بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) پانی مانگنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی کے لیے (جنگل میں) نکلنا

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان
باب: پانی مانگنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی کے لیے (جنگل میں) نکلنا
احادیث:1

قسم الحديث: فعلی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1005

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ".
حدثنا ابو نعيم، قال: حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عباد بن تميم، عن عمه، قال:" خرج النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي وحول رداءه".
حضرت عباد بن تمیم ؓ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ بارش کی دعا کے لیے باہر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر اپنی چادر کو پلٹا۔
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانی کی دعا کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور اپنی چادر الٹائی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم