بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

حمد و ثنا

مسنون اذکار
حمد و ثنا

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’چار کلمات اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہیں: ان میں سے جو بھی پہلے کہہ لیا جائے کوئی حرج نہیں۔

سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ

’’اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘

صحیح مسلم، الأدب، باب کراھۃ التسمیۃ بالأسماء القبیحۃ، حدیث: 5601

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص دس دفعہ یہ دعا پڑھے وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کیے۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘

صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح والدعائ، حدیث: 6844، وجامع الترمذی، الدعوات، باب من قال کلمۃ التوحید، حدیث: 3553

ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: مجھے کچھ کلام سکھائیں جو میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: ’’کہو:

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَّالْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ سب سے بڑا، بہت بڑا ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، بہت زیادہ اور پاک ہے اللہ جو ساری کائنات کا رب ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ غالب (اور) حکمت والے کی توفیق ہی سے۔‘‘

صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6848، وسنن أبی داود، الصلاۃ، باب مایجزیء الأمی والأعجمی، حدیث: 832۔ ابوداود نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جب اعرابی واپس مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یقیناً اس آدمی نے اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا۔‘‘

اعرابی کہنے لگا کہ یہ تو میرے رب کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’تم کہو:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ

’’اے اللہ! مجھے معاف فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے۔‘‘

صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6848، وسنن أبی داود، الصلاۃ، باب مایجزیء الأمی والأعجمی، حدیث: 832۔ ابوداود نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جب اعرابی واپس مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یقیناً اس آدمی نے اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا۔‘‘

جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نماز سکھاتے، پھر اسے حکم فرماتے کہ ان کلمات سے دعا کیا کر:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ

’’اے اللہ! مجھے معاف فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔‘‘

صحیح مسلم، الذکر والدعا، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6849۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا اور آخرت جمع کردیں گے۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیوں نہیں! (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: ’’تم کہو:

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

’’گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘

صحیح البخاری، الدعوات، باب قول: لاحول ولا قوۃ الاّ باللہ، حدیث:6409، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الستحباب خفض الصوت، حدیث:6862

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ سب سے افضل دعا ہے:

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ

’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

جامع الترمذی، الدعوات، باب ماجاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، حدیث: 3383، وسنن ابن ماجہ، الأدب، باب فضل الحامدین، حدیث: 3800، والمستدرک للحاکم: 503/1، وصحیح الجامع الصغیر، حدیث: 1104۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔

اور سب سے افضل ذکر ہے:

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ

’’اللہ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔‘‘

جامع الترمذی، الدعوات، باب ماجاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، حدیث: 3383، وسنن ابن ماجہ، الأدب، باب فضل الحامدین، حدیث: 3800، والمستدرک للحاکم: 503/1، وصحیح الجامع الصغیر، حدیث: 1104۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکی کرنے سے عاجز ہے؟‘‘ ہم نشینوں میں سے کسی نے دریافت کیا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکی کیسے کرے؟ آپ نے فرمایا: ’’وہ سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے تو اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اس کے ایک ہزار گناہ مٹادیے جاتے ہیں۔‘‘

سُبْحَانَ اللّٰہِ

’’اللہ پاک ہے۔‘‘

صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6852