بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) سورج گرہن میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا

کتاب: سورج گہن کے متعلق بیان
باب: سورج گرہن میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا
احادیث:2

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1049

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، ان يهودية جاءت تسالها، فقالت لها: اعاذك الله من عذاب القبر، فسالت عائشة رضي الله عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم ايعذب الناس في قبورهم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" عائذا بالله من ذلك.
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت کچھ مانگنے کے لیے حاضر ہوئی اور اس نے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ صدیقہ‬ ؓ ن‬ے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: آیا لوگوں کو قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔‘‘
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس مانگنے کے لیے آئی اور اس نے دعا دی کہ اللہ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبر میں عذاب ہو گا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1050

ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَد، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ثم ركب رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة مركبا، فخسفت الشمس فرجع ضحى فمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين ظهراني الحجر، ثم قام يصلي وقام الناس وراءه، فقام قياما طويلا، ثم ركع ركوعا طويلا، ثم رفع فقام قياما طويلا وهو دون القيام الاول، ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الاول، ثم رفع فسجد، ثم قام فقام قياما طويلا وهو دون القيام الاول، ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الاول، ثم قام قياما طويلا وهو دون القيام الاول، ثم ركع ركوعا طويلا وهو دون الركوع الاول، ثم رفع فسجد وانصرف، فقال ما شاء الله ان يقول، ثم امرهم ان يتعوذوا من عذاب القبر".
پھر رسول اللہ ﷺ ایک روز صبح کے وقت کہیں جانے کے لیے سواری پر سوار ہوئے تو سورج کو گرہن لگ گیا۔ رسول اللہ ﷺ چاشت کے وقت واپس تشریف لائے اور آپ کا گزر ازواج مطہرات کے حجروں کے درمیان سے ہوا۔ اس کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ نے طویل قیام فرمایا، پھر طویل رکوع کیا، اس کے بعد رکوع سے اٹھ کر طویل قیام کیا جو پہلے سے قدرے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ اس کے بعد رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔ اس کے بعد آپ نے طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر اس کے بعد طویل قیام فرمایا جو پہلے سے کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ بعد ازاں رکوع سے اٹھے اور سجدہ فرمایا، پھر نماز سے فراغت کے بعد جو کچھ اللہ نے چاہا اسے بیان کیا، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ عذاب قبر سے پناہ مانگیں۔
‏‏‏‏ پھر ایک مرتبہ صبح کو (کہیں جانے کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اس کے بعد سورج گرہن لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن چڑھے واپس ہوئے اور اپنی بیویوں کے حجروں سے گزرتے ہوئے (مسجد میں) نماز کے لیے کھڑے ہو گئے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نیت باندھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی لمبا قیام کیا پھر رکوع بھی بہت طویل کیا، اس کے بعد کھڑے ہوئے اور اب کی دفعہ قیام پھر لمبا کیا لیکن پہلے سے کچھ کم، پھر رکوع کیا اور اس دفعہ بھی دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ میں گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوبارہ کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک قیام کیا لیکن پہلے قیام سے کچھ کم، پھر ایک لمبا رکوع کیا لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قیام میں اب کی دفعہ بھی بہت دیر تک رہے لیکن پہلے سے کم دیر تک (چوتھی مرتبہ) پھر رکوع کیا اور بہت دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے سے مختصر۔ رکوع سے سر اٹھایا تو سجدہ میں چلے گئے آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نماز پوری کر لی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگیں۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

Sahih Muslim Urdu Translation

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 22,500.

Sahih al-Bukhari Urdu Translat

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 25,000.

Mishkat ul Masabih 3 Volume

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.