بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کا نام ہے۔

کتاب: ایمان کے بیان میں
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کا نام ہے۔
احادیث:2

ترجمۃ الباب

وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ}:
وقوله تعالى: {إذا نصحوا لله ورسوله}:
اور اللہ نے ( سورہ توبہ میں) فرمایا:’’ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی میں رہیں۔‘‘
‏‏‏‏ اور اللہ نے (سورۃ التوبہ میں) فرمایا جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی میں رہیں۔

قسم الحديث: فعلی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 57

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
حدثنا مسدد، قال: حدثنا يحيى، عن إسماعيل، قال: حدثني قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، قال:" بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والنصح لكل مسلم".
حضرت جریر بن عبداللہ البجلی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز پڑھنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان سے خیرخواہی کرنے (کے اقرار) پر بیعت کی۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے بیان کیا، انہوں نے اسماعیل سے، انہوں نے کہا مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 58

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: يَوْمَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الْآنَ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَعْفُوا لِأَمِيرِكُمْ فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَشَرَطَ عَلَيَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا"، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لَكُمْ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ.
حدثنا ابو النعمان، قال: حدثنا ابو عوانة، عن زياد بن علاقة، قال: سمعت جرير بن عبد الله، يقول: يوم مات المغيرة بن شعبة قام فحمد الله واثنى عليه، وقال:" عليكم باتقاء الله وحده لا شريك له، والوقار والسكينة حتى ياتيكم امير، فإنما ياتيكم الآن، ثم قال: استعفوا لاميركم فإنه كان يحب العفو، ثم قال: اما بعد، فإني اتيت النبي صلى الله عليه وسلم، قلت: ابايعك على الإسلام، فشرط علي والنصح لكل مسلم، فبايعته على هذا"، ورب هذا المسجد إني لناصح لكم، ثم استغفر ونزل.
زیاد بن علاقہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جریر بن عبداللہ البجلی ؓ سے سنا، جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کی وفات ہوئی تو وہ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثنا کی اور کہا: تمہیں صرف ایک اللہ سے ڈرنا چاہئے جس کا کوئی شریک نہیں، نیز تمہیں دوسرے امیر کے آنے تک تحمل و اطمینان سے رہنا چاہئے، بس وہ عنقریب ہی آ جائیں گے۔ پھر فرمایا: اپنے امیر کے لیے دعائے مغفرت کرو کیونکہ وہ خود بھی معاف کرنے کو پسند کرتا تھا۔ پھر کہا: تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میں ایک دفعہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اسلام پر بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ تو آپ نے مجھ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا عہد لیا، پھر اسی شرط پر میں نے آپ سے بیعت کر لی۔ مجھے اس مسجد کے رب کی قسم! میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ پھر آپ نے استغفار کیا اور منبر سے نیچے اتر آئے۔
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، انہوں نے زیاد سے، انہوں نے علاقہ سے، کہا میں نے جریر بن عبداللہ سے سنا جس دن مغیرہ بن شعبہ (حاکم کوفہ) کا انتقال ہوا تو وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اور خوبی بیان کی اور کہا تم کو اکیلے اللہ کا ڈر رکھنا چاہیے اس کا کوئی شریک نہیں اور تحمل اور اطمینان سے رہنا چاہیے اس وقت تک کہ کوئی دوسرا حاکم تمہارے اوپر آئے اور وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر فرمایا کہ اپنے مرنے والے حاکم کے لیے دعائے مغفرت کرو کیونکہ وہ (مغیرہ) بھی معافی کو پسند کرتا تھا پھر کہا کہ اس کے بعد تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کی خیر خواہی کے لیے شرط کی، پس میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کر لی (پس) اس مسجد کے رب کی قسم کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں پھر استغفار کیا اور منبر سے اتر آئے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم