مقدمہ (قرآن سے شفاء)
إن الحمد لله نحمده ، ونستعينه ، ونستهديه ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا ، من يهده الله فلا مضل له ، ومن يضلل فلا هادي له ، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله ۔
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿سورۃ آل عمران : 102﴾
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا ﴿سورۃ النساء :1﴾
“اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اور اللہ سے ڈرو، جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں (کے حقوق) کا بھی خیال رکھو۔ بے شک اللہ ہمیشہ تم پر نگہبان ہے۔”
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ ﴿﴾ یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ﴿سورۃ الاحزاب : 70-71﴾
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی، درست بات کہا کرو۔ وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا، تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، تو یقیناً وہ بہت بڑی کامیابی حاصل کر چکا۔”
أما بعد:
پس اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمتوں میں سے ایک عظیم رحمت یہ ہے کہ اس نے ان پر اپنی عظیم کتاب نازل فرمائی۔ اسے تمام انبیاء کے خاتم اور سب سے افضل نبی محمد ﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل کیا، اور اسے ان کے درمیان اس طرح رکھا کہ وہ جب چاہیں اسے پڑھیں اور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں۔ نیز اللہ جلَّ وعلَا نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا اور اسے تحریف و تبدیلی کے ہاتھوں سے محفوظ رکھا، جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴿سورۃ الحجر: ٩﴾
“بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے، اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”
اور اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو ہدایت، نور، شفا، اور سراپا عدل پر مبنی فیصلہ بنانے والی کتاب قرار دیا۔ اس کے سامنے سے بھی باطل اس تک نہیں آ سکتا اور نہ اس کے پیچھے سے۔
اور جن امور کا ایک مسلمان کو خاص اہتمام کرنا چاہیے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اس عظیم قرآن کے ذریعے ہر قسم کی ظاہری (جسمانی) اور باطنی (روحانی) بیماریوں سے شفا حاصل کرے، خواہ وہ دلوں کی بیماریاں ہوں یا جسموں کی بیماریاں۔ یہ قرآن پر کامل ایمان رکھنے اور اس پر عمل کرنے کا تقاضا بھی ہے۔ اور آج کے ان زمانوں میں، جب برائی اور برائی کرنے والے بہت زیادہ ہو گئے ہیں، اور ایسی بے شمار بیماریاں پھیل چکی ہیں جن کی حقیقت بھی معلوم نہیں، ہم اس قرآنی علاج کے پہلے سے کہیں زیادہ محتاج ہیں۔
اور میری خواہش ہوئی کہ میں اس موضوع پر کچھ لکھوں، تاکہ اپنے آپ کو بھی نصیحت کروں اور اپنے ان مسلمان بھائیوں کو بھی جو اسے پڑھیں۔ امید ہے کہ یہ ان کے لیے مددگار، نصیحت کرنے والا اور حق کی بصیرت عطا کرنے والا ثابت ہوگا۔
اللہ ہی میرے لیے کافی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرشِ عظیم کا رب ہے۔
پس اگر میں نے درست بات کہی ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا مجھ پر فضل ہے، اور میری بھی یہی نیت اور مقصد ہے۔ اور اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ میری اپنی طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ لہٰذا میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
اور میں نے اس کتاب کا نام رکھا ہے:
«الاستشفاء بالقرآن الكريم»
“قرآنِ کریم کے ذریعے شفا حاصل کرنا”
موضوع کی اہمیت اور اس کے انتخاب کے اسباب
اس موضوع کی اہمیت اور اس کے انتخاب کے اسباب درج ذیل ہیں:
1) امت کی حقیقی سعادت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے رب کی کتاب کی طرف رجوع کرے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرے۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو امت کو قرآن کی طرف لوٹائے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب دے، نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
2) مسلمانوں کی رہنمائی کرنا کہ وہ اللہ کی کتاب کے ذریعے علاج کریں، اور انہیں اس کی یاد دہانی کرانا۔
3) بہت سے مفسرین نے اس موضوع کو تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا۔
4) اس دور میں بیماریوں کی کثرت ہو گئی ہے، جن میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کا مؤثر علاج جدید طب میں معلوم نہیں، جبکہ ان کا علاج اللہ کی کتاب میں موجود ہے، جیسا کہ آگے اس کی وضاحت آئے گی۔
5) قرآن و سنت کی ان تمام نصوص کو واضح کرنا جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ کی کتاب کے ذریعے شفا حاصل کی جاتی ہے۔
6) قرآن کے ذریعے شفا حاصل کرنے کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے منقول طریقوں اور اوصاف کو جاننا، تاکہ مسلمان اپنے اس عمل کے بارے میں پوری بصیرت اور صحیح رہنمائی پر قائم ہو۔
7) مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے اور مصیبت زدہ و بیمار لوگوں میں سے بعض کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا۔
8) مسلمانوں کا دفاع کرنے اور ان کے دشمنوں، یعنی جنات اور انسانوں میں سے شیاطین، جیسے جادوگر، شعبدہ باز، اور وہ لوگ جو ان سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سازشوں کو اپنی استطاعت اور طاقت کے مطابق ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا۔
9) قرآن کے ذریعے علاج (رقیہ) کرنے والوں اور کروانے والوں کو ان شرعی امور سے آگاہ کرنا جو اس موقع پر ان کے لیے مشروع ہیں، اور اس سلسلے میں پائی جانے والی بعض شرعی خلاف ورزیوں سے انہیں خبردار کرنا۔
تحقیق کا خاکہ
ان شاء اللہ اس تحقیق کی ترتیب اور خاکہ درج ذیل ہوگا:
مقدمہ: اس میں تحقیق کی اہمیت اور اس موضوع پر لکھنے کے اسباب بیان کیے جائیں گے، جن کا ذکر ابھی قریب میں گزر چکا ہے۔
اصل موضوع: اس میں دو مباحث (بنیادی ابواب) شامل ہیں:
پہلا مبحث: قرآنِ کریم کے ذریعے شفا حاصل کرنے کی مشروعیت پر قرآن و سنت سے دلائل۔
اس کے تحت دو مطالب (ذیلی عنوانات) ہیں:
پہلا مطلب: قرآنِ کریم کی وہ آیات جو قرآن کے ذریعے شفا حاصل کرنے پر دلالت کرتی ہیں، اور ان کی تفسیر۔
دوسرا مطلب: سنتِ نبوی ﷺ کی وہ احادیث جن سے قرآنِ کریم کے ذریعے شفا حاصل کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اور ان کی وضاحت۔
دوسرا مبحث: قرآنِ کریم کے ذریعے شفا حاصل کرنے کا طریقہ، رقیہ کرنے والے اور جس پر رقیہ کیا جائے اس کی صفات، اور وہ امور جن سے اس سلسلے میں بچنا ضروری ہے۔
اس کے تحت چار مطالب (ذیلی عنوانات) ہیں:
پہلا مطلب: قرآن و سنت کے ذریعے علاج کرنے کے ان طریقوں اور اوصاف کا بیان جو نبی کریم ﷺ سے منقول ہیں۔
دوسرا مطلب: رقیہ (قرآنی دم) کرنے والے میں پائی جانے والی ضروری صفات۔
تیسرا مطلب: جس شخص پر رقیہ کیا جائے، اس میں پائی جانے والی ضروری صفات۔
چوتھا مطلب: وہ ممنوع اور قابلِ اجتناب امور جن سے بچنا ضروری ہے۔
خاتمہ: اس میں ان نتائج کا ذکر کروں گا جن تک میں اس تحقیق کے ذریعے پہنچا ہوں۔
فہارس : ان کی تفصیل تحقیق کے منہج (طریقۂ کار) کے بیان میں آئے گی۔
تحقیق کا طریقۂ کار
اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ اس تحقیق کو درج ذیل منہج (طریقۂ کار) کے مطابق تحریر کیا گیا ہے:
1)جن قرآنی آیات سے استدلال کیا گیا ہے، انہیں ان کی متعلقہ سورتوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے، یعنی متن کے اندر ہر نقل شدہ آیت کے آخر میں سورت کا نام اور آیت کا نمبر ذکر کیا گیا ہے۔
2)احادیث کی تخریج (اصل مراجع کی نشاندہی) معتبر کتبِ سنت سے کی گئی ہے۔
3)استدلال میں صرف صحیح احادیث ذکر کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، اور اگر وہ حدیث صحیح بخاری یا صحیح مسلم (یا ان دونوں میں سے کسی ایک) میں موجود نہ ہو تو یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اہلِ علم میں سے کس نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
4) جن شخصیات (اعلام) کا ذکر آیا ہے، اگر وہ معروف و مشہور نہ ہوں تو ان کا مختصر تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔
5) اہلِ علم کے جو اقوال، تعریفات یا ان سے نقل کردہ عبارات ذکر کی گئی ہیں، ان سب کی ان کے اصل مراجع کی طرف نسبت (حوالہ) دی گئی ہے۔
6) ان الفاظ کی تشریح کی گئی ہے جو وضاحت اور بیان کے محتاج تھے۔
7) تحقیق کے آخر میں درج ذیل علمی فہارس (اشاریے) شامل کیے گئے ہیں:
الف: قرآنی آیات کا اشاریہ۔
ب: احادیثِ نبویہ کا اشاریہ۔
ج: شخصیات (اعلام) کا اشاریہ۔
د: مراجع و مصادر (کتب و حوالہ جات) کا اشاریہ۔
ہ: موضوعات کا اشاریہ۔
یہی ہے (میرا طریقۂ کار)، اور میں اللہ تعالیٰ سے توفیق، درست رہنمائی اور مدد کا سوال کرتا ہوں۔ بے شک وہی اس کا کارساز اور اس پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابۂ کرام پر رحمتیں اور سلام نازل فرمائے۔
خلاصہ
اس مقدمے میں سب سے پہلے قرآنِ کریم کی عظمت، اس کے محفوظ ہونے، اور انسانیت کے لیے اس کی ہدایت، نور اور شفا ہونے کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے تمام دینی و دنیاوی معاملات میں قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور جسمانی و روحانی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے رہنمائی اور شفا حاصل کرنی چاہیے۔ اسی مقصد کے تحت مصنف نے اس کتاب کی تصنیف کی غرض، اپنی نیت اور اس کے نام کی وضاحت بھی پیش کی ہے۔
مزید برآں اس مقدمے میں اس موضوع کی اہمیت، کتاب لکھنے کے اسباب، تحقیق کے بنیادی مقاصد، ابواب اور منہجِ تحقیق کو مختصر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کتاب میں قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں قرآن کے ذریعے شفا حاصل کرنے کی مشروعیت، اس کا صحیح طریقہ، رقیہ کرنے والے اور جس پر رقیہ کیا جائے اس کی شرعی صفات، اور اس باب میں پائی جانے والی غلطیوں سے اجتناب جیسے اہم مسائل کو منظم اور تحقیقی انداز میں پیش کیا جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
تحقیق و تدوین
علي بن غازي التويجري (معاصر)
شیخ ڈاکٹر علی بن غازی التویجری کی کتاب «الاستشفاء بالقرآن الكريم» سے ماخوذ اور اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں قرآن و سنت کی روشنی میں قرآنِ کریم کے ذریعے شفا حاصل کرنے کی مشروعیت، اس کا طریقہ، اور اس سے متعلق اہم شرعی مسائل کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ترجمہ
محمد اویس سبحانی
محمد اویس سبحانی جامعہ اہلِ حدیث چونک دالگرا کے طالبِ علم، Muttabi ویب سائٹ کے بانی اور متبع ٹیم کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپی تقابلِ ادیان، مسیحیت، الحاد، جدید فتنوں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے علمی جائزے میں ہے۔