بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) اس بارے میں کہ نفاس میں مرنے والی عورت پر نماز جنازہ اور اس کا طریقہ کیا ہے؟

کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: اس بارے میں کہ نفاس میں مرنے والی عورت پر نماز جنازہ اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
احادیث:1

قسم الحديث: فعلی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 332

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،" أَنَّ امْرَأَةً مَاتَتْ فِي بَطْنٍ فَصَلَّى عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَسَطَهَا".
حدثنا احمد بن ابي سريج، قال: اخبرنا شبابة، قال: اخبرنا شعبة عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن سمرة بن جندب،" ان امراة ماتت في بطن فصلى عليها النبي صلى الله عليه وسلم، فقام وسطها".
حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا زچگی میں انتقال ہو گیا تو نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ پڑھتے وقت اس کے درمیان (کمر کے سامنے) کھڑے ہوئے۔
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے، کہا ہم سے شعبہ نے حسین سے۔ وہ عبداللہ بن بریدہ سے، وہ سمرہ بن جندب سے کہ ایک عورت (ام کعب) زچگی میں مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے (جسم کے) وسط میں کھڑے ہو گئے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم