بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

رسالہ امام ابو داؤد الیٰ أہل مکہ

رسالہ امام ابو داؤد الیٰ اہل مکہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔

امام ابو داود سليمان بن اشعث السجستانی رحمہ اللہ کا وہ مشہور خط جو انہوں نے اہل مکہ کے سوال کے جواب میں لکھا، جس میں انہوں نے اپنی کتاب السنن کی تصنیف کا منہج احادیث کے انتخاب کا اصول اور کتاب کی جامعیت بیان کی ہے۔

امام ابو داؤد سجستانی رحمہ الله (م  572ھ)

مترجم: سلطان الحسيني سلفی

تحقیق میں مخطوطہ کی اہمیت

شیخ محمد لطفی الصباغ نے اپنی تحقیق «رسالة أبي داود إلى أهل مكة في وصف سننه» (چوتھا ایڈیشن) میں متعدد مخطوطات سے استفادہ کیا، جن میں پرنسٹن یونیورسٹی لائبریری کا مخطوطہ Garrett No. 4999 (4999Yq) بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مخطوطہ 589ھ/1193ء میں کتابت کیا گیا اور رسالة الإمام أبي داود إلى أهل مكة  کی قدیم ترین معروف مخطوطات میں شمار ہوتا ہے۔ اس مجموعۂ مخطوطات میں رسالے کے علاوہ سنن ابی داؤد، کتاب المراسیل اور تسمية شيوخ أبي داود بھی شامل ہیں۔ اپنی قدامت، صحتِ متن اور علمی اعتبار کے باعث شیخ محمد لطفی الصباغ نے اس مخطوطے کو تحقیق کی اساس بنایا اور متن کی تصحیح، مقابَلہ اور ضبط کے لیے اس پر خصوصی اعتماد کیا۔

فہرستِ مباحث

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے

اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر اللہ کی توفیق سے جو بہت بلند اور عظمت والا ہے۔

ہمیں شیخ ابو الفتح محمد بن عبد الباقی بن احمد بن سلیمان (جو ابن البطی کے نام سے معروف ہیں) نے اجازتِ حدیث کے طور پر بتایا۔۔اگر میں نے اسے خود ان سے نہ بھی سنا ہو۔۔انہوں نے کہا: ہمیں شیخ ابو الفضل احمد بن الحسن بن خیرون المعدل نے ان کے سامنے قرات کرتے ہوئے بتایا جبکہ میں وہاں حاضر سن رہا تھا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ نے ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبداللہ الصوری الحافظ سے قرات کی تھی؟ انہوں نے کہا: میں نے ابو الحسین محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن جمیع الغسانی سے مقامِ صیدا میں سنا، تو انہوں نے اس کا اقرار کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے مکہ مکرمہ میں ابو بکر محمد بن عبدالعزیز بن محمد بن الفضل بن یحییٰ بن القاسم بن عون بن عبداللہ بن الحارث بن نوفل بن الحارث بن عبدالمطلب الہاشمی کو یہ کہتے ہوئے سنا:

میں نے ابو داؤد سلیمان بن الاشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد السجستانی سے سنا، جب ان سے اس رسالے کے بارے میں پوچھا گیا جو انہوں نے اہل مکہ وغیرہ کے جواب میں لکھا تھا، تو انہوں نے ہمیں املا (لکھوایا):

سلام ہو آپ پر۔ میں آپ کے سامنے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور اس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر درود نازل فرمائے جب بھی ان کا ذکر کیا جائے۔

اما بعد!

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ایسی عافیت عطا فرمائے جس کے ساتھ کوئی تکلیف نہ ہو، اور ایسا انجام دے جس کے بعد کوئی عذاب نہ ہو۔ آپ حضرات نے مجھ سے یہ دریافت کیا ہے کہ جو احادیث میری کتاب “السنن” میں موجود ہیں، کیا وہ اس باب میں میری معلومات کے مطابق سب سے زیادہ صحیح احادیث ہیں؟

دو صحیح حدیثوں میں سے اس کا انتخاب جو حافظے میں مقدم ہو

میں نے آپ کی تمام باتوں پر غور کیا۔ آپ جان لیں کہ یہ (کتاب) پوری کی پوری ایسی ہی ہے (یعنی اس میں سب سے صحیح احادیث ہی جمع کی گئی ہیں)؛ سوائے اس کے کہ جب کوئی حدیث دو صحیح طریقوں (سندوں) سے مروی ہو، جن میں سے ایک کی سند زیادہ مضبوط ہو اور دوسری کا راوی حفظ و یادداشت میں زیادہ متقدم (برتر) ہو، تو بسا اوقات میں اسے (دوسری والی کو) لکھ دیتا ہوں، اور میری پوری کتاب میں ایسی دس احادیث بھی نہیں ہوں گی۔

ابواب میں احادیث کی قلت (اختصار)

میں نے کسی بھی باب میں صرف ایک یا دو ہی احادیث لکھی ہیں، اگرچہ اس باب میں اور بھی بہت سی صحیح احادیث موجود ہوتی ہیں، کیونکہ (ان سب کو لکھنے سے) کتاب بہت لمبی ہو جاتی، اور میرا مقصد صرف یہ تھا کہ اس کا فائدہ حاصل کرنا آسان ہو۔

حدیث کی تکرار

جب میں کسی باب میں ایک ہی حدیث کو دو یا تین طریقوں سے دہراتا ہوں، تو وہ صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس میں کسی کلام (الفاظ) کا اضافہ ہوتا ہے، اور بسا اوقات (دوسری سند میں) دیگر احادیث کے مقابلے میں ایک لفظ زائد ہوتا ہے۔

حدیث کا اختصار کرنا

بعض اوقات میں لمبی حدیث کو مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ اگر میں اسے اس کی پوری لمبائی کے ساتھ لکھوں تو بعض سننے والے (اس کی طوالت کی وجہ سے) اس کے اصل مقصود کو نہیں جان پائیں گے اور نہ ہی اس سے فقہی نکتے کو سمجھ سکیں گے، چنانچہ اسی وجہ سے میں اختصار سے کام لیتا ہوں۔

مرسل حدیث اور اس سے استدلال کرنا

جہاں تک مرسل احادیث (ایسی حدیث جس میں تابعی بلا واسطہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرے) کا تعلق ہے، تو ماضی میں علماء اس سے استدلال (حجت) کیا کرتے تھے، جیسے سفیان ثوری، مالک بن انس اور اوزاعی؛ یہاں تک کہ امام شافعی تشریف لائے اور انہوں نے اس (مرسل کے حجت ہونے) پر کلام کیا، اور امام احمد بن حنبل اور دیگر علماء نے بھی اس معاملے میں ان کی پیروی کی (اللہ ان سب سے راضی ہو)۔

پس جب مرسل کے علاوہ کوئی مسند (متصل) حدیث موجود نہ ہو، اور کوئی مسند حدیث مل ہی نہ رہی ہو، تو مرسل حدیث سے استدلال کیا جائے گا، اگرچہ وہ قوت میں متصل حدیث کی طرح نہیں ہوتی۔

کتاب میں کسی متروک راوی سے حدیث نہیں لی گئی

میری تصنیف کردہ کتاب “السنن” میں کوئی بھی ایسی حدیث نہیں ہے جو کسی “متروک الحدیث” (جس کی حدیثیں ترک کر دی گئی ہوں) شخص سے مروی ہو۔

منکر حدیث کی وضاحت

اور اگر اس کتاب میں کوئی “منکر” (شدید ضعیف) حدیث آ گئی ہو، تو میں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ منکر ہے، اور اس باب میں اس جیسی کوئی دوسری حدیث موجود نہیں تھی۔

ابن المبارک، وکیع، مالک اور حماد کی کتب سے موازنہ

یہ احادیث (جو میری کتاب میں ہیں) کتاب ابن المبارک اور کتابِ وکیع میں موجود نہیں ہیں مگر بہت ہی کم، اور ان حضرات کی کتابوں میں عام طور پر جو احادیث ہیں وہ مرسل ہیں۔

اور کتاب السنن میں موطا مالک بن انس کی احادیث کا ایک اچھا خاصا حصہ موجود ہے، اور اسی طرح حماد بن سلمہ اور عبدالرزاق کی تصانیف سے بھی احادیث لی گئی ہیں۔

میرا خیال ہے کہ ان تمام حضرات کی کتب—یعنی مالک بن انس، حماد بن سلمہ اور عبدالرزاق کی تصانیف—میں (مجموعی طور پر) میری اس کتاب کا ایک تہائی (3/1) حصہ بھی نہیں ہوگا۔

سنن کو جمع کرنا اور اس کا احاطہ کرنا

میں نے اس کتاب کو اسی ترتیب پر مرتب کیا ہے جس طرح احادیث مجھے حاصل ہوئیں۔ چنانچہ اگر آپ کے سامنے نبی کریم ﷺ کی کوئی ایسی سنت (حدیث) بیان کی جائے جسے میں نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیا، تو جان لیں کہ وہ حدیث “واہی” (نہایت کمزور اور ساقط الاعتبار) ہے؛ الّا یہ کہ وہ میری کتاب میں کسی دوسرے طریقے (سند) سے موجود ہو، کیونکہ میں نے (کتاب میں) تمام طرق کو ذکر نہیں کیا تاکہ طالبِ علم پر بوجھ نہ بڑھے۔

میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے (احادیثِ احکام کا) اس طرح احاطہ کر کے انہیں جمع کیا ہو جیسے میں نے کیا ہے۔ حسن بن علی الخلال نے اس موضوع پر تقریباً نو سو (900) احادیث جمع کی تھیں، اور انہوں نے ذکر کیا کہ ابن المبارک نے فرمایا تھا: “نبی کریم ﷺ سے مروی سنن (احکام کی احادیث) تقریباً نو سو ہیں”۔ تو ابن المبارک سے کہا گیا:

ابو یوسف (امام ابو حنیفہ کے شاگرد) کہتے ہیں کہ یہ احادیث گیارہ سو (1100) ہیں۔ اس پر ابن المبارک نے کہا: “ابو یوسف یہاں وہاں سے ایسی ہلکی پھلکی چیزیں (یعنی ضعیف احادیث) لے لیتے ہیں”۔

میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے (احادیثِ احکام کا) اس طرح احاطہ کر کے انہیں جمع کیا ہو جیسے میں نے کیا ہے۔ حسن بن علی الخلال نے اس موضوع پر تقریباً نو سو (900) احادیث جمع کی تھیں، اور انہوں نے ذکر کیا کہ ابن المبارک نے فرمایا تھا: “نبی کریم ﷺ سے مروی سنن (احکام کی احادیث) تقریباً نو سو ہیں”۔ تو ابن المبارک سے کہا گیا:

شدید ضعف کی وضاحت کرنا

میری کتاب میں جو بھی ایسی حدیث ہے جس میں شدید قسم کا ضعف (کمزوری) تھا، تو میں نے اسے واضح کر دیا ہے، اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن کی سند درست (صحیح) نہیں ہے۔

جس پر سکوت کیا گیا وہ صالح (قابلِ قبول) ہے

جس حدیث کے بارے میں میں نے کوئی کلام نہیں کیا (خاموشی اختیار کی)، تو وہ “صالح” (حسن یا قابلِ حجت) ہے، اور ان میں سے بعض احادیث بعض سے زیادہ صحیح ہیں۔

اگر یہ کتاب میرے علاوہ کسی اور نے لکھی ہوتی، تو میں اس کی تعریف میں اس سے بھی زیادہ کہتا۔

احاطہ کرنا

یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ نبی کریم ﷺ کی کوئی بھی سنت جو صالح (معتبر) اسناد سے مروی ہو، آپ کے سامنے نہیں آئے گی مگر وہ اس کتاب میں موجود ہوگی، سوائے اس کے کہ وہ کوئی ایسا کلام ہو جسے کسی حدیث سے استنباط کیا گیا ہو، اور ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔

کتاب کی قیمت اور اس کا مرتبہ

میں قرآن مجید کے بعد کسی ایسی چیز کو نہیں جانتا جس کا سیکھنا لوگوں کے لیے اس کتاب سے زیادہ ضروری ہو، اور کسی شخص کے لیے یہ کوئی نقصان دہ بات نہیں ہوگی کہ وہ اس کتاب کو لکھنے کے بعد علم میں سے کچھ اور نہ لکھے۔ جب وہ اس کتاب میں نظر کرے گا، اس میں تدبر کرے گا اور اسے سمجھے گا، تب اسے اس کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوگا۔

کتاب کی احادیث فقہی مسائل کے اصول ہیں

جہاں تک ان فقہی مسائل کا تعلق ہے—یعنی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کے مسائل—تو یہ احادیث ہی ان مسائل کی بنیاد اور اصول ہیں۔

صحابہ کرام کے اقوال و آراء

مجھے یہ بات پسند ہے کہ انسان ان کتب کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کے اصحاب (صحابہ کرام) کی آراء و فتاویٰ بھی لکھے۔

جامع سفیان

اور اسے سفیان ثوری کی “الجامع” جیسی کتاب بھی لکھنی چاہیے، کیونکہ وہ ان بہترین کتابوں میں سے ہے جو لوگوں نے جامع کتب کی شکل میں تصنیف کی ہیں۔

سنن کی احادیث مشہور ہیں اور غریب حدیث سے استدلال نہیں کیا جاتا

جو احادیث میں نے کتاب السنن میں درج کی ہیں، ان میں سے اکثر “مشہور” احادیث ہیں، اور یہ ہر اس شخص کے پاس موجود ہیں جس نے حدیث کا کچھ بھی حصہ لکھا ہے، لیکن ان کی پرکھ اور تمیز کرنے کی قدرت ہر انسان میں نہیں ہوتی۔ ان احادیث کا طرۂ امتیاز ہی یہ ہے کہ یہ مشہور ہیں، کیونکہ کسی “غریب” (جس کا راوی اکیلا ہو) حدیث سے استدلال نہیں کیا جاتا، چاہے وہ امام مالک، یحییٰ بن سعید یا علم کے دیگر ثقہ ائمہ ہی کی روایت سے کیوں نہ ہو۔

اگر کوئی شخص کسی غریب حدیث سے دلیل پکڑے گا، تو آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا مل جائے گا جو اس پر طعن (اعتراض) کرے گا۔ اور ایسی حدیث سے استدلال نہیں کیا جاتا جس سے (عموماً) دلیل نہ پکڑی جاتی ہو جب وہ غریب اور شاذ (نادر) ہو۔

لیکن جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے جو مشہور، متصل اور صحیح ہو، تو کوئی بھی اسے آپ پر رد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “وہ (سلف) احادیث میں سے غریب (روایات) کو ناپسند کرتے تھے”۔

یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جب تم کوئی حدیث سنو تو اس کی اس طرح تشہیر کرو (تحقیق کرو) جیسے گمشدہ چیز کی کی جاتی ہے، اگر وہ جانی پہچانی نکلے (تو لے لو) ورنہ اسے چھوڑ دو”۔

صحیح احادیث نہ ہونے کی صورت میں مرسل اور مدلس کا پایا جانا

کتاب السنن میں کچھ ایسی احادیث بھی ہیں جو متصل نہیں ہیں بلکہ مرسل یا مدلس ہیں، اور یہ اس صورت میں ہے جب عام محدثین کے ہاں ان کے متبادل متصل صحیح احادیث موجود نہ ہوں، اس معنی میں کہ (ان کا حکم) متصل جیسا ہی ہوتا ہے؛ جیسے حسن (بصری) کی جابر سے روایت، حسن کی ابو ہریرہ سے روایت، اور حکم کی مقسم سے روایت، جبکہ حکم کا مقسم سے سماع صرف چار احادیث میں ہے۔

ہی بات ابو اسحاق کی حارث سے اور ان کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، تو ابو اسحاق نے حارث سے صرف چار احادیث سنی ہیں جن میں سے ایک بھی مسند نہیں ہے۔ جہاں تک کتاب السنن میں اس نوعیت کی روایات کا تعلق ہے، تو وہ بہت کم ہیں۔ اور شاید حارث الاعور کی کتاب السنن میں صرف ایک ہی حدیث ہے، جسے میں نے بالکل آخر میں لکھا ہے۔

بسا اوقات حدیث میں کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جس سے حدیث کی صحت تو ثابت ہوتی ہے لیکن وہ مجھ پر پوشیدہ ہوتی ہے، تو کبھی میں حدیث کو چھوڑ دیتا ہوں جب میں اسے فقہی طور پر سمجھ نہیں پاتا، اور کبھی اسے لکھ دیتا ہوں اور اس کی وضاحت کر دیتا ہوں، اور کبھی میں اس (کی حقیقت) پر واقف نہیں ہو پاتا۔ اور بسا اوقات میں ایسی چیزوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہوں کیونکہ عام لوگوں کے سامنے حدیث کے ان تمام عیوب کو کھولنا جو ماضی میں گزر چکے ہیں، ان کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ عام لوگوں کی سمجھ اور علم اس طرح کی باریکیوں کے ادراک سے قاصر ہوتا ہے۔

کتاب کے اجزاء کی تعداد

اس کتاب (السنن) کے ابواب/اجزاء کی کل تعداد اٹھارہ (18) ہے، جس میں مراسیل (مرسل احادیث کا حصہ) بھی شامل ہے، اور ان میں سے ایک جزو صرف مراسیل پر مشتمل ہے۔

مراسیل کا حکم

اور نبی کریم ﷺ سے جو مرسل احادیث مروی ہیں، ان میں سے کچھ ایسی ہیں جو (مرسل ہونے کی وجہ سے) صحیح نہیں ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جو دوسروں سے مسند (متصل) مروی ہیں، لہذا وہ متصل اور صحیح ہیں۔

کتاب کی احادیث کی کل تعداد

میری اس کتاب میں احادیث کی کل تعداد تقریباً چار ہزار آٹھ سو (4,800) ہے، اور مراسیل (مرسل احادیث) کی تعداد تقریباً چھ سو (600) ہے۔

انتخابِ احادیث میں امام ابو داؤد کا منہج

جو شخص ان احادیث کو ان کے الفاظ کے ساتھ پرکھنا چاہے (تو وہ دیکھے گا کہ) بسا اوقات ایک حدیث کسی ایک سند سے آتی ہے، جبکہ عام لوگوں کے نزدیک وہ ان ائمہ کی سند سے ہوتی ہے جو مشہور ہیں، لیکن بسا اوقات میں نے ایسے لفظ کی تلاش کی جس کے کئی معانی نکلتے ہوں، اور ان لوگوں سے روایت لی جن کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ انہوں نے ان تمام کتب کو نقل کیا ہے۔

بعض اوقات کوئی سند سامنے آتی ہے تو دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ متصل نہیں ہے، لیکن سننے والا اس کی باریکی کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتا جب تک کہ وہ احادیث کا وسیع علم اور اس کی معرفت نہ رکھتا ہو، تبھی وہ اس پر مطلع ہو سکتا ہے۔ جیسے ابن جریج سے مروی ہے، انہوں نے کہا: “مجھے زہری سے خبر دی گئی”، جبکہ البرسانی اسے ابن جریج سے، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں (جس سے بظاہر لگتا ہے کہ ابن جریج نے براہِ راست زہری سے سنا)۔

چنانچہ جو شخص اسے سنتا ہے وہ یہ گمان کرتا ہے کہ یہ متصل ہے، حالانکہ یہ بالکل بھی صحیح نہیں ہوتی۔ ہم نے اس طرح کی حدیث کو اسی وجہ سے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ حدیث کی اصل متصل نہیں ہے اور وہ صحیح نہیں ہے، بلکہ وہ ایک معلول (علت یا عیب والی) حدیث ہے، اور اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں۔

اور جسے علم نہیں ہوتا وہ (اعتراض کرتے ہوئے) کہتا ہے: “انہوں نے اس باب میں ایک صحیح حدیث چھوڑ دی اور ایک معلول حدیث لے آئے!”

صرف احادیثِ احکام پر اکتفا کرنا

میں نے کتاب السنن میں صرف احکامِ فقهی سے متعلق احادیث کو جمع کیا ہے، اور میں نے زہد (دنیا سے بے رغبتی) اور فضائلِ اعمال وغیرہ پر کتب تصنیف نہیں کیں۔

چنانچہ یہ چار ہزار آٹھ سو احادیث کی تمام تر تعداد احکام کے بارے میں ہی ہے۔ رہی بات زہد، فضائل اور ان کے علاوہ دیگر موضوعات کی کثیر احادیث کی، تو میں نے انہیں (اس کتاب میں) بیان نہیں کیا۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر سلامتی اور درود نازل فرمائے۔ اور ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

رواۃ الحدیث

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث السجستانی

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث السجستانی(202–275ھ) جلیل القدر محدث، حافظِ حدیث اور ائمۂ حدیث میں نمایاں مقام رکھنے والے عالم تھے۔ آپ نے طلبِ حدیث کے لیے عراق، حجاز، شام، مصر، خراسان اور دیگر علاقوں کا سفر کیا اور اپنے دور کے بڑے محدثین سے علم حاصل کیا۔ آپ کی سب سے مشہور تصنیف سنن ابی داؤد ہے، جو صحاحِ ستہ میں شامل ہے اور احادیثِ احکام کے اہم ترین مجموعوں میں شمار ہوتی ہے۔ امام ابو داؤد نے احادیث کے انتخاب میں صحت، فقہی استدلال اور علمی دیانت کو خاص اہمیت دی، اسی لیے ان کی تصانیف کو امت میں غیر معمولی قبولیت حاصل ہوئی۔ ان کا مشہور رسالہ اہلِ مکہ بھی علمِ حدیث میں ایک بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے، جس میں انہوں نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد کے منہج اور احادیث کے انتخاب کے اصول واضح کیے ہیں

ترجمہ

سلطان الحسینی السلفی

سلطان الحسيني سلفی

سلطان الحسینی سلفی متبع ٹیم(Mttabi Team) کے معزز رکن ہیں۔ وہ سلفی منہج سے وابستہ طالبِ علم ہیں اور دینی علوم کے مطالعہ و تحقیق میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ بالخصوص اصولِ حدیث، علومِ حدیث، تفسیرِ قرآن اور دیگر اسلامی علوم میں مسلسل علمی تحقیق اور مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔

تحقیق کی مزید توثیق کے لیے متعلقہ صفحات کے اصل اسکین نیچے ملاحظہ کریں۔

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم