بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) حالت نماز میں تھوک آجائے تو۔۔۔؟

متفرق ابواب
باب: حالت نماز میں تھوک آجائے تو۔۔۔؟
احادیث:1

حدیث نمبر: 120

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ، فَلا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي اللَّهَ مَا دَامَ فِي مُصَلاهُ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنُهُ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا قام احدكم إلى الصلاة، فلا يبصق امامه، فإنه يناجي الله ما دام في مصلاه، ولا عن يمينه، فإن عن يمينه ملكا، ولكن ليبصق عن شماله او تحت رجله، فيدفنه"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو، تو وہ اپنے سامنے مت تھوکے، کیونکہ جب تک وہ اپنی جائے نماز میں ہوتا ہے، تب تک وہ اللہ عزوجل سے مناجات میں مشغول ہوتا ہے، اور (اسی طرح) وہ اپنے دائیں جانب (بھی) نہ تھوکے، کیونکہ اس کی دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے۔ ہاں (اگر تھوکنا چاہے تو) اپنے بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے، پھر اسے دفن کر دے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم