بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) دو قسم کی تجارت اور دو قسم کا لباس منع ہے

متفرق ابواب
باب: دو قسم کی تجارت اور دو قسم کا لباس منع ہے
احادیث:1

حدیث نمبر: 137

قَالَ: قَالَ:" وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ، أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ فِي إِزَارِهِ إِذَا مَا صَلَّى إِلا أَنْ يُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ". " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّمْسِ وَالإِلْقَاءِ وَالنَّجْشِ".
قال: قال:" ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم: عن بيعتين ولبستين، ان يحتبي احدكم في الثوب الواحد ليس على فرجه منه شيء، وان يشتمل في إزاره إذا ما صلى إلا ان يخالف بين طرفيه على عاتقه". " ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اللمس والإلقاء والنجش".
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید و فروخت کے دو طریقوں اور لباس پہننے کی دو صورتوں سے منع فرمایا: (لباس کی ممنوعہ صورتیں یہ ہیں) تم میں سے کوئی شخص اس حال میں ایک کپڑے میں «حبوه» کرے کہ اس کی شرمگاہ پر کپڑے نہ ہو، جب وہ (ایک چادر میں) نماز پڑھے تو اسے اس انداز سے لپیٹے کہ اس چادر کے دونوں کنارے اس کی گردن پر مخالف اطراف سے بندھے ہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید و فروخت کا سامان چھو کر، یا کنکری پھینک کر سودا کرنے اور «بیع بخش» (دلالی کی بیع) سے منع کیا۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم