بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(الاربعون في الرد على الشيعة من كتبهم) سيدنا ابى بكر صحاب الغار

متفرق ابواب
سيدنا ابو بكر صحاب الغار

الكافى:263/8

حدیث نمبر:10

حميد بن زياد، عن محمد بن أيوب، عن علي بن أسباط، عن الحكم بن مسكين، عن يوسف بن صهيب، عن أبي عبدالله (ع) قال: سمعت أبا جعفر (ع) يقول:إن رسول الله (صلى الله عليه وآله) أقبل يقول لابي بكر في الغار: اسكن فإن الله معنا وقد أخذته الرعدة وهو لا يسكن۔۔۔

حُمید بن زیاد، محمد بن ایوب سے، وہ علی بن اسباط سے، وہ حکم بن مسکین سے، وہ یوسف بن صہیب سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے امام ابو عبد اللہ (جعفر صادق) علیہ السلام سے نقل کیا، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: ؎میں نے ابو جعفر (امام محمد باقر) علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار (ثور) میں ابو بکر سے فرمانے لگے: “سکون اختیار کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔” لیکن ان (ابو بکر) پر کپکپی اور لرزہ طاری تھا اور وہ پرسکون (مطمئن) نہیں ہو رہے تھے۔۔۔

اس روایت کے برعکس شیعہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلتِ غار کا انکار یا اس میں تشکیک کرتے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی روایات اور تفاسیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کا غار والا ساتھی (صاحب الغار) تسلیم کیا گیا ہے۔اسی طرح التبيان فى تفسير القران:221/5 میں موجود ہے:
ثاني اثنين “. وهو نصب على الحال اي هو ومعه آخر، وهو ابوبكر في وقت كونهما في الغار من حيث ” قال لصاحبه ” يعني ابا بكر »[فرمانِ الٰہی:] “دو میں سے دوسرا (ثانی اثنائ)” — یہ (عربی گرامر کے اعتبار سے) ‘حال’ ہونے کی وجہ سے منصوب (زبر کے ساتھ) ہے۔ یعنی: آپ ﷺ اس حالت میں تھے کہ آپ کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا، اور وہ غار میں موجودگی کے وقت ابو بکر تھے، کیونکہ آگے ارشاد ہوتا ہے: “جب اس نے اپنے ساتھی سے کہا”— یعنی (یہاں ساتھی سے مراد) ابو بکر ہیں۔