بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) مال غنیمت کی تقسیم کے حکم کے متعلق

متفرق ابواب
باب: مال غنیمت کی تقسیم کے حکم کے متعلق
احادیث:1

حدیث نمبر: 139

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ"، وَأَظُنُّهُ قَالَ: فَهِيَ لَكُمْ أَوْ نَحْوَهُ مِنَ الْكَلامِ، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ايما قرية اتيتموها واقمتم فيها فسهمكم"، واظنه قال: فهي لكم او نحوه من الكلام، وايما قرية عصت الله ورسوله، فإن خمسها لله ورسوله ثم هي لكم"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس بستی میں جاؤ اور وہاں قیام کرو،“ میرا خیال ہے کہ پھر آپ نے فرمایا: ”تو تمہارا حصہ اس بستی میں ہو گا یا وہ تمہاری ملکیت ہے۔“ یا ایسا ہی کوئی اور کلام۔ ”اور جو بستی (والے) اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو فتح کی صورت میں ان کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے، پھر وہ بھی تمہارے ہی لیے ہے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم