بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) اس بارے میں کہ (طلباء کا حصول) علم کے لیے (استاد کی خدمت میں) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے۔

کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بارے میں کہ (طلباء کا حصول) علم کے لیے (استاد کی خدمت میں) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے۔
احادیث:1

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 89

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ:" كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهِيَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، فَقَالَ: أَثَمَّ هُوَ، فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: طَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ، قَالَ: لَا، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ".
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري. ح قال ابو عبد الله، وقال ابن وهب: اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، عن عبد الله بن عباس، عن عمر، قال:" كنت انا وجار لي من الانصار في بني امية بن زيد وهي من عوالي المدينة، وكنا نتناوب النزول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل يوما وانزل يوما، فإذا نزلت جئته بخبر ذلك اليوم من الوحي وغيره، وإذا نزل فعل مثل ذلك، فنزل صاحبي الانصاري يوم نوبته فضرب بابي ضربا شديدا، فقال: اثم هو، ففزعت فخرجت إليه، فقال: قد حدث امر عظيم، قال: فدخلت على حفصة فإذا هي تبكي، فقلت: طلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت: لا ادري، ثم دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت وانا قائم: اطلقت نساءك، قال: لا، فقلت: الله اكبر".
حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنو امیہ بن زید کے گاؤں میں رہا کرتے تھے جو مدینے کی (مشرقی جانب) بلندی کی طرف تھا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں باری باری آتے تھے۔ ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں۔ جس دن میں آتا، اس روز کی وحی وغیرہ کا حال میں اسے بتا دیتا اور جس دن وہ آتا وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میرا انصاری دوست اپنی باری پر گیا۔ (جب واپس آیا تو) اس نے میرے دروازے پر زور سے دستک دی اور کہنے لگا کہ وہ (عمر) یہاں ہیں؟ میں گھبرا کر باہر آیا تو وہ بولا: آج ایک بہت بڑا سانحہ ہوا ہے۔ (رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔) میں حفصہ‬ ؓ ک‬ے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ وہ بولیں: مجھے علم نہیں ہے۔ پھر میں نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کھڑے کھڑے عرض کی: آیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ تو میں نے (مارے خوشی کے) اللہ اکبر کہا۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری سے خبر دی (ایک دوسری سند سے) امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب کو یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ ابن ابی ثور سے نقل کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی دونوں اطراف مدینہ کے ایک گاؤں بنی امیہ بن زید میں رہتے تھے جو مدینہ کے (پورب کی طرف) بلند گاؤں میں سے ہے۔ ہم دونوں باری باری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ آتا، ایک دن میں آتا۔ جس دن میں آتا اس دن کی وحی کی اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ) دیگر باتوں کی اس کو خبر دے دیتا تھا اور جب وہ آتا تھا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ تو ایک دن وہ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے روز حاضر خدمت ہوا (جب واپس آیا) تو اس نے میرا دروازہ بہت زور سے کھٹکھٹایا اور (میرے بارے میں پوچھا کہ) کیا عمر یہاں ہیں؟ میں گھبرا کر اس کے پاس آیا۔ وہ کہنے لگا کہ ایک بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے۔ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے) پھر میں (اپنی بیٹی) حفصہ کے پاس گیا، وہ رو رہی تھی۔ میں نے پوچھا، کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ وہ کہنے لگی میں نہیں جانتی۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کھڑے کھڑے کہا کہ کیا آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ (یہ افواہ غلط ہے) تب میں نے (تعجب سے) کہا «الله اكبر» اللہ بہت بڑا ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

Sahih Muslim Urdu Translation

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 22,500.

Sahih al-Bukhari Urdu Translat

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 25,000.

Mishkat ul Masabih 3 Volume

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.