بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(مسند عبدالرحمن بن عوف) حسن بن عبدالرحمٰن کی اپنے باپ سے روایت کردہ حدیث

متفرق ابواب
باب: حسن بن عبدالرحمٰن کی اپنے باپ سے روایت کردہ حدیث
احادیث:1

حدیث نمبر: 28

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَومَ الْقِيَامَةِ، الْقُرْآنُ يُحَاجُّ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ ظَهْرٌ وَبَطْنٌ، وَالرَّحِمُ تُنَادِي أَلَا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ، وَالْأَمَانَةُ» .
حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري، قال: حدثنا كثير بن عبد الله اليشكري، قال: سمعت الحسن بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ثلاث تحت العرش يوم القيامة، القرآن يحاج العباد يوم القيامة له ظهر وبطن، والرحم تنادي الا من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله، والامانة» .
حسن نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، وہ اس روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بیان کرتے ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی۔ قرآن قیامت کے دن بندوں کی خاطر جھگڑا کرے گا، اس کا پیٹ بھی ہو گا اور پشت بھی۔ اور صلہ رحمی آواز لگائے گی۔ خبردار! جس نے مجھے ملایا اسے اللہ تعالیٰ ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا۔ اور امانت۔"
ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم