بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) جب لوگ امام سے دعائے استسقاء کی درخواست کریں تو رد نہ کرئے

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
باب: جب لوگ امام سے دعائے استسقاء کی درخواست کریں تو رد نہ کرئے
احادیث:1

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1019

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ، فَدَعَا اللَّهَ فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ عَلَى ظُهُورِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ فَانْجَابَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ".
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: اخبرنا مالك، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن انس بن مالك، انه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:" يا رسول الله هلكت المواشي وتقطعت السبل فادع الله، فدعا الله فمطرنا من الجمعة إلى الجمعة، فجاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله تهدمت البيوت وتقطعت السبل وهلكت المواشي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم على ظهور الجبال والآكام وبطون الاودية ومنابت الشجر فانجابت عن المدينة انجياب الثوب".
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مویشی تباہ اور راستے بند ہو گئے ہیں، آپ اللہ سے بارش کی دعا فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی۔ اس کے نتیجے میں اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مکانات منہدم ہو گئے، راستے ٹوٹ پھوٹ گئے اور مویشی تباہ ہو گئے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ریت کے ٹیلوں، ندیوں اور باغوں پر بارش برسا۔‘‘ اس کے بعد بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گیا جس طرح کپڑا پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کے واسطے سے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا یا رسول اللہ! (قحط سے) جانور ہلاک ہو گئے اور راستے بند، اللہ سے دعا کیجئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ایک جمعہ سے اگلے جمعہ تک ایک ہفتہ بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (بارش کی کثرت سے) راستے بند ہو گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی «اللهم على ظهور الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» کہ اے اللہ! بارش کا رخ پہاڑوں، ٹیلوں، وادیوں اور باغات کی طرف موڑ دے، چنانچہ بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گیا جیسے کپڑا پھٹ جایا کرتا ہے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

Sahih Muslim Urdu Translation

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 22,500.

Sahih al-Bukhari Urdu Translat

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 25,000.

Mishkat ul Masabih 3 Volume

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.