متفرق ابواب
باب: فجر اور عصر کی نمازوں کی فضلیت
احادیث:1
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 8
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَلائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ، مَلائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ قَالُوا: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الملائكة يتعاقبون فيكم، ملائكة بالليل وملائكة بالنهار، ويجتمعون في صلاة الفجر وصلاة العصر، ثم يعرج إليه الذين باتوا فيكم فيسالهم وهو اعلم بهم: كيف تركتم عبادي؟ قالوا: تركناهم وهم يصلون، واتيناهم وهم يصلون"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں، اور فجر اور عصر کی نمازوں میں (ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا) اجتماع ہوتا ہے۔ پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ (فجر کی) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے، تب بھی وہ (عصر کی) نماز پڑھ رہے تھے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں