بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) نماز کے انتظار کا ثواب اور فضیلت

متفرق ابواب
باب: نماز کے انتظار کا ثواب اور فضیلت
احادیث:1

حدیث نمبر: 132

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاةٍ مَا كَانَتْ تَحْبِسُهُ، وَلا يَمْنَعُهُ أَنْ يَخْرُجَ إِلا انْتِظَارُهَا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يزال احدكم في صلاة ما كانت تحبسه، ولا يمنعه ان يخرج إلا انتظارها"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہمیشہ نماز میں رہتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے، اور نماز سے نکلنے سے اس کے انتظار کے سوا کوئی اور امر مانع نہ ہو۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم