بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

اس بیان میں کہ دین آسان ہے۔ (بخاری)

کتاب: ایمان کے بیان میں
باب: اس بیان میں کہ دین آسان ہے۔
احادیث:1

ترجمۃ الباب

وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ» .
وقول النبي صلى الله عليه وسلم: «احب الدين إلى الله الحنيفية السمحة» .
جیسا کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ وہ دین پسند ہے جو سیدھا اور سچا ہو۔ ( اور یقینا وہ دین اسلام ہے سچ ہے ان الدین عنداللہ الاسلام)
‏‏‏‏ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ وہ دین پسند ہے جو سیدھا اور سچا ہو۔ (اور یقیناً وہ دین اسلام ہے سچ ہے «إن الدين عند الله الإسلام»)۔

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 39

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ".
حدثنا عبد السلام بن مطهر، قال: حدثنا عمر بن علي، عن معن بن محمد الغفاري، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إن الدين يسر، ولن يشاد الدين احد إلا غلبه، فسددوا وقاربوا وابشروا واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة".
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بےشک دین اسلام بہت آسان ہے۔ اور جو شخص دین میں سختی کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا، اس لیے میانہ روی اختیار کرو اور (اعتدال کے ساتھ) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ۔ صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے مدد حاصل کرو۔‘‘
ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عمر بن علی نے معن بن محمد غفاری سے خبر دی، وہ سعید بن ابوسعید مقبری سے، وہ ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (اور اس کی سختی نہ چل سکے گی) پس (اس لیے) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ (کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو۔ (نماز پنج وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو۔)
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم