بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) قحط کے وقت لوگ امام سے پانی کی دعا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
باب: قحط کے وقت لوگ امام سے پانی کی دعا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں
احادیث:3

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1008

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ" وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ".
حدثنا عمرو بن علي، قال: حدثنا ابو قتيبة، قال: حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابيه، قال: سمعت ابن عمر يتمثل بشعر ابي طالب" وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل".
عبداللہ بن دینار ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ (اکثر) جناب ابو طالب کا شعر پڑھا کرتے تھے: ’’وہ گورے مکھڑے والا جس کے رخِ زیبا کے واسطے سے ابر رحمت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ وہ یتیموں کا سہارا، بیواؤں اور مسکینوں کا سرپرست ہے۔‘‘
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے، ان سے ان کے والد نے، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ابوطالب کا یہ شعر پڑھتے سنا تھا (ترجمہ) گورا ان کا رنگ ان کے منہ کے واسطہ سے بارش کی (اللہ سے) دعا کی جاتی ہے۔ یتیموں کی پناہ اور بیواؤں کے سہارے۔“
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: صفات و شمائل

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1009

وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ" وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ"، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.
وقال عمر بن حمزة حدثنا سالم، عن ابيه، ربما ذكرت قول الشاعر" وانا انظر إلى وجه النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي، فما ينزل حتى يجيش كل ميزاب وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل"، وهو قول ابي طالب.
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب میں نبی ﷺ کے چہرہ انور کو دعائے استسقاء کرتے وقت دیکھتا ہوں تو اکثر مجھے شاعر (ابوطالب) کا شعر یاد آجاتا ہے۔ آپ منبر سے نہ اتر پاتے تھے کہ تمام پرنالے تیزی سے بہنے لگتے۔ وہ شعر یہ ہے: ’’وہ گورے مکھڑے والا جس کے رخِ زیبا کے واسطے سے ابر رحمت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ وہ یتیموں کا سہارا، بیواؤں اور مسکینوں کا سرپرست ہے۔‘‘
اور عمر بن حمزہ نے بیان کیا کہ ہم سے سالم نے اپنے والد سے بیان کیا وہ کہا کرتے تھے کہ اکثر مجھے شاعر (ابوطالب) کا شعر یاد آ جاتا ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کو دیکھ رہا تھا کہ آپ دعا استسقاء (منبر پر) کر رہے تھے اور ابھی (دعا سے فارغ ہو کر) اترے بھی نہیں تھے کہ تمام نالے لبریز ہو گئے۔ «وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للأرامل» (ترجمہ) گورا رنگ ان کا، وہ حامی یتیموں، بیواؤں کے لوگ ان کے منہ کے صدقے سے پانی مانگتے ہیں۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1010

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، قَالَ: فَيُسْقَوْنَ".
حدثنا الحسن بن محمد، قال: حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال: حدثني ابي عبد الله بن المثنى، عن ثمامة بن عبد الله بن انس، عن انس، ان عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال:" اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا، قال: فيسقون".
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ کی یہ عادت تھی کہ جب لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوتے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ سے دعائے استسقاء کی اپیل کرتے اور اللہ کے حضور یوں دعا کرتے: اے اللہ! پہلے ہم اپنے نبی ﷺ سے دعائے استسقاء کی اپیل کیا کرتے تھے تو (ان کی دعا کے نتیجے میں) تو بارش برسا دیتا تھا۔ اب ہم تیرے نبی ﷺ کے چچا (کی دعا) کے ذریعے سے بارش کی التجا کرتے ہیں، تو (اب بھی رحم فر کر) بارش برسا دے۔ راوی کہتا ہے کہ پھر بارش برسنے لگتی تھی۔
ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبداللہ بن مثنی انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب کبھی عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قحط پڑتا تو عمر رضی اللہ عنہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ! پہلے ہم تیرے پاس اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ لایا کرتے تھے۔ تو، تو پانی برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں تو، تو ہم پر پانی برسا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چنانچہ بارش خوب ہی برسی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

Sahih Muslim Urdu Translation

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 22,500.

Sahih al-Bukhari Urdu Translat

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 25,000.

Mishkat ul Masabih 3 Volume

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.