بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

Ayat 1 (test)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿ ۲﴾

سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ 

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہاں کا پالنے والا ہے۔

ہر طرح کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام کائنات خلقت کا پروردگار ہے۔

سب تعریف اللہ کیلئے ہے جو کل جہان کا پروردگار ہے ۔

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

 رَبِّ، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، جس کے معنی ہیں ہر چیز کو پیدا کرکے اس کی ضروریات مہیا کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے والا۔ اس کا استعمال بغیر اضافت کے کسی اور کے لئے جائز نہیں۔عَالَمِينَ، عَالَمٌ (جہان) کی جمع ہے۔ ویسے تو تمام خلائق کے مجموعے کو عالم کہا جاتا ہے، اسی لئے اس کی جمع نہیں لائی جاتی۔ لیکن یہاں اس کی ربوبیت کاملہ کے اظہار کے لئے عالم کی بھی جمع لائی گئی ہے، جس سے مراد مخلوقات کی الگ الگ جنسیں ہیں۔ مثلاً عالم جن، عالم انس، عالم ملائکہ اور عالم وحوش وطیور وغیرہ۔ ان تمام مخلوقات کی ضرورتیں ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں، لیکن رَبِّ الْعَالَمِينَ سب کی ضروریات، ان کے احوال وظروف اور طباع و اجسام کے مطابق مہیا فرماتا ہے۔

حمد اور شکر میں لغوی فرق :۔ 

حمد کا معنی تعریف بھی ہوسکتا ہے اور شکر بھی۔ تعریف (حمد) عام ہے اور شکر خاص۔ حمد کا تعلق قابل تعریف کارناموں سے ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان، شمس و قمر اور ستاروں کی حرکت غرض تمام کائنات کا اس قدر مربوط اور منظم نظام بنا دیا ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس پر اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اور شکر کا تعلق ان خاص انعامات سے ہوتا ہے جو کسی خاص ذات سے متعلق ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا انسان کو احسن تقویم پر پیدا کرنا۔ کسی کو صحت اور رزق کی فراوانیوں سے مالا مال کرنا۔ ایسی نعمتوں کے اعتراف کو شکر کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی ہر طرح کی حمد اور شکر کا مستحق ہوا۔ علاوہ ازیں اگر مخلوق میں سے کوئی شخص کوئی قابل تعریف کارنامہ سر انجام دے اور اس پر اس کی تعریف کی جائے تو وہ بھی حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہوگی۔ کیونکہ قابل تعریف کام کرنے کی صلاحیت اور توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ گویا ہر طرح کی تعریف کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی قرار پاتا ہے۔ اللہ دراصل الا لٰہ ہے، معبود حقیقی۔ الٰہ کا ہمزہ حذف کر کے اس پر تعریف کا الف لام داخل کر کے اللہ کا لفظ بنا ہے اور یہی توجیہ سب سے بہتر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں ہر طرح کے نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے اور کائنات کا خالق، پروردگار اور لا محدود اقتدار و اختیار ہونے کی وجہ سے صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ یعنی وہ تمام صفات جو الٰہ کے مفہوم میں پائی جانی چاہئیں وہ صرف اللہ میں ہی پائی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا دوسرے سب الٰہ باطل اور ناقابل اعتبار ہیں اور اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

رب کا لفظ تین معنوں میں آتا ہے : 

(1) کسی چیز کی درجہ بدرجہ تربیت اور خبرگیری رکھتے ہوئے اسے حد کمال تک پہنچانے والا یعنی پروردگار حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

 (2) کبھی یہ لفظ صرف تربیت (پرورش) کرنے والے مالک کے معنوں میں آتا ہے۔ جیسے سورۃ یوسف میں آتا ہے  ﴿أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا ﴾(١٢: ٤١)

 (3) اور کبھی صرف مالک کے معنوں میں جیسے حدیث میں ہے کہ کسی صحابی نے اپنی شہادت کے وقت فرمایا :” فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ“ (کعبہ کے مالک کی قسم! میں کامیاب ہوگیا)

 عالمین سے مراد اور اللہ کی تعریف کی وجہ :۔

 العالمین : لغوی لحاظ سے عالم ہر وہ چیز ہے جس کا علم حواس خمسہ سے ہوسکتا ہو۔ اس لحاظ سے تمام مخلوقات ایک عالم ہے مگر اس آیت میں عالم سے مراد جنس ہے (عالم غیب، عالم شہادۃ، عالم انس، عالم جن، عالم ملائکہ وغیرہ وغیرہ) بے شمار عالم ہیں۔ پھر زمانہ کے لحاظ سے ہر دور کے لوگ ایک عالم ہیں۔ دور بدلنے پر عالم بھی بدل جاتا ہے۔ اس طرح عالم کی سینکڑوں اور ہزاروں اقسام بن جاتی ہیں اور ان تمام عالموں کی تربیت اور پرورش کرنے والی صرف اللہ ہی کی بلند و برتر ذات ہے۔ اس آیت کے پہلے حصہ میں یہ مذکور ہوا کہ ہر طرح کی تعریف صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور اس حصہ میں اسکی وجہ بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی تعریف کا اس لیے مستحق ہے کہ وہ تمام جہانوں کا تربیت کرنے والا ہے۔نیز یہ آیت اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کے آداب میں سے پہلا ادب ہے۔ حسن طلب کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب کسی سے کچھ مانگنا ہو تو اس کی ابتدا اس کے محاسن کے تذکرہ سے کی جاتی ہے۔

لفظ حمد کا ترجمہ، تعریف کرنا ہے۔ حمد اور شکر میں فرق یہ ہے کہ حمد صرف زبان سے ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ کسی نعمت کے مقابلہ میں ہو۔ جبکہ شکر زبان، دل اور دیگر اعضاء کے ذریعہ کسی نعمت اور داد و دہش پر ہوتا ہے۔ اور اس پر الف لام، استغراق و شمولیت کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ یعنی حمد و ثنا اور تعریف و توصیف کی وہ تمام قسمیں جو آسمان و زمین کے درمیان ہوسکتی ہیں، وہ سب اللہ کے لیے ہیں۔ ابن جریر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود بیان کر کے اپنے بندوں کو تعلیم دی ہے کہ وہ اس کی تعریف بیان کریں۔ امام ابن القیم (رحمہ اللہ) نے اپنی کتاب (طریق الہجرتین)میں لکھا ہے کہ ہر اعلی صفت، ہر اچھے نام، ہر عمدہ تعریف، ہر حمد و مدح، ہر تسبیح و تقدیس اور ہر جلال و عزت کی جو کامل ترین اور دائمی اور ابدی شکل ہوسکتی ہے، وہ سب اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کی جتنی بھی صفتیں بیان کی جاتی ہیں، جتنے ناموں سے اس کو یاد کیا جاتا ہے، اور جو کچھ بھی اللہ کی بڑائی میں کہا جاتا ہے، وہ سب اللہ کی تعریفیں ہیں اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس ہے۔ اللہ ہر عیب سے پاک ہے، ساری تعریفیں اس کے لیے ہیں، مخلوق کا کوئی فرد اس کی تعریفوں کو شمار نہیں کرسکتا۔
(الرب) کا معنی ہے۔ وہ آقا جس کی اطاعت کی جائے، وہ مالک جو تصرف کلی کا حق رکھتا ہے، وہ ذات برتر و بالا جو مخلوق کی اصلاح احوال کے لیے ہر تصرف کا حق رکھتا ہے۔ الف لام کے اضافہ کے ساتھ الرب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مخلوق کے لیے اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے مثلا رب الدار، گھر والا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کہا ہے ( ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ ) ۔ اپنے آقا کے پاس لوٹ کر جاؤ (یوسف :50)۔ العالمین عالم کی جمع ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عالم کا اطلاق انس و جن اور ملائکہ و شیاطین پر ہوتا ہے۔ بہائم، عالم میں داخل نہیں۔ اللہ تعالیٰ سارے جہان والوں کا آقا و مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ رب کا ایک معنی مربی بھی کیا گیا ہے، بایں طور کہ وہ تربیۃ سے مشتق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا بطور عام اور بطور خاص مدبر و مربی ہے۔ بطور عام مربی اس طرح ہے کہ اس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا، ان کو روزی دی، اور ان امور کی طرف رہنمائی کی جو دنیاوی زندگی کے لیے نافع ہیں اور بطور خاص اپنے اولیاء کا مربی ہے، یعنی ایمان کے ذریعہ ان کی تربیت کرتا ہے، انہیں ایمان کی توفیق دیتا ہے اور صاحب کمال بناتا ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کرتا ہے، جو اس کے اور ان اولیاء کے درمیان حائل ہوسکتے ہیں۔ یعنی انہیں ہر خیر کی توفیق دیتا ہے اور ہر شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اور غالباً یہی راز ہے کہ انبیاء کرام کی تمام دعائیں کلمہ الرب سے شروع ہوتی ہیں اس لیے کہ ان کے تمام مطالب اللہ کی ربوبیت خاص کے ضمن میں آتے ہیں۔ اس تمام تر تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ صفت خلق و تدبیر عالم اور صفت کمال بے نیاز و تمام نعمت میں اللہ تعالیٰ منفرد ہے اور آسمان و زمین کی تمام مخلوق ہر اعتبار سے اس کی محتاج ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْد :۔ 

عربی میں حمد کے معنی ثنائے جمیل کے ہیں، یعنی اچھی صفتیں بیان کرنے کے۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں تو یہ حمد نہ ہوگی، حمد پر الف لام ہے یہ استغراق کے لیے بھی ہوسکتا ہے، جنس کے لیے بھی۔ پس” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ” کے معنی یہ ہوئے کہ حمد و ثنا میں سے جو کچھ اور جیسا کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالوں میں سے جو کچھ بھی ہے سب اسی سے ہے اور اسی میں ہے۔ اور اگر حسن موجود ہے تو نگاہ عشق کیوں نہ ہو اور اگر محمودیت جلوہ افروز ہے تو زبان حمد و ستائش کیوں خاموش رہے؟

آئینہ ما روائے ترا عکس پذیر است 

 گر تو نہ نمائی گنہ از جانب ما نیست

 حَمْد سے سورت کی ابتدا کیوں کی گئی؟ اسلیے کہ معرفت الٰہی کی راہ میں انسان کا پہلا تاثر یہی ہے۔ یعنی جب کبھی ایک صادق انسان اس راہ میں قدم اٹھائے گا تو سب سے پہلی حالت جو اس کے فکر و وجدان پر طاری ہوگی وہ قدرتی طور پر وہی ہوگی جسے یہاں تحمید و ستائش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان کے لیے معرفت حق کی راہ کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کائنات خلقت میں تفکر و تدبر کرے۔ مصنوعات کا مطالعہ اسے صانع تک پہنچا دے گا۔الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (188:3) اب فرض کرو، ایک طالب صادق اس راہ میں قدم اٹھاتا ہے اور کائنات خلقت کے مظاہر و آثار کا مطالعہ کرتا ہے تو سب سے پہلا اثر جو اس کے دل و دماغ پر طاری ہوگا وہ کیا ہوگا؟ وہ دیکھے گا کہ خود اس کا وجود اور اس کے وجود سے باہر کی ہر چیز ایک صانع حکیم اور مدبر قدیر کی کار فرمائیوں کی جلوہ گاہ ہے اور اس کی ربوبیت اور رحمت کا ہاتھ ایک ایک ذرہ خلقت میں صاف نظر آرہا ہے۔ پس قدرتی طور پر اس کی روح جوش ستائش اور محویت جمال سے معمور ہوجائے گی۔ وہ بے اختیار پکار اٹھے گا کہ ” الحمد للہ رب العالمین” ساری حمد و ستائش اسی کے لیے ہے جو اپنی کار فرمائی کے ہر گوشے میں سرچشمہ رحمت و فیضان اور معنی حسن و کمال ہے ! اس راہ میں فکر انسانی کی سب سے بڑی گمراہی یہ رہی ہے کہ اس کی نظریں مصنوعات کے جلووں میں محو ہو کر رہ جاتیں اور آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرتیں۔ وہ پردوں کے نقش و نگار دیکھ کر بے خود ہوجاتا مگر اس کی جستجو نہ کرتا جس نے اپنے جمال صنعت پر یہ دل آویز پردے ڈال رکھے ہیں، دنیا میں مظاہر فطرت کی پرستش کی بنیاد اسی کوتاہ نظری سے پڑی۔ پس ” الحمد للہ” کا اعتراف اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ کائنات ہستی کا تمام فیضان و جمال خواہ کسی گوشے اور کسی شکل میں صرف ایک صانع حقیقی کی صفتوں ہی کا ظہور ہے۔ اس لیے حسن و جمال کے لیے جتنی بھی شیفتگی ہوگی، خوبی و کمال کے لیے جتنی بھی مدحت طرازی ہوگی اور بخشش و فیضان کا جتنا بھی اعتراف ہوگا، وہ مصنوع و مخلوق کے لیے نہیں ہوگا۔ صانع و خالق ہی کے لیے ہوگا۔

 عباراتنا شتی و حسنک واحد

 وکل الی ذاک الجمال یشیر اللہ 

 نزول قرآن سے پہلے عربی میں اللہ کا لفظ خدا کے لیے بطور اسم ذات کے مستعمل تھا جیسا کہ شعرائے جاہلیت کے کلام سے ظاہر ہے۔ یعنی خدا کی تمام صفتیں اس کی طرف منسوب کی جاتی تھیں۔ یہ کسی خاص صفت کے لیے نہیں بولا جاتا تھا۔ قرآن نے بھی یہی لفظ بطور اسم ذات کے اختیار کیا اور تمام صفتوں کو اس کی طرف نسبت دی۔ ” وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بہا” (179:7) ” اور اللہ کے لیے حسن و خوبی کے نام ہیں (یعنی صفتیں ہیں) پس چاہیے کہ اسے ان صفتوں کے ساتھ پکارو !” قرآن نے یہ لفظ محض اس لیے اختیار کیا کہ لغت کی مطابقت کا مقتضا یہی تھا یا اس سے بھی زیادہ کوئی معنوی موزونیت اس میں پوشیدہ ہے؟ جب ہم اس لفظ کی معنوی دلالت پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے اس غرض کے لیے سب سے زیادہ موزوں لفظ یہی تھا۔ نوع انسانی کے دینی تصورات کا ایک قدیم عہد جو تاریخ کی روشنی میں آیا ہے۔ مظاہر فطرت کی پرستش کا عہد ہے۔ اسی پرستش نے بتدریج اصنام پرستی کی صورت اختیار کی اصنام پرستی کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مختلف زبانوں میں بہت سے الفاظ دیوتاؤں کے لیے پیدا ہوگئے اور جوں جوں پرستش کی نوعیت میں وسعت ہوتی گئی الفاظ کا تنوع بھی بڑھتا گیا لیکن چونکہ یہ بات انسان کی فطرت کے خلاف تھی کہ ایسی ایسی ہستی کے تصور سے خالی الذہن رہے جو سے اعلی اور سب کی پیدا کرنے والی ہستی ہے اس لیے دیوتاؤں کی پرستش کے ساتھ ایک سب سے بڑی اور سب پر حکمراں ہستی کا تصور بھی کم و بیش ہمیشہ موجود رہا اور اس لیے جہاں بے شمار الفاظ دیوتاؤں اور ان کی معبودانہ صفتوں کے لیے پیدا ہوگئے وہاں کوئی نہ کوئی لفظ ایسا بھی ضرور مستعمل رہا جس کے ذریعہ اس ان دیکھی اور اعلی تریں ہستی کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا۔ چنانچہ سامی زبانوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف و اصوات کی ایک خاص ترکیب ہے جو معبودیت کے معنی میں مستعمل رہی ہے۔ عبرانی، سریانی، آرامی کلدانی، حمیری، عربی و غیرہ تمام زبانوں میں اس کا یہ لغوی خاصہ پایا جاتا ہے۔ یہ الف، لام اور ہ کا مادہ ہے اور مختلف شکلوں میں مشتق ہوا ہے۔ کلدانی و سریانی کا “الاھیا” عبرانی کا ” الوہ” اور عربی کا “الہ“اسی سے ہے اور بلاشبہ یہی “الہ” ہے جو حروف تعریف کے اضافہ کے بعد اللہ ہوگیا ہے اور تعریف نے اسے صرف خالق کائنات کے لیے مخصوص کردیا ہے۔ لیکن اگر اللہ ” الہ” سے ہے تو” الہ” کے معنی کیا ہیں؟ علمائے لغت و اشتقاق کے مختلف اقوال ہیں مگر سب سے زیادہ قوی قول یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل” الہ” ہے اور” الہ” کے معنی تحیر اور درماندگی کے ہیں، بعضوں نے اسے “ولہ” سے ماخوذ بتایا ہے اور اس کے معنی بھی یہی ہیں پس خالق کائنات کے لیے یہ لفظ اس لیے اہم قرار پایا کہ اس بارے میں انسان جو کچھ جانتا اور جان سکتا ہے وہ عقل کے تحیر اور ادراک کی درماندگی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ وہ جس قدر بھی اس ذات مطلق کی ہستی میں غور و خوض کرے گا اس کی عقل کی حیرانی اور درماندگی بڑھتی ہی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ معلوم کرلے گا کہ اس راہ کی ابتدا بھی عجز و حیرات سے ہوتی ہے اور نتہا بھی عجز و حیرت ہی ہے ! اے بروں از وہم و قال و قیل من :: خاک بر فرق من و تمثیل من اب غور کرو خدا کی ذات کے لیے انسان کی زبان سے نکلے ہوئے لفظوں میں اس سے زیادہ موزوں لفظ اور کون سا ہوسکتا ہے؟ اگر خدا کو اس کی صفتوں سے پکارنا ہے تو بلاشبہ اس کی صفتیں بے شمار ہیں لیکن اگر صفات سے الگ ہو کر اس کی ذات کی طرف اشارہ کرنا ہے تو وہ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ ایک متحیر کردینے والی ذات ہے اور جو کچھ اس کی نسبت کہا جاسکتا ہے وہ عجز درماندگی کے اعتراف کے سوا کچھ نہیں ہے؟ فرض کرو نوع انسانی نے اس وقت تک خدا کی ہستی یا تخلیق کائنات کی اصلیت کے بارے میں جو کچھ سوچا اور سمجھا ہے وہ سب کچھ سامنے رکھ کر ہم ایک موزوں سے موزوں لفظ تجویز کرنا چاہیں تو وہ کیا ہوگا؟ اس سے موزوں اور اس سے بہتر کوئی لفظ تجویز کیا جاسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس راہ میں عرفان و بصیرت کی کوئی بڑی سے بڑی بات کہی گئی وہ یہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ خود رفتگیوں کا اعتراف کیا گیا اور ادراک کا منتہی مرتبہ ہمیشہ یہی قرار پایا کہ ادراک کی نارسائی کا ادراک حاصل ہوجائے۔ عرفاء کے دل و زبان کی صدا ہمیشہ یہی رہی کہ “رب زدنی فیک تحیرا” یعنی خدا یا ایسا کر کہ تیری ہستی میں ہمارا تحیر بڑھتا رہے” کیونکہ تحیر جہالت کا نہیں بلکہ معرفت کا ہے۔ اور حکما کی حکمت و دانش کا فیصلہ بھی ہمیشہ یہی ہوا کہ “معلومم شد کہ ہیچ معلوم نہ شد“۔ چونکہ یہ اسم خدا کے لیے بطور اسم ذات کے استعمال میں آیا اس لیے قدرتی طور پر ان تمام صفتوں پر حاوی ہوگیا جن کا خدا کی ذات کے لیے تصور کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم خدا کا تصور اس کی کسی صفت کے ساتھ کریں مثلا الرب یا الرحیم کہیں تو یہ تصور صرف ایک خاص صفت ہی میں محدود ہوگا۔ یعنی ہمارے ذہن میں ایک ایسی ہستی کا تصور پیدا ہوجائے گا جس میں ربوبیت یا رحمت ہے، لیکن جب ہم اللہ کا لفظ بولتے ہیں تو فوراً ہمارا ذہن ایک ایسی ہستی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے جو ان تمام صفات حسن و کمال سے متصف ہے جو اس کی نسبت بیان کیے گئے ہیں اور جو اس میں ہونے چاہئیں۔ 

  رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ربوبیت حمد کے بعد بالترتیب چار صفتیں بیان کی گئی ہیں (رب العالمین، الرحمن، الرحیم، مالک یوم الدین) چونکہ الرحمن اور الرحیم کا تعلق ایک ہی صفت کے دو مختلف پہلوؤں سے ہے اس لیے دوسرے لفظوں میں انہیں یوں تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ربوبیت، رحمت، عدات، تین صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ الہ کی طرح “رب ” بھی سامی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے۔ عبرانی سریانی اور عربی تینوں زبانوں میں اس کے معنی پالنے کے ہیں اور چونکہ پرورش کی ضرورت کا احساس انسانی زندگی کے بنیادی احساسات میں سے ہے اس لیے اسے بھی قدیم ترین سامی تعبیرات میں سے سمجھنا چاہیے۔ پھر چونکہ معلم، استاد اور آقا کسی نہ کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں اس لیے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی ہونے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی کا “ربی” اور “رباہ” پرورش کنندہ، معلم اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا اور قدیم مصری اور خالدی زبان کا ایک لفظ ” رابو” بھی انہی معنوں میں مستعمل ہوا ہے اور ان ملکوں کی قدیم ترین سامی وحدت کی خبر دیتا ہے۔ بہرحال عربی میں ” ربوبیت” کے معنی پالنے کے لیے ہیں لیکن پالنے کو اس کے وسیع اور کامل معنوں میں لینا چاہیے۔ اسی لیے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔ “ھو انشاء الشیء حالا فحالا الی حد التمام” (مفردات راغب اصفہانی)۔ کعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشو ونما دیتے رہنا حتی کہ اپنی حد کمال تک پہنچ جائے۔ اگر ایک شخص بھوکے کو کھانا کھلا دے یا محتاج کو روپیہ دیدے تو یہ اس کا کرم ہوگا، جود ہوگا، احسان ہوگا لیکن وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں ربوبیت کے لیے ضروری ہے کہ پرورش اور نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اس کی تکمیل وبلوغ کے لیے وقتاً فوقتا جیسی کچھ ضرورتیں پیش آتی رہیں ان سب کا سروسامان ہوتا رہے۔ نیز ضروری ہے کہ یہ سب کچھ محبت و شفقت کے ساتھ ہو کیونکہ جو عمل محبت و شفقت کے عافطہ سے خالی ہوگا ربوبیت نہیں ہوسکتا۔ ربوبیت کا ایک ناقص نمونہ ہم اس پرورش میں دیکھ سکتے ہیں جس کا جوش ماں کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو محض گوشت پوست کا ایک متحرک لوتھڑا ہوتا ہے اور زندگی اور نمو کی جتنی قوتیں بھی رکھتا ہے سب کی سب پرورش و تربیت کی محتاج ہوتی ہیں۔ یہ پرورش محبت و شفقت، حفاظ و نگہداشت اور بخشش و اعانت کا ایک طول طویل سلسلہ ہے اور اسے اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک بچہ اپنے جسم و صہن کے حد بلوغ تک نہ پہنچ جاے۔ پھر پرورش کی ضرورتیں ایک دو نہیں بے شمار ہیں۔ ان کی نوعیت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے اور ضروری ہے کہ ہر عمر اور ہر حالت کے مطابق محبت کا جوش، نگرانی کی نگاہ اور زندگی کا سروامان ملتا ہے۔ حکمت الٰہی نے ماں کی محبت میں ربوبیت کے یہ تمام خدو خال پیدا کردیے ہیں۔ یہ ماں کی ربوبیت ہے جو پیدائش کے دن سے لے کر بلوغ تک، بچے کو پالتی، بچاتی، سنبھالتی، اور ہر حالت کے مطابق اس کی ضروریات پرورش کا سروسامان مہیا کرتی رہتی ہے۔ جب بچے کا معدہ دودھ کے سوا کسی غذا کا متحمل نہ تھا تو اسے دودھ ہی پلایا جاتا تھا۔ جب دودھ سے زیادہ قوی غذا کی ضرورت ہوئی تو ویسی ہی غذا دی جانے لگی۔ جب اس کے پاؤں میں کھڑے ہونے کی سکت نہ تھی تو ماں اسے گود میں اٹھائے پھرتی تھی۔ جب کھڑے ہونے کے قابل ہوا تو انگلی پکڑی اور ایک ایک قدم چلانے لگی۔ پس یہ بات کہ ہر حالت اور ہر ضرورت کے مطابق ضروریات مہیا ہوتی رہیں اور نگرانی و حفاظت کا ایک مسلسل اہتمام جاری رہا۔ یہ وہ صورت حال ہے جس سے ربوبیت کے مفہوم کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ مجازی ربوبیت کی یہ ناقص اور محدود مثال سامنے لاؤ اور ربوبیت الٰہی کی غیر محدود حقیقت کا تصور کرو۔ اس کے رب العالمین ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ جس طرح اس کی خالقیت نے کائنات ہستی اور اس کی ہر چیز پیدا کی ہے اسی طرح اس کی ربوبیت نے ہر مخلوق کی پرورش کا سروسامان بھی کردیا ہے اور یہ پرورش کا سروسامان ایک ایسے عجیب و غریب نظام کے ساتھ ہے کہ ہر وجود کو زندگی اور بقا کے لیے جو کچھ مطلوب تھا وہ سب کچھ مل رہا ہے اور اس طرح مل رہا ہے کہ ہر حالت کی رعایت ہے، ہر ضرورت کا لحاظ ہے، ہر تبدیلی کی نگرانی ہے اور ہر کمی بیشی ضبط میں آچکی ہے۔ چیونٹی اپنے بل میں رینگ رہی ہے، کیڑے مکوڑے کوڑے کرکٹ میں ملے ہوئے ہیں َ مچھلیاں دریا میں تیر رہی ہیں، پرندے ہوا میں اڑ رہے ہیں، پھول باغ میں کھل رہے ہیں، ہاتھی جنگل میں دوڑ رہا ہے اور ستارے فضا میں گردش کر رہے ہیں۔ لیکن فطرت کے پاس سب کے لیے یکساں طور پر پرورش کو گود اور نگرانی کی آنکھ ہے اور کوئی نہیں جو فیضان ربوبیت سے محروم ہو۔ اگر مثالوں کی جستجو میں تھوڑی سی کاوش جائز رکھی جائے تو مخلوقات کی بے شمار قسمیں ایسی ملیں گی جو اتنی حقیر اور بے مقدار ہیں کہ غیر مسلح آنکھ سے ہم انہیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔ (Naked Eye) غیر مسلح آنکھ جو اپنی قدرتی نگاہ سے دیکھ رہی ہو، زیادہ قوت کے ساتھ دیکھنے کا کوئی آلہ مثلاً خوردین اس کے ساتھ نہ ہو)۔ تاہم ربوبیت الٰہی نے جس طرح اور جس نظام کے ساتھ ہاتھی جیسی جسیم اور انسان جیسی عقیل مخلوق کے لیے سامان پرورش مہیا کردیا ہے، ٹھیک ٹھیک اسی طرح اور ویسے ہی نظام کے ساتھ ان کے لیے بھی زنگی اور بقا کی ہر چیز مہیا کی ہے۔ اور پھر یہ جو کچھ بھی ہے انسان کے وجود سے باہر ہے اگر انسان اپنے وجود کو دیکھے تو خود اس کی زندگی اور زندگی کا ہر لمحہ ربوبیت الٰہی کی کرشمہ سازیوں کی ایک پوری کائنات ہے !وفی الارض ایت للموقنین وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(21-20:51) ” ان لوگوں کے لیے جو (سچائی پر) یقین رکھنے والے ہیں زمین میں (خدا کی کارفرمائیوں کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں اور خود تمہارے وجود میں بھی، پھر کیا تم دیکھتے نہیں !“ نظام ربوبیت لیکن سامان زندگی کی بخشائش میں اور ربوبیت کے عمل میں جو فرق ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر دنیا میں ایسے عناصر، عناصر کی ایسی ترکیب اور اشیا کی ایسی بناوٹ موجود ہے جو زندگی اور نشو ونما کے لیے سود مند ہے تو محض اس کی موجودگی ربوبیت سے تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ ایسا ہونا قدرت الٰہی کی رحمت ہے، بخشش ہے، احسان ہے مگر وہ بات نہیں ہے جسے ربوبیت کہتے ہیں۔ ربوبیت یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں دنیا میں سود مند اشیا کی موجودگی کے ساتھ ان کی بخشش و تقسیم کا بھی ایک نظام موجود ہے اور فطرت صرف بخشتی ہی نہیں بلکہ جو کچھ بخشتی ہے ایک مقررہ انتظام اور ایک منضبط ترتیب و مناسبت کے ساتھ بخشتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں ہر وجود کو زندگی اور بقا کے لیے جس جس چیز کی ضرورت ھی اور جس جس وقت اور جیسی جیسی مقدار میں ضرورت تھی ٹھیک ٹھیک اسی طرح، انہی وقتوں میں اور اسی مقدار میں اسے مل رہی ہے اور اس نظم و انضباط سے تمام کارخانہ حیات چل رہا ہے۔

 پانی کی بخشش و تقسیم کا نظام :

 زندگی کے لیے پانی اور رطوبت کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پانی کے وافر ذخیر ہر طرف موجود ہیں۔ لیکن اگر صرف اتنا ہی ہوتا، تو یہ زندگی کے لیے کافی نہ تھا۔ کیونکہ زندگی کے لیے صرف یہی ضروری نہیں ہے کہ پانی موجود ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک خاص انتظام، ایک خاص ترتیب، اور ایک خاص مقررہ مقدار کے اتھ موجود ہو۔ پس یہ جو دنیا میں پانی کے بننے اور تقسیم ہونے کا ایک خاص انتظام پایا جاتا ہے اور فطرت صرف پانی بناتی ہی نہیں بلکہ ایک خاص ترتیب و مناسبت کے ساتھ بناتی اور ایک خاص اندازہ کے ساتھ بانٹتی رہتی ہے تو یہی ربوبیت ہے اور اسی سے ربوبیت کے تمام اعمال کا تصور کرنا چاہیے۔ قرآن کہتا ہے یہ اللہ کی رحمت ہے جس نے پانی جیسا جوہر حیات پیدا کردیا لیکن یہ اس کی ربوبیت ہے جو پانی کو ایک ایک بوند کر کے ٹپکاتی، زمین کے ایک ایک گوشے تک پہنچاتی، ایک خاص مقدار اور حالت میں تقسیم کرتی، ایک خاص موسم اور محل میں برساتی، اور پھر زمین کے ایک ایک تشنہ ذرے کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر سیراب کردیتی ہے ! وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِک وَاِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۢ بِہٖ لَقٰدِرُوْنَ فَاَنْشَاْنَا لَکُمْ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ ۘلَکُمْ فِیْہَا فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ (19-18:23) ” اور (دیکھو) ہم نے آسمان سے ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی برسایا، پھر اسے زمین میں ٹھہرائے رکھا، اور ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ (جس طرح برسایا تھا اسی طرح) اسے واپس لے جائیں، پھر (دیکھو) اسی پانی سے ہم نے کھجوروں انگوروں کے باغ پیدا کردیے جن میں بے شمار پھل لگتے ہیں اور انہی سے تم اپنی غذا بھی حاصل کرتے ہو“ تقدیر اشیا : یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جابجا اشیا کی قدر اور مقدار کا ذکر کیا ہے۔ یعنی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فطرت کائنات جو کچھ بخشتی ہے ایک خاص اندازے کے ساتھ بخشتی ہے اور یہ اندازہ ایک خاص قانون کے ما تحت ٹھہرایا ہوا ہے۔ وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗیِٕنُہٗ ۡ وَمَا نُنَزِّلُہٗ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (21:15) ” اور کوئی شے نہیں جس کے ہمارے پاس ذخیرے موجود نہ ہوں لیکن ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ جو کچھ نازل کرتے ہیں ایک مقررہ مقدار میں نازل کرتے ہیں”وکل شیء عندہ بمقدار(8:13)” اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے” انا کل شیء خلقنہ بقدر(49:54) ” ہم نے جتنی چیزیں بھی پیدا کی ہیں ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہیں” یہ کیا بات ہے کہ دنیا میں صرف یہی نہیں ہے کہ پانی موجود ہے بلکہ ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ موجود ہے؟ یہ کیوں ہے کہ پہلے سورج کی شعاعوں نے سمندر سے ڈول بھر بھر کر فضا میں پانی کی چادریں بچھا دیں پھر ہواؤں کے جھونکے انہیں حرکت میں لائیں اور اپنی کی بوندیں بنا کر ایک خاص وقت اور خاص محل میں برسا دیں؟ پھر یہ کیوں ہے کہ جب کبھی پانی برسے تو ایک خاص ترتیب اور مقدار ہی سے برسے اور اس طرح برسے کہ زمین کی بالائی سطح پر اس کی خاص مقدار بہنے لگے اور اندرونی حصوں تک ایک خاص مقدار میں نمی پہنچے؟ کیوں ایسا ہو کہ پہلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کے تودے جمتے ہیں پھر موسم کی تبدیلی سے پگھلنے لگتے ہیں پھر ان کے پگھلنے سے پانی کے سرچشمنے ابلنے لگتے ہیں پھر چشموں سے دریا کی جدولیں بہنے لگتی ہیں پھر یہ جدولیں پیچ و خم کھاتی ہوئی دور دور تک دوڑ جاتی ہیں اور سیکڑوں ہزاروں میلوں تک اپنی وادیاں شاداب کرد یتی ہیں؟ کیوں یہ سب کچھ ایسا ہی ہوا؟ کیوں کر ایسا نہ ہوا کہ پانی موجود ہوتا مگر اس انتظام اور ترتیب کے ساتھ نہ ہوتا؟ قرآن کہتا ہے : اس لیے کہ کائنات ہستی میں ربوبیت الٰہی کار فرما ہے اور ربوبیت کا مقتضا یہی تھا کہ پانی اسی ترتیب سے بنے اور اسی ترتیب و مقدار سے تقسیم ہو، یہ رحمت و حکمت تھی جس نے پانی پیدا کیا مگر یہ ربوبیت ہے جو اسے اس طرح کام میں لائی کہ پرورش اور رکھوالی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں۔  اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُہٗ فِی السَّمَاۗءِ کَیْفَ یَشَاۗءُ وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ۚ فَاِذَآ اَصَابَ بِہٖ مَنْ یَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ (48:30)” یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ پہلے ہوائیں چلتی ہیں پھر ہوائیں بادلوں کو چھیڑ کر حرکت میں لاتی ہیں پھر وہ جس طرح چاہتا ہے انہیں فضا میں پھیلا دیتا ہے اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادلوں میں سے مینہ نکل رہا ہے۔ پھر جن لوگوں کو بارش کی یہ برکت ملنی تھی مل چکتی ہے تو وہ اچانک خوش وقت ہوجاتے ہیں” عناصر حیات : پھر اس حقیقت پر بھی غور کرو کہ زندگی کے لیے جن چیزوں کی سب سے زیادہ ضرورت تھی انہی کی بخشائش سب سے زیادہ اور عام ہے اور جن کی ضرورت خاص خاص حالتوں اور گوشوں کے لیے تھی انہی میں اختصاص اور مقامیت پائی جاتی ہے۔ ہوا سب سے زیادہ ضروری تھی کیونکہ پانی اور غذا کے بغیر کچھ عرصہ تک زندگی ممکن ہے مگر ہوا کے بغیر ممکن نہیں۔ پس اس کا سامان اتنا وافر اور عام ہے کہ کوئی جگہ کوئی گوشہ اور کوئی وقت نہیں جو اس سے خالی ہو۔ فضا میں ہوا کا بے حد و کنار سمندر پھیلا ہوا ہے۔ جب کبھی اور جہاں کہیں سانس لو زندگی کا یہ سب سے زیادہ ضروری جوہر تمہارے لیے خود بخود مہیا ہوجائے گا۔ ہوا کے بعد دوسرے درجے پر پانی ہے، وجعلنا من الماء کل شیء حی، اس لیے اس کی بخشائش کی فراوانی و عمومیت ہوا سے کم مگر ہر چیز سے زیادہ ہے۔ زمین کے نیچے آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں۔ زمین کے اوپر بھی ہر طرف دریا رواں دواں ہیں پھر ان دونوں ذخیروں کے علاوہ فضائے آسمانی کا بھی کارخانہ ہے جو شب و روز سرگرم کار رہتا ہے۔ وہ سمندر کا شورابہ کھینچتا رہتا ہے اور اسے صاف و شریں بنا کر جمع کرتا رہتا ہے پھر حسب ضرورت زمین کے حوالے کردیتا ہے ! پانی کے بعد غذا کی ضرورت تھی لہذا ہوا اور اپنی سے کم مگر اور تمام چیزوں سے زیادہ اس کا دسترخوان کرم بھی خشکی و تری میں بچھا ہوا ہے، اور کوئ مخلوق نہیں جس کے گرد و پیش اس کی غذا کا ذخیرہ نہ ہو۔ نظام پرورش : پھر سامان پروش کے اس عالمگیر نظام پر غور کرو جو اپنے ہر گوشہ عمل میں پروردگی کی گود اور بخشش حیات کا سرچشمہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا یہ تمام کارخانہ صرف اسی لیے بنا ہے کہ زندگی بخشنے اور زندگی کی ہر استعداد کی رکھوالی کرے۔ روشن سورج اس لیے ہے کہ روشنی کے لیے چراغ کا اور گرمی کے لیے تنور کا کام دے اور اپنی کرنوں کے ڈول بھر بھر کر سمندر سے پانی کھینچتا رہے۔ ہوائیں اس لیے ہیں کہ اپنی سردی اور گرمی سے مطلوبہ اثرات پیدا کرتی رہیں۔ اور کبھی پانی ذرات جما کر ابر کی چادریں بنا دیں۔ کبھی ابر کو پانی بنا کر بارش برسا دیں۔ زمین اس لیے کہ نشوونما کے خزانوں سے ہمیشہ معمور رہے اور ہر دانے کے لیے اپنی گد میں زندگی اور ہر پودے کے لیے اپنے سینہ میں پروردگری رکھے۔ مختصر یہ کہ کارخانہ ہستی کا ہر گوشہ صرف اسی کام میں لگا ہوا ہے۔ ہر قوت استعداد ڈھونڈ رہی اور ہر تاثیر اثر پذیری کے انتظار میں ہے۔ جونہی کسی وجود میں بڑھنے اور نشوونما پانے کی استعداد پیدا ہوتی ہے معاً تمام کارخانہ ہستی اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ سورج کی تمام کار فرمائیاں، فضا کے تمام تغیرات، زمین کی تمام قوتیں، عناصر کی تمام سرگرمیاں صرف اس اتنظار میں رہتی ہیں کہ کب چیونٹی کے انڈے سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور کب دہقان کی جھولی سے زمین پر ایک دانہ گرتا ہے۔ وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ ۭ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ(13:45) ” اور آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کو اللہ نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں اس بات میں (معرفت حقیقت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں” نظام ربوبیت کی وحدت : سب سے زیادہ عجیب مگر سب سے زیادہ نمایاں حقیقت نظام ربوبیت کی یکسانیت اور ہم آہنگی ہے۔ یعنی ہر وجود کی پرورش کا سروسامان جس طرح اور جس اسلوب پر کیا گیا ہے وہ ہر گرشے میں ایک ہی ہے اور ایک ہی اصل و قاعدہ رکھتا ہے۔ پتھر کا ایک ٹکڑا تمہیں گلاب کے شاداب اور عطر بیز پھول سے کتنا ہی مختلف دکھائی دے لیکن دونوں کی پرورش کے اصول و احوال پر نظر ڈالو گے تو صاف نظر آجائے گا کہ دونوں کو ایک ہی طریقے سے سامان پرورش ملا ہے اور دونوں ایک ہی طرح پالے پوسے جا رہے ہیں۔ انسان کا بچہ اور درخت کا پودا تمہاری نظروں میں کتنی بے جوڑ چیزیں ہیں؟ لیکن اگر ان کی نشوونما کے طریقوں کا کھوج لگاؤگے تو دیکھ لو گے کہ قانون پروش کی یکسانیت نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں منسلک کردیا ہے۔ پتھر کی چٹان ہو یا پھول کی کلی، انسان کا بچہ ہو یا چیونٹی کا انڈا، سب کے لیے پیدائش ہے اور قبل اس کے کہ پیدائش ظہور میں آئے سامان پرورش مہیا ہوجاتا ہے۔ پھر طفولیت کا دور ہے اور اس دور کی ضروریات ہیں۔ انسان کا بچہ بھی اپنی طفولیت رکھتا ہے درخت کے مولود نباتی کے لیے بھی طفولیت ہے اور تمہاری چشم ظاہر بین کے لیے کتنا ہی عجیب کیوں نہ ہو لیکن پتھر کی چٹان اور مٹی کا تودہ بھی اپنی اپنی طفولیت رکھتا ہے۔ پھر طفولیت رشد و بلوغ کی طرف بڑھتی ہے اور جوں جوں بڑھتی جاتی ہے اس کی روز افزوں حالت کے مطابق یکے بعد دیگرے سامان پرورش میں بھی تبدیلیاں ہوتی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ہر وجود اپنے سن کمال تک پہنچ جاتا ہے اور جب سن کمال تک پہنچ گیا تو از سر نو ضعف و انحطاط کا دور شروع ہوجاتا ہے پھر اس ضعف و انحطاط کا خاتمہ بھی سب کے لیے ایک ہی طرح ہے۔ کسی دائرے میں اسے مرجانا کہتے ہیں کسی میں مرجھا جانا اور کسی میں پامال ہوجانا۔ الفاظ متعدد ہوگئے مگر حقیقت میں تعدد نہیں ہوا۔ اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُـعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُـعْفًا وَّشَیْبَۃً ۭ یَخْلُقُ مَا یَشَاۗءُ ۚ وَھُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ(54:30)” یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ اس نے تمہیں اس طرح پیدا کیا کہ پہلے ناتوانی کی حالت ہوتی ہے پھر ناتوانی کے بعد قوت آتی ہے پھر قوت کے بعد دوبارہ ناتوانی اور بڑھاپا ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ وہ علم اور قدرت رکھنے والا ہے“ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰیہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًا ۭ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ (21:39) ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر زمین میں اس کے چشمے رواں ہوگئے پھر اسی پانی سے رنگ برنگ کی کھیتیاں لہلہا اٹھیں پھر ان کی نشوونما میں ترقی ہوئی اور پوری طرح پک کر تیار ہوگئیں پھر (ترقی کے بعد زوال طاری ہوا اور) تم دیکھتے ہوں کہ ان پر زردی چھا گئی پھر بالآخر خشک ہو کر چورا چورا ہوگئی۔ بلاشبہ دانشمندوں کے لیے اس صورت حال میں بڑی ہی عبرت ہے” جہاں تک غذا کا تعلق ہے حیوانات میں ایک قسم ان جانوروں کی ہے جن کے بچے دودھ سے پرورش پاتے ہیں اور ایک ان کی ہے جو عام غذاؤں سے پرورش پاتے ہیں۔ غور کرو نظام ربوبیت نے دونوں کی پرورش کے لیے کیسا عجیب سروسامان مہیا کردیا ہے؟ دودھ سے پرورش پانے والے حیوانات میں انسان بھی داخل ہے۔ سب سے پہلے انسان اپنی ہی ہستی کا مطالعہ کرے۔ جونہی وہ پیدا ہوتا ہے اس کی غذا اپنی ساری خاصیتوں، مناسبتوں، اور شرطوں کے ساتھ خود بخود مہیا ہوجاتی ہے اور ایسی جگہ مہیا ہوتی ہے جو حالت طفولیت میں اس کے لیے سب سے قریب تر اور سب سے موزوں جگہ ہے۔ ماں بچے کو جوش محبت میں سینے سے لگا لیتی ہے اور وہیں اس کی غذا کا سرچشمہ بھی موجود ہوتا ہے ! پھر دیکھو اس غذا کی نوعیت اور مزاج میں اس کی حالت کا درجہ بدرجہ کس قدر لحاظ رکھا گیا ہے اور کس طرح یکے بعد دیگرے اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے؟ ابتدا میں بچے کا معدہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ اسے بہت ہی ہلکے قوام کا دودھ ملنا چاہیے۔ چنانچہ نہ صرف انسان میں بلکہ تمام حیوانات میں ماں کا دودھ بہت ہی پتلے قوام کا ہوتا ہے لیکن جوں جوں بچے کی عمر بڑھتی جاتی ہے اور معدہ قوی ہوتا جاتا ہے دودھ کا قوام میں بھی بدلتا جاتا ہے اور مائعیت کے مقابلہ میں دہنیت بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بچے کا عہد رضاعت پورا ہوجاتا ہے اور اس کا معدہ عام غذاؤں کے ہضم کرنے کی استعداد پیدا کرلیتا ہے۔ جونہی اس کا وقت آتا ہے ماں کا دودھ خشک ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ گویا ربوبیت الٰہی کا اشارہ ہوتا ہے کہ اب اس کے لیے دودھ کی ضرورت نہیں رہی ہر طرح کی غذائیں استعمال کرسکتا ہے وحملہ و فصالہ ثلثوان شھرا (15:64) ” اور حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت (کم از کم) تیس مہینوں کی“ پھر ربوبیت الٰہی کی اس کارسازی پر غور کرو کہ کس طرح ماں کی فطرت میں بچے کی محبت ودیعت کردی گئی ہے اور کس طرح اس جذبے کو طبیعت بشری کے تمام جذبات میں سب سے زیادہ پر جوش اور سب سے زیادہ ناقابل تسخیر بنا دیا گیا ہے؟ دنیا کی کون سی قوت ہے جو اس جو چھ کا مقابلہ کرسکتی ہے جس کو ماں کی مامتا کہتے ہیں؟ جس بچے کی پیدائش اس کے لیے زندگی کی سب سے بڑی مصیبت تھی : حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا (15:46) ” اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ جنا“ اسی کی محبت اس کے اندر زندگی کا سب سے بڑا جذبہ مشتعل کردیتی ہے۔ جب تک بچہ سن بلوغ تک نہیں پہنچ جاتا وہ اپنے لیے نہیں بلکہ بچے کے لیے زندہ رہنا چاہتی ہے۔ زندگی کی کوئی خود فراموشی نہیں جو اس پر طاری نہ ہوتی ہو اور راحت و آسائش کی کوئی قربانی نہیں جس سے اسے گریز ہو۔ حب ذات جو فطرت انسانی کا سب سے زیادہ طاقتور جذبہ ہے اور جس کے انفعالات کے بغیر کوئی مخلوق زندہ نہیں رہ سکتی وہ بھی اس جذبہ خود فراموشی کے مقابلہ میں مضمحل ہو کر رہا جاتا ہے۔ یہ بات کہ ایک ماں نے بچے کے مجنونانہ عشق میں اپنی زندگی قربان کردی فطرت مادری کا اسا معمولی واقعہ ہے جو ہمیشہ پیش آتا رہتا ہے اور ہم اس میں کسی طرح کی غرابت محسوس نہیں کرتے۔ لیکن پھر دیکھو کارساز فطرت کی یہ کیسی کرشمہ سازی ہے کہ جوں جوں بچے کی عمر بڑھتی جاتی ہے محبت مادری کا یہ شعلہ خود بخود دھیما پڑتا جاتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب حیوانات میں تو بالکل ہی بجھ جاتا ہے اور انسان میں بھی اس کی گرم جوشیاں باقی نہیں رہتیں۔ یہ انقلاب کیوں ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ بچے کے پیدا ہوتے ہیں محبت کا ایک عظیم ترین جذبہ جنبش میں آجائے اور پھر ایک خاص وقت تک قائم رہ کر خود بخود غائب ہوجائے؟ اس لیے کہ یہ نظام ربوبیت کی کار فرمائی ہے۔ اور اس کا مقتضا یہی تھا۔ ربوبیت چاہتی ہے کہ بچے کی پرورش ہو۔ اس نے پرورش کا ذریعہ ماں کے جذبہ محبت میں رکھ دیا تھا۔ جب بچے کی عمر اس حد تک پہنچ گئی کہ ماں کی پرورش کی احتیاج باقی نہ رہی تو اس ذریعے کی بھی ضرورت باقی نہ رہی اب اس کا باقی رہنا ماں کے لیے بوجھ اور بچے کے لیے رکاوٹ ہوتا۔ بچے کی احتیاج کا سب سے نازک وقت اس کی نئی نئی طفولیت تھی اس لیے ماں کی محبت میں بھی سب سے زیادہ جوش اسی وقت تھا پھر جوں جوں بچہ بڑھتا گیا احتیاج کم ہوتی گئی۔ اسلیے محبت کی گرم جوشیاں بھی گھٹتی گئیں۔ فطرت نے محبت مادری کا دامن بچے کی احتیاج پرورش سے باندھ دیا تھا۔ جب احتیاج زیادہ تھی تو محبت کی سرگرمی بھی زیادہ تھی۔ جب احتیاج کم ہوگئی تو محبت بھی تغافل کرنے لگی۔ (انسان میں ماں کی محبت بلوغ کے بعد بھی بدستور باقی رہتی ہے اور بعض حالتوں میں اس کے انفعالات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ عہد طفولیت کی محبت میں اور بعد کی محبت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، لیکن یہ صورت حال غالباً انسان کی مدنی و عقلی زندگی کے نشوونما کا نتیجہ ہے نہ کہ فطرت حیوانی کا۔ ابتدائی انسان میں بھی یہ علاقہ فطرۃً اسی حد تک ہوگا کہ بچہ سن تمیز تک پہنچ جائے۔ لیکن بعد کونسل و خاندان کی تشکیل اور اجتماعی احساسات کی ترقی سے مادری رشتہ میں ایک دائمی رشتہ بن گیا) جن حیوانات کے بچے انڈوں سے پیدا ہوتے ہیں ان کی جسمانی ساخت اور طبیعت دودھ والے حیوانات سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اول دن ہی سے معمولی غذائیں کھا سکتے ہیں بشرطیکہ کھلانے کے لیے کوئی شفیق نگرانی موجود ہو۔ چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ بچہ انڈے سے نکلتے ہی غذا ڈھونڈنے لگتا ہے اور ماں چن چن کر اس کے سامنے ڈالتی اور منہ میں لے لے کر کھانے کی تلقین کرتی ہے یا ایسا کرتی ہے کہ خود کھا لیتی ہے مگر ہضم نہیں کرتی اپنے اندر نرم اور ہلکا بنا کر محفوظ رکھتی ہے اور جب بچہ غذا کے لیے منہ کھولتا ہے تو اس کے اندر اتار دیتی ہے۔ ربوبیت معنوی پھر اس سے بھی عجیب تر نظام ربوبیت کا معنوی پہلو ہے۔ خارج میں زندگی اور پرورش کا کتنا ہی سر و سامان کیا جاتا لیکن وہ کچھ مفید نہیں ہوسکتا تھا اگر ہر وجود کے اندر اس سے کام لینے کی ٹھیک ٹھیک استعداد نہ ہوتی اور اس کے ظاہری و باطنی قوی اس کا ساتھ نہ دیتے۔ پس یہ ربوبیت ہی کا فیضان ہے کہ ہم دیکھتے ہیں ہر مخلوق کی ظاہری و باطنی بناوٹ اس طرح کی واقع ہوئی ہے کہ اس کی ہر قوت، اس کے سامان پرورش کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے، اور اس کی ہر چیز نے اسے زندہ رہنے اور نشوونما پانے میں مدد دیتی ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی مخلوق اپنے جسم و قوی کی ایسی نوعیت رکھتی ہو جو اس کے حالات پرورش کے مقتضیات کے خلاف ہو۔ اس سلسلے میں جو حقائق مشاہدہ و تفکر سے نمایاں ہوتے ہیں ان میں دو باتیں سب سے زیادہ نمایاں ہیں اس لیے جابجا قرآن حکیم نے ان پر توجہ دلائی ہے۔ ایک کو وہ تقدیر سے تعبیر کرتا ہے دوسری کو ہدایت سے۔ تقدیر : تقدیر کے معنی اندازہ کردینے کے ہیں۔ یعنی کسی چیز کے لیے ایک خاص طرح کی حالت ٹھہرا دینے کے۔ خواہ یہ ٹھہراؤ کمیت میں ہو یا کیفیت میں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت نے ہر وجود کی جسمانی ساخت اور معنوی قوی کے لیے ایک خاص طرح کا اندازہ ٹھہرا دیا ہے جس سے وہ باہر نہیں جاسکتا اور یہ اندازہ ایسا ہے جو اس کی زندگی اور نشوونما کے تمام احوال ظروف سے ٹھیک ٹھیک مناسبت رکھتا ہے :وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا (2:25) ” اور اس نے تمام چیزیں پیدا کیں، پھر ہر چیز کے لیے (اس کی حالت اور ضرورت کے مطابق) ایک خاص اندازہ ٹھہرا دیا۔” یہ کیا چیز ہے کہ ہر گرد و پیش میں اور اس کی پیداوار میں ہمیشہ مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ ایک ایسا قانون خلقت ہے جو کبھی متغیر نہیں ہوسکتا؟ یہ کیوں ہے کہ ہر مخلوق اپنی ظاہری و باطنی بناوٹ میں ویسی ہی ہوتی ہے جیسا اس کا گرد و پیش ہے اور ہر گرد و پیش ویسا ہی ہوتا ہے جیسی اس کی مخلوق ہوتی ہے؟ یہ اس حکیم وقدیر کی ٹھہرائی ہوئی تقدیر ہے اور اس نے ہر چیز کی خلقت و زندگی کے لیے ایسا ہی اندازہ مقرر کردیا ہے۔ اس کا یہ قانون تقدیر صرف حیوانات و نباتا ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ کائنات ہستی کی ہر چیز کے لیے ہے۔ ستاروں کا یہ پورا نظام گردش بھی اسی تقدیر کی حد بندوں پر قائم ہے۔ (والشمس تجری لمستقر لھا ذلک تقدیر العزیز العلیم) (38:36) ” اور (دیکھو) سورج کے لیے جو قرار گاہ ٹھہرا دی گئی ہے وہ اسی پر چلتا ہے۔ اور یہ عزیز و علیم خدا کی اس کے لیے تقدیر ہے” مخلوقات اور اس کے گرد و پیش کی مطابقت کا یہی قانون ہے جس نے دونوں میں باہم دگر مناسبت پیدا کردی ہے اور ہر مخلوق اپنے چاروں طرف وہی پاتی ہے جس میں اس کے لیے پرورش اور نشوونما کا سامان ہوتا ہے پرند کا جسم اڑنے والا ہے، مچھلی کا تیرنے والا، چارپایوں کا چلنے والا اور حشرات کا رینگنے والا، اس لیے کہ ان میں سے ہر نوع کا گرد و پیش ویسے ہی جسم کے لیے موزوں ہے جیسا اسے ملا ہے اور اس لیے کہ ان میں سے ہر نوع کی جسمانی ساخت ویسا ہی گرد و پیش چاہتی ہے جیسا گرد و پیش اسے حاصل ہے۔ دریا میں پرند پیدا نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ گرد و پیش اس کے لیے مفید پرورش نہیں۔ خشکی میں مچھلیاں پیدا نہیں ہوسکتیں کیونکہ خشکی ان کے لیے موزوں نہیں۔ اگر فطرت کی اس تقدیر کے خلاف ایک خاص گرد و پیش کی مخلوق دوسرے قسم کے گرد و پیش میں چلی جاتی ہے تو یا تو وہاں زندہ نہیں رہتی یا رہتی ہے تو پھر بتدریج اس کی جسمانی ساخت اور طبعیت بھی ویسی ہی ہوجاتی ہے، جیسی اس گرد و پیش میں ہونی چاہئے۔ پھر ان میں سے ہر نوع کے لیے مقامی مؤثرات کے مختلف گرد و پیش کا یہی حال ہے۔ سرد آب و ہوا کی پیداوار سرد آب و ہوا ہی کے لیے ہے۔ گرم کی گرم کے لیے۔ قطب شمالی کے قرب و جوار کا ریچھ خط استوا کے قرب میں نظر نہیں آسکتا اور منطقہ حارہ کے جانور منطقہ باردہ میں معدوم ہیں۔ ہدایت : ہدایت کے معنی راہ دکھانے، راہ پر لگادینے اور رہنمائی کرنے کے ہیں اور اس کے مختلف مراتب اور اقسام ہیں۔ تفصیل آگے آئے گی۔ یہاں صرف اس مرتبہ ہدایت کا ذکر کرنا ہے جو تمام مخلوقات پر ان کی پرورش کی راہیں کھولتا، انہیں زندگی کی راہ پر لگاتا اور ضروریات زندگی کی طلب و حصول میں رہنمائی کرتا ہے۔ فطرت کی یہ ہدایت ربوبیت کی ہدایت ہے اور اگر ہدایت ربوبیت کی دستگیری نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ کوئی مخلوق بھی دنیا کے سامان حیات و پرورش سے فائدہ اٹھا سکتی اور زندگی کی سرگرمیاں ظہور میں آسکتیں۔ لیکن ربوبیت الٰہی کی یہ ہدایت کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے یہ وجدان کا فطری الہام اور حواس و ادراک کی قدرتی استعداد ہے۔ وہ کہتا ہے یہ فطرت کی وہ رہنمائی ہے جو ہر مخلوق کے اندر پہلے وجدان کا الہام بن کر نمودار ہوتی ہے پھر حواس و ادراک کا چراغ روشن کردیتی ہے۔ یہ ہدایت کے مختلف مراتب میں سے وجدان اور ادراک کی ہدایت کے مراتب ہیں۔ ہدایت و وجدان : وجدان کی ہدایت یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں ہر مخلوق کی طبیعت میں کوئی ایسا اندرونی الہام موجود ہے جو اسے زندگی اور پرورش کی راہوں پر خود بخود لگا دیتا ہے اور وہ باہر کی رہنمائی و تعلیم کی محتاج نہیں ہوتی۔ انسان کا بچہ ہو یا حیوان کا، جونہی شکم مادر سے باہر آتا ہے خود بخود معلوم کرلیتا ہے کہ اس کی غذا ماں کے سینے میں ہے اور جب پستان منہ میں لیتا ہے تو جانتا ہے کہ اسے زور زور سے چوسنا چاہیے۔ بلی کے بچوں کو ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ ابھی ابھی پیدا ہوئے ہیں، ان کی آنکھیں بھی نہیں کھلی ہیں، لیکن ماں جوش محبت میں انہیں چاٹ رہی ہے، وہ اس کے سینے پر منہ مار رہے ہیں۔ یہ بچہ جس نے عالم ہستی میں ابھی ابھی قدم رکھا ہے جسے خارج کے موثرات نے چھوا تک نہیں کس طرح معلوم کرلیتا ہے کہ اسے پستان منہ میں لے لینا چاہیے اور اس کی غذا کا سرچشمہ یہیں ہے؟ وہ کون سا فرشتہ ہے جو اس وقت اس کے کان میں پھونک دیتا ہے کہ اسطرح اپنی غذا حاصل کرلے؟ یقیناً وہ وجدانی ہدایت کا فرشتہ ہے اور یہی وجدانی ہدایت ہے جو قبل اس کے کہ حواس و ادراک کی روشنی نمودار ہو ہر مخلوق کو اس کی پرورش و زندگی کی راہوں پر لگا دیتی ہے۔ تمہارے گھر میں پلی ہوئی بلی ضرور ہوگی۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ بلی اپنی عمر میں پہلی مرتبہ حاملہ ہوئی ہے اس حالت کا اسے کوئی پچھلا تجربہ حاصل نہیں۔ تاہم اس کے اندر کوئی چیز ہے جو اسے بتا دیتی ہے کہ تیاری و حفاظت کی سرگرمیاں شروع کردینی چاہییں۔ جونہی وضع حمل کا وقت قریب آتا ہے، خود بخود اس کی توجہ ہر چیز کی طرف سے ہٹ جاتی ہے اور کسی محفوظ گوشے کی جستجو شروع کردیتی ہے۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ مضطرب الحال بلی مکان کا ایک ایک کونا دیکھتی پھرتی ہے۔ پھر وہ خود بخود ایک سب سے محفوظ اور علیحدہ گوشہ چھانٹ لیتی ہے اور وہاں بچہ دیتی ہے۔ پھر یکایک اس کے اندر بچے کی حفاظت کی طرف سے ایک مجہول خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ یکے بعد دیگرے اپنی جگہ کی اسے ضرورت ہوگی؟ یہ کون سا الہام ہے جو اسے خبردار کردیتا ہے کہ بلا بچوں کا دشمن اور ان کی بو سونگھتا پھرتا ہے اس لیے جگہ بدلتے رہنا چاہیئے؟ بلاشبہ یہ ربوبیت الٰہی کی وجدانی ہدایت ہے۔ جس کا الہام ہر مخلوق کے اندر اپنی نمود رکھتا ہے اور جو ان پر زندگی اور پرورش کی تمام راہیں کھول دیتا ہے۔ ہدایت حواس : ہدایت کا دوسرا مرتبہ حواس اور مدرکات ذہنی کی ہدایت ہے اور وہ اس درجہ واضح و معلوم ہے کہ تشریح کی ضرورت نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ حیوانات اس جوہر دماغ سے محروم ہیں جسے فکر و عقل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم فطرت نے انہیں احساس و ادراک کی وہ تمام قوتیں دے دی ہیں جن کی زندگی و معیشت کے لیے ضرورت تھی اور ان کی مدد سے وہ اپنے رہنے سہنے، کھانے پینے، توالد و تناسل اور حفاظت و نگرانی کے تمام وظائف حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں۔ پھر حواس و ادراک کی یہ ہدایت ہر حیوان کے لیے ایک ہی طرح کی نہیں ہے بلکہ ہر وجود کو اتنی ہی اور ویسی ہی استعداد دی گئی ہے جتنی اور جیسی استعداد اس کے احوال و ظروف کے لیے ضروری تھی۔ چیونٹی کی قوت شامہ نہایت دور رس ہوتی ہے اس لیے کہ اسی قوت کے ذریعے وہ اپنی غذا حاصل کرسکتی ہے۔ چیل اور عقاب کی نگاہ تیز ہوتی ہے کیونکہ اگر ان کی نگاہ تیز نہ ہو تو بلند میں اڑتے ہوئے اپنا شکار دیکھ نہ سکیں۔ یہ سوال بالکل غیر ضروری ہے کہ حیوانات کے حواس و ادراک کی یہ حالت اول دن سے تھی یا احوال و ظروف کی ضروریات اور قانون مطابقت کے مؤثرات سے بتدریج ظہور میں آئی۔ اس لیے کہ خواہ کوئی صورت ہو بہرحال فطرت کی بخشی ہوئی استعداد ہے اور نشو وارتقا کا قانون بھی فطرت ہی کا ٹھہرایا ہوا قانون ہے۔ چنانچہ یہی مرتبہ ہدایت ہے جس کو قرآن نے ربوبیت الٰہی کی وحی سے تعبیر کیا ہے۔ عربی میں وحی کے معنی مخفی ایما اور اشارے کے ہیں۔ یہ گویا فطرت کی وہ اندرونی سرگوشی ہے جو مخلوق پر اس کی راہ عمل کھول دیتی ہے۔ (واوحی ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتا ومن الشجر ومما یعرشون) (68:16) ” اور (دیکھو) تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان ٹٹیوں میں جو اس غرض سے بلند کی جاتی ہیں اپنے لیے چھتے بنائے” اور یہی وہ ربوبیت الٰہی کی ہدایت ہے جس کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی اشارہ کیا گیا ہے۔ فرعون نے جب پوچھا (من ربکما یموسی) تمہارا پروردگار کون ہے؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی) (50:20) ” ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی بناوٹ دی، پھر اس پر (زندگی و معیشت کی) راہ کھول دی۔” اور پھر یہی وہ ہدایت ہے جسے دوسری جگہ ” راہ عمل آسان کردینے”سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ (من ای شیء خلقہ، من نطفۃ، خلقہ فقدرہ، ثم السبیل یسرہ) (20-18:80) ” اس نے انسان کو کس چیز سے پیدا کیا؟ نطفہ سے پیدا کیا۔ پھر اس (کی تمام ظاہری وباطنی قوتوں) کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا، پھر اس پر (زندگی و عمل کی) راہ آسان کردی۔ یہی (ثم السبیل یسرہ) یعنی راہ عمل آسان کردینا، وجدان و ادراک کی ہدایت ہے جو تقدیر کے بعد ہے۔ کیونکہ اگر فطرت کی رہنمائی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ہم اپنی ضروریات زندگی حاصل کرسکتے۔ آگے چل کر تمہیں معلوم ہوگا کہ قرآن نے تکوین وجود کے جو چار مرتبے بیان کیے ہیں ان میں سے تیسرا اور چوتھا مرتبہ یہی تقدیر اور ہدایت کا مرتبہ ہے۔ یعنی تخلیق، تسویہ، تقدیر، ہدایت۔ (الذی خلق فسوی، والذی قدر فہدی) (3-2:87) ” وہ پروردگار عالم جس نے پیدا کیا پھر اسے ٹھیک ٹھیک درست کردیا اور جس نے ہر وجود کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا پھر اس پر راہ (عمل) کھول دی” براہین قرآنیہ کا مبدء استدلال چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے خدا کی ہستی اور اس کی توحید و صفات پر جا بجا نظام ربوبیت سے استدلال کیا ہے اور یہ استدلال اس کے مہمات دلائل میں سے ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ اس کی تشریح کی جائے مناسب ہوگا کہ قرآن کے طریق استدلال کی بعض مبادیات واضح کردی جائیں۔ کیونکہ مختلف اسباب سے جن کی تشریح کا یہ موقع نہیں مطالب قرآنی کا یہ گوشہ سب سے زیادہ مہجور ہوگیا ہے اور ضرورت ہے کہ از سر نو حقیقت گم گشتہ کا سراغ لگایا جائے۔ دعوت تعقل : قرآن کے طریق استدلال کا اولین مبدء تعقل و تفکر کی دعوت ہے۔ یعنی وہ جابجا اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کے لیے حقیقت شناسی کی راہ یہی ہے کہ خدا کی دی ہوئی عقل و بصیرت سے کام لے اور اپنے وجود کے اندر اور اپنے وجود کے باہر جو کچھ بھی محسوس کرسکتا ہے اس میں تدبر و تفکر کرے۔ چنانچہ قرآن کی کوئی سورت اور سورت کا کوئی حصہ نہیں جو تفکر و تعقل کی دعوت سے خالی ہو۔وفی الارض آیات للموقنین، وفی انفسکم افلا تبصرون (51: 20-21) اور یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں (معرفت حق کی) نشانیاں ہیں اور خود تمہارے وجود میں بھی پھر کیا تم دیکھتے نہیں؟ وہ کہتا ہے انسان کو عقل و بصیرت دی گئی ہے اس لیے وہ اس قوت کے ٹھیک ٹھیک استعمال کرنے نہ کرنے کے لیے جواب دہ ہے۔ “ان السمع والبصر و الفؤاس کل اولئک کان عنہ مسئولا : یقیناً (انسان کا) سننا، دیکھنا، سوچنا، سب اپنی اپنی جگہ جواب دہی رکھتے ہیں” (17:36) وہ کہتا ہے زمین کی ہر چیز میں، آسمان کے ہر منظر میں اور زندگی کے ہر تغیر میں فکر انسانی کے لیے معرفت حقیقت کی نشانیاں ہیں بشرطیکہ وہ غفلت و اعراض میں مبتلا نہ ہوجائے ” وکاین من ایۃ فی السموات والارض یمرون علیہا وھم عنہا معرضون : اور آسمان و زمین میں (معرفت حق کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں لیکن (افسوس انسان کی غفلت پر !) لوگ ان پر سے گزر جاتے ہیں اور نظر اٹھا کر دیکھتے تک نہیں”(105:12) تخلیق بالحق : اچھا ! اگر انسان عقل و بصیرت سے کام لے اور کائنات خلقت میں تفکر کرے تو اس پر حقیقت شناسی کا کون سا دروزہ کھلے گا؟ وہ کہتا ہے، سب سے پہلی حقیقت جو اس کے سامنے نمودار ہوگی وہ تخلیق بالحق کا عالمگیر اور بنیادی قانون ہے۔ یعنی وہ دیکھے گا کہ کائنات خلقت اور اس کی ہر چیز کی بناوٹ کچھ اس طرح کی واقع ہوئی ہے کہ ہر چیز ضبط وترتیب کے ساتھ ایک خاص نظام و قانون میں منسلک ہے اور کوئی شے نہیں جو حکمت و مصلحت سے خالی ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب کچھ تخلیق بالباطل ہو۔ یعنی بغیر کسی معین اور ٹھہرائے ہوئے مقصد و نظم کے وجود میں آگیا ہو۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس نظم، اس یکسانیت، اس وقت کے ساتھ اس کی ہر بات کسی نہ کسی حکمت ومصلحت کے ساتھ بندھی ہوئی ہوتی “ خلق اللہ السموات والارض بالحق ان فی ذلک لایۃ للمومنین  : اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور بلاشبہ اس بات میں ارباب ایمان کے لیے (معرفت حق کی) ایک بڑی ہی نشانی ہے” (44:29) آل عمران کی مشہور آیت میں ان ارباب دانش کی جو آسمان و زمین کی خلقت میں تفکر کرتے ہیں صدائے حال یہ بتائی ہے “ ربنا ماخلقت ھذا باطلا : اے ہمارے پروردگار ! یہ سب کچھ تو نے اس لیے نہیں پیدا کیا ہے کہ محض ایک بیکار و عبث سا کام ہو”(191:3) دوسری جگہ ” تخلیق بالباطل” کو تلعب سے تعبیر کیا ہے۔” تلعب ” یعنی کوئی کام کھیل کود کی طرح بغیر کسی معقول غرض و مدعا کے کرنا۔ “وماخلقناوما السموات والارض وما بینھما لعبین۔ ماخلقناھما الا بالحق ولکن اکثرہم لا یعلمون : اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے محض کھیل اور تماشہ کرتے ہوئے نہیں پیدا کیا ہے۔ ہم نے انہیں نہیں پیدا کیا مگر حکمت و مصلحت کے ساتھ۔ مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو حقیقت کا علم نہیں رکھتے“ (44: 38-39) پھرجا بجا اس ” تخلیق بالحق“ کی تشریح کی ہے۔ مثلا ایک مقام پر ” تخلیق بالحق“ کے اس پہلو پر توجہ دلائی ہے کہ کائنات کی ہر چیز افادہ فیضان کے لیے ہے اور فطرت چاہتی ہے کہ جو کچھ بنائے اس طرح بنائے کہ اس میں وجود اور زندگی کے لیے نفع اور راحت ہو”  خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَـقِّ ۚ یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ۭ اَلَا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ  : اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اس نے رات اور دن کے اختلاف اور ظہور کا ایسا انتظام کردیا کہ رات دن پر لپٹی جاتی ہے اور دن رات پر لپٹا آتا ہے۔ اور سورج اور چاند دونوں کو اس کی قدرت نے مسخر کررکھا ہے۔ سب (اپنی اپنی جگہ) اپنے مقررہ وقت تک کے لیے گردش کر رہے ہیں” (5:39) ایک دوسرے موقع پر خصوصیت کے ساتھ اجرام سماویہ کے افادہ و فیضان پر توجہ دلائی ہے اور اسے ” تخلیق بالحق“ سے تعبیر کیا ہے “ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِیْنَ وَالْحِسَابَ ۭ مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ : وہ (کار فرمائے قدرت) جس نے سورج کر درخشندہ اور چاند کو روشن بنایا اور پھر چاند کی گردش کے لیے منزلیں ٹھہرا دیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور اوقات کا حساب معلوم کرلو۔ بلاشبہ اللہ نے یہ سب کچھ پیدا نہیں کیا ہے مگر حکمت و مصلحت کے ساتھ۔ وہ ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں (علم و معرفت کی) نشانیاں الگ الگ کر کے واضح کردیتا ہے” (5:10) ایک اور موقع پر فطرت کے جمال وزیبائی کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسے  “تخلیق بالحق “سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی فطرت کائنات میں تحسین و آرائش کا قانون کام کر رہا ہے جو چاہتا ہے، جو کچھ بنے، ایسا بنے کہ اس میں حسن و جمال اور خوبی و کمال ہو ” خلق السموت والارض بالحق وصورکم فاحسن صورکم: اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا اور تمہاری صورتیں بنائی تو نہایت حسن و خوبی کے ساتھ بنائیں” (3:64) اسی طرح وہ قانون مجازات پر (یعنی جزا و سزا کے قانون پر) بھی اسی “تخلیق بالحق ” سے استشہاد کرتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں ہر چیز کوئی نہ کوئی خاصہ اور نتیجہ رکھتی ہے اور یہ تمام خواص اور نتائج لازمی اور اٹل ہیں۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ انسان کے اعمال میں بھی اچھے اور برے خواص اور نتائج نہ ہوں اور وہ قطعی اور اٹل نہ ہوں؟ جو قانون فطرت دنیا کی ہر چیز میں اچھے برے کا امتیاز رکھتا ہے کیا انسان کے اعمال میں اس امتیاز سے غافل ہوجائے گا؟ “ اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ ۭ سَاۗءَ مَا یَحْکُمُوْنَ وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ : جو لوگ برائیاں کرتے ہیں، کیا وہ سمجھتے ہیں ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور جن کے اعمال اچھے ہیں؟ یعنی دونوں برابر ہوجائیں، زندگی میں بھی اور موت میں بھی؟ (اگر ان لوگوں کے فہم و دانش کا فیصلہ یہی ہے تو) کیا ہی برا ان کا فیصلہ ہے ! اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہر جان اپنی کمائی کے مطابق بدلہ پا لے اور ایسا نہیں ہوگا کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو“ معاد یعنی مرنے کے بعد کی زندگی پر بھی اس سے جا بجا استشہاد کیا ہے۔ کائنات میں ہر چیز کوئی نہ کوئی مقصد اور منتہی رکھتی ہے۔ پس ضروری ہے کہ انسانی وجود کے لیے بھی کوئی نہ کوئی مقصد اور منتہی ہو۔ یہی منتہیٰ آخرت کی زندگی ہے۔ کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کائنات ارضی کی یہ بہترین مخلوق صرف اسی لیے پیدا کی گئی ہو کہ پیدا ہو اور چند دن جی کر فنا ہوجائے “ اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ ۣ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ۭ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاۗیِٔ رَبِّہِمْ لَکٰفِرُوْنَ : کیا ان لوگوں نے کبھی اپنے دل میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے محض بیکار و عبث نہیں بنایا ہے۔ ضروری ہے کہ حکمت و مصلحت کے ساتھ بنایا ہو۔ اور اس کے لیے ایک مقررہ و وقت ٹھہرا دیا ہو۔ اصل یہ ہے کہ انسانوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پروردگار کی ملاقات سے یک قلم منکر ہیں” (8:30)

 مبدء استدلال :

 غرض کہ قرآن کا مبدء استدلال یہ ہے کہ :

 (١) اس کے نزول کے وقت دین داری اور خدا پرستی کے جس قدر عام تصورات موجود تھے وہ نہ صرف عقل کی آمیزش سے خالی تھے بلکہ ان کی تمام تر بنیاد غیر عقلی عقائد پر آ کر ٹھہر گئی تھی۔ لیکن اس نے خدا پرستی کے لیے عقلی تصور پیدا کیا۔

 (٢) اس کی دعوت کی تمام تر بنیاد تعقل و تفکر پر ہے، اور وہ خصوصیت کے ساتھ کائنات و خلقت کے مطالعہ و تفکر کی دعوت دیتا ہے۔

 (٣) وہ کہتا ہے کہ کائنات خلقت کے مطالعہ و تفکر سے انسان پر “تخلیق بالخ ” کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ یعنی وہ دیکھتا ہے کہ اس کارخانہ ہستی کی کوئی چیز نہیں جو کسی ٹھہرائے ہوئے مقصد اور مصلحت سے خالی ہو اور کسی بالا تر قانون خلقت کے ماتحت ظہور میں نہ آئی ہو۔ یہاں جو چیز بھی اپنا وجود رکھتی ہے ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ حکمتوں اور مصلحتوں کے عالمگیر سلسلہ میں بندھی ہوئی ہے۔

 (٤) وہ کہتا ہے کہ جب انسان مقاصد و مصالح پر غور کرے گا تو عرفان حقیقت کی راہ خود بخود اس پر کھل جائے گی اور جہل و کوری کی گمراہیوں سے نجات پا جائے گا۔ برہان ربوبیت چنانچہ اس سلسلے میں اس نے مظاہر کائنات کے جن مقاصد و مصالح سے استدلال کیا ہے۔

 ان میں سب سے زیادہ عام استدلال ربوبیت کا استدلال ہے اور اسی لیے ہم اسے برہان ربوبیت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کائنات کے تمام اعمال و مظاہر کا اس طرح واقع ہونا کہ ہر چیز پرورش کرنے والی اور ہر تاثیر زندگی بخشنے والی ہے اور پھر ایک ایسے نظام ربوبیت کا موجود ہونا جو ہر حالت کی رعایت کرتا اور ہر طرح کی مناسبت ملحوظ رکھتا ہے۔ ہر انسان کو وجدانی طور پر یقین دلا دیتا ہے کہ ایک پروردگار عالم ہستی موجود ہے اور وہ ان تمام صفتوں سے متصف ہے جن کے بغیر نظام ربوبیت کا یہ کامل اور بے عیب کارخانہ وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ وہ کہتا ہے : کیا انسان کا وجدان یہ باور کرسکتا ہے کہ نظام ربوبیت کا یہ پورا کارخانہ خود بخود وجود میں آجائے اور کوئی زندگی، کوئی ارادہ کوئی حکمت اس کے اندر کار فرما نہ ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اس کارخانہ ہستی کی ہر چیز میں ایک بولتی ہوئی پروردگاری اور ایک ابھری ہوئی کارسازی موجود ہو مگر کوئی پروردگار، کوئی کارساز موجود نہ ہو؟ پھر کیا یہ محض ایک اندھی بہری فطرت، بے جان مادہ، اور بے حس الیکٹرون (Electrons) کے خواص ہیں جن سے پروردگار و کارسازی کا یہ پورا کارخانہ ظہور میں آگیا ہے؟ اور عقل اور ارادہ رکھنے والی کوئی ہستی موجود نہیں؟ پروردگاری موجود ہے، مگر کوئی پروردگار موجود نہیں ! کارسازی موجود ہے، مگر کوئی کارساز موجود نہیں ! رحمت موجود ہے، مگر کوئی رحیم موجود نہیں ! حکمت موجود ہے مگر کوئی حکیم موجود نہیں ! سب کچھ موجود ہے، مگر کوئی موجود نہیں ! عمل بغیر کسی عامل کے، نظم بغیر کسی ناظم کے، قیام بغیر کسی قیوم کے، عمارت بغیر کسی معمار کے، نقش بغیر کسی نقاش کے، سب کچھ بغیر کسی موجود کے۔ نہیں، انسان کی فطرت کبھی یہ باور نہیں کرسکتی۔ اس کا وجدان پکارتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں اس کی فطرت اپنی بناوٹ میں ایک ایسا سانچا لے کر آئی ہے جس میں یقین و ایمان ہی ڈھل سکتا ہے۔ شک اور انکار کی اس میں سمائی نہیں ! قرآن کہتا ہے، یہ بات انسان کے وجدانی اذعان کے خلاف ہے کہ وہ نظام ربوبیت کا مطالعہ کرے اور ایک “رب العالمین” ہستی کا یقین اس کے اندر جاگ نہ اٹھے۔ وہ کہتا ہے : ایک انسان غفلت کی سرشاری اور سرکشی کے ہیجان میں ہر چیز سے انکار کرسکتا ہے لیکن اپنی فطرت سے انکار نہیں کرسکتا۔ وہ ہر چیز کے خلاف جنگ کرسکتا ہے لیکن اپنی فطرت کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔ وہ جب اپنے چاروں طرف زندگی اور پروردگاری کا ایک عالمگیر کارخانہ پھیلا ہوا دیکھتا ہے تو اس کی فطرت کی صدا کیا ہوتی ہے؟ اس کے دل کے ایک ایک ریشے میں کون سا اعتقاد سمایا ہوتا ہے؟ کیا یہی نہیں ہوتا کہ ایک پروردگار ہستی موجود ہے اور یہ سب کچھ اسی کی کرشمہ سازیاں ہیں؟ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کا اسلوب بیان یہ نہیں ہے کہ نظری مقدمات اور ذہنی مسلمات کی شکلیں ترتیب دے اور پھر اس پر بحث و تقریر کر کے مخاطب کو رد و تسلیم پر مجبور کرے اس کا تمام تر خطاب انسان کے فطری وجدان و ذوق سے ہوتا ہے۔

 وہ کہتا ہے : خدا پرستی کا جذبہ انسانی فطرت کا خمیر ہے۔ اگر ایک انسان اس سے انکار کرنے لگتا ہے تو یہ اس کی غفلت ہے اور ضروری ہے کہ اسے غفلت سے چونکا دینے کے لیے دلیلیں پیش کی جائیں۔ لیکن یہ دلیل ایسی نہیں ہونی چاہیے جو محض ذہن و دماغ میں کاوش پیدا کردے بلکہ ایسی ہونی چاہیے جو اس کے نہاں خانہ دل پر دستک دے اور اس کا فطری وجدان بیدار کردے۔ اگر اس کا وجدان بیدار ہوگیا تو پھر اثبات مدعا کے لیے بحث و تقریر کی ضرورت نہ ہوگی۔ خود اس کا وجدان ہی اسے مدعا تک پہنچا دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن خود انسان کی فطرت ہی سے انسان پر حجت لاتا ہے ”  بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ولو القی معاذیرہ : بلکہ انسان کا وجود خود اس کے خلاف (یعنی اس کی کج اندیشیوں کے خلاف) حجت ہے اگرچہ وہ (اپنے وجدان کے خلاف) کتنے ہی عذر بہانے تراش لیا کرے” (75 : 10-14) اور اسی لیے وہ جابجا فطرت انسانی کو مخاطب کرتا اور اس کی گہرائیوں سے جواب طلب کرتا ہے “ قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْـحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۔ فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ  فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ : : وہ کون ہے جو آسمان (میں پھیلے ہوئے کارخانہ حیات) سے اور زمین (کی وسعت میں پیدا ہونے والے سامان رزق) سے تمہیں روزی بخش رہا ہے؟ وہ کون ہے جس کے قبضہ میں تمہارا سننا اور دیکھنا ہے؟ وہ کون ہے جو بے جان سے جاندار کو اور جاندار سے بے جان کو نکالتا ہے؟ اور پھر وہ کونسی ہستی ہے جو یہ تمام کارخانہ خلقت اس نظم و نگرانی کے ساتھ چلا رہی ہے؟ (اے پیغمبر ! یقینا وہ (بے اختیار) بول اٹھیں گے اللہ ہے (اس کے سوا کون ہوسکتا ہے) اچھا تم ان سے کہو جب تمہیں اس بات سے انکار نہیں تو پھر یہ کیوں ہے کہ غفلت و سرکشی سے نہیں بچتے ! ہاں بیشک یہ اللہ ہی ہے جو تمہارا پروردگار برحق ہے اور جب یہ حق ہے تو حق کے ظہور کے بعد اسے نہ ماننا گمراہی نہیں تو اور کیا ہے؟ (افسوس تمہاری سمجھ پر) تم (حقیقت سے منہ پھیر کر) کہاں جا رہے ہو؟“ (یونس :31-32) ایک دوسرے موقع پر فرمایا : “السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَأَنْزَلَ لَکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِہِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَہْجَۃٍ مَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَہَا أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ یَعْدِلُونَ (٦)أَمَّنْ جَعَلَ الأرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلالَہَا أَنْہَارًا وَجَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَجَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ بَلْ أَکْثَرُہُمْ لا یَعْلَمُونَ (٦١)أَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَاءَ الأرْضِ أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ قَلِیلا مَا تَذَکَّرُونَ (٦٢)أَمَّنْ یَہْدِیکُمْ فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ تَعَالَی اللَّہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ (٦٣)أَمَّنْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ وَمَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ أَإِلَہٌ مَعَ اللَّہِ قُلْ ہَاتُوا بُرْہَانَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ (٦٤): وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا پھر اس آب پاشی سے خوشنما باغ اگا دیے حالانکہ تمہارے بس کی یہ بات نہ تھی کہ ان باغوں کے درخت اگاتے؟ کیا (ان کاموں کا کرنے والا) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے؟ (افسوس ان لوگوں کی سمجھ پر ! حقیقت حال کتنی ہی ظاہر ہو) مگر یہ وہ لوگ ہیں جن کا شیوہ ہی کج روی ہے ! اچھا ! بتلاؤ وہ کون ہے جس نے زمین کو (زندگی و معیشت کا) ٹھکانا بنا دیا، اس کے درمیان نہریں جاری کردیں، اس (کی درستگی) کے لیے پہاڑ بلند کردیے، دو دریاؤں میں (یعنی دریا اور سمندر میں ایسی) دیوار حائل کردی (کہ دونوں اپنی اپنی جگہ محدود رہتے ہیں) کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی ہے؟ (افسوس ! کتنی واضح بات ہے) مگر ان لوگوں میں اکثر ایسے ہیں جو نہیں جانتے ! اچھا بتلاؤ: وہ کون ہے جو بے قرار دلوں کی پکار سنتا ہے جب وہ (ہر طرف سے مایوس ہو کر) اسے پکارنے لگتے ہیں اور ان کا درد دکھ ٹال دیتا ہے؟ اور وہ کہ اس نے تمہیں زمین کا جانشین بنایا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی ہے؟ (افسوس تمہاری غفلت پر !) بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تم نصیحت پذیر ہو ! اچھا ! بتلاؤ: وہ کون ہے جو صحراؤں اور سمندروں کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے؟ وہ کون ہے جو بارانِ رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلا دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی معبود ہے؟ ( ہرگز نہیں !) اللہ کی ذات اس ساجھے سے پاک و منزہ ہے جو یہ لوگ اس کی معبودیت میں ٹھہرا رہے ہیں ! اچھا بتلاؤ وہ کون ہے جو مخلوقات کی پیدائش شروع کرتا ہے اور پھر اسے دہراتا ہے، اور وہ کون ہے جو آسمان و زمین کے کارخانہ ہائے رزق سے تمہیں روزی دے رہا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے؟ (اے پیغمبر !) ان سے کہو اگر تم (اپنے رویہ میں) سچے ہو (اور انسانی عقل و بصیرت کی اس عالمگیر شہادت کے خلاف تمہارے پاس کوئی دلیل ہے) تو اپنی دلیل پیش کرو !“ (نمل : 60-64) ان سوالات میں سے ہر سوال اپنی جگہ ایک مستقل دلیل ہے کیونکہ ان میں سے ہر سوال کا صرف ایک ہی جواب ہوسکتا ہے اور وہ فطرت انسانی کا عالمگیر اور مسلمہ اذعان ہے۔ ہمارے متکلموں کی نظر اس پہلو پر نہ تھی اس لیے قرآن کا اسلوب استدلال ان پر واضح نہ ہوسکا اور دور دراز گوشوں میں بھٹک گئے۔ بہرحال قرآن کے وہ بے شمار مقامات جن میں کائنات ہستی کے سروسامان پرورش اور نظام ربوبیت کی کارسازیوں کا ذکر کیا گیا ہے دراصل اسی استدلال پر مبنی ہیں : “ فَلْیَنْظُرِ الإنْسَانُ إِلَی طَعَامِہِ (٢٤)أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا (٢٥) ثُمَّ شَقَقْنَا الأرْضَ شَقًّا (٢٦) فَأَنْبَتْنَا فِیہَا حَبًّا (٢٧) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (٢٨) وَزَیْتُونًا وَنَخْلا (٢٩) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (٣٠) وَفَاکِہَۃً وَأَبًّا (٣١) مَتَاعًا لَکُمْ وَلأنْعَامِکُمْ (٣٢): انسان اپنی غذا پر نظر ڈالے (جو شب و روز اس کے استعمال میں آتی رہتی ہے) ہم پہلے زمین پر پانی برساتے ہیں، پھر اس کی سطح شق کردیتے ہیں، پھر اس کی روئیدگی سے طرح طرح کی چیزیں پیدا کردیتے ہیں۔ اناج کے دانے، انگور کی بیلیں، کھجور کے خوشے، سبزی، ترکاری، زیتون کا تیل، درختوں کے جھنڈ، قسم قسم کے میوے، طرح طرح کا چارہ (اور یہ سب کچھ کس کے لیے) تمہارے فائدے کے لیے اور تمہارے جانوروں کے لیے”(عبس :24-32) ان آیات میں فَلْیَنْظُرِ الإنْسَانُ کے زور پر غور کرو۔ انسان کتنا ہی غافل ہوجائے اور کتنا ہی اعراض کرے لیکن دلائل حقیقت کی وسعت اور ہمہ گیری کا یہ حال ہے کہ کسی حال میں بھی اس سے اوجھل نہیں ہوسکتیں۔ ایک انسان تمام دنیا کی طرف سے آنکھیں بند کرلے لیکن بہرحال اپنی شب و روز کی غذا کی طرف سے تو آنکھیں بند نہیں کرسکتا جو غذا اس کے سامنے دھری ہے اسی پر نظر ڈالے۔ یہ کیا ہے؟ گیہوں کا دانہ ہے۔ اچھا ! گیہوں کا ایک دانہ اپنی ہتھیلی پر رکھ لو اور اس کی پیدائش سے لے کر اس کی پختگی و تکمیل تک کے تمام احوال ظروف پر غور کرو۔ کیا یہ حقیر سا ایک دانہ بھی وجود میں آسکتا تھا اگر تمام کارخانہ ہستی ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ اس کی بناوٹ میں سرگرم نہ رہتا؟ اور اگر دنیا میں ایک ایسا نظام ربوبیت موجود ہے تو کیا یہ ہوسکتا ہے کیہ ربوبیت رکھنے والی ہستی موجود نہ ہو؟ 

سورۃ نحل میں یہی استدلال ایک دوسرے پیرایہ میں نمودار ہوا ہے : 

”  وَإِنَّ لَکُمْ فِی الأنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِہِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِینَ (٦٦) وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالأعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْہُ سَکَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (٦٧) وَأَوْحَی رَبُّکَ إِلَی النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِی مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُونَ (٦٨) ثُمَّ کُلِی مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُکِی سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلا یَخْرُجُ مِنْ بُطُونِہَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ فِیہِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (٦٩): اور (دیکھو یہ) چارپائے (جنہیں تم پالتے ہو) ان میں تمہارے لیے غور کرنے اور نتیجہ نکالنے کی کتنی بڑی عبرت ہے؟ ان کے جسم سے ہم خون و کثافت کے درمیان دودھ پیدا کردیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے بے غل و غش مشروب ہوتا ہے (اسی طرح) کھجور اور انگور کے پھل ہیں جن سے نشہ کا عرق اور اچھی غذا دونوں طرح کی چیزیں حاصل کرتے ہو۔ بلاشبہ اس بات میں ارباب عقل کے لیے (ربوبیت الٰہی کی) بڑی ہی نشانی ہے !۔ اور پھر (دیکھو) تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طبیعت میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان ٹٹیوں میں جو اس غرض سے بلند کردی جاتی ہیں، اپنے لیے گھر بنائے، پھر ہر طرح کے پھولوں سے رس چوسے، پھر اپنے پروردگار کے ٹھہرائے ہوئے طریقوں پر کامل فرمانبرداری کے ساتھ گامزن ہو (چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ) اس کے شکم سے مختلف رنگتوں کا رس نکلتا ہے، جس میں انسان کے لیے شفا ہے۔ بلاشبہ اس بات میں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں (ربوبیت الٰہی کی عجائب آفرینیوں کی) بڑی ہی نشانی ہے !“ (النحل :66-69) جس طرح اس نے جابجا خلقت سے استدلال کیا ہے۔ یعنی دنیا میں ہچیز مخلوق ہے، اس لیے ضروری ہے کہ خالق بھی ہو۔ اسی طرح وہ ربوبیت سے بھی استدلال کرتا ہے۔ یعنی دنیا میں ہر چیز مربوب ہے اس لیے ضروری ہے کہ کوئی رب بھی ہو۔ اور دنیا میں ربوبیت کامل اور بے داگ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ رب کام اور بے عیب ہو۔ زیادہ واضح لفظوں میں اسے یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں، دنیا میں ہر چیز ایسی ہے کہ اسے پرورش کی احتیاج ہے، اور اسے پرورش مل رہی ہے۔ پس ضروری ہے کہ کوئی پرورش کرنے والا بھی موجود ہو، یہ پرورش کرنے والا کون ہے؟ یقیناً وہ نہیں ہوسکتا جو خود پروردہ اور محتاج پروردگارہو۔ قرآن میں جہاں کہیں اس طرح کے مخاطبات ہیں جیسا کہ سورۃ واقعہ کی مندرجہ ذیل آیات میں ہے، وہ اسی استدلال پر مبنی ہیں : “أَفَرَأَیْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (٦٣)أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (٦٤) لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُونَ (٦٥)إِنَّا لَمُغْرَمُونَ (٦٦) بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ (٦٧)أَفَرَأَیْتُمُ الْمَاءَ الَّذِی تَشْرَبُونَ (٦٨)أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوہُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (٦٩) لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاہُ أُجَاجًا فَلَوْلا تَشْکُرُونَ (٧٠)أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ (٧١)أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَہَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (٧٢) نَحْنُ جَعَلْنَاہَا تَذْکِرَۃً وَمَتَاعًا لِلْمُقْوِینَ (٧٣): اچھا ! تم نے اس بات پر غور کیا کہ جو کچھ تم کاشت کاری کرتے ہو اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم صرف یہ کہنے کے لیے رہ جاؤ کہ افسوس، ہمیں تو اس نقصان کا تاوان ہی دینا پڑے گا بلکہ ہم تو اپنے محنت کے سارے فائدوں ہی سے محروم ہوگئے۔ اچھا تم نے یہ بات بھی دیکھی کہ یہ پانی جو تمہارے پینے میں آتا ہے اسے کون برساتا ہے؟ تم برساتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے (سمندر کے پانی کی طرح) کڑوا کردیں۔ پھر کیا اس نعمت کے لیے ضروری نہیں کہ تم شکر گزار ہو؟ اچھا ! تم نے یہ بات بھی دیکھی کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو تو اس کے لیے لکڑی تم نے پیدا کی ہے یا ہم پیدا کر رہے ہیں؟ ہم نے اس کو یاد دہانی کا ذریہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے” (واقعہ :63-73) نظام ربوبیت سے توحید پر استدلال : اسی طرح وہ نظام ربوبیت سے توحید الٰہی پر استدلال کرتا ہے۔ جو رب العالمین تمام کائنات کی پرورش کر رہا ہے اور جس کی ربوبیت کا اعتراف تمہارے دل کے ایک ایک ریشے میں موجود ہے اس کے کون اس کا مستحق ہوسکتا ہے کہ بندگی و نیاز کا سر اس کے آگے جھکایا جائے؟ “یَا أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (٢١) الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (٢٢): اے افراد نسل انسانی ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو، اس پروردگار کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان سب کو بھی پیدا کیا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس لیے پیدا کیا تاکہ تم برائیوں سے بچو۔ وہ پروردگار عالم جس نے تمہارے لیے زمین فرش کی طرح بچھا دی اور آسمان چھت کی طرح بنا دیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے طرح طرح کے پھل پیدا کردیے تاکہ تمہارے لیے رزق کا سامان ہو۔ پس (جب خالقیت اسی کی خالقیت ہے اور ربوبیت اسی کی ربوبیت، تو) ایسا نہ کرو کہ کسی دوسری ذات کو اس کا ہم پلہ ٹھہراؤ اور تم اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہو !”(البقرہ :21-22) یا مثلاً سورۃ فاطر میں ہے : “یَا أَیُّہَا النَّاسُ اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللَّہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ لا إِلَہَ إِلا ھُوَ فَأَنَّی تُؤْفَکُونَ : اے افراد نسل انسانی ! اللہ نے اپنی جن نعمتوں سے تمہیں فیض یاب کیا ہے ان پر غور کرو، کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی خالق ہے جو تمہیں زمین اور آسمان کی بخشایشوں سے رزق دے رہا ہے؟ نہیں کوئی معبود نہیں ہے مگر اسی کی ایک ذات !” نظام ربوبیت سے وحی ور سالت کی ضرورت پر استدلال : اسی طرح وہ نظام ربوبیت کے اعمال سے انسانی سعادت و شقاوت کے معنوی قوانین اور وحی و رسالت کی ضرورت پر بھی استدلال کرتا ہے۔ جس رب العالمین نے تمہاری پرورش کے لیے ربوبیت کا ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کیا ممکن ہے کہ اس نے تمہاری روحانی فلاح و سعادت کے لیے کوئی قانون، کوئی نظام اور کوئی قاعدہ مقرر نہ کیا ہو؟ جس طرح تمہارے جسم کی ضرورتیں ہیں اسی طرح تمہاری روح کی بھی ضرورتیں ہیں۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ جسم کی نشوونما کے لیے تو اس کے پاس سب کچھ ہو لیکن روح کی نشوونما کے لیے اس کے پاس کوئی پروردگار نہ ہو؟ اگر وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کے فیضان کا یہ حال ہے کہ ہر ذرہ کے لیے سیرابی اور ہر چیونٹی کے لیے کارسازی رکھتی ہے تو کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی روحانی سعادت کے لیے اس کے پاس کوئی سرچشمگی نہ ہو؟ اس کی پروردگار اجسام کی پرورش کے لیے آسمان سے پانی برسائے لیکن ارواح کی پرورش کے لیے ایک قطرۂ فیض بھی نہ رکھے؟ تم دیکھتے ہو کہ جب زمین شادابی سے محروم ہو کر مردہ ہوجاتی ہے تو یہ اس کا قانون ہے کہ باران رحمت نمودار ہوتی اور زندگی کی برکتوں سے زمین کے ایک ایک ذرے کو مالا مال کردیتی ہے۔ پھر کیا یہ ضروری نہیں کہ جب عالم انسانیت ہدایت و سعادت کی شادابیوں سے محروم ہوجائے تو اس کی باران رحمت نمودار ہو کر ایک ایک روح کو پیام زندگی پہنچا دے؟ روحانی سعادت کی یہ بارش کیا ہے؟ وہ کہتا ہے وحی الٰہی ہے۔ تم اس منظر پر کبھی متعجب نہیں ہوتے کہ پانی برسا اور مردہ زمین زندہ ہوگئی۔ پھر اس بات پر کیوں چونک اٹھو کہ وحی الٰہی ظاہر ہوئی اور مردہ روحوں میں زندگی کی جنبش پیدا ہوگئی “حم (١) تَنْزِیلُ الْکِتَابِ مِنَ اللہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ (٢)إِنَّ فِی السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآیَاتٍ لِلْمُؤْمِنِینَ (٣) وَفِی خَلْقِکُمْ وَمَا یَبُثُّ مِنْ دَابَّۃٍ آیَاتٌ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ (٤) وَاخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْیَا بِہِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ آیَاتٌ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (٥) تِلْکَ آیَاتُ اللہِ نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَ اللَّہِ وَآیَاتِہِ یُؤْمِنُونَ (٦): یہ اللہ کی طرف سے کتاب (ہدایت) نازل کی جاتی ہے جو عزیز اور حکیم ہے۔ بلاشبہ ایمانر کھنے والون کے لیے آسمانوں اور زمین میں (معرفت حق کی) بے شمار نشانیاں ہیں۔ نیز تمہاری پیدائش میں اور ان چارپایوں میں جنہیں اس نے زمین میں پھیلا رکھا ہے ارباب یقین کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آتے رہنے میں، اور اس سرمایہ رزق میں جسے وہ آسمان سے برساتا ہے اور زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے، اور ہواؤں کے رد و بدل میں ارباب دانش کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ (اے پیغمبر !) یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو فی الحقیقت ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ پھر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کون سی بات رہ گئی ہے جسے سن کر یہ لوگ ایمان لائیں گے؟” سورۃ انعام میں ان لوگوں کا جو وحی الٰہی کے نزول پر متعجب ہوتے ہیں، ان لفظوں میں ذکر کیا ہے : ” وما قدروا الہ حق قدرہ اذقالو ما انزل اللہ علی بشر من شیء : اور اللہ کے کاموں کی انہیں جو قدر شناسی کرنی تھی یقینا انہوں نہیں کی جب انہوں نے یہ بات کہی کہ اللہ نے اپنے کسی بندے پر کوئی چیز نازل نہیں کی“ (الانعام :91) تو پھر تورات اور قرآن کے نزول کے ذکر کے بعد حسب ذیل بیان شروع ہوجاتا ہے :”إِنَّ اللہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَی یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ ذَلِکُمُ اللہُ فَأَنَّی تُؤْفَکُونَ (٩٥) فَالِقُ الإصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّیْلَ سَکَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ (٩٦) وَہُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ النُّجُومَ لِتَہْتَدُوا بِہَا فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (٩٧): یقینا یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ وہ دانے اور گٹھلی کو شق کرتا ہے (اور اس سے ہر چیز کا درخت پیدا کردیتا ہے) وہ زندہ کو مردہ چیز سے نکالتا اور مردہ کو زندہ اشیا سے نکالنے والا ہے۔ ہاں ! وہی تمہارا خدا ہے۔ پھر تم اس سے روگردانی کر کے کدھر کو بہکے چلے جا رہے ہو؟ ہاں ! وہی (پردۂ شب چاک) کر کے صبح کی روشنی نمودار کرنے والا ہے، وہی ہے جس نے رات کو راحت و سکون کا ذریعہ بنا دیا، اور وہی ہے کہ سورج اور چاند کی گردش اس درستگی کے ساتھ قائم کردی کہ حساب کا معیار بن گئی۔ یہ اس عزیز و علیم کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔ اور (پھر دیکھو !) وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے پیدا کردیے تاکہ خشکی وتری کی تاریکیوں میں ان سے رہنمائی پاؤ۔ بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں ہم نے دلیلیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔ “یعنی جس پروردگار عالم کی ربوبیت و رحمت کا یہ تمام فیضان شب و روز دیکھ رہے ہو کیا ممکن ہے کہ وہ تمہاری جسمانی پرورش و ہدایت کے لیے تو یہ سب کچھ کرے لیکن تمہاری روحانی پرورش و ہدایت کے لیے اس کے پاس کوئی سروسامان نہ ہو؟ وہ زمین کی موت کو زندگی سے بدل دیتا ہے۔ پھر کیا تمہاری روح کی موت کو زندگی سے نہیں بدل دے گا؟ وہ ستاروں کی روشن علامتوں سے خشکی و تری کی ظلمتوں میں رہنمائی کرتا ہے۔ کیونکر ممکن ہے کہ تمہاری روحانی زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی کی کوئی روشنی نہ ہو؟ تم جو کبھی اس پر متعجب نہیں ہوتے کہ زمین پر کھت لہلہا رہے ہیں اور آسمان میں تارے چمک رہے ہیں کیوں اس بات پر متعجب ہوتے ہو کہ خدا کی وحی نوع انسانی کی ہدایت کے لیے نازل ہو رہی ہے؟ اگر تمہیں تعجب ہوتا ہے تو یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم نے خدا کو اس کی صفتوں میں اس طرح نہیں دیکھا ہے جس طرح دیکھنا چاہیے۔ تمہاری سمجھ میں یہ بات تو آجاتی ہے کہ وہ ایک چیونٹی کی پروش کے لیے یہ پورا کارخانہ حیات سرگرم رکھے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ نوع انسانی کی ہدایت کے لیے سلسلہ وحی و تنزیل قائم ہو ! نظام ربوبیت سے وجود معاد پر استدلال : اسی طرح وہ اعمال ربوبیت سے معاد اور آخرت پر بھی استدلال کرتا ہے۔ جو چیز جتنی زیادہ نگرانی اور اہتمام سے بنائی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ قیمتی استعمال اور اہم مقصد بھی رکھتی ہے، اور بہتر صناع وہی ہے جو اپنی صنعت گری کا بہتر استعمال اور مقصد رکھتا ہو۔ پس انسان جو کرہ ارضی کی بہترین مخلوق اور اس کے تمام سلسلہ خلقت کا خلاصہ ہے، اور جس کی جسمانی و معنوی نشوونما کے لیے فطرت کائنات نے اس قدر اہتمام کیا ہے، کیونکر ممکن ہے کہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کے لیے ہی بنایا گیا ہو اور کوئی بہتر استعمال اور بلند تر مقصد نہ رکھتا ہو؟ اور پھر اگر خالق کائنات رب ہے اور کامل درجے کی ربوبیت رکھتا ہے تو کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بہترین مربوب یعنی پروردہ ہستی کو محض اس لیے بنایا ہو کہ مہمل اور بے نتیجہ چھوڑ دے؟ “افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون۔ فتعالی اللہ الملک الحق لا الہ الاھو رب العرش الکریم: کیا تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بغیر کسی مقصد و نتیجہ کے پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹنے والے نہیں؟ اللہ جو اس کائنات ہستی کا حقیقی حکمران ہے اس سے بہت بلند ہے کہ ایک بیکار و عبث فعل کرے۔ کوئی معبود نہیں ہے مگر وہ جو (جہانداری کے) عرش بزرگ کا پروردگار ہے” (المومنون : 115۔116)۔ ہم نے یہ مطلب اسی سادہ طریقہ پر بیان کردیا جو قرٓن کے بیان و خطاب کا طریقہ ہے۔ لیکن یہ مطلب علمی بحث و تقریر کے پیرایہ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ وجود انسانی کرہ ارضی کے سلسلہ خلقت کی آخری اور اعلی ترین کڑی ہے اور اگر پیدائش حیات سے لے کر انسانی وجود کی تکمیل تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ناقابل شمار مدت کے مسلسل نشو وارتقا کی تاریخ ہوگی۔ گویا فطرت نے لکھوں کروڑوں برس کی کارفرمائی و صناعی سے کرہ ارضی پر جو اعلی ترین وجود تیار کیا ہے وہ انسان ہے ! (بقیہ حصہ اگلی آیت کی تفسیر میں ملاحظہ ہو)

فہم القرآن اللہ کائنات کے رب نے اپنی مخلوق کی پرورش کا بندوبست ایسے مضبوط نظام کے ساتھ فرمایا ہے کہ ہر چیز کو زندگی اور اس کی بقا کے لیے جو کچھ اور جس قد رچاہیے اسے اسی حالت اور مقام پر پہنچایا جارہا ہے۔ پتھر کا کیڑا چاروں طرف بند چٹان کے اندر اپنی خوراک لے رہا ہے، مرغی کا بچہ انڈے میں پل رہا ہے، مچھلیاں دریا میں، پرندے فضا میں اور درندے صحرا میں اپنی اپنی خوراک لے رہے ہیں اور اپنے ماحول میں مطمئن اور خوش وخرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر دانہ اپنی آغوش میں زندگی اور ہر بیج اپنے سینے میں نشوونما کا سامان لیے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ پھول کی کلی کو جس ہوا اور فضا کی ضرورت ہے اسے مہیا کی جارہی ہے۔ زندگی کے لیے ہوا اور پانی اس قدر لازمی جزہیں کہ ان کے بغیر زندگی لمحوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہ اتنے ارزاں اور وافر ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے قرآن نے اللہ کی ہستی کا تعارف رب اور اس کے نظام ربوبیت سے بات کا آغاز کیا ہے تاکہ انسان کا وجدان پکار اٹھے کہ مجھے اس ہستی کا شکر ادا کرنا اور تابع فرمان رہنا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ اور یہ نظام اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کسی منتظم کے بغیر جاری اور قائم نہیں رہ سکتا ایک زندہ ضمیر شخص جب اپنے چاروں طرف رب کی ربوبیت کے اثرات ونشانات دیکھتا ہے تو اس کے دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے۔﴿فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ﴾ {المؤمنون : 14}"اللہ تعالیٰ برکت والا اور بہترین پیدا کرنے والا ہے۔"مانگنے کا صحیح طریقہ اور اسلامی تہذیب کا جزو لازم ہے کہ انسان ہر حال میں اپنے رب کا حمد خواں اور شکر گزار رہے۔ حمدگوئی سے یہ بات خود بخود ثابت ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی عطا اور ملکیت ہے۔ اور انسان انتہائی ناتواں اور بے بس ہے۔ اس سے انسان کے دل میں یہ عقیدہ بھی جڑ پکڑتا ہے کہ جمال وکمال کسی کا اپنا نہیں بلکہ اللہ ہی کا عطا کردہ ہے۔ اس لیے حقیقی اور ہمہ وقتی حمد وستائش اسی مالک کو زیبا ہے۔ پھر مالک بھی ایسا جو صرف انسانوں اور جنّات کا ہی نہیں وہ تو حیوانات، جمادات، نباتات حتی کہ ارض وسمٰوٰت کا رب ہے۔ جو ابتدا سے انتہا تک ہر چیز کی ضرورت کو کمال رحمت اور ربوبیت سے پورا کررہا ہے۔ حمد میں دوسرے کی ذات کی بڑائی اور اس کے احسانات کا احساس و اعتراف پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید ابتداہی میں انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے رب کی تعریف وتوصیف اور حمد وشکر بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔﴿سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ﴾{ الحشر : 1 }“ زمین و آسمان میں موجود ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والاہے۔” اے انسان! اشرف المخلوقات ہونے کی حیثیت سے تجھے مانگنے سے پہلے اپنے رب کی حمد وشکر اور اس کی عنایت و عطا کا اعتراف کرتے ہوئے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ شکر گزار ہی تابع فرمان ہوا کرتے ہیں۔ رسول کریم {ﷺ}اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا یوں بیان کیا کرتے تھے : (أَللّٰھُمَّ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَآأُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَآ أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ)){ رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود}“ اے اللہ! میں تیری رضا مندی کے ذریعے تیری ناراضی سے اور تیری معافی کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتاہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتاہوں میں اس طرح تیری تعریف نہیں کرسکتا جس طرح تیری شایان شان ہے۔ ”(سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَانَفْسِہٖ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ){ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والإستغفار، باب التسبیح أول النھار وعند النوم }" اللہ کی پاکی اس کی تعریف کے ساتھ اس کی مخلوق کی تعداد، اس کے نفس کی رضا، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی مقدار کے برابر۔"
مسائل 1۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اس کی حمد وستائش کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے :
1۔ تمام تعریفیں جہانوں کو پالنے والے کے لیے ہیں۔ {الانعام : 45 }
2۔ اللہ کی حمدوثنا بیان کرنا مومنوں کی صفت ہے۔ { التوبۃ: 112 }
3۔ صبح وشام اللہ کی حمد بیان کرنے کا حکم ہے۔ { فاطر : 55 }
4۔ بجلی کی کڑک اور فرشتے بھی اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ { الرعد : 13 }
5۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی ثنا خواں ہے۔ }بنی اسرائیل : 44 }
(ف2) خدا کے متعلق قرآنی تخیل یہ ہے کہ وہ ساری کائنات کا رب ہے اس کی خدائی زمان ومکان کی قیود سے بالا و بلند ہے ۔
حل لغات : الْحَمْدُ: مصدر تعریف وستائش اس صورت میں جبکہ ممدوح مختار اور فعل جمیل وخیر ہو ۔
رَبِّ : اسم صفت جو تخلیق واختراع کے بعد کائنات کا ہر منزل میں خیال رکھے یعنی ایجاد و تصویر سے لیکر تکمیل و تزئین تک ہر مرحلے میں اس کا التفات کرم فرما رہے۔
الْعَالَمِينَ : جمع عالم اسم آلہ خلاف قیاس ، دنیا یا کائنات ، ہر شے ہر جگہ ، ہر چیز ۔
الحمد اللہ کی تفسیر ساتوں قاری «الْحَمْدُ» کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور «الْحَمْدُ لِلہِ» کو مبتدا خبر مانتے ہیں ۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور روبہ بن عجاج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «دال» پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے ۔ ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ «الْحَمْدُ» کی «دال» کو اور «اللہ» کے پہلے «لام» دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس «لام» کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے ، مگر شاذ ہے ۔ حسن رحمہ اللہ اور زید بن علی رحمہ اللہ ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور «لام» کے تابع «دال» کو کرتے ہیں ۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «الْحَمْدُ لِلہِ» کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں ، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو اس وجہ سے کہ تمام نعمتیں جنہیں ہم گن بھی نہیں سکتے ، اس مالک کے سوا اور کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اسی کی طرف سے ہیں ۔ اسی نے اپنی اطاعت کرنے کے تمام اساب ہمیں عطا فرمائے ۔ اسی نے اپنے فرائض پورے کرنے کے لیے تمام جسمانی نعمتیں ہمیں بخشیں ۔ پھر بےشمار دنیاوی نعمتیں اور زندگی کی تمام ضروریات ہمارے کسی حق بغیر ہمیں بن مانگے بخشیں ۔ اس کی لازوال نعمتیں ، اس کے تیار کردہ پاکیزہ مقام جنت کو ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں ؟ یہ بھی اس نے ہمیں سکھا دیا پس ہم تو کہتے ہیں کہ اول آخر اسی مالک کی پاک ذات ہر طرح کی تعریف اور حمد و شکر کے لائق ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:125/1) «الْحَمْدُ لِلہِ» یہ ثنا کا کلمہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ثنا و خود آپ کی ہے اور اسی ضمن میں گویا یہ فرما دیا ہے کہ تم کہو «الْحَمْدُ لِلہِ» بعض نے کہا کہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کہنا اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں سے اس کی ثنا کرنا ہے ۔ اور «الشٰکْرُ لِلہِ» کہنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:138/1) لیکن یہ قول ٹھیک نہیں ۔ اس لیے کہ عربی زبان کو جاننے والے علماء کا اتفاق ہے ۔ کہ شکر کی جگہ حمد کا لفظ اور حمد کی جگہ شکر کا لفظ بولتے ہیں ۔ جعفر صادق رحمہ اللہ ، ابن عطا صوفی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر شکر کرنے والے کا کلمہ «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے ۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کو معتبر کرنے کے لیے یہ دلیل بھی بیان کی ہے کہ اگر کوئی «الْحَمْدُ لِلہِ شُکْرًا» کہے تو جائز ہے ۔ دراصل علامہ ابن جریر رحمہ اللہ کے اس دعویٰ میں اختلاف ہے ، پچھلے علماء میں مشہور ہے کہ «حَمْدَ» کہتے ہیں زبانی تعریف بیان کرنے کو خواہ جس کی حمد کی جاتی ہو اس کی لازم صفتوں پر ہو یا متعدی صفتوں پر اور شکر صرف متعدی صفتوں پر ہوتا ہے اور وہ دل زبان اور جملہ ارکان سے ہوتا ہے ۔ عرب شاعروں کے اشعار بھی اس پر دلیل ہیں ۔ ہاں اس میں اختلاف ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ عام ہے یا «شٰکْر» کا اور صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عموم اس حیثیت سے خصوص ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ جس پر واقع ہو وہ عام طور پر «شٰکْر» کے معنوں میں آتا ہے ۔ اس لیے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں اوصاف پر آتا ہے شہ سواری اور کرم دونوں پر «حَمِدْتُہُ» کہہ سکتے ہیں لیکن اس حیثیت سے وہ صرف زبان سے ادا ہو سکتا ہے یہ لفظ خاص اور «شٰکْر» کا لفظ عام ہے کیونکہ وہ قول ، فعل اور نیت تینوں پر بولا جاتا ہے اور صرف متعدی صفتوں پر بولے جانے کے اعتبار سے «شٰکْر» کا لفظ خاص ہے ۔ شہ سواری کے حصول پر «شَکَرْتُہُ» نہیں کہہ سکتے البتہ «شَکَرْتُہُ عَلَی کَرَمِہِ وَإِحْسَانِہِ إِلَیَّ» کہہ سکتے ہیں ۔ یہ تھا خلاصہ متاخرین کے قول کا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» ابونصر اسماعیل بن حماد جوہری کہتے ہیں «حمد» مقابل ہے «ذم» کے ۔ لہٰذا یوں کہتے ہیں کہ «حَمِدْتُ الرَّجُلَ أَحْمَدُہُ حَمْدًا وَمَحْمَدَۃً فَہُوَ حَمِیدٌ وَمَحْمُودٌ» تحمید میں «حمد» سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ «حمد» «شکر» سے عام ہے ۔ کسی محسن کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کی ثنا کرنے کو «شکر» کہتے ہیں ۔ عربی زبان میں «شَکَرْتُہُ» اور «شَکَرْتُ لَہُ» دونوں طرح کہتے ہیں لیکن «لام» کے ساتھ کہنا زیادہ فصیح ہے ۔ مدح کا لفظ «حمد» سے بھی زیادہ عام ہے اس لیے کہ زندہ مردہ بلکہ جمادات پر بھی مدح کا لفظ بول سکتے ہیں ۔ کھانے اور مکان کی اور ایسی اور چیزوں کی بھی مدح کی جاتی ہے احسان سے پہلے ، احسان کے بعد ، لازم صفتوں پر ، متعدی صفتوں پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو اس کا عام ہونا ثابت ہوا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» حمد کی تفسیر اقوال سلف سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ «سُبْحَانَ اللہِ » اور «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» اور بعض روایتوں میں ہے کہ « اللہُ أَکْبَرُ» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کا کیا مطلب ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرما لیا ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کا کہنا اللہ کو بھلا لگتا ہے ۱؎ ۔ (تفسیر ابن ابی حاتم:15/1:ضعیف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ کلمہ شکر ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میرا شکر کیا ۲؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:151) اس کلمہ میں شکر کے علاوہ اس کی نعمتوں ، ہدایتوں اور احسان وغیرہ کا اقرار بھی ہے ۔ کعب احبار رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنا ہے ۔ ضحاک کہتے ہیں یہ اللہ کی چادر ہے ۔ ایک حدیث میں بھی ایسا ہی ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» کہہ لو گے تو تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر لو گے اب اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا} ۳؎ ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:152:ضعیف) {اسود بن سریع ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ میں نے ذات باری تعالیٰ کی حمد میں چند اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو سناؤں فرمایا : اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد بہت پسند ہے} ۴؎ ۔ (مسند احمد:435/3:حسن) ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل ذکر «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے } ۱؎ ۔ (سنن ترمذی:3383،قال الشیخ الألبانی:حسن) امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں ۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے کہ {جس بندے کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت دی اور وہ اس پر «الْحَمْدُ لِلہِ» کہے تو دی ہوئی نعمت لے لی ہوئی سے افضل ہو گی} ۲؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:3805،قال الشیخ الألبانی:حسن) فرماتے ہیں اگر میری امت میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ تمام دنیا دے دے اور وہ «الْحَمْدُ لِلہِ» کہے تو یہ کلمہ ساری دنیا سے افضل ہو گا ۔ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا دے دینا اتنی بڑی نعمت نہیں جتنی «الْحَمْدُ لِلہِ» کہنے کی توفیق دینا ہے اس لیے کہ دنیا تو فانی ہے اور اس کلمہ کا ثواب باقی ہی باقی ہے ۱؎ ۔ (سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:876،ضعیف) جیسے کہ قرآن پاک میں ہے «الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِینَۃُ الْحَیَاۃِ الدٰنْیَا وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ أَمَلًا» ۲؎ (18-الکہف:46) الخ یعنی ’مال اور اولاد دنیا کی زینت ہے اور نیک اعمال ہمیشہ باقی رہنے والے ، ثواب والے اور نیک امید والے ہیں‘ ۔ ابن ماجہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص نے ایک مرتبہ کہا «یَا رَبِّ ، لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلَالِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ» تو فرشتے گھبرا گئے کہ ہم اس کا کتنا اجر لکھیں ۔ آخر اللہ تعالیٰ سے انہوں نے عرض کی کہ تیرے ایک بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے اسے کس طرح لکھیں ، پروردگار نے باوجود جاننے کے ان سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس نے یہ کلمہ کہا ہے ، فرمایا : ”تم یونہی اسے لکھ لو میں اس اسے اپنی ملاقات کے وقت اس کا اجر دے دوں گا“} ۳؎ ۔ (سنن ابن ماجہ:3801،قال الشیخ الألبانی:ضعیف) قرطبی رحمہ اللہ ایک جماعت علماء سے نقل کرتے ہیں کہ «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» سے بھی «الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ» افضل ہے کیونکہ اس میں توحید اور حمد دونوں ہیں ۔ اور علماء کا خیال ہے کہ «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» افضل ہے اس لیے کہ ایمان و کفر میں یہی فرق کرتا ہے ، اس کے کہلوانے کے لیے کفار سے لڑائیاں کی جاتی ہیں ۔ جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم حدیث میں ہے ۱؎ (صحیح بخاری:1399) ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ {جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کرام نے کہا ہے ان میں سب سے افضل «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ» ہے} ۲؎ ۔ (سنن ترمذی:3585،قال الشیخ الألبانی:حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ {افضل ذکر «لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ» ہے اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلہِ» ہے} ۳؎ ۔ (سنن ترمذی:3383،قال الشیخ الألبانی:حسن) ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ۔ الحمد میں «الف» «لام» استغراق کا ہے یعنی حمد کی تمام تر قسمیں سب کی سب صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت ہیں ۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ باری تعالیٰ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور تمام ملک ہے ۔ تیرے ہی ہاتھ تمام بھلائیاں ہیں اور تمام کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں ۱؎ ۔ (مسند احمد:346/5:ضعیف) «رب» کہتے ہیں «مَالِکُ» اور «مُتَصَرِّفُ» کو لغت میں اس کا اطلاق سردار اور اصلاح کے لیے تبدیلیاں کرنے والے پر بھی ہوتا ہے اور ان سب معانی کے اعتبار سے ذات باری تعالیٰ کے لیے یہ خوب جچتا ہے ۔ «رب» کا لفظ بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے پر نہیں کہا جا سکتا ہاں اضافت کے ساتھ ہو تو اور بات ہے جیسے «رَبٰ الدَّارِ» یعنی گھر والا وغیرہ ۔ بعض کا تو قول ہے کہ اسم اعظم یہی ہے ۔ عالمین سے مراد «الْعَالَمِینَ» جمع ہے «عَالَمٍ» کی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق کو «عَالَمٍ» کہتے ہیں ۔ لفظ «عَالَمٍ» بھی جمع ہے اور اس کا واحد لفظ ہے ہی نہیں ۔ آسمان کی مخلوق خشکی اور تری کی مخلوقات کو بھی «عَوَالِمُ» یعنی کئی «عَالَمٍ» کہتے ہیں ۔ اسی طرح ایک ایک زمانے ، ایک ایک وقت کو بھی «عَالَمٍ» کہا جاتا ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد کل مخلوق ہے خواہ آسمانوں کی ہو یا زمینوں کی یا ان کے درمیان کی ، خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا نہ ہو ۔ «علی ہذا القیاس» اس سے جنات اور انسان بھی مراد لیے گئے ہیں ۔ سعید بن جیر مجاہد اور ابن جریح رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہ مروی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی غیر معتبر سند سے یہی منقول ہے اس قول کی دلیل قرآن کی آیت «لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا» ۱؎ (25-الفرقان:1) بھی بیان کی جاتی ہے یعنی تاکہ وہ «عَالَمِینَ» یعنی جن اور انس کے لیے ڈرانے والا ہو جائے ۔ فراء اور ابوعبید کا قول ہے کہ سمجھدار کو عالم کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا انسان ، جنات ، فرشتے ، شیاطین کو عالم کہا جائے گا ۔ جانوروں کو نہیں کہا جائے گا ۔ سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ ، ابو محیص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر روح والی چیز کو عالم کہا جاتا ہے ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ۔ ہر قسم کو ایک عالم کہتے ہیں مروان بن محمد عرف جعد جن کا لقب حمار تھا جو بنوامیہ میں سے اپنے زمانے کے خلیفہ تھے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سترہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں ۔ آسمانوں والے ایک عالم ، زمینوں والے سب ایک عالم اور باقی کو اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کو ان کا علم نہیں ۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کل ایک عالم ہیں ، سارے جنات کا ایک عالم ہے اور ان کے سوا اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار عالم اور ہیں ۔ فرشتے زمین پر ہیں اور زمین کے چار کونے ہیں ، ہر کونے میں ساڑھے تین ہزار عالم ہیں ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ یہ قول بالکل غریب ہے اور ایسی باتیں جب تک کسی صحیح دلیل سے ثابت نہ ہوں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک ہزار امتیں ہیں ، چھ سو تری میں اور چار سو خشکی میں ۔ سعید بن مسیب سے یہ بھی مروی ہے ۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک سال ٹڈیاں نہ نظر آئیں بلکہ تلاش کرنے کے باوجود پتہ نہ چلا ۔ آپ غمگین ہو گئے یمن ، شام اور عراق کی طرف سوار دوڑائے کہ کہیں بھی ٹڈیاں نظر آتی ہیں یا نہیں تو یمن والے سوار تھوڑی سی ٹڈیاں لے کر آئے اور امیر المؤمنین کے سامنے پیش کیں آپ نے انہیں دیکھ کر تکبیر کہی اور فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں ان میں سے سب سے پہلے جو امت ہلاک ہو گی وہ ٹڈیاں ہوں گی بس ان کی ہلاکت کے بعد پے در پے اور سب امتیں ہلاک ہو جائیں گی جس طرح کہ تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے اور ایک کے بعد ایک سب موتی جھڑ جاتے ہیں ۱؎ ۔ (مجمع الزوائد:322/7:باطل موضوع) اس حدیث کے راوی محمد بن عیسیٰ ہلالی ضعیف ہیں ۔ سعید بن میب رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے ۔ وہب بن منبہ فرماتے ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں ، دنیا کی ساری کی ساری مخلوق ان میں سے ایک عالم ہے ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چالیس ہزار عالم ہیں ساری دنیا ان میں سے ایک عالم ہے ۔ زجاج کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا آخرت میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ سب عالم ہے ۔ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے اس لیے کہ یہ تمام عالمین پر مشتمل لفظ ہے ۔ جیسے فرعون کے اس سوال کے جواب میں رب العالمین کون ہے ؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «رَبٰ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا» ۱؎ (26-الشعراء:23) ”آسمانوں زمینوں اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب“ ۔ «عالم» کا لفظ علامت سے مشتق ہے اس لیے کہ «عالم» یعنی مخلوق اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے پر نشان اور اس کی وحدانیت پر علامت ہے ۲؎ ۔ (تفسیر قرطبی:139/1) جیسے کہ ابن معتز شاعر کا قول ہے ۔ «فَیَا عَجَبًا کَیْفَ یُعْصَی الْإِلَہُ ... أَمْ کَیْفَ یَجْحَدُہُ الْجَاحِدُ ... وَفِی کُلِّ شَیْءٍ لَہُ آیَۃً ... تَدُلٰ عَلَی أَنَّہُ وَاحِدُ» یعنی تعجب ہے کس طرح اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے اور کس طرح اس سے انکار کیا جاتا ہے حالانکہ ہر چیز میں نشانی ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے «الْحَمْدُ» کے بعد اب «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ» کی تفسیر سنئے ۔
﴿الْحَمْدُ لِلَّـهِ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کے ان افعال کی ثنا ہے جو فضل و عدل کے درمیان دائر ہیں۔ پس ہر پہلو سے کامل حمد کا مالک وہی ہے۔ ﴿رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ” جہانوں کا پروردگار ہے۔“ (رَبِّ) وہ ہستی ہے جو تمام جہانوں کی مربی ہے۔ (اَلْعَالَمِينَ) سے مراد اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق ہے۔ اس نے ان کو پیدا کیا، ان کے لئے ان کی زندگی کا سروسامان مہیا کیا اور پھر انہیں اپنی ان عظیم نعمتوں سے نوازا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا۔ پس مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔
مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ کی تربیت (پرورش کرنے) کی دو قسمیں ہیں۔ (١) تربیت عامہ (2) تربیت خاصہ۔ تربیت عامہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا، ان کو رزق بہم پہنچایا اور ان مفادات و مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کی جن میں ان کی دنیاوی زندگی کی بقا ہے۔ تربیت خاصہ وہ تربیت ہے جو اس کے اولیا کے لئے مخصوص ہے پس وہ ایمان کے ذریعے سے ان کی تربیت کرتا ہے، انہیں ایمان کی توفیق سے نوازتا اور ان کی تکمیل کرتا ہے وہ ان سے ان تمام امور کو دور کرتا ہے جو راہ حق پر چلنے سے انہیں باز رکھتے ہیں اور ان تمام رکاوٹوں کو ہٹاتا ہے جو ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حائل ہوتی ہیں۔
تربیت خاصہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہر بھلائی کی توفیق ملتی اور ہر برائی سے حفاظت نصیب ہوتی ہے۔ شاید یہی معنی انبیائے کرام علیہ السلام کی دعاؤں کا سرنہاں ہے کہ ان میں اکثر ” رب“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ انبیائے کرام کی فریادیں تمام کی تمام اللہ تعالیٰ کی ربوبیت خاصہ کے تحت آتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿رَبُّ العٰلَمِیْنَ﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا ہے۔ وہ اکیلا ہی ان کی تدبیر کرتا ہے اور اسے کمال بے نیازی حاصل ہے اور تمام عالم ہر پہلو اور ہر اعتبار سے اس کا محتاج ہے۔
شان نزول الحمدللہ : مکہ شریف میں جب نماز فرض ہوئی تھی تو یہ سورت نازل ہوئی۔ (فتح البیان) ١٢ اس سورت کے کئی نام ہیں ہر نام اس کی فضیلت ظاہر کرتا ہے اس کو فاتحۃ الکتاب بھی کہتے ہیں کیونکہ ابتدا کتاب اللہ کے آتی ہے اور سورت الشکر بھی اس کا نام ہے اس لئے کہ اس کے اول میں حمد ہے جو شکر سے بڑہکر ہے اس کا نام سورت الرقیہ یعنی دم کی سورت بھی ہے کیونکہ صحابہ کرام اس کو پڑھ کر بیماروں پر دم کیا کرتے تھے۔ ترمذی نے آنحضرتﷺ سے نقل کیا ہے کہ اس سورت جیسا بابرکت کلام نہ تورٰیت میں ہے نہ انجیل میں نہ کسی آسمانی کتاب میں نازل ہوا یہی قرآن عظیم ہے جو مجھ (آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملا ہے۔ (منہ)
ف4:یہ کلمہ اظہار عبودیت اور اعتراف نعمت کے معنی پر مشتمل ہے اور شکر الہی کے اظہار کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی کلمہ نہیں ہے حدیث میں ہے(الْحَمْدُ رَأْسُ الشُّكْرِ، مَا شَكَرَ اللهَ عَبْدٌ لَا يَحْمَدُهُ)
” رَبِّ “ یہ اسمائے حسنی سے ہے اور اضافت کے بغیر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر اس کا اطلاق جائز نہیں ہے۔
’’ الْعَالَمِينَ‘‘یہ عالَمٌ کی جمع ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمام کائنات پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ( قرطبی)، حضرت ابن عباس (رض) رَبِّ الْعَالَمِينَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ان الخلق کلہ تمام مخلوقات کا معبود۔
1۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ: حمد کا معنی کسی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ اس پر الف لام استغراق کا ہے جس سے مراد حمد کے تمام افراد ہیں ، یعنی جو تعریف بھی ہے اللہ ہی کی ہے، نہ کسی دوسرے خود ساختہ معبود کی نہ کسی مخلوق کی، کیونکہ مخلوق میں اگر تعریف کے لائق کوئی خوبی ہے تو وہ اسی کی پیدا کردہ ہے۔
2۔لفظ ’’اللّٰہ‘‘ چونکہ ذاتی نام ہے، اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء و صفات آ جاتے ہیں ، وہ ننانوے اسماء و صفات بھی جن کا ذکر حدیث میں ہے اور وہ بھی جو ان کے علاوہ ہیں ، خواہ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں یا ان کا علم صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد وہ ذات گرامی ہے جو نبی بھی ہے رسول بھی، شاہد، مبشر اور نذیر بھی، داعی الی اللہ اور سراج منیر بھی، ماحی اور عاقب بھی، خاتم النّبیین اور سید ولد آدم بھی، غرض اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم (ذاتی نام) میں آپ کے تمام نام اور تمام صفات آ جاتی ہیں ، اسی طرح لفظ ’’اللہ‘‘ علم (ذاتی نام) ہونے کی وجہ سے تمام اسماء و صفات کا جامع ہے، اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‘‘ دعویٰ بھی ہے اور دلیل بھی، یعنی سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور ہر صفت پر اس کی حمد لازم ہے۔
3۔ ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‘‘ میں کئی عموم ہیں اور ایک خصوص ہے۔ ’’ اَلْحَمْدُ ‘‘ میں الف لام استغراق کا ہونے کی وجہ سے کئی قسم کا عموم ہے اور ’’ لِلّٰهِ ‘‘ میں ایک خصوص ہے، وہ یہ کہ اس میں لام اختصاص کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حمد اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ حمد کے عموم میں فاعل کا بھی عموم ہے کہ ہر حمد کرنے والا درحقیقت اللہ ہی کی تعریف کرتا ہے، خواہ وہ خود رب العالمین ہو یا انسان یا جن یا فرشتہ یا کوئی بھی مخلوق ہو۔ ایک مقام پر فرمایا : ﴿وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ﴾ [ بنی إسرائیل : ۴۴ ] ’’جو بھی شے ہے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔‘‘ اسی طرح حمد کے عموم میں مکان (جگہ) کا بھی عموم ہے، یعنی وہ کسی بھی جگہ میں ہو، زمین میں ہو یا آسمان میں ، یا ان کے درمیان ہو یا عرش پر، فرمایا : ﴿وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ﴾ [ الروم : ۱۸ ] یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہے۔ اسی طرح زمان کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد دن میں ہو یا رات میں ، ماضی میں ہو یا حال میں یا مستقبل میں ، دنیا میں ہو یا آخرت میں ، سب کی سب اللہ کے لیے خاص ہے، فرمایا : ﴿وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ﴾ [ القصص : ۷۰ ] ’’اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کے لیے دنیا اور آخرت میں سب تعریف ہے۔‘‘ اس طرح ’’ اَلْحَمْدُ ‘‘ میں خود حمد کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد کسی بھی لفظ کے ساتھ ہو یا کسی بھی زبان میں ، بلند آواز سے ہو یا آہستہ، دل سے ہو یا زبان سے یا دوسرے اعضاء کے ساتھ، غرض تعریف کوئی بھی ہو صرف اکیلے اللہ کے لیے خاص ہے، کسی دوسرے میں کوئی خوبی یا قابل تعریف بات ہے تو وہ اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کر دہ ہے، اس لیے اس کی وجہ سے اس کی تعریف بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے۔
4۔ بعض اہل علم نے قرآن مجید کے چار حصے کیے ہیں ، ہر حصہ ’’ اَلْحَمْدُ ‘‘سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ ’’سورۂ فاتحہ‘‘سے شروع ہوتا ہے، دوسرا ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ﴾ سورۂ انعام سے، تیسرا ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ﴾ سورۂ کہف سے اور چوتھا ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ﴾ سورۂ سبا سے۔
5۔ ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‘‘ ایسا مبارک کلمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا آغاز اس سے ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر خطبہ کی ابتدا اس سے کرتے تھے۔ (مسلم : ۴۵؍۸۶۸) کھانا کھانے کے بعد اور چھینک آنے پر اللہ کی حمد کرتے تھے۔ (بخاری : ۵۴۵۸، ۶۲۲۴) سوتے وقت بستر پر آ کر یہ دعا پڑھتے: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَ آوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ)) ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمیں کافی ہو گیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، کیونکہ کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا۔‘‘ [ مسلم، الذکر والدعاء، باب الدعاء عند النوم : ۲۷۱۵، عن أنس رضی اللّٰہ عنہ ] صبح اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے : (( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ اِلَيْهِ النُّشُوْرُ ))’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔‘‘ [ بخاری، الدعوات، باب وضع الید تحت الخد الیمنٰی : ۶۳۱۴، عن حذیفۃ رضی اللّٰہ عنہ ]
قیامت کے دن لوگ قبروں سے اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے نکلیں گے، فرمایا : ﴿يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ﴾ [ بنی إسرائیل : ۵۲] ’’جس دن وہ تمھیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے چلے آؤ گے۔‘‘ اور جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ کی حمد کریں گے، فرمایا : ﴿وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِهٰذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ﴾ [ الأعراف : ۴۴] ’’اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔‘‘ اور جنت میں ان کی گفتگو کا اختتام بھی اسی پر ہوا کرے گا، فرمایا : ﴿دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ [ یونس : ۱۰ ] ’’ان کی دعا ان (جنتوں ) میں یہ ہو گی ’’پاک ہے تو اے اللہ!‘‘ اور ان کی آپس کی دعا ان میں سلام ہو گی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہو گا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
6۔ کلمہ ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‘‘ ایک عظیم الشان حقیقت کا اظہار بھی ہے، کلمۂ شکر بھی اور بہترین مکمل دعا بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے اور ’’الحمد للّٰہ‘‘ میزان کو بھر دیتا ہے۔‘‘ [ مسلم، الطہارۃ، باب فضل الوضوء : ۲۲۳، عن أبی مالک الأشعری رضی اللّٰہ عنہ ] تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر عبادت کا اصل مقصود اسے پکارنا اور اس سے مانگنا ہے، جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ )) ’’پکارنا ہی عبادت ہے۔‘‘ [ ترمذی، الدعوات، باب منہ .... : ۳۳۷۲، و صححہ الألبانی ] انسان کی ہر عبادت: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد، غرض زندگی کا ہر لمحہ اس کے حکم کے مطابق غلام بن کر گزارنا اس سے مانگنے ہی کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ان میں سے بہترین صورت اس کی تعریف کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے، اس پر وہ مزید نعمتوں سے نوازتا ہے، فرمایا : ﴿لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ﴾ [ إبراہیم : ۷ ] ’’بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا۔‘‘ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((اَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ] ’’سب سے بہتر ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔‘‘ [ ترمذی، الدعوات، باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ : ۳۳۸۳، عن جابر رضی اللّٰہ عنہ ۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ۱۴۹۷ ] ایک عرب شاعر نے اپنے ممدوح کے متعلق کہا ہے:
اِذَا أَثْنٰي عَلَيْكَ الْمَرْأُ يَوْمًا كَفَاهُ مِنْ تَعَرُّضِهِ الثَّنَاءُ
’’جب کوئی شخص کسی دن تمھاری تعریف کرتا ہے تو اسے اس کے سوال کرنے سے تعریف ہی کافی ہو جاتی ہے۔‘‘۔ جب ایک سخی شخص جو مخلوق ہے، صرف تعریف سن کر نواز دیتا ہے، صاف لفظوں میں سوال کا انتظار نہیں کرتا تو رب العالمین جو جواد بھی ہے، ماجد بھی، اپنی حمد پر کیوں نہیں نوازے گا۔ خصوصاً جب اس سے بڑھ کر اپنی تعریف سن کر خوش ہونے والا کوئی نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ایسا کوئی نہیں جسے اللہ سے زیادہ (اپنی) تعریف پسند ہو، اس لیے اس نے خود اپنی تعریف کی ہے۔‘‘ [ بخاری، التفسیر، باب قول اللہ عزوجل : ﴿قل إنما حرم ربی الفواحش....﴾ : ۴۶۳۷، عن ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ]
7۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ: ’’رَبِّ ‘‘ کا معنی ہے سردار جس کی اطاعت ہوتی ہو اور مالک اور پرورش کرنے والا۔ یہ ’’ رَبَّ يَرُبُّ (ن) ‘‘ (پرورش کرنا) میں سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے، یا مصدر ہے جو مبالغہ کے لیے اسم فاعل کی جگہ استعمال ہوا ہے، جیسے ’’زَيْدٌ عَدْلٌ‘‘ ’’زَيْدٌ عَادِلٌ‘‘ کی جگہ استعمال ہوتا ہے، یعنی زید اتنا عادل ہے کہ اس کا وجود ہی عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ میں یہ تینوں صفات بدرجۂ اتم موجود ہیں ، اس سے بڑا سید کوئی نہیں ، وہی سب کا مالک ہے اور ہر ایک کو پیدائش سے کمال تک پہنچانے والا اور اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا بھی وہی ہے، گویا وہ ذات پاک سراپا پرورش ہے۔
8۔ ’’ الْعٰلَمِيْنَ ‘‘ ’’اَلْعَالَمُ‘‘ کی جمع ہے، جہان۔ ’’اَلْعَالَمُ‘‘ جمع ہے جس کا واحد نہیں ، جیسے ’’قَوْمٌ، رَهْطٌ، نَاسٌ‘‘ وغیرہ۔ معنی اس کا ہے : ’’ مَا يُعْلَمُ بِهِ الشَّيْءُ‘‘ جس کے ذریعے سے کسی چیز کا علم حاصل ہو، جیسا کہ ’’خَاتَمٌ‘‘ کا معنی ہے : ’’مَا يُخْتَمُ بِهِ‘‘ جس کے ساتھ مہر لگائی جائے۔ عرب یہ وزن آلہ کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ جہان کو عالم اس لیے کہتے ہیں کہ کوئی بھی مخلوق ہو اس کے ذریعے سے خالق کا علم حاصل ہوتا ہے کہ اسے پیدا کرنے والا موجود ہے۔ ’’الْعٰلَمِيْنَ ‘‘ کو جمع اس لیے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلو ق ایک الگ جہان ہے، مثلاً عالم انس، عالم جن، عالم نبات، عالم جماد، عالم ارض اور عالم سماء وغیرہ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے کئی عالم ہیں ، مثلاً انسانوں میں ہر جنس، ہر زبان اور ہر علاقے والوں کا الگ جہان ہے۔ غرض اتنے بے حساب جہاں ہیں جنھیں رب تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، فرمایا : ﴿ وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ ﴾ [ المدثر : ۳۱ ] ’’اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘ ایک چیونٹی ہی کی ہزاروں قسمیں ہیں ، پرندوں کے بے شمار جہان ہیں ، سمندر کی مخلوقات کا شمار ہی نہیں ، بے شمار کہکشائیں اور ان کے سیارے جن کے مقابلے میں سورج چاند وغیرہ ایک انگوٹھی کی طرح ہیں ، ہر ایک الگ جہان ہے۔ ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے وحدہ لا شریک لہ ہونے کے علم کا ذریعہ ہے۔ رب العالمین ان میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے والا، پھر ہر لمحہ اس کی ہر ضرورت پوری کرنے والا اور اسے کمال تک پہنچانے والا ہے۔ غرض سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ ’’ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ‘‘ ہے۔
9۔ ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‘‘ کے بعد اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں ، پہلی صفت ’’ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ‘‘ میں قرآن کے بنیادی مضامین میں سے توحید کے علاوہ وعدہ اور وعید دونوں موجود ہیں کہ پرورش کرنے والا خوش ہو کر نوازتا ہے تو ناراض ہو کر محروم بھی کر دیا کرتا ہے
وہ تعریف جو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے ساتھ زبان سے ادا کی جائے قرآن کریم میں۲۲مرتبہ الحمدللہ کا ذكر ہے، سب سے افضل دعا ہے، اس سے میزان بھر جاتا ہے مالک ہے دل سے کہا جائے تو مصائب کو ٹالتا ہے۔ تدبیر کرنے والا ہے زندگی کی رہنمائی کے لیے قرآن عطا کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ تعریف کرنے والے تھے، آپ کا نام احمد ، محمد سے ماخوذ ہے۔ پہلی کتابوں میں آپ کی اُمت کا نام حمادون تھا یعنی اچھے اور برے موقع پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والی اُمت۔
شکر گزاری کا راستہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’اے میرے رب! میں ایک دن بھوکا رہنا چاہتا ہوں اور ایک دن کھانا جس دن بھوکا رہوں تو گڑ گڑاکر دعا مانگوں اور جب کھالوں تو پھر تیرا شکر ادا کروں۔‘‘ (تفسیر ابن كثیر: ۵/ ۱۲۱)
رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ساری مخلوقات کی نگرانی کرنے والا، ابتدا سے انتہا تک پہنچانے والا، قرآن کریم میں ۱۰مرتبہ آیا ہے اللہ تعالیٰ سے شعوری تعلق بناکر اس کی یاد کو ہر وقت دل میں بسا لینا چاہیے تاکہ اللہ کی محبت تمام محبتوں پر غالب آجائے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
کی قراءت پر تمام قراء کا مکمل اجماع   ہے۔ قراءاتِ سبعہ عشرہ ﴿نافع، ابن کثیر، ابو عمرو بصری، ابن عامر شامی، عاصم کوفی، حمزہ کوفی، کسائی ابو جعفر مدنی، یعقوب حضرمی، اور خلف بزار﴾ سب کے سب اس آیت کے ہر کلمے کو ایک ہی طرح پڑھتے ہیں، کوئی حرف، حرکت یا مد میں کوئی اختلاف نہیں۔   

ایک لفظ ایک کائنات:
چار الفاظ — تیئس حروف — لامحدود معانی
قرآنِ کریم کو معجزہ کہنا محض ایک جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ ایک ایسی علمی حقیقت ہے جسے عربی زبان کے اپنے داخلی قواعد،بلاغت کے مسلّمہ اصول، اور صدیوں کی انسانی کاوشوں سے موازنہ کرکے باقاعدہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اس تحریر میں ہم صرف ایک آیت — اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ — کے ہر لفظ اور ہر حرف کو اس کے متبادل الفاظ کے ساتھ رکھ کر جانچیں گے اور دیکھیں گے کہ جب بھی کوئی اور لفظ رکھا جائے، کوئی نہ کوئی معنی ٹوٹ جاتا ہے، کوئی نہ کوئی گہرائی ختم ہو جاتی ہے۔

پہلا اعجاز: کیوں «حَمْد » ہے؟ «مَدْح » یا «شُکْر» کیوں نہیں؟ حَمْد — مَدْح — شُکْر

قرآن نے ہر لفظ کو ایسے چنا جیسے کوئی سنار ہزاروں پتھروں میں سے ایک ہیرا چنتا ہے — لیکن فرق یہ ہے کہ سنار غلطی کر سکتا ہے، قرآن نے نہیں کی۔ آئیے اس انتخاب کے اسرار کو تہہ در تہہ کھولتے ہیں۔
یہ سب سے بنیادی سوال ہے اور اس کا جواب عربی لغت کی سب سے نازک تہہ میں چھپا ہے۔ تعریف اور شکر کے لیے عربی میں کئی الفاظ ہیں لیکن تین الفاظ سب سے زیادہ قریب ہیں: حَمْد، مَدْح، اور شُکْر۔ بظاہر تینوں کا مفہوم ایک سا لگتا ہے، لیکن اندر سے یہ تینوں بالکل جدا دنیائیں ہیں۔
مَدْح :

محض ظاہری خوبی کی تعریف — چاہے ارادی ہو یا غیر ارادی۔ عرب پھول کی بھی مدح کرتے تھے۔ اگر «اَلْمَدْحُ لِلّٰہِ» ہوتا تو اللہ کی تعریف بے جان پھول کی تعریف جیسی ہو جاتی — کوئی شعور نہیں، کوئی ارادہ نہیں، کوئی محبت نہیں۔
شُکْر:

احسان کے بدلے شکرگزاری — یعنی ایک ردِعمل۔ «شَكَرْتُكَ عَلَى عَطَائِكَ» میں پہلے عطاء، پھر شکر۔ اگر «اَلشُّكْرُ لِلّٰہِ» ہوتا تو مطلب نکلتا: «اللہ کا شکر اس لیے کہ اس نے دیا» — یعنی شکر مشروط ہو جاتا۔ اگر نہ دیتا تو؟
حَمْد :

ارادی اور اختیاری خوبی پر تعریف، جس میں محبت اور تعظیم بھی شامل ہو۔ گویا: حَمْد = مَدْح + شُکْر+ مَحَبَّة۔ تین الفاظ کا کام ایک لفظ نے کر دیا — اور وہ جوہر بھی دیا جو تینوں میں الگ الگ بھی نہیں تھا۔
عربی کے علماء نے کہا ہے: «الحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ عَلَى الجَمِيلِ الاخْتِيَارِيِّ» — یعنی حمد وہ تعریف ہے جو ارادی اور اختیاری خوبی پر، محبت اور تعظیم کے ساتھ کی جائے۔ یہ وہ لفظ ہے جو اللہ کی ذاتی عظمت کا بھی اعتراف کرتا ہے، اس کے احسانات پر شکر بھی ادا کرتا ہے، اور دل کی گہرائی سے محبت و تعظیم بھی ظاہر کرتا ہے — بیک وقت، ایک ہی لفظ میں۔
دوسرا اعجاز: کیوں «رَبّ» ہے؟ «خَالِق» یا «اِلٰہ» کیوں نہیں؟ رَبّ — خَالِق — اِلٰہ 
یہ سوال اتنا گہرا ہے کہ اس کا جواب پوری کائنات کے نظام سے جڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں خَالِق بھی ہے، اِلٰہ بھی ہے، اور رَبّ بھی — لیکن اس آیت میں رَبّ کیوں؟ آئیے تینوں کو ترازو میں رکھتے ہیں۔
خَالِق:

صرف ایجاد — پیدا کیا اور بس۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ خَالِقِ الْعَالَمِينَ» کہتے تو اللہ کا تعلق پیدائش کے لمحے پر ختم ہو جاتا۔ پیدائش کے بعد کی پرورش، رزق، نگہبانی، محبت — سب غائب۔
اِلٰہِ :

صرف حق — کہ اس کی عبادت کی جائے۔ «اِلٰہِ الْعَالَمِينَ» کہتے تو صرف مطالبہ ہوتا بغیر عطاء کے، صرف دعویٰ ہوتا بغیر تعلق کے، صرف حق ہوتا بغیر رحمت کے۔
رَبّ :

پیدا کرنا، پالنا، روزی دینا، انتظام کرنا، نگہبانی کرنا، کمال تک پہنچانا — سب ایک ساتھ، مسلسل، ہر لمحے۔ عربی میں «رَبَّ الشَّيءَ» کا مطلب ہے کسی شے کو ابتداء سے کمال تک بتدریج پہنچانا۔ اور یہ لفظ حمد کی علت بھی بتاتا ہے: تعریف کیوں؟ کیونکہ وہ رَبّ ہے!
ہے وہ دودھ پلاتا ہے، چلنا سکھاتا ہے، بولنا سکھاتا ہے — بتدریج بچے کو کمال تک پہنچاتا ہے۔ یہ کام «رَبَّ» کا ہے نہ کہ «خَلَقَ » کا۔ اور اللہ تمام مخلوقات کے لیے یہی کرتا ہے — ہر لمحے، ہر سانس پر۔

اور رَبّ میں یہ سب ایک ساتھ سمویا ہوا ہے خَلَقَ (پیدا کیا) رَزَقَ (روزی دی) دَبَّرَ (انتظام کیا) رَعَى (نگہبانی کی) كَمَّلَ (کمال تک پہنچایا)۔ پانچ افعال، ایک لفظ میں — اور پھر یہ لفظ حمد کا سبب بھی بیان کر دیتا ہے۔ یہ «خَالِق» یا «اِلٰہ» میں ممکن نہیں تھا۔
وہ ذات جو پیدا کرے، پھر پالے، پھر ضروریات پوری کرے، پھر بتدریج کمال تک پہنچائے، اور اس پورے سفر میں مالک اور نگہبان بھی رہے۔ انگریزی میں یہ سب بیان کرنے کے لیے کم از کم پانچ الگ الفاظ چاہئیں:Creator, Sustainer, Nurturer, Developer, Owner اور پھر بھی مطلب نامکمل رہے گا۔ قرآن نے یہ سب کچھ ایک لفظ میں سمیٹ دیا۔
تیسرا اعجاز:جملہ اسمیہ — ثبات اور دوام کا سحراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

عربی میں دو طرح کے جملے ہوتے ہیں۔ جملہ فعلیہ (فعل سے شروع) اور جملہ اسمیہ (اسم سے شروع)۔ فرق صرف گرائمر کا نہیں، بلکہ معنی کی گہرائی کا ہے۔ اور قرآن نے اسی فرق کو برتا ہے۔
حَمِدْتُ اللهَ
اگر یہ ہوتا — ماضی کا فعل — تو مطلب ہوتا «میں نے ایک بار تعریف کی» — ایک خاص وقت میں، ایک خاص موقع پر، پھر ختم۔
نَحْمَدُ اللهَ
اگر یہ ہوتا — مضارع فعلیہ — تو مطلب ہوتا «ہم اللہ کی تعریف کرتے ہیں» — ابھی، اس لمحے میں — لیکن لمحہ بدلا تو؟
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
جملہ اسمیہ — ازل سے ابد تک کی کائناتی حقیقت۔ نہ کسی وقت کی پابندی، نہ کسی شخص کی قید، نہ کسی حال کی شرط۔ حمد اللہ کا حق ہے — جیسے نور سورج کا ہے۔
بلاغت کے علماء کہتے ہیں کہ جملہ اسمیہ «ثبوت اور دوام» کا فائدہ دیتا ہے۔ قرآن نے حمد کو ایک عمل نہیں بلکہ ایک ابدی حقیقت کے طور پر پیش کیا — اور یہ صرف جملے کی قسم بدلنے سے ممکن ہوا۔
 چوتھا اعجاز:ایک حرف — ایک توحید  اَلْحَمْدُ
اب ذرا سوچیں: اگر قرآن «حَمْدٌ لِلّٰہِ» کہتا — بغیر «اَلْ» کے — تو کیا ہوتا؟
حَمْدٌ بغیر اَلْ کے، نکرہ کا مطلب ہوتا «کچھ تعریف اللہ کے لیے ہے» — یعنی بعض تعریف، ایک حصہ۔ باقی شاید کسی اور کے لیے بھی ہو؟ اس میں شرک کی گنجائش کھلی رہتی۔
لیکن «اَلْحَمْدُ » میں جو «اَلْ» آئی، وہ «اَلْ استغراقیہ» ہے — یعنی پوری جنس کو سمیٹنے والی۔ اس کا مطلب ہے: تعریف کا ہر ذرہ، ہر قسم، ہر درجہ، ہر پہلو، ہر زبان میں، ہر زمانے میں — سب صرف اللہ کے لیے ہے۔ ایک حرف «اَلْ» نے شرک کے تمام دروازے بند کر دیے — اور یہ کام عقیدے کی بنیاد سنوارنے کا تھا، گرائمر کے ایک حرف سے۔
پانچواں اعجاز :لامِ اختصاص — ناقابلِ توڑ رشتہ
اگر قرآن «حَمْدٌ لِلّٰہِ» کہتا — بغیر لام کے — تو «اللهَ» مفعول بنتا اور مطلب ہوتا «اللہ کی تعریف کی» — ایک عمل ایک واقعہ، ایک لمحے میں ادا کردہ۔
لیکن «لِلّٰہِ» میں «لامِ اختصاص» آیا اور اس نے حمد کو اللہ سے ایسے باندھ دیا جیسے نور سورج سے باندھا ہوا ہے، جیسے پانی سمندر سے جڑا ہوا ہے — ایک فطری، ذاتی، ناقابلِ جدائی رشتہ۔ یہ نہیں کہا «میں تعریف کرتا ہوں» — یہ کہا «حمد اللہ کی ہے» — یعنی حمد اللہ کی ملکیت ہے، اس کا حق ہے، اس کا فطری مقام ہے۔
چھٹا اعجاز:ایک گہرا لسانی انتخاب عَالَمِیْنَ 
عربی میں «عَالَم» کی سادہ جمع «عَوالِم» ہے جو اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لیکن قرآن نے «عَالَمِیْنَ » کہا — جمع مذکر سالم — جو عربی گرائمر میں عاقل اور ذی شعور کے لیے آتی ہے۔
اس انتخاب میں ایک لطیف حکمت ہے: ہر «عَالَم» کی اپنی پہچان ہے، اپنا وجود ہے، اپنی ضروریات ہیں — عَالَمُ الجِنِّ، عَالَمُ الإِنْسِ، عَالَمُ الْمَلَائِكَةِ، عَالَمُ الْحَيَوَانِ، عَالَمُ النَّبَاتِ — اور ہر ایک کی ضروریات دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ ایک مچھلی کو پانی چاہیے، ایک پرندے کو ہوا، ایک انسان کو علم و محبت بھی۔ لیکن رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سب کا کفیل ہے — ہر ایک کے احوال اور ظروف کے مطابق، الگ الگ، بیک وقت۔
«عَوالِم» کہتے تو یہ باریکی نہ آتی۔ «عَالَمِیْنَ » نے ہر جہان کو ایک شخصیت دے دی، اور پھر اللہ کی ربوبیت کو ہر شخصیت کے لیے خاص اور مکمل بتایا۔
چار الفاظ — لامحدود معانی اور یہی جَوامِعُ الْكَلِم ہیں کم الفاظ میں زیادہ بات سمجھا دینا۔

اب پوری آیت پر ایک نظر ڈالیں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
چار الفاظ — تیئس حروف
توحید کا اعلان ✦ شرک کی نفی ✦ ذاتی خوبیوں کا اعتراف ✦ احسانات پر شکر ✦ دل کی محبت ✦ ازل سے ابد تک کا احاطہ ✦ ہر مخلوق کی ربوبیت

اس آیت کے کسی سائنسی معجزے کا ہمیں علم نہیں۔

(الحمد) مبتدأ مرفوع. (لله) جار ومجرور متعلق بمحذوف خبر المبتدأ تقديره ثابت أو واجب. (ربّ) نعت للفظ الجلالة تبعه في الجر وعلامة الجر الكسرة. (العالمين) مضاف إليه مجرور وعلامة الجر الياء لأنه ملحق بجمع المذكر السالم.
وجملة: «الحمد لله .. » لا محل لها ابتدائية.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
(الحمد) مبتدا ہے جو مرفوع ہے۔(لله) جار اور مجرور مل کر مبتدا کی اس 'خبر' سے متعلق ہیں جو یہاں محذوف (پوشیدہ) ہے، جس کی تقدیر (اصل عبارت) 'ثابت' یا 'واجب' ہے۔(ربّ) لفظِ جلالہ (اللہ) کے لیے نعت (صفت) ہے، جو جر میں اسی کے تابع ہے اور اس کے جر کی علامت کسرہ (زیر) ہے۔(العالمین) مضاف الیہ ہے جو مجرور ہے اور اس کے جر کی علامت 'یاء' ہے کیونکہ یہ ملحق بجمع مذکر سالم ہے۔
اور جملہ: «الحمد لله .. » لا محل لہا (یعنی اس کا کوئی اعرابی محل نہیں) کیونکہ یہ ابتدائیہ ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔

(الحمد) مصدر سماعي لفعل حمد يحمد باب نصر وزنه فعل بفتح فسكون.
(ربّ) مصدر يرب باب نصر، ثم استعمل صفة كعدل وخصم، وزنه فعل بفتح فسكون.
(العالمين) جمع العالم، وهو اسم جمع لا واحد له من لفظه، وهو مشتق إما من العلم بكسر العين أو من العلامة، وزنه فاعل بفتح العين، وكذلك جمعه.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
اردوترجمہ:
(الحمد) یہ فعل 'حَمَدَ يَحْمُدُ' (بابِ نصر) سے مصدرِ سماعی ہے، اور اس کا وزن 'فَعْل' (فاء پر فتحہ اور عین پر سکون) ہے۔
(ربّ) یہ 'يَرُبُّ' (بابِ نصر) سے مصدر ہے، پھر اسے 'عَدْل' اور 'خَصْم' کی طرح بطورِ صفت استعمال کیا گیا، اور اس کا وزن 'فَعْل' (فاء پر فتحہ اور عین پر سکون) ہے۔
(العالمین) یہ 'العالَم' کی جمع ہے، اور یہ ایسا اسمِ جمع ہے جس کا اپنے لفظ سے کوئی واحد نہیں، یہ یا تو 'العِلْم' (عین کے کسرہ کے ساتھ) سے مشتق ہے یا 'العلامة' سے، اس کا وزن 'فَاعَل' (عین کے فتحہ کے ساتھ) ہے، اور اسی طرح اس کی جمع کا وزن بھی ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔

یہ کلمہ اسم ہے اور اپنی ذات میں کمالِ مبالغہ رکھتا ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ح، م، د) ہیں اور اس کا مادہ "حمد" ہے۔ اگر اس کے وزن کی بات کی جائے تو یہ "فَعْلٌ" کے وزن پر آتا ہے۔ صیغے کے لحاظ سے یہ اسمِ مصدر ہے اور معرفہ (الف لام کی وجہ سے) ہے۔ حروفِ زائدہ اس میں الف اور لام (تعریف کے لیے) ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "صحیح" ہے کیونکہ اس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت یا ہمزہ نہیں، اور شش اقسام میں یہ "ثلاثی مجرد" کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ مرکب ہے "لِ" (حرفِ جر) اور "اللہ" سے۔ لفظ اللہ کے حروفِ اصلیہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں، مشہور قول کے مطابق اس کے حروف (ا، ل، ہ) ہیں اور اس کا مادہ "إلٰه" (الاہ) ہے۔ اس کا وزن "اَلْفَعَّال" سے بگڑا ہوا مانا جاتا ہے یا یہ "اَلْفِعَال" کے قریب ہے۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ جامد اور علم (خالقِ کائنات کا مخصوص نام) ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف لام ہیں جو تعظیم اور تخصیص کے لیے ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "مہموز الفاء" (اگر اصل 'إلہ' ہو) یا "اجوف" کہلائے گا، اور شش اقسام میں "ثلاثی مجرد" ہے۔
لفظ "رَبّ" کے حروفِ اصلیہ (ر، ب، ب) ہیں، یعنی اس میں حرفِ "ب" دو بار ہے۔ اس کا مادہ "رَبْب" ہے اور وزن "فَعْلٌ" ہے۔ صیغہ کے لحاظ سے یہ صفتِ مشبہ یا اسمِ مصدر ہے جو فاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (یعنی پالنے والا)۔ اس میں کوئی حرفِ زائد نہیں ہے سوائے اس کے کہ ادغام کی وجہ سے ایک "ب" دوسری میں مدغم ہے۔ ہفت اقسام میں یہ "مضاعف ثلاثی" ہے (کیونکہ دو حروفِ اصلیہ ایک جیسے ہیں) اور شش اقسام میں "ثلاثی مجرد" ہے۔
یہ لفظ "عَالَم" کی جمعِ سالم ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ع، ل، م) ہیں اور اس کا مادہ "علم" (نشانی) ہے۔ اس کا وزن (واحد کی حالت میں) "فَاعَلٌ" ہے اور جمع کی حالت میں "فَاعَلِیْن"۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ آلہ کے وزن پر ہے (وہ چیز جس کے ذریعے خالق کو پہچانا جائے) اور حالتِ جری میں جمع مذکر سالم ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف (ع کے بعد) اور جمع کے لیے "ی" اور "ن" ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "صحیح" ہے اور شش اقسام میں "ثلاثی مزید فیہ" کے مشابہ وزن رکھتا ہے۔
1 - إن جملة {الْحَمْدُ لِلّهِ} خبر، لكنها استعملت لإنشاء الحمد وفائدة الجملة الاسمية ديمومة الحمد واستمراره وثباته. وفي قوله «لله» فن الاختصاص للدلالة على أن جميع المحامد مختصة به سبحانه وتعالى.
2 - لما افتتح سبحانه وتعالى كتابه بالبسملة وهي نوع من الحمد ناسب أن يردفها بالحمد الكلي الجامع لجميع أفراده البالغ أقصى درجات الكمال.
3 - أما حمد الله تعالى نفسه فإنه إخبار باستحقاق الحمد وأمر به أو أنه مقول على ألسنة العباد، أو مجاز عن إظهار الصفات الكمالية الذي هو الغاية القصوى من الحمد.
وقد قدم الحمد على الاسم الجليل لاقتضاء المقام فريد اهتمام به، وإن كان ذكر الله تعالى أهم في نفسه والأهمية تقتضي التقديم.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
1- جملہ {الْحَمْدُ لِلّهِ} اگرچہ خبریہ ہے، لیکن یہاں اسے 'انشاءِ حمد' (حمد و ثنا بیان کرنے) کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ جملہ اسمیہ کا فائدہ یہ ہے کہ یہ حمد کے دوام، استمرار اور اس کے ثبات (ہمیشگی) پر دلالت کرتا ہے۔ اور اللہ کے نام کے ساتھ «لله» (لامِ اختصاص) میں 'فنِ اختصاص' پایا جاتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تمام تر تعریفیں صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہی خاص ہیں۔
2- جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز 'تسمیہ' (بسم اللہ) سے کیا جو کہ خود حمد کی ایک قسم ہے، تو یہ مناسب تھا کہ اس کے فوراً بعد ایسی 'حمدِ کلی' لائی جائے جو حمد کی تمام اقسام کو جامع ہو اور کمال کے آخری درجے تک پہنچی ہوئی ہو۔
3- اللہ تعالیٰ کا اپنی حمد خود بیان کرنا دراصل اس بات کی خبر دینا ہے کہ وہی حمد کا مستحق ہے، اور یہ بندوں کو حمد کرنے کا حکم بھی ہے۔ یا پھر یہ (الحمدللہ) بندوں کی زبان سے کہلوایا گیا کلام ہے، یا یہ اللہ کی صفاتِ کمالیہ کے اظہار سے مجاز ہے، جو کہ حمد کا اصل اور آخری مقصد ہے۔
اور یہاں لفظِ جلالہ (اللہ) سے پہلے 'الحمد' کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ مقام کا تقاضا ہے کہ حمد پر خصوصی توجہ دی جائے، اگرچہ بذاتِ خود اللہ کا ذکر سب سے اہم ہے اور اہمیت کا تقاضا بھی تقدیم (پہلے آنا) ہی ہوتا ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)

یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔

صرفی وضاحت:
یہ کلمہ اسم ہے اور اپنی ذات میں کمالِ مبالغہ رکھتا ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ح، م، د) ہیں اور اس کا مادہ "حمد" ہے۔ اگر اس کے وزن کی بات کی جائے تو یہ "فَعْلٌ" کے وزن پر آتا ہے۔ صیغے کے لحاظ سے یہ اسمِ مصدر ہے اور معرفہ (الف لام کی وجہ سے) ہے۔ حروفِ زائدہ اس میں الف اور لام (تعریف کے لیے) ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "صحیح" ہے کیونکہ اس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت یا ہمزہ نہیں، اور شش اقسام میں یہ "ثلاثی مجرد" کے زمرے میں آتا ہے۔
مختصر لغوی تفسیر:
الحمد للّٰہ کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کی اس کی فضیلت اور اختیاری افعال پر تعریف و ثنا بیان کرنا۔ حمد، مدح اور شکر سے مختلف ہے؛ مدح کسی کے اختیاری کاموں اور پیدائشی اوصاف دونوں پر ہو سکتی ہے، جبکہ حمد صرف اختیاری افعال اور کمالات پر ہوتی ہے۔ شکر صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی کا احسان ہو، اس لیے ہر شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہوتی۔ جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کو حمید کہا گیا ہے یعنی وہ خود بھی قابلِ تعریف ہے اور بندوں کی حمد کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ نبی ﷺ کے نام احمد اور محمد بھی لفظ حمد سے نکلے ہیں؛ احمد کا معنی ہے سب سے زیادہ حمد کرنے والا یا سب سے زیادہ قابلِ حمد، اور محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اعلیٰ اخلاق اور اوصاف کی وجہ سے سب سے زیادہ قابلِ تعریف ہیں۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
الحمدُ للّٰہ (تعالیٰ) کے معنی اللہ تعالیٰ کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر صادر ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدائشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس طرح مال کے خرچ کرنے، علم و سخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اسی طرح اس کی درازیٔ قد و قامت اور چہرے کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حمد صرف افعال اختیاریہ پر ہوتی ہے نہ کہ اوصاف اضطراریہ پر، اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں۔ لہٰذا شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہے اور ہر حمد کے ساتھ شکر کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ (1) اور جس کی حمد کی تعریف کی جاتی ہے اسے محمود کہا جاتا ہے۔ مگر محمود صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو بکثرت قابلِ ستائش خصائل رکھتا ہو نیز جب کبھی کسی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿اللّٰهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے۔
حمید بمعنی محمود بھی ہو سکتا ہے اور حامد بھی۔ حَمِدَكَ أَن تَفْعَلَ كَذَا: معنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بہتر ہے۔ اور آیت کریمہ: ﴿وَمَبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ ان کی بشارت سناتا ہوں۔
لفظ احمد میں لفظ حمد سے آنحضرت ﷺ کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ ﷺ اپنے اخلاق و اطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی بشارت میں لفظ احمد (صفت تفضیل) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے پیشرو جملہ انبیاء سے افضل ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ﴾ (48:29) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میں لفظ محمد ﷺ کے بجائے حضرت احمد ﷺ کا نام ہے کیونکہ اس میں اجتذاب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ آیت کریمہ: ﴿إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾۔
بِفِعْلِهِ اسْمُ يَجْتَبِي (1:19) میں بیان ہو چکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیثیت پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذکور ہے۔
صرفی وضاحت:
یہ مرکب ہے "لِ" (حرفِ جر) اور "اللہ" سے۔ لفظ اللہ کے حروفِ اصلیہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں، مشہور قول کے مطابق اس کے حروف (ا، ل، ہ) ہیں اور اس کا مادہ "إلٰه" (الاہ) ہے۔ اس کا وزن "اَلْفَعَّال" سے بگڑا ہوا مانا جاتا ہے یا یہ "اَلْفِعَال" کے قریب ہے۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ جامد اور علم (خالقِ کائنات کا مخصوص نام) ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف لام ہیں جو تعظیم اور تخصیص کے لیے ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "مہموز الفاء" (اگر اصل 'إلہ' ہو) یا "اجوف" کہلائے گا، اور شش اقسام میں "ثلاثی مجرد" ہے۔
مختصر لغوی تفسیر:
لفظ اللہ کے بارے میں اہلِ لغت کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ اصل میں إلٰه تھا جس پر الف لام لا کر اسے خاص طور پر ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ إلٰه عام لفظ ہے جو ہر معبود کے لیے بولا جا سکتا ہے، خواہ وہ حق ہو یا باطل۔ اس کے اشتقاق کے بارے میں بھی مختلف آراء ہیں: بعض کے نزدیک یہ أَلَهَ سے ہے جس کے معنی عبادت کرنا ہیں، اس لحاظ سے إلٰه کا معنی معبود ہوگا۔ بعض کے نزدیک یہ آلِهَ (حیران ہونا) سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وَلِهَ سے ہے جس کے معنی شدید محبت اور وارفتگی کے ہیں، کیونکہ تمام مخلوق فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہے۔ ایک اور قول کے مطابق یہ لَاهَ سے ہے جس کے معنی پردے میں چھپ جانا ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ اسی طرح اللّٰهم دراصل یا اللہ کے معنی میں آتا ہے اور اس میں میم حرفِ ندا کے بدلے میں آئی ہے۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
اللہ (ﷻ): بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں إلٰه ہے ہمزہ (تخفیفاً) حذف کر دیا گیا ہے اور اس پر الف لام (تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے اسی تخصیص کی بنا پر فرمایا: (هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا) کیا تمہیں اس کے کسی ہم نام کا علم ہے۔ إلٰه کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے (خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبودِ باطل) اور وہ سورج کو اِلاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا۔ إلٰه کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ اَلَهَ (ف) یَاْلَهٗ فُلَانٌ وَتَاَلَّهَ سے مشتق ہے جس کے معنی پرستش کرنا ہے اس بنا پر اِلٰہَ کے معنی ہوں گے: معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آلِہَ (س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک سے چونکہ عقول، متیحر اور درماندہ ہیں اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: (1) (كُلُّ دُوْنَ صِفَاتِهٖ تَحْبِيْرُ الصِّفَاتِ وَضَلَّ هُنَاكَ تَصَارِيْفُ اللُّغَاتِ) اے بروں از وہم وقال وقبل من خاک بر فرق من و تمثیل من اس لیے کہ انسان جس قدر صفات الہیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: (2) (تَفَكَّرُوْا فِيْ اٰلَاءِ اللهِ وَلَا تَفَكَّرُوْا فِي اللهِ) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو۔ (۲) بعض نے کہا ہے کہ اِلٰہَ اصل میں وِلَاہَ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر اِلاھہ بنا لیا ہے اور وَلِہَ (س) کے معنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں (3) اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان۔ اسی لیے بعض حکماء نے کہا ہے کہ ذات باری تعالیٰ تمام اشیاء کو محبوب ہے او رآیت کریمہ: (وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لَاھَ یَلُوْہُ لِیَاھً سے ہے جس کے معنی پردہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ نیز آیت کریمہ: (وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ) میں "الباطن" کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اِلٰہَ: یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لیے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا، اس لیے اٰلِهَةٌ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے۔ قرآن پاک میں ہے: (اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچائیں۔ (وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہو جائیں۔ ایک قرأت میں وَاِلَاھَتَکَ ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں لَاھَ اَنْتَ۔ یہ اصل میں لِلّٰہِ اَنْتَ سے ایک لام کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا گیا ہے۔ اللّٰھُمَّ: بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یَا اَللہُ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یاء حرفِ ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ اصل میں یَا اَللہُ اُمَّنَا بِخَیْرٍ (اے اللہ! تو خیر کے ساتھ ہماری طرف توجہ فرما) ہے (کثرتِ استعمال کی بنا پر) حَیْھَلَا کی طرح مرکب کر کے اللّٰھُمَّ بنا لیا گیا ہے۔ (4) (جیسے عَلَم) اِلیٰ: حرف (جر) ہے اور جہاتِ ستہ میں سے کسی جہت کی نہایت حد بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔
صرفی وضاحت:
لفظ "رَبّ" کے حروفِ اصلیہ (ر، ب، ب) ہیں، یعنی اس میں حرفِ "ب" دو بار ہے۔ اس کا مادہ "رَبْب" ہے اور وزن "فَعْلٌ" ہے۔ صیغہ کے لحاظ سے یہ صفتِ مشبہ یا اسمِ مصدر ہے جو فاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (یعنی پالنے والا)۔ اس میں کوئی حرفِ زائد نہیں ہے سوائے اس کے کہ ادغام کی وجہ سے ایک "ب" دوسری میں مدغم ہے۔ ہفت اقسام میں یہ "مضاعف ثلاثی" ہے (کیونکہ دو حروفِ اصلیہ ایک جیسے ہیں) اور شش اقسام میں "ثلاثی مجرد" ہے۔
مختصر لغوی تفسیر:
لفظ الرَّبّ کا اصل معنی ہے پرورش کرنے والا یا تربیت دینے والا، یعنی کسی چیز کو بتدریج نشوونما دے کر حد کمال تک پہنچانا۔ یہ مصدر استعارۃً فاعل کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور مطلق ہونے پر اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے کیونکہ وہ تمام مخلوقات کے مصالح اور کفیل ہے۔ اس سے مشتق الفاظ میں رَبِّی (میرا پروردگار)، رَبَّانِیّ (علم و تربیت دینے والا، اللہ والا)، رُبُوْبِیَّة (پروردگاری) شامل ہیں۔ عام زبان میں بھی رَبُّ الدّار، رَبُّ الفرس، رَبِّيب وغیرہ اسی معنی میں آتے ہیں۔ قرآن میں الرَّبُّ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص استعمال ہوا ہے، جبکہ کفار اپنی محدود تصورات کے مطابق أَرْبَاب کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ لفظ کا استعمال پرورش، کفالت اور اختیار کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے، جیسا کہ آیات میں “رَبِّ الْعَالَمِينَ” اور “اللّٰهُ رَبُّكُمْ” میں آیا ہے۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
اَلرَّبُّ: (ان) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کسی چیز کو بتدریج نشو و نما دے کر حد کمال تک پہنچانا کے ہیں اور رَبَّہٗ، وَرَبَّاہٗ وَرَبَّتَہٗ تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ (1) لِأَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ: کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے۔ رَبٌّ کا لفظ اصل میں مصدر ہے استعارۃً بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق (یعنی اضافت اور لام تعریف سے خالی) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چنانچہ ارشاد ہے: (بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ) عمدہ شہر اور (آخرت میں) گناہ بخشنے والا پروردگار نیز فرمایا: (وَلَا يَأْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۤىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا) اور وہ تم سے (کبھی بھی) یہ نہیں کہے گا کہ فرشتوں اور انبیاء کرام کو خدا مانو (یعنی انہیں معبود بناؤ) اور مسبب الاسباب اور مصالح عباد کو کفیل سمجھو۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا جاتا ہے اور دوسروں پر بھی۔ چنانچہ فرمایا: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) ہر طرح کی حمد خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) - (اَللّٰهُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۤىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ) یعنی اللہ تعالیٰ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا بھی۔ رَبُّ الدَّارِ: گھر کا مالک رَبُّ الْفَرَسِ: گھوڑے کا مالک اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا: (اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ) اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کرنا۔ سو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ (ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ) اپنے سرکار کے پاس لوٹ جاؤ۔ اور آیت کریمہ: (مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْ اَحْسَنَ مَثْوَایَ) (یوسف نے کہا) معاذ اللہ وہ (تمہارا شوہر) میرا آقا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رَبِّیْ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور بعض نے عزیزِ مصر مراد لیا ہے لیکن پہلا قول انسب معلوم ہوتا ہے۔ (2) رَبَّانِیٌّ: بقول بعض یہ رَبَّانٌ (صیغہ صفت) کی طرف منسوب ہے لیکن عام طور پر فَعْلَانُ (صفت) فَعِلَ سے آتا ہے۔ جیسے عَطْشَانُ، سَکْرَانُ اور فَعَلَ (فتحہ عین سے بہت کم آتا ہے) جیسے نَعْشَانُ (مِنْ نَعَسَ) بعض نے کہا کہ یہ رَبٌّ (مصدر) کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم کی پرورش کرے جیسے حکیم (یعنی جو حکومت کو فروغ دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ رَبٌّ مصدر کی طرف ہی منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم سے اپنی پرورش کرے درحقیقت یہ دونوں معنی باہم متلازم ہیں کیونکہ جس نے علم کی پرورش کی تو اس نے علم کے ذریعہ اپنی ذات کی بھی تربیت کی اور جو شخص اس کے ذریعہ اپنی ذات کی تربیت کرے گا وہ علم کو بھی فروغ بخشے گا۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ رَبٌّ بمعنی اللہ کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ بمعنی اِلٰھِیٌّ ہے (یعنی اللہ والا) اور اس میں الف نون زائدتان ہیں جیسا کہ جِسْمٌ و جُسْمَانِیٌّ و لِحْیَانِیٌّ کہا جاتا ہے (3) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: (168) اَنَا رَبَّانِیُّ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ: میں اس امت کا عالم ربانی ہوں اس کی جمع رَبَّانِیُّوْنَ ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (لَوْلَا يَنْهٰهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ) انہیں ان کے نبی (یعنی مشائخ) کیوں منع نہیں کرتے۔ (كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ) بلکہ دوسروں سے کہے گا کہ تم خدا پرست ہو کر رہو۔ اور بعض نے کہا ہے کہ رَبَّانِیٌّ اصل میں سریانی لفظ ہے اور یہی قول انسب معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ عربی زبان میں یہ لفظ بہت کم پایا جاتا ہے۔ (4) اور آیت کریمہ: (رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ) بہت سے اللہ والوں نے۔ میں رِبِّیٌّ بمعنی رَبَّانِیٌّ ہے۔ (5) اَلرُّبُوْبِيَّةُ وَالرِّبَابِيَّةُ: یہ دونوں مصدر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے رُبُوْبِیَّة کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اَرْبَابٌ (صیغہ صفت) جمع ارباب قرآن پاک میں ہے: (ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) بھلا دیکھو تو سہی کہ جدا جدا معبود اچھے یا خدائے یگانہ اور زبردست۔ اصل تو یہ تھا کہ رَبٌّ کی جمع نہ آتی۔ کیونکہ قرآن پاک میں یہ لفظ خاص کر ذات باری تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن عقیدہ کفار کے مطابق بصيغہ جمع استعمال ہوا ہے اور اَرْبَابٌ کے علاوہ اس کی جمع اَرِبَّةٌ و رُبُوْبٌ بھی آتی ہے۔ چنانچہ شاعر نے کہا ہے (6) (بسیط) (168) كَانَتْ أَرِبَّتُهُمْ بَهْزًا وَعَمَّهُمْ عَقْدُ الْجِوَارِ وَكَانُوْا مَعْشَرًا غُدُرًا ان کے ہم عہد بنی بہز تھے جنہیں عقدِ جوار نے مغرور کر دیا اور درحقیقت وہ غدار لوگ ہیں۔ دوسرے شاعر نے کہا ہے۔ (7) (طویل) (168) وَكُنْتُ امْرَئً أَفْضَتْ إِلَيْكَ رِبَابَتِي وَقَبْلَكَ رَبَّتْنِي فَضَعْتُ رُبُوْبُ تم وہ آدمی ہو جس تک میری سرپرستی پہنچی ہے تم سے پہلے بہت سے میرے سرپرست بن چکے ہیں۔ مگر میں ضائع ہو گیا ہوں۔ رِبَابَةٌ: عہد و پیمان یا اس چیز کو کہتے ہیں جس میں قمار بازی کے تیر لپیٹ کر رکھے جاتے ہیں۔ رَابَّةٌ: وہ بیوی جو پہلے شوہر سے اپنی اولاد کی تربیت کر رہی ہو۔ اس کا مذکر رَابٌّ ہے۔ لیکن وہ اولاد جو پہلے شوہر سے ہو اور دوسرے شوہر کی زیر تربیت ہو یا پہلی بیوی سے ہو اور دوسری بیوی کی آغوش میں پرورش پا رہی ہو۔ اسے رَبِيْبٌ یا رَبِيْبَةٌ کہا جاتا ہے اس کی جمع رَبَائِبُ آتی ہے قرآن پاک میں ہے: (وَرَبَاۤىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ) اور تمہاری بیویوں کی (پچھلی) اولاد جو تمہاری گودوں میں (پرورش پاتی) ہے۔ رَبَّبْتُ الْاَدِیْمَ بِالسَّمْنِ: میں نے چمڑے کو گھی لگا کر نرم کیا۔ رَبَّبْتُ الدُّهْنُ اَیْ بِالْعَسَلِ: میں نے شہد سے دوا کی اصلاح کی۔ سِقَاءٌ مَرِبُوبٌ: پانی مشک جسے تیل لگا کر نرم کیا گیا ہو۔ شاعر نے کہا ہے۔ (8) (طویل) (168) فَکُونِیْ لَہُ کَالشَّنِّ نَیَّثَ لَہُ الْاَدَمُ تم اس کے لئے ایسی ہو جاؤ جیسے رَبٌّ لگا ہوا چمڑا گھی کے لئے ہوتا ہے۔ اَلرَّبَابُ: بادل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ نباتات کی پرورش کرنا اور اسے بڑھاتا ہے اسی معنی کے اعتبار سے مِصُّ کُوْدٌ (دودھ) اور بادل کو تشبیہاً نَقُوءٌ (یعنی دودھ دینے والی اونٹنی) کہا جاتا ہے محاورہ ہے۔ اَرَبَّتِ السَّحَابَةُ: بدلی متواتر برستی رہی اور اس کے اصل معنی میں بدلی صاحب تربیت ہو گئی۔ اس کے بعد اس سے ٹھہرنے کا معنی لے کر یہ لفظ کسی جگہ پر مقیم ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے اَرَبَّ فُلَانٌ بِمَكَانِ کَذَا: اس نے فلاں جگہ پر اقامت اختیار کی۔ رُبَّ: تقلیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ (9) جیسے فرمایا: (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) کافر بہتیرے ہی ارمان کریں گے (کہ) اے کاش (ہم بھی) مسلمان ہوئے ہوتے۔
صرفی وضاحت:
یہ لفظ "عَالَم" کی جمعِ سالم ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ع، ل، م) ہیں اور اس کا مادہ "علم" (نشانی) ہے۔ اس کا وزن (واحد کی حالت میں) "فَاعَلٌ" ہے اور جمع کی حالت میں "فَاعَلِیْن"۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ آلہ کے وزن پر ہے (وہ چیز جس کے ذریعے خالق کو پہچانا جائے) اور حالتِ جری میں جمع مذکر سالم ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف (ع کے بعد) اور جمع کے لیے "ی" اور "ن" ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "صحیح" ہے اور شش اقسام میں "ثلاثی مزید فیہ" کے مشابہ وزن رکھتا ہے۔
مختصر لغوی تفسیر:
لفظ العِلْم کا مطلب ہے کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا، چاہے وہ ذات کی پہچان ہو یا اس کی صفات و احکام کا علم۔ علم دو طرح کا ہے: نظری (حاصل ہوتے ہی مکمل) اور عملی (عمل کے بغیر مکمل نہ ہونے والا)، نیز عقلی (عقل سے حاصل شدہ) اور سماعی (نقل یا تعلیم کے ذریعہ حاصل شدہ)۔ تعلیم اور اعلام سے علم دل میں القا یا یاد دہانی ہوتا ہے۔ قرآن میں علم کو اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جیسے: (عَلِيمُ الغَيْبِ) جو غیب جاننے والا ہے۔ لفظ العالم کسی شے یا کائنات کے علم حاصل کرنے والے کے لیے، اور العالمون اس کی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لیے غور و فکر کی تاکید بھی اسی سے ہے، جیسا کہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
اَلْعِلْمُ: کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا۔ اور یہ دو قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرنا؛ دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو (فی الواقع) اس کے لیے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو (فی الواقع) اس سے منفی ہو۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: (لَا تَعْلَمُوْنَهُمُ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ) جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: (فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ) اگر تم کو معلوم ہو کہ وہ مؤمن ہیں۔ اور آیت (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ) کے آخر میں (لَا عِلْمَ لَنَا) سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش وحواس قائم نہیں رہیں گے۔ ایک دوسرے حیثیت سے علم کی دو قسمیں ہیں: (1) نظری (2) عملی۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہو جائے جیسے "علم جس کا تعلق موجوداتِ عالم سے ہے اور علم عملی وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جیسے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں: (1) عقلی۔ یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل و سماعت کے حاصل کیا جائے دراصل ہو سکے۔ (2) سماعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل اَعْلَمْتُهٗ وَعَلَّمْتُهٗ کے ایک معنی ہیں مگر اِعْلَامٌ جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تَعْلِیْمٌ کے معنی بار بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں۔ حتی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہو جائے۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کے لیے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تَعَلُّمٌ کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تَعْلِیْمٌ کا لفظ اِعْلَامٌ کی جگہ آتا ہے کہ جس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا: (اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِيْنِكُمْ) کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور حسبِ ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے: جیسے فرمایا: (اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ) خدا جو نہایت مہربان، اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی۔ (عَلَّمَ بِالْقَلَمِ) قلم کے ذریعہ (لکھنا) سکھایا۔ (عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ) اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے۔ (عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ) ہمیں خدا کی طرف سے جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ كُلَّهَا) اور اس نے آدم علیہ السلام کو سب چیزوں کے نام سکھائے۔ میں آدم علیہ السلام کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعداد رکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لیے ایک نام وضع کر لیا یعنی اس کے دل میں القا کر دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو اے کام سکھا دیے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمْنٰهٗ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا... قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا) اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھلایا گیا ہے اگر آپ مجھے اس میں سے کچھ رشد و ہدایت (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ اس سے ایک خاص علم مراد ہے جس پر انسان از خود واقف نہیں ہو سکتا اور جب تک اللہ تعالیٰ اس پر واقف نہ فرمائے لوگ اسے قابلِ انکار سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر کے ساتھ چلے تو جب تک انہوں نے ان واقعات کی حقیقت سے موسیٰ علیہ السلام کو باخبر نہیں کر دیا وہ ان باتوں کا انکار ہی کرتے رہے اور بعض نے کہا ہے کہ آیت کریمہ: (قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ) ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا، میں بھی علم کے یہی معنی مراد ہیں یعنی جسے علمِ خصوصی حاصل تھا اور آیت: (وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ) اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ مراتب علم کے اعتبار سے علماء کے بھی مختلف درجے اور مرتبے ہیں اور آیت کریمہ: (وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ) اور ہر علم والے سے دوسرا اعلم والا بڑھ کر ہے۔ میں عَلِیْمٌ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ علم و فضل کے اعتبار سے ایک انسان دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ عَلِیْمٌ صیغہ مبالغہ لاکر اس علمی فضیلت کو بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے سے کم درجہ کے اعتبار سے عَلِیْمٌ ہے گو اپنے سے بلند درجہ عالم کے اعتبار سے ایسا نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عَلِیْمٌ سے ذاتِ باری تعالیٰ مراد ہو گو یہ لفظ نکرہ ہے کیونکہ درحقیقت اس صفت کے ساتھ موصوف ہونے کی اہل تو ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے اس صورت میں كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ سے جملہ اہلِ علم بحیثیت مجموعی مراد ہوں گے اور ہر ایک بحیثیت انفرادی مراد نہیں ہوگا جیسا کہ پہلی صورت میں تھا۔ اور آیت کریمہ: (عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے اور کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں ہے اور آیت کریمہ: (عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا... اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ) وہی غیب کا جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ اپنے علم خصوصی سے صرف انہیں کو نوازتے ہیں جو اس کے اولیاء کی صف میں داخل ہوں اور اَلْعَالِمُ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات ہوتی ہے جس پر کوئی چیز بھی مخفی نہ ہو۔ جیسے فرمایا: (لَا تَعْلَمُ مِنْهَا خَافِیَةٌ) اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہیں رہے گی۔ اور یہ مفہوم صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے حق میں ہی صحیح ہو سکتا ہے کسی دوسرے کو اس معنی کے ساتھ متصف کرنا صحیح نہیں۔ اَلْعَلَامَةُ: ایسا نشان جس سے کوئی شے پہچانی جائے جیسے عَلَمُ الطَّرِیْقِ: اس نشان کو کہتے ہیں جو راستہ کی پہچان کے لیے اس میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اور فوج کے جھنڈے کو عَلَمُ الْجَیْشِ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے فوج کی پہچان ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک قرأت میں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) (وَ اِنَّهٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ) کہا گیا ہے یعنی وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ اور اس معنی کے اعتبار سے پہاڑ کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے۔ اس کی جمع اَعْلَامٌ ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے: (وَمِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور اس کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں جو گویا پہاڑ ہیں۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا: (وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَـٰٔاتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔ نیز اوپر کے ہونٹ کے شگاف اور کپڑے کے نقش و نگار کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے اور محاورہ ہے فُلَانٌ عَالَمٌ فلاں مشہور و معروف ہے جھنڈے کے ساتھ تشبیہ کے اعتبار سے یہی معنی مراد ہوتے ہیں۔ اَعْلَمْتُ کَذَا کے معنی کسی چیز پر نشان لگانا کے ہیں۔ اور مَعَالِمُ الدِّيْنِ وَالدُّنْیَا میں مَعْلَمَةٌ کا واحد مَعْلَمٌ ہے اور مَعْلَمٌ اس نشان کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کی پہچان ہو سکے محاورہ ہے۔ فُلَانٌ مَعْلَمٌ بِالْخَيْرِ: فلاں خیر و برکت کا نشان ہے۔ اَلْعَلَامُ: مہندی۔ اَلْعَالِمُ: فلک الافلاک اور جن وجواہر و اعراض پر وہ حاوی ہے سب کو اَلْعَالَمُ کہا جاتا ہے دراصل یہ فَاعَلَ کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے طَابَعٌ، خَاتَمٌ، مَا یُعْلَمُ بِہٖ وغیرہ اسی طرح عَالَمٌ بھی ہے جس کے معنی ہیں مَا عُلِمَ بِهٖ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لیے جملہ کائنات اَلْعَالَمُ کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک نے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت پر غور نہیں کیا۔ اور اَلْعَالَمُ کی جمع (اَلْعَالَمُوْنَ) اس لیے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقل عالم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً عالم الانسان، عالمِ النبات، عالمِ النار وغیرہ۔ نیز ایک روایت میں ہے۔ (1) (اِنَّ لِلّٰہِ بِضْعَةَ عَشَرَ اَلْفَ عَالَمٍ) کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کیے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ (واؤ نون کے ساتھ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے (جو ذوی العقول کے ساتھ مختص ہے) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عَالَمٌ میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لیے اس کی جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبًا اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عَالَمٌ سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے، جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ (2) اس لیے اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ لائی گئی ہے۔ امام جعفر رضی اللہ عنہ بن محمد کا قول ہے (3) کہ عَالَمِیْنَ سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد و بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لیا گیا ہے۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عَالَمٌ دو قسم پر ہے: (1) اَلْعَالَمُ الْکَبِیْرُ: یعنی فلک و ما فیہ (2) اَلْعَالَمُ الصَّغِیْرُ: یعنی انسان، کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جو عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ہے: (اَوَلَمْ یَنْتَهَوْا عَنِ الْعٰلَمِیْنَ) کیا ہم نے تم کو سارے جہاں کی حمایت و طرفداری سے منع نہیں کیا تھا۔ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ اور آیت کریمہ: (وَاَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ) کے بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصر اقوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلاء مراد لیے ہیں جن میں سے ہر ایک نوازشات الہی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عَالَمٌ سے موسوم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ: (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً) "بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک امت تھے" میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کہا ہے۔

 نام سے تعارف — پھر تعریف بسم اللہ میں اللہ کا نام لیا گیا — «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» میں اس نام والے کی تعریف کی گئی۔ یعنی پہلے تعارف ہوا، پھر اقرار ہوا۔ یہ ترتیب فطری ہے — جب تک جانو نہیں، تعریف کیسے کرو؟

بسم اللہ نے دروازہ کھولا — حمد نے قدم رکھا بسم اللہ ایک اعلانِ نیت تھا کہ میں اللہ کی طرف متوجہ ہوں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» نے اس توجہ کو حمد اور اعتراف میں بدل دیا — گویا دروازہ کھل گیا اور بندہ اندر داخل ہو گیا۔

رحمت کا جواب حمد سے بسم اللہ میں اللہ نے اپنی دو صفات بیان کیں — رَحْمٰن اور رَحِيْم۔ بندے نے یہ سنا تو فطری ردِعمل کیا؟ حمد — یعنی اللہ نے پہلے اپنی رحمت ظاہر کی، بندے نے جواب میں تعریف کی۔ یہ ایک مکالمے کی ابتداء ہے۔

«اللہ» کا نام — دونوں آیتوں میں بسم اللہ میں «اللہ» آیا — پھر فوراً «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» میں وہی نام دوبارہ آیا۔ دو آیتیں، ایک ہی نام — یہ اتصال بتاتا ہے کہ دونوں ایک ہی تسلسل میں ہیں، ایک ہی سانس میں۔

بسم اللہ میں «میں» تھا — حمد میں «میں» غائب بسم اللہ میں بندے نے کہا «میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں» — یعنی ابھی «میں» موجود تھا۔ لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» آیا تو «میں» غائب ہو گیا — صرف اللہ رہ گیا۔ یہ فنائے نفس کی تربیت ہے — بندہ خود کو بھول کر اللہ میں کھو گیا۔

