بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

Tag: ابوبکر قدوسی

Videos

کیا رجم ایک بھیانک سزا ہے؟

الحمد للہ! حدودِ شرعیہ پر اعتراضات کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں کچھ لوگوں نے انسانی عقل، جذبات یا مغربی تصوراتِ حقوقِ انسانی کو معیار بنا کر اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ انہی اعتراضات میں سے ایک اعتراض “حدِ رجم” پر بھی کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اسے ایک “بھیانک” یا “غیر انسانی” سزا قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اس بنیاد پر اس کا انکار کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک ایسی سزا رحمت للعالمین ﷺ کی شریعت کا حصہ نہیں ہو سکتی۔

لیکن کسی بھی شرعی حکم پر رائے قائم کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کا ماخذ کیا ہے، اس کے بارے میں قرآن و سنت کیا کہتے ہیں، اور کیا کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلوں کو اپنی عقل یا جذبات کی کسوٹی پر پرکھے؟ کیونکہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ جب کسی مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ثابت ہو جائے تو اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا جائے، خواہ اس کی حکمت پوری طرح سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔

چنانچہ اس مضمون میں ہم اسی اعتراض کا جائزہ لیں گے کہ آیا رجم واقعی ایک “بھیانک سزا” ہے، یا یہ محض انسانی جذبات کی بنیاد پر کیا جانے والا اعتراض ہے۔ نیز یہ بھی دیکھیں گے کہ رجم کی سزا کی شرعی بنیاد کیا ہے، اس کی حکمت کیا ہے، اور اس کے بارے میں اٹھائے جانے والے اہم اعتراضات کا علمی جواب کیا ہے۔

فہرستِ مباحث

بنیادی مسلہ رجم کا انکار نہیں ، حدیث کا انکار ہے ، اور احساس کمتری کا ہے – رجم کے معاملے میں دو طبقات ہیں جو  چراغ پا رہتے ہیں – ایک تو وہ ہے جو  یھاں انسانیت کا چورن بیچتے ہیں ، ان کی اخلاقیات کی دنیا ہی الگ ہے سو ان کے لیے جواب بھی الگ ہو گا – دوسرا طبقہ وہ ہے جو دین سے اپنا تعلق بھی جوڑے رکھنا چاہتا ہے ، روشن خیالی کو شعار بھی بنانا چاہتا ہے ، اور  آخر میں جنت کا وارث بھی بننا چاہتا ہے –  لامحالہ ان کے اعتراضات کا جواب بھی الگ ہی ہو گا –

لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ

سو ہم بھی مجبور ہیں کہ “لائیں ان کے جواب الگ الگ “

 لیکن آج ان کا ذکر کہ جو آخر میں جنت میں بھی جانا چاہتے ہیں –

شیخ ابو زہرہ کا اعتراض

شیخ ابو زہرہ پچھلی صدی کے معروف عالم دین تھے – ان کے  حوالے  سے یوسف قرضاوی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس کا مختصر جواب ہم نے دو روز قبل دیا تھا  –  ایک صاحب  کہ جو اکثر ائمہ حدیث کے بارے میں زبان درازی کرتے رہتے ہیں کل مطلب براری کے واسطے انہی ابوزہرہ کو امام بنا کے پیش کر رہے تھے ۔

ان کے  “امام ” ابوزہرہ نے کہا ہے –

“یوسف میرا دل اور ایمان نہیں مانتے کہ رحمت للعالمین رجم جیسی بھیانک سزا کو اسلام کا حصہ بنائیں گے یہ یہود کی شریعت ہو سکتی ہے میرے نبی کی نہیں “

کیا سزا کے بھیانک ہونے کا فیصلہ انسان کر سکتا ہے؟

بظاہر کیسی دل خوش کن بات ہے ، کیسی محبت رسول میں ڈوبی ہوئی ، لیکن یہ کیسی محبت ہے کہ اسی رسول کے لائے ہوے کھلے حکم کا انکار ہے – اس سزا کے بھیانک ہونے کا فیصلہ میں یا آپ کرنے والے کون ہوتے ہیں ؟ یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ یہ سزا مناسب ہے یا نامناسب – ہم پہلے بھی لکھ چکے مکرر سوال ہے کہ قران میں چور کی کیا سزا ہے ؟

اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْآ اَیْدِیَہُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللہِ وَاللہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمo وَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللہِ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  (سورۃالمائدہ:6)

مسلمانو! مرد چوری کرے یا عورت چوری کرے تو ان دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ حد اللہ کی جانب سے مقرر ہے اور اللہ زبردست واقف ہے تو جو اپنے قصور کے بعد توبہ کر لے اور اپنے آپ کو سنوار لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

کیا اس  کے بعد  کوئی ابہام  باقی رہ جاتا ہے کہ چور کی سزا قطع ید ہے یعنی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا – اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی  ایک ہزار روپے کی چوری کرتا ہے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے گا ؟

چلئے رقم بڑھا لیتے ہیں پانچ ہزار کر لیجئے – اب ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ جب پانچ ہزار کے لیے ایک بندے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو تمام  عمر اس کو اسی معذوری کے ساتھ جینا ہو گا ، جہاں جائے گا اشتہار لگ جائے کہ یہ چور تھا – بدنامی کا طوق گلے سے مستقل لگ گیا – اب  آپ کے دل میں بہت ترس پیدا ہو رہا ہے نا ؟

– ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ اس کے خالق سے بھی زیادہ ترس والے ہو گئے ؟

جس خالق کی محبت ماں سے سو گنا بڑھی ہوئی ہے آپ اس  سے بھی زیادہ محبت کرنے والے کب سے ہو گئے ؟

لیکن  سوال آپ کی محبت کا نہیں سوال یہ ہے کہ آپ اس سزا کو بھیانک کب کہیں گے ؟

کیا  یہ جرم  اس  سے ہزار گنا کم نہ تھا اور سزا زیادہ ” بھیانک ” نہیں  لگ رہی ؟

اور  کیا آپ نہیں جانتے کہ نیک نامی بسا اوقات زندگی کی قیمت سے  بھی بڑھ کے ہو جاتی ہے – اور کٹا ہوا ہاتھ جو  محض بدنامی نہیں ، یہ اعلان ہے کہ یہ بندہ چور ہے –

اب اس تمام منظر کشی کے بعد ہم آپ سے پوچھتے ہیں جناب کیا اس  سزا کو بھی اب بھیانک کہیں گے ؟

یقینا ایک مسلمان ہونے کے ناتے آپ اللہ کی مقرر کردہ اس  سزا کو تسلیم کریں گے اور اس پر کوئی لب کشائی اور حرف گیری نہ کریں گے – تو کس طرح آپ کو جرات ہو جاتی ہے کہ اسی اللہ کے بھیجے ہوے پیغام بر کی دی ہوئی سزاء کو بھیانک کہیں۔

نبی ﷺ خواہش سے نہیں بلکہ وحی کے مطابق فیصلہ کرتے تھے

ہم یہاں قران کی   یہ  سورہ نجم کی یہ آیات یاد دلاتے ہیں کہ :

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْـهَـوٰى(3)

اور نہ وہ اپنی خواہش سے کچھ کہتا ہے۔

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوحٰى(4)

یہ تو وحی ہے جو اس پر آتی ہے۔

ان آیات کی روشنی میں بھی ہم سوال کرتے ہیں کہ جس نبی کے بارے میں قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی مرضی کچھ نہیں کہتے اور وحی کے تابع ہو کے بولتے ہیں ،  تو کیسے ممکن تھا کہ اتنا بڑا فیصلہ کر رہے ہوتے اور بقول شیخ ابو زہرہ ایسی بھیانک سزا دے رہے ہوتے اور مہربان اللہ روکتا بھی نہ۔

رجم کی حکمت: معاشرے کی پاکیزگی کا تحفظ

اب اس سزا کے دوسرے پہلو کی طرف آئیے کہ کیا یہ جرم ایسا سنگین تھا کہ ایسی سزا دی جاتی ؟

دیکھئے اگر اس جرم کا تعلق اس بندے کی ذات سے ہوتا تو شاید کبھی بھی ایسی سزا مقرر نہ کی جاتی ۔ اسلام کا توحید کے نفاز کے بعد پہلا مقصد ایک صاف اور پاک معاشرہ قائم کرنا ہے اور شادی شدہ زنا کار  افراد اس معاشرے کی پاکیزگی کو تباہ کرنے کے مجرم ہیں ۔ کیونکہ کسی  بھی معاشرے کی بدترین تباہی اس میں بے حیائی کا فروغ ہے ۔سو ایسا فرد صرف اپنی ذات کا یا اللہ کا مجرم نہیں تمام معاشرے کا بھی مجرم ہے ۔اگر ایسی سزا نہ دے کر اس بے حیائی کا راستہ نہ روکا جائے تو معاشرے کو بربادی سے بچایا ہی نہیں جا سکتا ۔ اس جرم سے خانداں ، آنے والی نسل سب برباد ہو کے رہ جاتے ہیں۔

کیا رجم صرف یہود کی شریعت تھی؟

اب آخری جملے کی طرف آتے ہیں کہ

“یہ میرے نبی کی شریعت نہیں ہو سکتی ، یہود کی ہو گی ۔”

تو سوال یہ ہے کہ جن کی سنت کا ماخذ ہی یہود کی شریعت ہے کہ ان کے منہ سے یہ بات سجتی نہیں ۔ ان کو تو اس بات کو بڑھ چڑھ کے قبول کرنا چاہیے ۔ وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جناب غامدی صاحب کے نزدیک جو  چند ایک اعمال و افعال سنت ہیں  ان کا نقطۂ آغاز سنت محمدی نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ اور واضح رہے کہ یہود کی شریعت اسی شریعت ابراہیم کے  سلسلے کا ایک پڑاؤ تھا محض۔

اب ہمارا یہ کہنا ہے کہ بجا کہ رجم کی سزا شریعت موسی میں بھی تھی اور اس کو اسلام کے آنے کے بعد بھی جاری رکھا گیا ۔ سوال تو ان سے ہے کہ اس کا نسخ ثابت کریں ۔ اور ہاں ختم کرتے کرتے عرض کرتا چلوں کہ سورہ النور کی آیات سے اس کا نسخ ثابت کرنے سے پہلے یہ سوچ لیجئے گا کہ ان آیات کے نزول کے بعد کم از کم دو رجم کے واقعات مدینہ کی سرزمین پر نبی کے حکم سے ہوے تھے ۔ لیکن اس موضوع پر پھر بات ہو گی …ان شا اللہ۔

خلاصہ

الحمد للہ! اس پوری بحث سے واضح ہوتا ہے کہ حدِ رجم پر اعتراض دراصل شریعت کے کسی ایک حکم پر نہیں، بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کی حجیت اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فیصلوں پر انسانی عقل کو مقدم کرنے کا نتیجہ ہے۔ ایک مسلمان کا معیار اپنی خواہش، جذبات یا زمانے کے تصورات نہیں، بلکہ قرآن و سنت ہیں۔ جب کسی حکم کا ثبوت صحیح دلائل سے ثابت ہو جائے تو اس کے بارے میں “بھیانک” یا “غیر انسانی” جیسے الفاظ استعمال کرنا ایمان کے مزاج کے خلاف ہے۔

اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں چوری جیسے جرم پر ہاتھ کاٹنے کی حد مقرر کی ہے تو سزا کے سخت یا نرم ہونے کا فیصلہ بندوں کا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ یہی اصول حدِ رجم پر بھی لاگو ہوتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے کوئی حکم نہیں دیتے تھے، بلکہ آپ ﷺ کے فیصلے وحیِ الٰہی کے مطابق ہوتے تھے۔

مزید یہ کہ رجم کی سزا کا مقصد محض مجرم کو سزا دینا نہیں، بلکہ اسلامی معاشرے کی عفت، خاندان کے استحکام اور اخلاقی پاکیزگی کا تحفظ ہے۔ شریعت فرد کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے مفاد کو بھی پیشِ نظر رکھتی ہے، اسی لیے بعض جرائم کی سزائیں سخت رکھی گئی ہیں تاکہ ان کا دروازہ ہی بند ہو جائے۔

لہٰذا صحیح رویہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ثابت شدہ احکام کو مکمل ایمان اور تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کیا جائے، اور انہیں انسانی جذبات یا زمانے کے بدلتے ہوئے نظریات کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے ان کی حکمت اور عدل پر یقین رکھا جائے۔

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

ابو بکر قدوسی

ابو بکر قدوسی

ابوبکر قدوسی پاکستان کے معروف دینی مصنف، محقق، ناشر اور کالم نگار ہیں، جو طویل عرصے سے اسلامی علوم، تاریخ، سیرت، کتابی ثقافت اور اہلِ علم کے تذکروں پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ وہ لاہور کے معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ سے وابستہ ہیں اور متعدد علمی و تحقیقی کتب کی اشاعت و تدوین میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی وقار، تاریخی شعور اور ادبی اسلوب کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جبکہ ان کی معروف تصانیف میں "تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں" سمیت متعدد کتابیں شامل ہیں۔ دینی اشاعت، علمی تحقیق اور اردو ادب کے فروغ میں ان کی خدمات علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