے) قلعوں کی فتح کے امکانات روشن ہوں اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو رہی ہو تو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم۔
احادیث:1
ترجمۃ الباب
وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: إِنْ كَانَ تَهَيَّأَ الْفَتْحُ وَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الصَّلَاةِ صَلَّوْا إِيمَاءً كُلُّ امْرِئٍ لِنَفْسِهِ، فَإِنْ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْإِيمَاءِ أَخَّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى يَنْكَشِفَ الْقِتَالُ أَوْ يَأْمَنُوا فَيُصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَقْدِرُوا صَلَّوْا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَقْدِرُوا لَا يُجْزِئُهُمُ التَّكْبِيرُ وَيُؤَخِّرُوهَا حَتَّى يَأْمَنُوا وَبِهِ، قَالَ مَكْحُولٌ:
وقال الاوزاعي: إن كان تهيا الفتح ولم يقدروا على الصلاة صلوا إيماء كل امرئ لنفسه، فإن لم يقدروا على الإيماء اخروا الصلاة حتى ينكشف القتال او يامنوا فيصلوا ركعتين، فإن لم يقدروا صلوا ركعة وسجدتين، فإن لم يقدروا لا يجزئهم التكبير ويؤخروها حتى يامنوا وبه، قال مكحول:
اور امام اوزاعی نے کہا کہ جب فتح سامنے ہو اور نماز پڑھنی ممکن نہ رہے تو اشارہ سے نماز پڑھ لیں۔ ہر شخص اکیلے اکیلے اگر اشارہ بھی نہ کر سکیں تو لڑائی کے ختم ہونے تک یا امن ہو نے تک نماز موقوف رکھیں، اس کے بعد دو رکعتیں پڑھ لیں۔ اگر دو رکعت نہ پڑھ سکیں تو ایک ہی رکوع اور دو سجدے کر لیں اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو صرف تکبیر تحریمہ کافی نہیں ہے، امن ہونے تک نماز میں دیر کریں۔ مکحول تابعی کا یہ قو ل ہے۔
اور امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا کہ جب فتح سامنے ہو اور نماز پڑھنی ممکن نہ رہے تو اشارہ سے نماز پڑھ لیں۔ ہر شخص اکیلے اکیلے اگر اشارہ بھی نہ کر سکیں تو لڑائی کے ختم ہونے تک یا امن ہونے تک نماز موقوف رکھیں، اس کے بعد دو رکعتیں پڑھ لیں۔ اگر دو رکعت نہ پڑھ سکیں تو ایک ہی رکوع اور دو سجدے کر لیں اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو صرف تکبیر تحریمہ کافی نہیں ہے، امن ہونے تک نماز میں دیر کریں۔ مکحول تابعی کا یہ قول ہے۔
ترجمۃ الباب
وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: حَضَرْتُ عِنْدَ مُنَاهَضَةِ حِصْنِ تُسْتَرَ عِنْدَ إِضَاءَةِ الْفَجْرِ وَاشْتَدَّ اشْتِعَالُ الْقِتَالِ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الصَّلَاةِ فَلَمْ نُصَلِّ إِلَّا بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَصَلَّيْنَاهَا وَنَحْنُ مَعَ أَبِي مُوسَى فَفُتِحَ لَنَا، وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: وَمَا يَسُرُّنِي بِتِلْكَ الصَّلَاةِ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.
وقال انس بن مالك: حضرت عند مناهضة حصن تستر عند إضاءة الفجر واشتد اشتعال القتال فلم يقدروا على الصلاة فلم نصل إلا بعد ارتفاع النهار فصليناها ونحن مع ابي موسى ففتح لنا، وقال انس بن مالك: وما يسرني بتلك الصلاة الدنيا وما فيها.
اور حضرت انس بن مالک نے کہا کہ صبح روشنی میں "تستر" کے قلعہ پر جب چڑھائی ہو رہی تھی اس وقت میں موجود تھا۔ لڑائی کی آگ خوب بھڑک رہی تھی تو لوگ نماز نہ پڑھ سکے۔ جب دن چڑھ گیا اس وقت صبح کی نماز پڑھی گئی۔ ابو موسیٰ اشعری بھی ساتھ تھے پھر قلعہ فتح ہو گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس دن جو نماز ہم نے پڑھی ( گو وہ سورج نکلنے کے بعد پڑھی ) اس سے اتنی خوشی ہوئی کہ ساری دنیا ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوگی۔ تستر اہواز کے شہروں میں سے ایک شہر ہے۔ وہاں کا قلعہ سخت جنگ کے بعد بعہد خلافت فاروقی 20ھ میں فتح ہوا۔ اس تعلیق کو ابن سعد اور ابن ابی شیبہ نے وصل کیا۔ ابو موسی اشعری اس فوج کے افسر تھے جس نے اس قلعہ پر چڑھائی کی تھی۔ اس نماز کی خوشی ہوئی تھی کہ یہ مجاہدوں کی نماز تھی نہ آجکل کے بزدل مسلمانوں کی نماز۔ بعضوں نے کہا کہ حضرت انس ؓ نے نماز فوت ہونے پر افسوس کیا یعنی اگر یہ نماز وقت پر پڑھ لیتے تو ساری دنیا کے ملنے سے زیادہ مجھ کو خوشی ہوتی مگر پہلے معنی کو ترجیح ہے
اور انس بن مالک نے کہا کہ صبح روشنی میں ”تستر“ کے قلعہ پر جب چڑھائی ہو رہی تھی اس وقت میں موجود تھا۔ لڑائی کی آگ خوب بھڑک رہی تھی تو لوگ نماز نہ پڑھ سکے۔ جب دن چڑھ گیا اس وقت صبح کی نماز پڑھی گئی۔ ابوموسیٰ اشعری بھی ساتھ تھے پھر قلعہ فتح ہو گیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس دن جو نماز ہم نے پڑھی (گو وہ سورج نکلنے کے بعد پڑھی) اس سے اتنی خوشی ہوئی کہ ساری دنیا ملنے سے اتنی خوشی نہ ہو گی۔
قسم الحديث: فعلی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 945
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا بَعْدُ، قَالَ: فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا".
حدثنا يحيى، قال: حدثنا وكيع، عن علي بن مبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، قال: جاء عمر يوم الخندق فجعل يسب كفار قريش ويقول: يا رسول الله ما صليت العصر حتى كادت الشمس ان تغيب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" وانا والله ما صليتها بعد، قال: فنزل إلى بطحان فتوضا وصلى العصر بعد ما غابت الشمس، ثم صلى المغرب بعدها".
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ غزوہ خندق کے دن حضرت عمر ؓ تشریف لائے اور کفار قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نماز عصر نہیں پڑھ سکا تاآنکہ سورج غروب کے قریب ہو گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھ سکا ہوں۔‘‘ اس کے بعد آپ وادی بطحان میں اترے، وضو کیا اور سورج غروب ہونے کے بعد نماز عصر ادا کی اور اس کے بعد نماز مغرب پڑھی۔
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا کہ ہم سے وکیع نے علی بن مبارک سے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے آئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ! سورج ڈوبنے ہی کو ہے اور میں نے تو اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا میں نے بھی ابھی تک نہیں پڑھی انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ ”بطحان“ کی طرف گئے (جو مدینہ میں ایک میدان تھا) اور وضو کر کے آپ نے وہاں سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد نماز مغرب پڑھی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں
متعلقہ مصنوعات
Sahih Muslim Urdu Translation
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 22,500Current price is: ₨ 22,500.
Sahih al-Bukhari Urdu Translat
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 28,000 Original price was: ₨ 28,000.₨ 25,000Current price is: ₨ 25,000.
Mishkat ul Masabih 3 Volume
Rated 0 out of 5
(0) ₨ 8,000 Original price was: ₨ 8,000.₨ 5,000Current price is: ₨ 5,000.