 ہیبت کے بعد تسلی «رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» سن کر دل میں عظمت اور ہیبت پیدا ہوتی ہے — وہ اتنا بڑا ہے کہ سب جہانوں کا رب ہے، میں اس کے سامنے کیا ہوں؟ فوراً «اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» آ کر تسلی دیتی ہے — ہاں وہ بڑا ہے لیکن رحمت والا بھی ہے۔ یہ خوف اور امید کا قرآنی توازن ہے۔

ربوبیت کا رنگ — رحمت کا رنگ «رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» میں اللہ کی قدرت اور اقتدار کا پہلو ہے۔ «اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» میں اللہ کی نرمی اور محبت کا پہلو ہے۔ دونوں مل کر اللہ کی مکمل تصویر بناتے ہیں — نہ صرف طاقتور، نہ صرف نرم — بلکہ دونوں بیک وقت۔

«رَحْمٰن» — بسم اللہ سے تکرار کیوں؟ بسم اللہ میں «رَحْمٰنِ الرَّحِيْم» آئے تھے — یہاں پھر آئے۔ یہ تکرار بے مقصد نہیں۔ پہلی بار ابتداء میں آئے — تعارف کے لیے۔ دوسری بار «رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» کے بعد آئے — تسلی کے لیے۔ ایک ہی بات دو مختلف کام کر رہی ہے۔

صفاتِ الٰہی کا بتدریج بیان آیت ۲ میں «رَبّ» — ربوبیت۔ آیت ۳ میں «رَحْمٰن، رَحِيْم» — رحمت۔ آیت ۴ میں «مٰلِک» — عدل اور اقتدار۔ یہ تینوں مل کر اللہ کا مکمل تعارف ہیں — اور «رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» اس تعارف کی پہلی اینٹ ہے۔

سورت کا نقشہ سورۃ الفاتحہ کے تین حصے ہیں۔ آیت ۱ تا ۴ — اللہ کا تعارف اور ثنا۔ آیت ۵ — عہد اور اقرار۔ آیت ۶ تا ۷ — دعا اور مطلوب۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» پہلے حصے کی پہلی آیت ہے — یعنی پورے ثنائی حصے کی بنیاد۔

سورت کا دروازہ اگر بسم اللہ چابی ہے تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» دروازہ ہے — اس کے بعد جو کچھ آتا ہے وہ سب اسی دروازے سے گزر کر آتا ہے۔ حمد اور ربوبیت کا اقرار کیے بغیر نہ عبادت مکمل ہوتی ہے نہ دعا قبول ہوتی ہے۔

حدیثِ قدسی میں اس کا مقام نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا: «قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي» — میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھا آدھا کیا۔ جب بندہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے «حَمِدَنِي عَبْدِي» — میرے بندے نے میری حمد کی۔ یعنی یہ آیت مکالمے کا پہلا جملہ ہے — بندے کی طرف سے۔

ثنا سے دعا تک کا سفر اس آیت کے بغیر آیت ۶ «اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ» کا دعا کرنا ادھورا ہوتا۔ ادب یہ ہے کہ پہلے مانگنے والے کی تعریف کرو، پھر مانگو — «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» وہ تعریف ہے جو دعا کو قبولیت کے قابل بناتی ہے۔

سورۃ الفاتحہ کا مرکزی موضوع کیا ہے؟ سورۃ الفاتحہ کا مرکزی موضوع ہے — بندے اور اللہ کا تعلق۔ کیسا تعلق؟ عبادت کا، محبت کا، حمد کا، استعانت کا، اور ہدایت مانگنے کا۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» اسی تعلق کی بنیاد ہے۔

حمد — تعلق کی جڑ بندے اور اللہ کا تعلق کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ حمد سے — یعنی اس بات کے اقرار سے کہ تمام تعریف اسی کی ہے، میں اس کا محتاج ہوں، وہ میرا رب ہے۔ جب یہ اقرار دل میں اتر جائے تو پھر عبادت بھی نکلتی ہے، دعا بھی نکلتی ہے، ہدایت مانگنے کی طلب بھی پیدا ہوتی ہے۔

«رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» — عبادت کا جواز آیت ۵ میں بندہ کہتا ہے «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» — صرف تیری عبادت کرتے ہیں۔ یہ اعلان اچانک نہیں آیا — «رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» نے اس کی تیاری کی تھی۔ جب جان لیا کہ وہ سب کا رب ہے، پالنے والا ہے، کمال تک پہنچانے والا ہے — تو فطری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ عبادت بھی اسی کی ہوگی۔

توحید کا اعلان — مرکزی موضوع کا دل سورۃ الفاتحہ کا دل توحید ہے — صرف اللہ، صرف اسی کی حمد، صرف اسی کی عبادت، صرف اسی سے مدد۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» میں «لِلّٰہِ» کا لام اختصاص آ کر پہلی آیت میں ہی یہ توحید ثابت کر دیتی ہے — حمد صرف اللہ کی، کسی اور کی نہیں۔ پوری سورت اسی توحید کی تفصیل ہے۔

یہ اعتراض بظاہر دلچسپ معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اسے سنجیدگی سے اور عقلی طور پر دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دراصل ایک غلط مفروضے پر قائم ہے۔ اعتراض کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ جو ہستی اپنی تعریف خود کرے وہ لازماً نرگسیت (narcissism) کا شکار ہوتی ہے، اور چونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، اس لیے بعض ناقدین اسے اسی زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس اعتراض کی بنیاد انسانوں کے نفسیاتی معیار کو اللہ تعالیٰ پر لاگو کرنا ہے، جو دراصل ایک بنیادی غلطی ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نرگسیت (Narcissism) دراصل ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ یہ اس وقت عیب بنتی ہے جب کوئی شخص اپنی جھوٹی یا مبالغہ آمیز تعریف کرے، یا اپنی بڑائی بیان کر کے دوسروں کو کمتر دکھانے کی کوشش کرے، یا اسے دوسروں کی تعریف اور تصدیق کی ضرورت ہو۔ لیکن اگر کوئی ہستی واقعی کسی خوبی کی مالک ہو اور وہ اپنی اس خوبی کا ذکر کرے تو اسے نرگسیت نہیں کہا جاتا بلکہ اسے حقیقت کا بیان کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک ماہر استاد یہ کہے کہ وہ اپنے مضمون کو اچھی طرح پڑھاتا ہے، تو یہ غرور نہیں بلکہ حقیقت کا بیان ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص واقعی کسی مہارت میں ممتاز ہو اور وہ اس کا ذکر کرے تو اسے نفسیاتی بیماری نہیں کہا جاتا۔

اللہ تعالیٰ کے معاملے میں صورتحال بالکل مختلف ہے، کیونکہ قرآن خود واضح کرتا ہے کہ اللہ انسانوں کی تعریف یا تصدیق کا محتاج نہیں۔ قرآن میں بیان ہوا ہے: “اگر تم ناشکری کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی حمد و ثنا اس لیے نہیں کہ اسے انسانوں سے تعریف سننے کی ضرورت ہے، بلکہ اس لیے کہ انسان حقیقت کو پہچان سکے۔ اللہ کی ذات اگر واقعی کامل اور ہر خوبی کی مالک ہے تو اس کی تعریف دراصل حقیقت کا بیان ہے، نہ کہ غرور یا خود پسندی۔

مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے اوصاف بیان کرنا انسان کی رہنمائی کے لیے ہے۔ اگر اللہ اپنی صفات بیان نہ کرتا تو انسان اس کے بارے میں صحیح تصور قائم نہ کر سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب انسانوں کے پاس اللہ کے بارے میں واضح رہنمائی نہیں ہوتی تو وہ طرح طرح کے غلط تصورات گھڑ لیتے ہیں، جیسے بتوں کو خدا سمجھ لینا یا خدا کو انسانی کمزوریوں سے مشابہ قرار دینا۔ اس لیے قرآن میں اللہ کی صفات کا بیان دراصل انسان کو یہ سمجھانے کے لیے ہے کہ اس کا خالق کون ہے، وہ کیسا ہے، اور اس کے ساتھ تعلق کی بنیاد کیا ہونی چاہیے۔

انسانی زندگی میں بھی ہم ایسی مثالیں دیکھتے ہیں جہاں اپنی خوبی یا وصف بیان کرنا عیب نہیں سمجھا جاتا۔ کوئی کمپنی اپنی مصنوعات کی خوبی بیان کرتی ہے تاکہ خریدار صحیح فیصلہ کر سکے۔ ایک ڈاکٹر اپنے علم اور مہارت کا تعارف کرواتا ہے تاکہ مریض کو اعتماد ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا اپنے اوصاف بیان کرنا دراصل انسان کو صحیح معرفت دینے کے لیے ہے، نہ کہ اپنی بڑائی جتانے کے لیے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ نرگسیت ایک محدود، غیر محفوظ اور کمزور شخصیت کی علامت ہوتی ہے۔ یہ اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جسے دوسروں کی توجہ اور تعریف کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی ہستی واقعی کامل، بے نیاز اور ہر خوبی کی مالک ہو تو اس کی تعریف دراصل حقیقت کا اظہار ہے، نہ کہ نفسیاتی عارضہ۔ اس لیے اللہ کی حمد کو نرگسیت قرار دینا دراصل انسانوں کے نفسیاتی معیار کو ایک لامحدود اور کامل ہستی پر لاگو کرنے کی غلطی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی حمد و ثنا دراصل انسان کی ہدایت اور حقیقت کی وضاحت کے لیے ہے۔ یہ غرور یا خود پسندی نہیں بلکہ اس حقیقت کا بیان ہے کہ کائنات کا خالق کون ہے اور اس کی ذات کن کامل صفات کی حامل ہے۔ اسی لیے قرآن میں اللہ کی حمد انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ حقیقت کو پہچانے اور اپنے خالق کے ساتھ صحیح تعلق قائم کرے۔

سب سے پہلے اس اعتراض کو صحیح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ اعتراض کرنے والا دراصل یہ کہنا چاہتا ہے کہ سائنس نے کائنات کا مشاہدہ کیا ہے، ستاروں، کہکشاؤں اور طبیعی قوانین کو دریافت کیا ہے، لیکن کہیں بھی کسی “رب” کو براہِ راست نہیں دیکھا گیا۔ اس لیے اس کے نزدیک “رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ” ایک خوبصورت مذہبی دعویٰ تو ہو سکتا ہے، مگر اس کی دلیل کہاں ہے؟ یہ سوال بظاہر معقول محسوس ہوتا ہے، اس لیے اس کا جواب بھی جذباتی نہیں بلکہ عقلی بنیادوں پر دینا ضروری ہے۔سب سے پہلا زاویہ وجود کا سوال ہے۔کائنات موجود ہے، اور یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: یہ کائنات آخر موجود کیوں ہے؟ کیا یہ خود ہی وجود میں آ گئی، یا اس کے پیچھے کوئی سبب ہے؟ عقل ہمیں بتاتی ہے کہ جو چیز پہلے موجود نہ ہو وہ خود کو وجود نہیں دے سکتی۔ فلسفے اور سائنس دونوں میں یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ ہر اثر (effect) کا کوئی سبب (cause) ہوتا ہے۔ اگر ہم اس سبب کو تلاش کرتے جائیں تو یہ سلسلہ کہیں نہ کہیں ایسی ہستی پر جا کر ختم ہونا چاہیے جو خود کسی اور سبب کی محتاج نہ ہو۔ اسی تصور کو “رب العالمین” سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی وہ ہستی جو تمام مخلوقات کی پرورش کرنے والی اور ان کے وجود کا اصل سبب ہے، جبکہ خود کسی سبب کی محتاج نہیں۔دوسرا زاویہ کائنات کے نظم اور توازن کا ہے۔ اگر انسان ذرا غور کرے تو کائنات حیرت انگیز حد تک منظم نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر زمین سورج سے بالکل مناسب فاصلے پر ہے؛ اگر یہ ذرا قریب ہوتی تو شدید حرارت زندگی کو ختم کر دیتی، اور اگر ذرا دور ہوتی تو سردی ہر چیز کو جما دیتی۔ پانی کی وہ خاص خصوصیات جن کی وجہ سے زندگی ممکن ہے، اگر موجود نہ ہوتیں تو زمین پر جانداروں کا وجود ممکن نہ تھا۔ اسی طرح کائنات کے بنیادی طبیعیاتی قوانین اور مستقلات (constants) جیسے کششِ ثقل یا برقی مقناطیسی قوت اگر ذرا سے مختلف ہوتے تو ستارے، سیارے اور ایٹم تک وجود میں نہ آ سکتے۔ جدید سائنس اس حقیقت کو Fine-Tuning کے نام سے بیان کرتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا باریک توازن اور اتنی دقیق ترتیب محض اتفاق سے کیسے وجود میں آ سکتی ہے؟ بے ترتیب دھماکوں سے لائبریریاں نہیں بنتیں، نہ ایک بار اور نہ اربوں بار۔تیسرا زاویہ شعور اور انسانی آگاہی کا ہے۔ کائنات کا مادی حصہ — جیسے پتھر، لوہا یا کاربن — خود شعور نہیں رکھتا۔ لیکن انسان سوچتا ہے، سوال کرتا ہے، محبت اور خوف محسوس کرتا ہے اور اپنی ذات کا ادراک رکھتا ہے۔ یہ شعور کہاں سے آیا؟ صرف کیمیائی تعاملات سے ایک ایسی ہستی کیسے پیدا ہو گئی جو اپنے وجود کے بارے میں سوال کرنے لگتی ہے؟ جدید سائنس نے دماغ کے بہت سے پہلوؤں کو سمجھا ہے، مگر consciousness یعنی شعور کی اصل حقیقت اب بھی ایک معمہ ہے۔ یہ خلا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات کی کہانی صرف مادے اور توانائی تک محدود نہیں۔یہاں ایک اہم بات سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ دلائل اللہ کو کسی لیبارٹری کے تجربے کی طرح ثابت نہیں کرتے، اور نہ ہی کوئی سنجیدہ مفکر ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ چیز جو براہِ راست تجربہ گاہ میں ثابت نہ ہو سکے، ضروری نہیں کہ وہ ناقابلِ یقین ہو۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سی حقیقتوں کو براہِ راست نہیں دیکھتا، جیسے محبت، انصاف، یا ریاضی کے اصول؛ مگر ان کے اثرات واضح ہوتے ہیں، اس لیے ہم انہیں تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح خالق کے آثار بھی پوری کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں — وجود، نظم، قوانینِ فطرت اور شعور — یہ سب اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔آخر میں ایک اور نکتہ قابلِ غور ہے۔ اعتراض کرنے والا اکثر کہتا ہے: “خدا کو ثابت کرو۔” لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی یہ ثابت کر سکتا ہے کہ کوئی خالق سرے سے موجود ہی نہیں؟ عدم کو ثابت کرنا دراصل وجود کو ثابت کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس لیے دونوں طرف کسی نہ کسی درجے کا یقین درکار ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک طرف کائنات کا نظم، اس کا وجود اور شعور جیسے دلائل موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ یہ سب کچھ محض اتفاق سے وجود میں آ گیا۔

پہلی بات — یہ نظریہ آیا کہاں سے؟

یہ کوئی قدیم علمی دریافت نہیں، بلکہ ایک جدید تعصب کی پیداوار ہے۔ اس نظریے کی بنیاد 1901ء میں ماہرِ آثارِ قدیمہ Hugo Winckler نے رکھی، جس نے اللہ کو قبل از اسلام عربی دیوتا “لہ” یا “ہُبل” سے جوڑا اور انہیں چاند کا معبود قرار دیا — لیکن ناقدین نے اسے فوری طور پر رد کر دیا کیونکہ اس میں نہ آثارِ قدیمہ کا کوئی ثبوت تھا، نہ قبل از اسلام عرب کی کوئی تحریری دلیل۔ پھر 1990ء کی دہائی میں یہ نظریہ امریکی عیسائی مناظر Robert Morey نے ازسرِنو اٹھایا اور کتابوں کے ذریعے امریکہ میں پھیلایا — لیکن علماء نے اسے اس وقت بھی بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا۔ غرض یہ کہ یہ نظریہ کسی یونیورسٹی یا تحقیقی ادارے کی دریافت نہیں، بلکہ مذہبی مخالفت کی بنیاد پر گھڑی گئی ایک کہانی ہے۔


دوسری بات — «الحمدللہ» میں الف کہاں گیا؟

یہ اعتراض عربی گرائمر سے ناواقفیت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ عربی میں «ال» تعریف کے لیے آتا ہے جسے انگریزی میں Definite Article کہتے ہیں۔ جب اس سے پہلے «لِ» جیسا حرفِ جر آئے تو دونوں مل جاتے ہیں اور ابتدائی الف گر جاتا ہے — اسے عربی قواعد میں “اِدغام” کہتے ہیں۔ یعنی «لِ» جمع «اللہ» = «للہ»۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں — اسی طرح «بِاللہ» اور «فِی اللہ» میں بھی یہی قاعدہ کام کرتا ہے اور کوئی بھی ابتدائی عربی کا طالب علم یہ جانتا ہے۔ الف کا گرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ لفظ بدل گیا — یہ محض رواں تلفظ کا قاعدہ ہے۔


تیسری بات — کیا “اللہ” اور “لہ یا بعل” ایک ہیں؟

لسانیات کے اعتبار سے یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ علماءِ لغت کے مطابق لفظ “اللہ” کا ماخذ عربی لفظ «اَلْاِلٰہ» ہے جس کا مطلب ہے “وہ ہستی جس کی عبادت کی جائے” — اور یہ مختصر ہو کر «اللہ» بن گیا۔ یہ لفظ عبرانی «ایل» (El) اور آرامی «الہا» (Alaha) سے ہم خاندان ہے، جو بائبل میں صدیوں سے خالق کے لیے استعمال ہوتے آئے ہیں۔ دوسری طرف “بعل” یا “لہ” بالکل مختلف زبانوں اور مختلف لسانی جڑوں کے الفاظ ہیں — ان کا “اللہ” سے نہ صوتی رشتہ ہے، نہ معنوی، نہ تاریخی۔عمومی طور پر جس مصری بت کا نام (Lah)بتایا جاتا ہے وہ جھوٹ ہے ایسا کوئی بت وجود نہیں رکھتا اس بت کا اصل نام (Iah)ہے اس میں  “L” نہیں بلکہ “i”ہے۔ Wikipedia پر (iah)کی تفصیلات موجود ہیں جبکہ (Lah)نامی بت بس ان کی ایک  آرزو ہے اور ایک نام ہے جسے گھڑ لیا گیا:  

https://en.wikipedia.org/wiki/Iah


چوتھی بات — کیا ہُبل اور اللہ ایک تھے؟

تاریخ اس دعوے کو بھی رد کرتی ہے۔ مورخ Patricia Crone نے نشاندہی کی کہ اگر ہُبل اور اللہ واقعی ایک ہی دیوتا ہوتے تو اسلام میں “ہُبل” اللہ کے ناموں یا صفات میں سے کسی نہ کسی صورت میں باقی رہتا — جو کہ نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ تاریخی روایات میں لوگوں کو ان دونوں میں سے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اپنانے کی ترغیب دی گئی — جو واضح کرتا ہے کہ یہ دو الگ الگ ہستیاں تھیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ غزوۂ اُحد میں ابو سفیان نے “ہُبل زندہ باد” کا نعرہ لگایا تو نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ جواب دیں: “اللہ اعلیٰ و اجل ہے” — یعنی خود میدانِ جنگ میں دونوں فریق ہُبل اور اللہ کو مختلف اور ایک دوسرے کے مخالف سمجھتے تھے۔


پانچویں بات — قرآن خود کیا کہتا ہے؟

یہ سب سے براہِ راست جواب ہے۔ قرآن سورۃ فصلت آیت 37 میں صراحت سے فرماتا ہے: “سورج اور چاند کو سجدہ مت کرو، بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا۔” اگر اللہ خود چاند کا معبود ہوتا تو قرآن چاند کی عبادت سے کیوں سختی سے منع کرتا؟ یہ اعتراض دراصل اپنے آپ کو خود رد کر دیتا ہے۔


چھٹی بات — عرب عیسائی بھی “اللہ” کہتے ہیں

کلاسیکل اسلام کے پروفیسر Joseph Lumbard نے کہا کہ اللہ کو چاند کا معبود کہنا نہ صرف مسلمانوں کی توہین ہے بلکہ ان عرب عیسائیوں کی بھی جو صدیوں سے خدا کے لیے یہی لفظ استعمال کرتے آئے ہیں۔ عراق، شام اور لبنان کے عیسائی آج بھی اپنی بائبل میں خدا کے لیے “اللہ” لکھتے ہیں۔ اگر یہ لفظ واقعی کسی بت کا نام ہوتا تو کیا صدیوں سے عیسائی بھی اسی بت کی عبادت کر رہے ہوتے؟


ساتویں بات — آثارِ قدیمہ کا “ثبوت” جھوٹا نکلا

Robert Morey نے اپنے دعوے کے حق میں Hazor کے مقام سے ملنے والے ایک مجسمے کو بطور ثبوت پیش کیا — لیکن بعد کی تحقیق نے ثابت کیا کہ اس مجسمے کا لفظ “اللہ” سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی جس بنیاد پر یہ پورا نظریہ کھڑا کیا گیا، وہ بنیاد ہی غلط نکلی۔


اخر میں میں یہ بات واضح کر دوں اس اعتراض پہ میں نے نصاری سے کئی بار بات چیت کی ہے لیکن ضد کا کوئی علاج نہیں ہوتا ان کے سامنے سارے ثبوت بھی پیش کر دیے جائیں تب بھی وہ اس کو نہیں مانیں گے غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بس کوئی اعتراض چاہیے پھر چاہے اس اعتراض کا سر پاؤں ہو یا نہ ہو

 «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کہنے کی عادت بندے کو یہ تربیت دیتی ہے کہ ہر خوشی، ہر نعمت، ہر کامیابی میں پہلا خیال اللہ کا ہو — نہ اپنی محنت کا، نہ اپنی ذہانت کا۔ یہ عادت انسان کو خودپسندی سے بچاتی ہے۔

مصیبت میں بھی «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کہنا سب سے بڑی تربیت ہے — یہ بتاتا ہے کہ اللہ کا ہر فیصلہ درست ہے، تکلیف میں بھی اس کی کوئی حکمت ہے۔ یہ صبر اور رضا کی بنیاد ہے۔

«رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» کا بار بار سننا بندے کے دل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ میں اکیلا نہیں — وہی رب جو پوری کائنات کا انتظام کر رہا ہے میرا بھی انتظام کر رہا ہے — یہ احساس پریشانی اور اضطراب کو ختم کرتا ہے۔

دن میں ۱۷ بار نماز میں یہ آیت پڑھنا دراصل ۱۷ بار یہ اقرار کرنا ہے کہ میں چھوٹا ہوں، اللہ بڑا ہے — یہ مسلسل اقرار انسان کی انا اور غرور کو پگھلاتا رہتا ہے۔

ہر نعمت پر «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کہنا یہ تربیت دیتا ہے کہ نعمت دینے والا اللہ ہے — اگر کسی انسان کے ذریعے ملی تو اصل شکر اللہ کا، پھر اس انسان کا۔ یہ سوچ حسد اور ناشکری سے بچاتی ہے۔

 «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» چھینک پر چھینک آنے پر «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کہنا سنت ہے — اور سننے والے پر «یَرْحَمُكَ اللّٰہ» کہنا واجب کفایہ ہے۔ اگر کوئی «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» نہ کہے تو سننے والے کا جواب دینا ضروری نہیں۔

نماز میں اس آیت کا حکم سورۃ الفاتحہ نماز میں پڑھنا فرض ہے — اور یہ آیت اس کا لازمی حصہ ہے۔ جو شخص سورۃ الفاتحہ نہ جانتا ہو اس پر فرض ہے کہ سیکھے — اگر وقت نہ ہو تو کوئی اور ذکر پڑھ سکتا ہے لیکن سیکھنا ترک نہیں کر سکتا۔

امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ حنفی مسلک میں مقتدی خاموش رہے گا — امام کی قراءت کافی ہے۔ شافعی مسلک میں مقتدی بھی سورۃ الفاتحہ خود پڑھے گا — جہری اور سری دونوں نمازوں میں۔ یہ فقہ کا مشہور اختلافی مسئلہ ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» قرآن کا حصہ ہے یہ آیت قرآن کا حصہ ہے اس لیے اسے بے وضو چھونا جائز نہیں — تلاوت کے لیے طہارت شرط ہے البتہ زبانی پڑھنا بے وضو بھی جائز ہے۔

دعا کی ابتداء حمد سے فقہاء نے کہا کہ دعا کی ابتداء «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» سے کرنا مستحب ہے — نبی کریم ﷺ کا یہی طریقہ تھا۔ جو دعا حمد اور درود کے بغیر شروع ہو وہ ادھوری ہے۔

 «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کب کہیں کھانے کے بعد، چھینک آنے پر، کوئی خوشخبری ملنے پر، مصیبت سے نجات پر، صبح بیدار ہونے پر، کوئی اچھی بات سن کر، کوئی کام مکمل ہونے پر — ہر مثبت لمحے میں «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» زبان پر ہونی چاہیے۔

مصیبت میں بھی حمد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے کہ آگ میں بھی اللہ کی حمد کی۔ جب کوئی تکلیف آئے تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰى كُلِّ حَال» کہیں — ہر حال میں اللہ کی تعریف۔ یہ کہنا آسان نہیں لیکن یہی اعلیٰ درجے کا ایمان ہے۔

«رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» کو یاد رکھیں جب بھی پریشانی ہو، رزق کی فکر ہو، مستقبل کا ڈر ہو — یاد کریں کہ وہی رب جو لاکھوں مخلوقات کا رزق دے رہا ہے، میرا رزق بھی اسی کے ذمے ہے۔ یہ سوچ ذہنی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

بچوں کو «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کی عادت ڈالیں کھانے کے بعد، چھینک پر، کوئی اچھی چیز ملنے پر — بچے سے «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کہلوائیں۔ یہ چھوٹی عادت بچے کی پوری شخصیت میں شکرگزاری کا رنگ بھر دیتی ہے۔

میزان بھرنے والا کلمہ حدیث میں آیا کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ» — «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» قیامت کی ترازو کو بھر دیتا ہے۔ یعنی یہ چھوٹا سا کلمہ اجر میں سب سے بھاری ہے — اسے بار بار پڑھنے کی عادت بنائیں۔

 «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کب کہیں کھانے کے بعد، چھینک آنے پر، کوئی خوشخبری ملنے پر، مصیبت سے نجات پر، صبح بیدار ہونے پر، کوئی اچھی بات سن کر، کوئی کام مکمل ہونے پر — ہر مثبت لمحے میں «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» زبان پر ہونی چاہیے۔

مصیبت میں بھی حمد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے کہ آگ میں بھی اللہ کی حمد کی۔ جب کوئی تکلیف آئے تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰى كُلِّ حَال» کہیں — ہر حال میں اللہ کی تعریف۔ یہ کہنا آسان نہیں لیکن یہی اعلیٰ درجے کا ایمان ہے۔

«رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» کو یاد رکھیں جب بھی پریشانی ہو، رزق کی فکر ہو، مستقبل کا ڈر ہو — یاد کریں کہ وہی رب جو لاکھوں مخلوقات کا رزق دے رہا ہے، میرا رزق بھی اسی کے ذمے ہے۔ یہ سوچ ذہنی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

بچوں کو «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کی عادت ڈالیں کھانے کے بعد، چھینک پر، کوئی اچھی چیز ملنے پر — بچے سے «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» کہلوائیں۔ یہ چھوٹی عادت بچے کی پوری شخصیت میں شکرگزاری کا رنگ بھر دیتی ہے۔

میزان بھرنے والا کلمہ حدیث میں آیا کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ» — «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» قیامت کی ترازو کو بھر دیتا ہے۔ یعنی یہ چھوٹا سا کلمہ اجر میں سب سے بھاری ہے — اسے بار بار پڑھنے کی عادت بنائیں۔

سورۃ منتخب کریں

متعلقہ مصنوعات