بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق اور سلام کا طریقہ

متفرق ابواب
باب: سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق اور سلام کا طریقہ
احادیث:1

حدیث نمبر: 59

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ: اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ، وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ، قَالَ: فَذَهَبَ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَزَادُوا: وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَ: فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّى الآنَ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خلق الله آدم على صورته، طوله ستون ذراعا، فلما خلقه قال: اذهب فسلم على اولئك النفر، وهم نفر من الملائكة جلوس، فاستمع ما يحيونك، فإنها تحيتك وتحية ذريتك، قال: فذهب، فقال: السلام عليكم، فقالوا: وعليك السلام ورحمة الله، فزادوا: ورحمة الله، قال: فكل من يدخل الجنة على صورة آدم طوله ستون ذراعا، فلم يزل الخلق ينقص بعد حتى الآن"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ پیدا کر چکا تو اسے حکم دیا: جا، اس جماعت کو یعنی فرشتوں کی جماعت، جو وہاں بیٹھے تھے، انہیں سلام کرو اور جو کلمات تجھے سلام کے جواب میں کہیں انہیں غور سے سنو، اس لیے کہ وہ تیرا اور تیری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھر وہ گئے اور (ملائکہ کو) «السلام علیکم» کہا تو انہوں نے جواب میں «وعلیکم السلام ورحمة اللہ» کہا، فرشتوں نے (سلام کے جواب میں) «ورحمة اللہ» کا اضافہ کیا۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا اس کی صورت آدم علیہ السلام کی صورت ہو گی، اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ ہو گی۔ تب سے اب تک (انسانی قد میں) مسلسل کمی واقع ہوتی رہی ہے۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم