اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿ ۲﴾
(الحمد) مبتدأ مرفوع. (لله) جار ومجرور متعلق بمحذوف خبر المبتدأ تقديره ثابت أو واجب. (ربّ) نعت للفظ الجلالة تبعه في الجر وعلامة الجر الكسرة. (العالمين) مضاف إليه مجرور وعلامة الجر الياء لأنه ملحق بجمع المذكر السالم.
وجملة: «الحمد لله .. » لا محل لها ابتدائية.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
وجملة: «الحمد لله .. » لا محل لها ابتدائية.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
(الحمد) مبتدا ہے جو مرفوع ہے۔(لله) جار اور مجرور مل کر مبتدا کی اس 'خبر' سے متعلق ہیں جو یہاں محذوف (پوشیدہ) ہے، جس کی تقدیر (اصل عبارت) 'ثابت' یا 'واجب' ہے۔(ربّ) لفظِ جلالہ (اللہ) کے لیے نعت (صفت) ہے، جو جر میں اسی کے تابع ہے اور اس کے جر کی علامت کسرہ (زیر) ہے۔(العالمین) مضاف الیہ ہے جو مجرور ہے اور اس کے جر کی علامت 'یاء' ہے کیونکہ یہ ملحق بجمع مذکر سالم ہے۔
اور جملہ: «الحمد لله .. » لا محل لہا (یعنی اس کا کوئی اعرابی محل نہیں) کیونکہ یہ ابتدائیہ ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
اور جملہ: «الحمد لله .. » لا محل لہا (یعنی اس کا کوئی اعرابی محل نہیں) کیونکہ یہ ابتدائیہ ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
(الحمد) مصدر سماعي لفعل حمد يحمد باب نصر وزنه فعل بفتح فسكون.
(ربّ) مصدر يرب باب نصر، ثم استعمل صفة كعدل وخصم، وزنه فعل بفتح فسكون.
(العالمين) جمع العالم، وهو اسم جمع لا واحد له من لفظه، وهو مشتق إما من العلم بكسر العين أو من العلامة، وزنه فاعل بفتح العين، وكذلك جمعه.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
(ربّ) مصدر يرب باب نصر، ثم استعمل صفة كعدل وخصم، وزنه فعل بفتح فسكون.
(العالمين) جمع العالم، وهو اسم جمع لا واحد له من لفظه، وهو مشتق إما من العلم بكسر العين أو من العلامة، وزنه فاعل بفتح العين، وكذلك جمعه.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
(الحمد) یہ فعل 'حَمَدَ يَحْمُدُ' (بابِ نصر) سے مصدرِ سماعی ہے، اور اس کا وزن 'فَعْل' (فاء پر فتحہ اور عین پر سکون) ہے۔
(ربّ) یہ 'يَرُبُّ' (بابِ نصر) سے مصدر ہے، پھر اسے 'عَدْل' اور 'خَصْم' کی طرح بطورِ صفت استعمال کیا گیا، اور اس کا وزن 'فَعْل' (فاء پر فتحہ اور عین پر سکون) ہے۔
(العالمین) یہ 'العالَم' کی جمع ہے، اور یہ ایسا اسمِ جمع ہے جس کا اپنے لفظ سے کوئی واحد نہیں، یہ یا تو 'العِلْم' (عین کے کسرہ کے ساتھ) سے مشتق ہے یا 'العلامة' سے، اس کا وزن 'فَاعَل' (عین کے فتحہ کے ساتھ) ہے، اور اسی طرح اس کی جمع کا وزن بھی ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
(ربّ) یہ 'يَرُبُّ' (بابِ نصر) سے مصدر ہے، پھر اسے 'عَدْل' اور 'خَصْم' کی طرح بطورِ صفت استعمال کیا گیا، اور اس کا وزن 'فَعْل' (فاء پر فتحہ اور عین پر سکون) ہے۔
(العالمین) یہ 'العالَم' کی جمع ہے، اور یہ ایسا اسمِ جمع ہے جس کا اپنے لفظ سے کوئی واحد نہیں، یہ یا تو 'العِلْم' (عین کے کسرہ کے ساتھ) سے مشتق ہے یا 'العلامة' سے، اس کا وزن 'فَاعَل' (عین کے فتحہ کے ساتھ) ہے، اور اسی طرح اس کی جمع کا وزن بھی ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کلمہ اسم ہے اور اپنی ذات میں کمالِ مبالغہ رکھتا ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ح، م، د) ہیں اور اس کا مادہ "حمد" ہے۔ اگر اس کے وزن کی بات کی جائے تو یہ "فَعْلٌ" کے وزن پر آتا ہے۔ صیغے کے لحاظ سے یہ اسمِ مصدر ہے اور معرفہ (الف لام کی وجہ سے) ہے۔ حروفِ زائدہ اس میں الف اور لام (تعریف کے لیے) ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "صحیح" ہے کیونکہ اس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرفِ علت یا ہمزہ نہیں، اور شش اقسام میں یہ "ثلاثی مجرد" کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ مرکب ہے "لِ" (حرفِ جر) اور "اللہ" سے۔ لفظ اللہ کے حروفِ اصلیہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں، مشہور قول کے مطابق اس کے حروف (ا، ل، ہ) ہیں اور اس کا مادہ "إلٰه" (الاہ) ہے۔ اس کا وزن "اَلْفَعَّال" سے بگڑا ہوا مانا جاتا ہے یا یہ "اَلْفِعَال" کے قریب ہے۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ جامد اور علم (خالقِ کائنات کا مخصوص نام) ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف لام ہیں جو تعظیم اور تخصیص کے لیے ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "مہموز الفاء" (اگر اصل 'إلہ' ہو) یا "اجوف" کہلائے گا، اور شش اقسام میں "ثلاثی مجرد" ہے۔
لفظ "رَبّ" کے حروفِ اصلیہ (ر، ب، ب) ہیں، یعنی اس میں حرفِ "ب" دو بار ہے۔ اس کا مادہ "رَبْب" ہے اور وزن "فَعْلٌ" ہے۔ صیغہ کے لحاظ سے یہ صفتِ مشبہ یا اسمِ مصدر ہے جو فاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (یعنی پالنے والا)۔ اس میں کوئی حرفِ زائد نہیں ہے سوائے اس کے کہ ادغام کی وجہ سے ایک "ب" دوسری میں مدغم ہے۔ ہفت اقسام میں یہ "مضاعف ثلاثی" ہے (کیونکہ دو حروفِ اصلیہ ایک جیسے ہیں) اور شش اقسام میں "ثلاثی مجرد" ہے۔
یہ لفظ "عَالَم" کی جمعِ سالم ہے۔ اس کے حروفِ اصلیہ (ع، ل، م) ہیں اور اس کا مادہ "علم" (نشانی) ہے۔ اس کا وزن (واحد کی حالت میں) "فَاعَلٌ" ہے اور جمع کی حالت میں "فَاعَلِیْن"۔ صیغہ کے اعتبار سے یہ اسمِ آلہ کے وزن پر ہے (وہ چیز جس کے ذریعے خالق کو پہچانا جائے) اور حالتِ جری میں جمع مذکر سالم ہے۔ اس میں حروفِ زائدہ الف (ع کے بعد) اور جمع کے لیے "ی" اور "ن" ہیں۔ ہفت اقسام میں یہ "صحیح" ہے اور شش اقسام میں "ثلاثی مزید فیہ" کے مشابہ وزن رکھتا ہے۔
1 - إن جملة {الْحَمْدُ لِلّهِ} خبر، لكنها استعملت لإنشاء الحمد وفائدة الجملة الاسمية ديمومة الحمد واستمراره وثباته. وفي قوله «لله» فن الاختصاص للدلالة على أن جميع المحامد مختصة به سبحانه وتعالى.
2 - لما افتتح سبحانه وتعالى كتابه بالبسملة وهي نوع من الحمد ناسب أن يردفها بالحمد الكلي الجامع لجميع أفراده البالغ أقصى درجات الكمال.
3 - أما حمد الله تعالى نفسه فإنه إخبار باستحقاق الحمد وأمر به أو أنه مقول على ألسنة العباد، أو مجاز عن إظهار الصفات الكمالية الذي هو الغاية القصوى من الحمد.
وقد قدم الحمد على الاسم الجليل لاقتضاء المقام فريد اهتمام به، وإن كان ذكر الله تعالى أهم في نفسه والأهمية تقتضي التقديم.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
2 - لما افتتح سبحانه وتعالى كتابه بالبسملة وهي نوع من الحمد ناسب أن يردفها بالحمد الكلي الجامع لجميع أفراده البالغ أقصى درجات الكمال.
3 - أما حمد الله تعالى نفسه فإنه إخبار باستحقاق الحمد وأمر به أو أنه مقول على ألسنة العباد، أو مجاز عن إظهار الصفات الكمالية الذي هو الغاية القصوى من الحمد.
وقد قدم الحمد على الاسم الجليل لاقتضاء المقام فريد اهتمام به، وإن كان ذكر الله تعالى أهم في نفسه والأهمية تقتضي التقديم.
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
1- جملہ {الْحَمْدُ لِلّهِ} اگرچہ خبریہ ہے، لیکن یہاں اسے 'انشاءِ حمد' (حمد و ثنا بیان کرنے) کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ جملہ اسمیہ کا فائدہ یہ ہے کہ یہ حمد کے دوام، استمرار اور اس کے ثبات (ہمیشگی) پر دلالت کرتا ہے۔ اور اللہ کے نام کے ساتھ «لله» (لامِ اختصاص) میں 'فنِ اختصاص' پایا جاتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تمام تر تعریفیں صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہی خاص ہیں۔
2- جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز 'تسمیہ' (بسم اللہ) سے کیا جو کہ خود حمد کی ایک قسم ہے، تو یہ مناسب تھا کہ اس کے فوراً بعد ایسی 'حمدِ کلی' لائی جائے جو حمد کی تمام اقسام کو جامع ہو اور کمال کے آخری درجے تک پہنچی ہوئی ہو۔
3- اللہ تعالیٰ کا اپنی حمد خود بیان کرنا دراصل اس بات کی خبر دینا ہے کہ وہی حمد کا مستحق ہے، اور یہ بندوں کو حمد کرنے کا حکم بھی ہے۔ یا پھر یہ (الحمدللہ) بندوں کی زبان سے کہلوایا گیا کلام ہے، یا یہ اللہ کی صفاتِ کمالیہ کے اظہار سے مجاز ہے، جو کہ حمد کا اصل اور آخری مقصد ہے۔
اور یہاں لفظِ جلالہ (اللہ) سے پہلے 'الحمد' کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ مقام کا تقاضا ہے کہ حمد پر خصوصی توجہ دی جائے، اگرچہ بذاتِ خود اللہ کا ذکر سب سے اہم ہے اور اہمیت کا تقاضا بھی تقدیم (پہلے آنا) ہی ہوتا ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
2- جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز 'تسمیہ' (بسم اللہ) سے کیا جو کہ خود حمد کی ایک قسم ہے، تو یہ مناسب تھا کہ اس کے فوراً بعد ایسی 'حمدِ کلی' لائی جائے جو حمد کی تمام اقسام کو جامع ہو اور کمال کے آخری درجے تک پہنچی ہوئی ہو۔
3- اللہ تعالیٰ کا اپنی حمد خود بیان کرنا دراصل اس بات کی خبر دینا ہے کہ وہی حمد کا مستحق ہے، اور یہ بندوں کو حمد کرنے کا حکم بھی ہے۔ یا پھر یہ (الحمدللہ) بندوں کی زبان سے کہلوایا گیا کلام ہے، یا یہ اللہ کی صفاتِ کمالیہ کے اظہار سے مجاز ہے، جو کہ حمد کا اصل اور آخری مقصد ہے۔
اور یہاں لفظِ جلالہ (اللہ) سے پہلے 'الحمد' کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ مقام کا تقاضا ہے کہ حمد پر خصوصی توجہ دی جائے، اگرچہ بذاتِ خود اللہ کا ذکر سب سے اہم ہے اور اہمیت کا تقاضا بھی تقدیم (پہلے آنا) ہی ہوتا ہے۔
(کتاب:جدول الاعراب في القران)
یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے،مگر کوشش اور امید ہے نا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔
مختصر لغوی تفسیر:
الحمد للّٰہ کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کی اس کی فضیلت اور اختیاری افعال پر تعریف و ثنا بیان کرنا۔ حمد، مدح اور شکر سے مختلف ہے؛ مدح کسی کے اختیاری کاموں اور پیدائشی اوصاف دونوں پر ہو سکتی ہے، جبکہ حمد صرف اختیاری افعال اور کمالات پر ہوتی ہے۔ شکر صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی کا احسان ہو، اس لیے ہر شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہوتی۔ جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کو حمید کہا گیا ہے یعنی وہ خود بھی قابلِ تعریف ہے اور بندوں کی حمد کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ نبی ﷺ کے نام احمد اور محمد بھی لفظ حمد سے نکلے ہیں؛ احمد کا معنی ہے سب سے زیادہ حمد کرنے والا یا سب سے زیادہ قابلِ حمد، اور محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اعلیٰ اخلاق اور اوصاف کی وجہ سے سب سے زیادہ قابلِ تعریف ہیں۔
الحمد للّٰہ کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کی اس کی فضیلت اور اختیاری افعال پر تعریف و ثنا بیان کرنا۔ حمد، مدح اور شکر سے مختلف ہے؛ مدح کسی کے اختیاری کاموں اور پیدائشی اوصاف دونوں پر ہو سکتی ہے، جبکہ حمد صرف اختیاری افعال اور کمالات پر ہوتی ہے۔ شکر صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی کا احسان ہو، اس لیے ہر شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہوتی۔ جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کو حمید کہا گیا ہے یعنی وہ خود بھی قابلِ تعریف ہے اور بندوں کی حمد کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ نبی ﷺ کے نام احمد اور محمد بھی لفظ حمد سے نکلے ہیں؛ احمد کا معنی ہے سب سے زیادہ حمد کرنے والا یا سب سے زیادہ قابلِ حمد، اور محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کی جائے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اعلیٰ اخلاق اور اوصاف کی وجہ سے سب سے زیادہ قابلِ تعریف ہیں۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
الحمدُ للّٰہ (تعالیٰ) کے معنی اللہ تعالیٰ کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر صادر ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدائشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس طرح مال کے خرچ کرنے، علم و سخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اسی طرح اس کی درازیٔ قد و قامت اور چہرے کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حمد صرف افعال اختیاریہ پر ہوتی ہے نہ کہ اوصاف اضطراریہ پر، اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں۔ لہٰذا شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہے اور ہر حمد کے ساتھ شکر کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ (1) اور جس کی حمد کی تعریف کی جاتی ہے اسے محمود کہا جاتا ہے۔ مگر محمود صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو بکثرت قابلِ ستائش خصائل رکھتا ہو نیز جب کبھی کسی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿اللّٰهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے۔
حمید بمعنی محمود بھی ہو سکتا ہے اور حامد بھی۔ حَمِدَكَ أَن تَفْعَلَ كَذَا: معنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بہتر ہے۔ اور آیت کریمہ: ﴿وَمَبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ ان کی بشارت سناتا ہوں۔
لفظ احمد میں لفظ حمد سے آنحضرت ﷺ کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ ﷺ اپنے اخلاق و اطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی بشارت میں لفظ احمد (صفت تفضیل) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے پیشرو جملہ انبیاء سے افضل ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ﴾ (48:29) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میں لفظ محمد ﷺ کے بجائے حضرت احمد ﷺ کا نام ہے کیونکہ اس میں اجتذاب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ آیت کریمہ: ﴿إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾۔
بِفِعْلِهِ اسْمُ يَجْتَبِي (1:19) میں بیان ہو چکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیثیت پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذکور ہے۔
الحمدُ للّٰہ (تعالیٰ) کے معنی اللہ تعالیٰ کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر صادر ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدائشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس طرح مال کے خرچ کرنے، علم و سخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اسی طرح اس کی درازیٔ قد و قامت اور چہرے کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حمد صرف افعال اختیاریہ پر ہوتی ہے نہ کہ اوصاف اضطراریہ پر، اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں۔ لہٰذا شکر حمد ہے لیکن ہر حمد شکر نہیں ہے اور ہر حمد کے ساتھ شکر کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ (1) اور جس کی حمد کی تعریف کی جاتی ہے اسے محمود کہا جاتا ہے۔ مگر محمود صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو بکثرت قابلِ ستائش خصائل رکھتا ہو نیز جب کبھی کسی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿اللّٰهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے۔
حمید بمعنی محمود بھی ہو سکتا ہے اور حامد بھی۔ حَمِدَكَ أَن تَفْعَلَ كَذَا: معنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بہتر ہے۔ اور آیت کریمہ: ﴿وَمَبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ ان کی بشارت سناتا ہوں۔
لفظ احمد میں لفظ حمد سے آنحضرت ﷺ کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ ﷺ اپنے اخلاق و اطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی بشارت میں لفظ احمد (صفت تفضیل) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے پیشرو جملہ انبیاء سے افضل ہیں۔
اور آیت کریمہ: ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ﴾ (48:29) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میں لفظ محمد ﷺ کے بجائے حضرت احمد ﷺ کا نام ہے کیونکہ اس میں اجتذاب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ آیت کریمہ: ﴿إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾۔
بِفِعْلِهِ اسْمُ يَجْتَبِي (1:19) میں بیان ہو چکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیثیت پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پر مذکور ہے۔
مختصر لغوی تفسیر:
لفظ اللہ کے بارے میں اہلِ لغت کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ اصل میں إلٰه تھا جس پر الف لام لا کر اسے خاص طور پر ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ إلٰه عام لفظ ہے جو ہر معبود کے لیے بولا جا سکتا ہے، خواہ وہ حق ہو یا باطل۔ اس کے اشتقاق کے بارے میں بھی مختلف آراء ہیں: بعض کے نزدیک یہ أَلَهَ سے ہے جس کے معنی عبادت کرنا ہیں، اس لحاظ سے إلٰه کا معنی معبود ہوگا۔ بعض کے نزدیک یہ آلِهَ (حیران ہونا) سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وَلِهَ سے ہے جس کے معنی شدید محبت اور وارفتگی کے ہیں، کیونکہ تمام مخلوق فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہے۔ ایک اور قول کے مطابق یہ لَاهَ سے ہے جس کے معنی پردے میں چھپ جانا ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ اسی طرح اللّٰهم دراصل یا اللہ کے معنی میں آتا ہے اور اس میں میم حرفِ ندا کے بدلے میں آئی ہے۔
لفظ اللہ کے بارے میں اہلِ لغت کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ اصل میں إلٰه تھا جس پر الف لام لا کر اسے خاص طور پر ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ إلٰه عام لفظ ہے جو ہر معبود کے لیے بولا جا سکتا ہے، خواہ وہ حق ہو یا باطل۔ اس کے اشتقاق کے بارے میں بھی مختلف آراء ہیں: بعض کے نزدیک یہ أَلَهَ سے ہے جس کے معنی عبادت کرنا ہیں، اس لحاظ سے إلٰه کا معنی معبود ہوگا۔ بعض کے نزدیک یہ آلِهَ (حیران ہونا) سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وَلِهَ سے ہے جس کے معنی شدید محبت اور وارفتگی کے ہیں، کیونکہ تمام مخلوق فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہے۔ ایک اور قول کے مطابق یہ لَاهَ سے ہے جس کے معنی پردے میں چھپ جانا ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ اسی طرح اللّٰهم دراصل یا اللہ کے معنی میں آتا ہے اور اس میں میم حرفِ ندا کے بدلے میں آئی ہے۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
اللہ (ﷻ): بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں إلٰه ہے ہمزہ (تخفیفاً) حذف کر دیا گیا ہے اور اس پر الف لام (تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے اسی تخصیص کی بنا پر فرمایا: (هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا) کیا تمہیں اس کے کسی ہم نام کا علم ہے۔ إلٰه کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے (خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبودِ باطل) اور وہ سورج کو اِلاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا۔ إلٰه کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ اَلَهَ (ف) یَاْلَهٗ فُلَانٌ وَتَاَلَّهَ سے مشتق ہے جس کے معنی پرستش کرنا ہے اس بنا پر اِلٰہَ کے معنی ہوں گے: معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آلِہَ (س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک سے چونکہ عقول، متیحر اور درماندہ ہیں اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: (1) (كُلُّ دُوْنَ صِفَاتِهٖ تَحْبِيْرُ الصِّفَاتِ وَضَلَّ هُنَاكَ تَصَارِيْفُ اللُّغَاتِ) اے بروں از وہم وقال وقبل من خاک بر فرق من و تمثیل من اس لیے کہ انسان جس قدر صفات الہیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: (2) (تَفَكَّرُوْا فِيْ اٰلَاءِ اللهِ وَلَا تَفَكَّرُوْا فِي اللهِ) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو۔ (۲) بعض نے کہا ہے کہ اِلٰہَ اصل میں وِلَاہَ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر اِلاھہ بنا لیا ہے اور وَلِہَ (س) کے معنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں (3) اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان۔ اسی لیے بعض حکماء نے کہا ہے کہ ذات باری تعالیٰ تمام اشیاء کو محبوب ہے او رآیت کریمہ: (وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لَاھَ یَلُوْہُ لِیَاھً سے ہے جس کے معنی پردہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ نیز آیت کریمہ: (وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ) میں "الباطن" کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اِلٰہَ: یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لیے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا، اس لیے اٰلِهَةٌ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے۔ قرآن پاک میں ہے: (اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچائیں۔ (وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہو جائیں۔ ایک قرأت میں وَاِلَاھَتَکَ ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں لَاھَ اَنْتَ۔ یہ اصل میں لِلّٰہِ اَنْتَ سے ایک لام کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا گیا ہے۔ اللّٰھُمَّ: بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یَا اَللہُ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یاء حرفِ ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ اصل میں یَا اَللہُ اُمَّنَا بِخَیْرٍ (اے اللہ! تو خیر کے ساتھ ہماری طرف توجہ فرما) ہے (کثرتِ استعمال کی بنا پر) حَیْھَلَا کی طرح مرکب کر کے اللّٰھُمَّ بنا لیا گیا ہے۔ (4) (جیسے عَلَم) اِلیٰ: حرف (جر) ہے اور جہاتِ ستہ میں سے کسی جہت کی نہایت حد بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔
اللہ (ﷻ): بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں إلٰه ہے ہمزہ (تخفیفاً) حذف کر دیا گیا ہے اور اس پر الف لام (تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے اسی تخصیص کی بنا پر فرمایا: (هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا) کیا تمہیں اس کے کسی ہم نام کا علم ہے۔ إلٰه کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے (خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبودِ باطل) اور وہ سورج کو اِلاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا۔ إلٰه کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ اَلَهَ (ف) یَاْلَهٗ فُلَانٌ وَتَاَلَّهَ سے مشتق ہے جس کے معنی پرستش کرنا ہے اس بنا پر اِلٰہَ کے معنی ہوں گے: معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آلِہَ (س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات و صفات کے ادراک سے چونکہ عقول، متیحر اور درماندہ ہیں اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: (1) (كُلُّ دُوْنَ صِفَاتِهٖ تَحْبِيْرُ الصِّفَاتِ وَضَلَّ هُنَاكَ تَصَارِيْفُ اللُّغَاتِ) اے بروں از وہم وقال وقبل من خاک بر فرق من و تمثیل من اس لیے کہ انسان جس قدر صفات الہیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: (2) (تَفَكَّرُوْا فِيْ اٰلَاءِ اللهِ وَلَا تَفَكَّرُوْا فِي اللهِ) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو۔ (۲) بعض نے کہا ہے کہ اِلٰہَ اصل میں وِلَاہَ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر اِلاھہ بنا لیا ہے اور وَلِہَ (س) کے معنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں (3) اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان۔ اسی لیے بعض حکماء نے کہا ہے کہ ذات باری تعالیٰ تمام اشیاء کو محبوب ہے او رآیت کریمہ: (وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لَاھَ یَلُوْہُ لِیَاھً سے ہے جس کے معنی پردہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لیے اسے اللہ کہا جاتا ہے۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ نیز آیت کریمہ: (وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ) میں "الباطن" کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اِلٰہَ: یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لیے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا، اس لیے اٰلِهَةٌ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے۔ قرآن پاک میں ہے: (اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچائیں۔ (وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستکش ہو جائیں۔ ایک قرأت میں وَاِلَاھَتَکَ ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں لَاھَ اَنْتَ۔ یہ اصل میں لِلّٰہِ اَنْتَ سے ایک لام کو تخفیف کے لیے حذف کر دیا گیا ہے۔ اللّٰھُمَّ: بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یَا اَللہُ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یاء حرفِ ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ اصل میں یَا اَللہُ اُمَّنَا بِخَیْرٍ (اے اللہ! تو خیر کے ساتھ ہماری طرف توجہ فرما) ہے (کثرتِ استعمال کی بنا پر) حَیْھَلَا کی طرح مرکب کر کے اللّٰھُمَّ بنا لیا گیا ہے۔ (4) (جیسے عَلَم) اِلیٰ: حرف (جر) ہے اور جہاتِ ستہ میں سے کسی جہت کی نہایت حد بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔
مختصر لغوی تفسیر:
لفظ الرَّبّ کا اصل معنی ہے پرورش کرنے والا یا تربیت دینے والا، یعنی کسی چیز کو بتدریج نشوونما دے کر حد کمال تک پہنچانا۔ یہ مصدر استعارۃً فاعل کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور مطلق ہونے پر اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے کیونکہ وہ تمام مخلوقات کے مصالح اور کفیل ہے۔ اس سے مشتق الفاظ میں رَبِّی (میرا پروردگار)، رَبَّانِیّ (علم و تربیت دینے والا، اللہ والا)، رُبُوْبِیَّة (پروردگاری) شامل ہیں۔ عام زبان میں بھی رَبُّ الدّار، رَبُّ الفرس، رَبِّيب وغیرہ اسی معنی میں آتے ہیں۔ قرآن میں الرَّبُّ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص استعمال ہوا ہے، جبکہ کفار اپنی محدود تصورات کے مطابق أَرْبَاب کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ لفظ کا استعمال پرورش، کفالت اور اختیار کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے، جیسا کہ آیات میں “رَبِّ الْعَالَمِينَ” اور “اللّٰهُ رَبُّكُمْ” میں آیا ہے۔
لفظ الرَّبّ کا اصل معنی ہے پرورش کرنے والا یا تربیت دینے والا، یعنی کسی چیز کو بتدریج نشوونما دے کر حد کمال تک پہنچانا۔ یہ مصدر استعارۃً فاعل کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور مطلق ہونے پر اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے کیونکہ وہ تمام مخلوقات کے مصالح اور کفیل ہے۔ اس سے مشتق الفاظ میں رَبِّی (میرا پروردگار)، رَبَّانِیّ (علم و تربیت دینے والا، اللہ والا)، رُبُوْبِیَّة (پروردگاری) شامل ہیں۔ عام زبان میں بھی رَبُّ الدّار، رَبُّ الفرس، رَبِّيب وغیرہ اسی معنی میں آتے ہیں۔ قرآن میں الرَّبُّ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص استعمال ہوا ہے، جبکہ کفار اپنی محدود تصورات کے مطابق أَرْبَاب کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ لفظ کا استعمال پرورش، کفالت اور اختیار کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے، جیسا کہ آیات میں “رَبِّ الْعَالَمِينَ” اور “اللّٰهُ رَبُّكُمْ” میں آیا ہے۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
اَلرَّبُّ: (ان) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کسی چیز کو بتدریج نشو و نما دے کر حد کمال تک پہنچانا کے ہیں اور رَبَّہٗ، وَرَبَّاہٗ وَرَبَّتَہٗ تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ (1) لِأَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ: کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے۔ رَبٌّ کا لفظ اصل میں مصدر ہے استعارۃً بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق (یعنی اضافت اور لام تعریف سے خالی) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چنانچہ ارشاد ہے: (بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ) عمدہ شہر اور (آخرت میں) گناہ بخشنے والا پروردگار نیز فرمایا: (وَلَا يَأْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۤىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا) اور وہ تم سے (کبھی بھی) یہ نہیں کہے گا کہ فرشتوں اور انبیاء کرام کو خدا مانو (یعنی انہیں معبود بناؤ) اور مسبب الاسباب اور مصالح عباد کو کفیل سمجھو۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا جاتا ہے اور دوسروں پر بھی۔ چنانچہ فرمایا: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) ہر طرح کی حمد خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) - (اَللّٰهُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۤىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ) یعنی اللہ تعالیٰ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا بھی۔ رَبُّ الدَّارِ: گھر کا مالک رَبُّ الْفَرَسِ: گھوڑے کا مالک اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا: (اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ) اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کرنا۔ سو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ (ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ) اپنے سرکار کے پاس لوٹ جاؤ۔ اور آیت کریمہ: (مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْ اَحْسَنَ مَثْوَایَ) (یوسف نے کہا) معاذ اللہ وہ (تمہارا شوہر) میرا آقا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رَبِّیْ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور بعض نے عزیزِ مصر مراد لیا ہے لیکن پہلا قول انسب معلوم ہوتا ہے۔ (2) رَبَّانِیٌّ: بقول بعض یہ رَبَّانٌ (صیغہ صفت) کی طرف منسوب ہے لیکن عام طور پر فَعْلَانُ (صفت) فَعِلَ سے آتا ہے۔ جیسے عَطْشَانُ، سَکْرَانُ اور فَعَلَ (فتحہ عین سے بہت کم آتا ہے) جیسے نَعْشَانُ (مِنْ نَعَسَ) بعض نے کہا کہ یہ رَبٌّ (مصدر) کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم کی پرورش کرے جیسے حکیم (یعنی جو حکومت کو فروغ دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ رَبٌّ مصدر کی طرف ہی منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم سے اپنی پرورش کرے درحقیقت یہ دونوں معنی باہم متلازم ہیں کیونکہ جس نے علم کی پرورش کی تو اس نے علم کے ذریعہ اپنی ذات کی بھی تربیت کی اور جو شخص اس کے ذریعہ اپنی ذات کی تربیت کرے گا وہ علم کو بھی فروغ بخشے گا۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ رَبٌّ بمعنی اللہ کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ بمعنی اِلٰھِیٌّ ہے (یعنی اللہ والا) اور اس میں الف نون زائدتان ہیں جیسا کہ جِسْمٌ و جُسْمَانِیٌّ و لِحْیَانِیٌّ کہا جاتا ہے (3) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: (168) اَنَا رَبَّانِیُّ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ: میں اس امت کا عالم ربانی ہوں اس کی جمع رَبَّانِیُّوْنَ ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (لَوْلَا يَنْهٰهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ) انہیں ان کے نبی (یعنی مشائخ) کیوں منع نہیں کرتے۔ (كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ) بلکہ دوسروں سے کہے گا کہ تم خدا پرست ہو کر رہو۔ اور بعض نے کہا ہے کہ رَبَّانِیٌّ اصل میں سریانی لفظ ہے اور یہی قول انسب معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ عربی زبان میں یہ لفظ بہت کم پایا جاتا ہے۔ (4) اور آیت کریمہ: (رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ) بہت سے اللہ والوں نے۔ میں رِبِّیٌّ بمعنی رَبَّانِیٌّ ہے۔ (5) اَلرُّبُوْبِيَّةُ وَالرِّبَابِيَّةُ: یہ دونوں مصدر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے رُبُوْبِیَّة کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اَرْبَابٌ (صیغہ صفت) جمع ارباب قرآن پاک میں ہے: (ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) بھلا دیکھو تو سہی کہ جدا جدا معبود اچھے یا خدائے یگانہ اور زبردست۔ اصل تو یہ تھا کہ رَبٌّ کی جمع نہ آتی۔ کیونکہ قرآن پاک میں یہ لفظ خاص کر ذات باری تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن عقیدہ کفار کے مطابق بصيغہ جمع استعمال ہوا ہے اور اَرْبَابٌ کے علاوہ اس کی جمع اَرِبَّةٌ و رُبُوْبٌ بھی آتی ہے۔ چنانچہ شاعر نے کہا ہے (6) (بسیط) (168) كَانَتْ أَرِبَّتُهُمْ بَهْزًا وَعَمَّهُمْ عَقْدُ الْجِوَارِ وَكَانُوْا مَعْشَرًا غُدُرًا ان کے ہم عہد بنی بہز تھے جنہیں عقدِ جوار نے مغرور کر دیا اور درحقیقت وہ غدار لوگ ہیں۔ دوسرے شاعر نے کہا ہے۔ (7) (طویل) (168) وَكُنْتُ امْرَئً أَفْضَتْ إِلَيْكَ رِبَابَتِي وَقَبْلَكَ رَبَّتْنِي فَضَعْتُ رُبُوْبُ تم وہ آدمی ہو جس تک میری سرپرستی پہنچی ہے تم سے پہلے بہت سے میرے سرپرست بن چکے ہیں۔ مگر میں ضائع ہو گیا ہوں۔ رِبَابَةٌ: عہد و پیمان یا اس چیز کو کہتے ہیں جس میں قمار بازی کے تیر لپیٹ کر رکھے جاتے ہیں۔ رَابَّةٌ: وہ بیوی جو پہلے شوہر سے اپنی اولاد کی تربیت کر رہی ہو۔ اس کا مذکر رَابٌّ ہے۔ لیکن وہ اولاد جو پہلے شوہر سے ہو اور دوسرے شوہر کی زیر تربیت ہو یا پہلی بیوی سے ہو اور دوسری بیوی کی آغوش میں پرورش پا رہی ہو۔ اسے رَبِيْبٌ یا رَبِيْبَةٌ کہا جاتا ہے اس کی جمع رَبَائِبُ آتی ہے قرآن پاک میں ہے: (وَرَبَاۤىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ) اور تمہاری بیویوں کی (پچھلی) اولاد جو تمہاری گودوں میں (پرورش پاتی) ہے۔ رَبَّبْتُ الْاَدِیْمَ بِالسَّمْنِ: میں نے چمڑے کو گھی لگا کر نرم کیا۔ رَبَّبْتُ الدُّهْنُ اَیْ بِالْعَسَلِ: میں نے شہد سے دوا کی اصلاح کی۔ سِقَاءٌ مَرِبُوبٌ: پانی مشک جسے تیل لگا کر نرم کیا گیا ہو۔ شاعر نے کہا ہے۔ (8) (طویل) (168) فَکُونِیْ لَہُ کَالشَّنِّ نَیَّثَ لَہُ الْاَدَمُ تم اس کے لئے ایسی ہو جاؤ جیسے رَبٌّ لگا ہوا چمڑا گھی کے لئے ہوتا ہے۔ اَلرَّبَابُ: بادل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ نباتات کی پرورش کرنا اور اسے بڑھاتا ہے اسی معنی کے اعتبار سے مِصُّ کُوْدٌ (دودھ) اور بادل کو تشبیہاً نَقُوءٌ (یعنی دودھ دینے والی اونٹنی) کہا جاتا ہے محاورہ ہے۔ اَرَبَّتِ السَّحَابَةُ: بدلی متواتر برستی رہی اور اس کے اصل معنی میں بدلی صاحب تربیت ہو گئی۔ اس کے بعد اس سے ٹھہرنے کا معنی لے کر یہ لفظ کسی جگہ پر مقیم ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے اَرَبَّ فُلَانٌ بِمَكَانِ کَذَا: اس نے فلاں جگہ پر اقامت اختیار کی۔ رُبَّ: تقلیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ (9) جیسے فرمایا: (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) کافر بہتیرے ہی ارمان کریں گے (کہ) اے کاش (ہم بھی) مسلمان ہوئے ہوتے۔
اَلرَّبُّ: (ان) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کسی چیز کو بتدریج نشو و نما دے کر حد کمال تک پہنچانا کے ہیں اور رَبَّہٗ، وَرَبَّاہٗ وَرَبَّتَہٗ تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ (1) لِأَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ: کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے۔ رَبٌّ کا لفظ اصل میں مصدر ہے استعارۃً بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق (یعنی اضافت اور لام تعریف سے خالی) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چنانچہ ارشاد ہے: (بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ) عمدہ شہر اور (آخرت میں) گناہ بخشنے والا پروردگار نیز فرمایا: (وَلَا يَأْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰۤىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا) اور وہ تم سے (کبھی بھی) یہ نہیں کہے گا کہ فرشتوں اور انبیاء کرام کو خدا مانو (یعنی انہیں معبود بناؤ) اور مسبب الاسباب اور مصالح عباد کو کفیل سمجھو۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا جاتا ہے اور دوسروں پر بھی۔ چنانچہ فرمایا: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) ہر طرح کی حمد خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) - (اَللّٰهُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۤىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ) یعنی اللہ تعالیٰ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا بھی۔ رَبُّ الدَّارِ: گھر کا مالک رَبُّ الْفَرَسِ: گھوڑے کا مالک اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا: (اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ) اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کرنا۔ سو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ (ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ) اپنے سرکار کے پاس لوٹ جاؤ۔ اور آیت کریمہ: (مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْ اَحْسَنَ مَثْوَایَ) (یوسف نے کہا) معاذ اللہ وہ (تمہارا شوہر) میرا آقا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رَبِّیْ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور بعض نے عزیزِ مصر مراد لیا ہے لیکن پہلا قول انسب معلوم ہوتا ہے۔ (2) رَبَّانِیٌّ: بقول بعض یہ رَبَّانٌ (صیغہ صفت) کی طرف منسوب ہے لیکن عام طور پر فَعْلَانُ (صفت) فَعِلَ سے آتا ہے۔ جیسے عَطْشَانُ، سَکْرَانُ اور فَعَلَ (فتحہ عین سے بہت کم آتا ہے) جیسے نَعْشَانُ (مِنْ نَعَسَ) بعض نے کہا کہ یہ رَبٌّ (مصدر) کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم کی پرورش کرے جیسے حکیم (یعنی جو حکومت کو فروغ دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ رَبٌّ مصدر کی طرف ہی منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ وہ ہے جو علم سے اپنی پرورش کرے درحقیقت یہ دونوں معنی باہم متلازم ہیں کیونکہ جس نے علم کی پرورش کی تو اس نے علم کے ذریعہ اپنی ذات کی بھی تربیت کی اور جو شخص اس کے ذریعہ اپنی ذات کی تربیت کرے گا وہ علم کو بھی فروغ بخشے گا۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ رَبٌّ بمعنی اللہ کی طرف منسوب ہے اور رَبَّانِیٌّ بمعنی اِلٰھِیٌّ ہے (یعنی اللہ والا) اور اس میں الف نون زائدتان ہیں جیسا کہ جِسْمٌ و جُسْمَانِیٌّ و لِحْیَانِیٌّ کہا جاتا ہے (3) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: (168) اَنَا رَبَّانِیُّ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ: میں اس امت کا عالم ربانی ہوں اس کی جمع رَبَّانِیُّوْنَ ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (لَوْلَا يَنْهٰهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ) انہیں ان کے نبی (یعنی مشائخ) کیوں منع نہیں کرتے۔ (كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ) بلکہ دوسروں سے کہے گا کہ تم خدا پرست ہو کر رہو۔ اور بعض نے کہا ہے کہ رَبَّانِیٌّ اصل میں سریانی لفظ ہے اور یہی قول انسب معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ عربی زبان میں یہ لفظ بہت کم پایا جاتا ہے۔ (4) اور آیت کریمہ: (رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ) بہت سے اللہ والوں نے۔ میں رِبِّیٌّ بمعنی رَبَّانِیٌّ ہے۔ (5) اَلرُّبُوْبِيَّةُ وَالرِّبَابِيَّةُ: یہ دونوں مصدر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے رُبُوْبِیَّة کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اَرْبَابٌ (صیغہ صفت) جمع ارباب قرآن پاک میں ہے: (ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) بھلا دیکھو تو سہی کہ جدا جدا معبود اچھے یا خدائے یگانہ اور زبردست۔ اصل تو یہ تھا کہ رَبٌّ کی جمع نہ آتی۔ کیونکہ قرآن پاک میں یہ لفظ خاص کر ذات باری تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن عقیدہ کفار کے مطابق بصيغہ جمع استعمال ہوا ہے اور اَرْبَابٌ کے علاوہ اس کی جمع اَرِبَّةٌ و رُبُوْبٌ بھی آتی ہے۔ چنانچہ شاعر نے کہا ہے (6) (بسیط) (168) كَانَتْ أَرِبَّتُهُمْ بَهْزًا وَعَمَّهُمْ عَقْدُ الْجِوَارِ وَكَانُوْا مَعْشَرًا غُدُرًا ان کے ہم عہد بنی بہز تھے جنہیں عقدِ جوار نے مغرور کر دیا اور درحقیقت وہ غدار لوگ ہیں۔ دوسرے شاعر نے کہا ہے۔ (7) (طویل) (168) وَكُنْتُ امْرَئً أَفْضَتْ إِلَيْكَ رِبَابَتِي وَقَبْلَكَ رَبَّتْنِي فَضَعْتُ رُبُوْبُ تم وہ آدمی ہو جس تک میری سرپرستی پہنچی ہے تم سے پہلے بہت سے میرے سرپرست بن چکے ہیں۔ مگر میں ضائع ہو گیا ہوں۔ رِبَابَةٌ: عہد و پیمان یا اس چیز کو کہتے ہیں جس میں قمار بازی کے تیر لپیٹ کر رکھے جاتے ہیں۔ رَابَّةٌ: وہ بیوی جو پہلے شوہر سے اپنی اولاد کی تربیت کر رہی ہو۔ اس کا مذکر رَابٌّ ہے۔ لیکن وہ اولاد جو پہلے شوہر سے ہو اور دوسرے شوہر کی زیر تربیت ہو یا پہلی بیوی سے ہو اور دوسری بیوی کی آغوش میں پرورش پا رہی ہو۔ اسے رَبِيْبٌ یا رَبِيْبَةٌ کہا جاتا ہے اس کی جمع رَبَائِبُ آتی ہے قرآن پاک میں ہے: (وَرَبَاۤىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ) اور تمہاری بیویوں کی (پچھلی) اولاد جو تمہاری گودوں میں (پرورش پاتی) ہے۔ رَبَّبْتُ الْاَدِیْمَ بِالسَّمْنِ: میں نے چمڑے کو گھی لگا کر نرم کیا۔ رَبَّبْتُ الدُّهْنُ اَیْ بِالْعَسَلِ: میں نے شہد سے دوا کی اصلاح کی۔ سِقَاءٌ مَرِبُوبٌ: پانی مشک جسے تیل لگا کر نرم کیا گیا ہو۔ شاعر نے کہا ہے۔ (8) (طویل) (168) فَکُونِیْ لَہُ کَالشَّنِّ نَیَّثَ لَہُ الْاَدَمُ تم اس کے لئے ایسی ہو جاؤ جیسے رَبٌّ لگا ہوا چمڑا گھی کے لئے ہوتا ہے۔ اَلرَّبَابُ: بادل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ نباتات کی پرورش کرنا اور اسے بڑھاتا ہے اسی معنی کے اعتبار سے مِصُّ کُوْدٌ (دودھ) اور بادل کو تشبیہاً نَقُوءٌ (یعنی دودھ دینے والی اونٹنی) کہا جاتا ہے محاورہ ہے۔ اَرَبَّتِ السَّحَابَةُ: بدلی متواتر برستی رہی اور اس کے اصل معنی میں بدلی صاحب تربیت ہو گئی۔ اس کے بعد اس سے ٹھہرنے کا معنی لے کر یہ لفظ کسی جگہ پر مقیم ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے اَرَبَّ فُلَانٌ بِمَكَانِ کَذَا: اس نے فلاں جگہ پر اقامت اختیار کی۔ رُبَّ: تقلیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ (9) جیسے فرمایا: (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) کافر بہتیرے ہی ارمان کریں گے (کہ) اے کاش (ہم بھی) مسلمان ہوئے ہوتے۔
مختصر لغوی تفسیر:
لفظ العِلْم کا مطلب ہے کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا، چاہے وہ ذات کی پہچان ہو یا اس کی صفات و احکام کا علم۔ علم دو طرح کا ہے: نظری (حاصل ہوتے ہی مکمل) اور عملی (عمل کے بغیر مکمل نہ ہونے والا)، نیز عقلی (عقل سے حاصل شدہ) اور سماعی (نقل یا تعلیم کے ذریعہ حاصل شدہ)۔ تعلیم اور اعلام سے علم دل میں القا یا یاد دہانی ہوتا ہے۔ قرآن میں علم کو اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جیسے: (عَلِيمُ الغَيْبِ) جو غیب جاننے والا ہے۔ لفظ العالم کسی شے یا کائنات کے علم حاصل کرنے والے کے لیے، اور العالمون اس کی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لیے غور و فکر کی تاکید بھی اسی سے ہے، جیسا کہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)۔
لفظ العِلْم کا مطلب ہے کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا، چاہے وہ ذات کی پہچان ہو یا اس کی صفات و احکام کا علم۔ علم دو طرح کا ہے: نظری (حاصل ہوتے ہی مکمل) اور عملی (عمل کے بغیر مکمل نہ ہونے والا)، نیز عقلی (عقل سے حاصل شدہ) اور سماعی (نقل یا تعلیم کے ذریعہ حاصل شدہ)۔ تعلیم اور اعلام سے علم دل میں القا یا یاد دہانی ہوتا ہے۔ قرآن میں علم کو اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جیسے: (عَلِيمُ الغَيْبِ) جو غیب جاننے والا ہے۔ لفظ العالم کسی شے یا کائنات کے علم حاصل کرنے والے کے لیے، اور العالمون اس کی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لیے غور و فکر کی تاکید بھی اسی سے ہے، جیسا کہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)۔
تفصیلی لغوی تفسیر:
اَلْعِلْمُ: کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا۔ اور یہ دو قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرنا؛ دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو (فی الواقع) اس کے لیے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو (فی الواقع) اس سے منفی ہو۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: (لَا تَعْلَمُوْنَهُمُ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ) جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: (فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ) اگر تم کو معلوم ہو کہ وہ مؤمن ہیں۔ اور آیت (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ) کے آخر میں (لَا عِلْمَ لَنَا) سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش وحواس قائم نہیں رہیں گے۔ ایک دوسرے حیثیت سے علم کی دو قسمیں ہیں: (1) نظری (2) عملی۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہو جائے جیسے "علم جس کا تعلق موجوداتِ عالم سے ہے اور علم عملی وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جیسے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں: (1) عقلی۔ یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل و سماعت کے حاصل کیا جائے دراصل ہو سکے۔ (2) سماعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل اَعْلَمْتُهٗ وَعَلَّمْتُهٗ کے ایک معنی ہیں مگر اِعْلَامٌ جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تَعْلِیْمٌ کے معنی بار بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں۔ حتی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہو جائے۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کے لیے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تَعَلُّمٌ کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تَعْلِیْمٌ کا لفظ اِعْلَامٌ کی جگہ آتا ہے کہ جس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا: (اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِيْنِكُمْ) کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور حسبِ ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے: جیسے فرمایا: (اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ) خدا جو نہایت مہربان، اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی۔ (عَلَّمَ بِالْقَلَمِ) قلم کے ذریعہ (لکھنا) سکھایا۔ (عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ) اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے۔ (عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ) ہمیں خدا کی طرف سے جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ كُلَّهَا) اور اس نے آدم علیہ السلام کو سب چیزوں کے نام سکھائے۔ میں آدم علیہ السلام کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعداد رکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لیے ایک نام وضع کر لیا یعنی اس کے دل میں القا کر دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو اے کام سکھا دیے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمْنٰهٗ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا... قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا) اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھلایا گیا ہے اگر آپ مجھے اس میں سے کچھ رشد و ہدایت (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ اس سے ایک خاص علم مراد ہے جس پر انسان از خود واقف نہیں ہو سکتا اور جب تک اللہ تعالیٰ اس پر واقف نہ فرمائے لوگ اسے قابلِ انکار سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر کے ساتھ چلے تو جب تک انہوں نے ان واقعات کی حقیقت سے موسیٰ علیہ السلام کو باخبر نہیں کر دیا وہ ان باتوں کا انکار ہی کرتے رہے اور بعض نے کہا ہے کہ آیت کریمہ: (قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ) ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا، میں بھی علم کے یہی معنی مراد ہیں یعنی جسے علمِ خصوصی حاصل تھا اور آیت: (وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ) اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ مراتب علم کے اعتبار سے علماء کے بھی مختلف درجے اور مرتبے ہیں اور آیت کریمہ: (وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ) اور ہر علم والے سے دوسرا اعلم والا بڑھ کر ہے۔ میں عَلِیْمٌ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ علم و فضل کے اعتبار سے ایک انسان دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ عَلِیْمٌ صیغہ مبالغہ لاکر اس علمی فضیلت کو بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے سے کم درجہ کے اعتبار سے عَلِیْمٌ ہے گو اپنے سے بلند درجہ عالم کے اعتبار سے ایسا نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عَلِیْمٌ سے ذاتِ باری تعالیٰ مراد ہو گو یہ لفظ نکرہ ہے کیونکہ درحقیقت اس صفت کے ساتھ موصوف ہونے کی اہل تو ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے اس صورت میں كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ سے جملہ اہلِ علم بحیثیت مجموعی مراد ہوں گے اور ہر ایک بحیثیت انفرادی مراد نہیں ہوگا جیسا کہ پہلی صورت میں تھا۔ اور آیت کریمہ: (عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے اور کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں ہے اور آیت کریمہ: (عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا... اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ) وہی غیب کا جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ اپنے علم خصوصی سے صرف انہیں کو نوازتے ہیں جو اس کے اولیاء کی صف میں داخل ہوں اور اَلْعَالِمُ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات ہوتی ہے جس پر کوئی چیز بھی مخفی نہ ہو۔ جیسے فرمایا: (لَا تَعْلَمُ مِنْهَا خَافِیَةٌ) اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہیں رہے گی۔ اور یہ مفہوم صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے حق میں ہی صحیح ہو سکتا ہے کسی دوسرے کو اس معنی کے ساتھ متصف کرنا صحیح نہیں۔ اَلْعَلَامَةُ: ایسا نشان جس سے کوئی شے پہچانی جائے جیسے عَلَمُ الطَّرِیْقِ: اس نشان کو کہتے ہیں جو راستہ کی پہچان کے لیے اس میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اور فوج کے جھنڈے کو عَلَمُ الْجَیْشِ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے فوج کی پہچان ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک قرأت میں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) (وَ اِنَّهٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ) کہا گیا ہے یعنی وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ اور اس معنی کے اعتبار سے پہاڑ کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے۔ اس کی جمع اَعْلَامٌ ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے: (وَمِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور اس کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں جو گویا پہاڑ ہیں۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا: (وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَـٰٔاتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔ نیز اوپر کے ہونٹ کے شگاف اور کپڑے کے نقش و نگار کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے اور محاورہ ہے فُلَانٌ عَالَمٌ فلاں مشہور و معروف ہے جھنڈے کے ساتھ تشبیہ کے اعتبار سے یہی معنی مراد ہوتے ہیں۔ اَعْلَمْتُ کَذَا کے معنی کسی چیز پر نشان لگانا کے ہیں۔ اور مَعَالِمُ الدِّيْنِ وَالدُّنْیَا میں مَعْلَمَةٌ کا واحد مَعْلَمٌ ہے اور مَعْلَمٌ اس نشان کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کی پہچان ہو سکے محاورہ ہے۔ فُلَانٌ مَعْلَمٌ بِالْخَيْرِ: فلاں خیر و برکت کا نشان ہے۔ اَلْعَلَامُ: مہندی۔ اَلْعَالِمُ: فلک الافلاک اور جن وجواہر و اعراض پر وہ حاوی ہے سب کو اَلْعَالَمُ کہا جاتا ہے دراصل یہ فَاعَلَ کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے طَابَعٌ، خَاتَمٌ، مَا یُعْلَمُ بِہٖ وغیرہ اسی طرح عَالَمٌ بھی ہے جس کے معنی ہیں مَا عُلِمَ بِهٖ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لیے جملہ کائنات اَلْعَالَمُ کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک نے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت پر غور نہیں کیا۔ اور اَلْعَالَمُ کی جمع (اَلْعَالَمُوْنَ) اس لیے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقل عالم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً عالم الانسان، عالمِ النبات، عالمِ النار وغیرہ۔ نیز ایک روایت میں ہے۔ (1) (اِنَّ لِلّٰہِ بِضْعَةَ عَشَرَ اَلْفَ عَالَمٍ) کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کیے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ (واؤ نون کے ساتھ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے (جو ذوی العقول کے ساتھ مختص ہے) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عَالَمٌ میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لیے اس کی جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبًا اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عَالَمٌ سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے، جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ (2) اس لیے اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ لائی گئی ہے۔ امام جعفر رضی اللہ عنہ بن محمد کا قول ہے (3) کہ عَالَمِیْنَ سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد و بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لیا گیا ہے۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عَالَمٌ دو قسم پر ہے: (1) اَلْعَالَمُ الْکَبِیْرُ: یعنی فلک و ما فیہ (2) اَلْعَالَمُ الصَّغِیْرُ: یعنی انسان، کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جو عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ہے: (اَوَلَمْ یَنْتَهَوْا عَنِ الْعٰلَمِیْنَ) کیا ہم نے تم کو سارے جہاں کی حمایت و طرفداری سے منع نہیں کیا تھا۔ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ اور آیت کریمہ: (وَاَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ) کے بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصر اقوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلاء مراد لیے ہیں جن میں سے ہر ایک نوازشات الہی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عَالَمٌ سے موسوم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ: (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً) "بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک امت تھے" میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کہا ہے۔
اَلْعِلْمُ: کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا۔ اور یہ دو قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرنا؛ دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو (فی الواقع) اس کے لیے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو (فی الواقع) اس سے منفی ہو۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: (لَا تَعْلَمُوْنَهُمُ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ) جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: (فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ) اگر تم کو معلوم ہو کہ وہ مؤمن ہیں۔ اور آیت (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ) کے آخر میں (لَا عِلْمَ لَنَا) سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش وحواس قائم نہیں رہیں گے۔ ایک دوسرے حیثیت سے علم کی دو قسمیں ہیں: (1) نظری (2) عملی۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہو جائے جیسے "علم جس کا تعلق موجوداتِ عالم سے ہے اور علم عملی وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جیسے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں: (1) عقلی۔ یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل و سماعت کے حاصل کیا جائے دراصل ہو سکے۔ (2) سماعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل اَعْلَمْتُهٗ وَعَلَّمْتُهٗ کے ایک معنی ہیں مگر اِعْلَامٌ جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تَعْلِیْمٌ کے معنی بار بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں۔ حتی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہو جائے۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کے لیے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تَعَلُّمٌ کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تَعْلِیْمٌ کا لفظ اِعْلَامٌ کی جگہ آتا ہے کہ جس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا: (اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِيْنِكُمْ) کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور حسبِ ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے: جیسے فرمایا: (اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ) خدا جو نہایت مہربان، اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی۔ (عَلَّمَ بِالْقَلَمِ) قلم کے ذریعہ (لکھنا) سکھایا۔ (عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ) اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے۔ (عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ) ہمیں خدا کی طرف سے جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ كُلَّهَا) اور اس نے آدم علیہ السلام کو سب چیزوں کے نام سکھائے۔ میں آدم علیہ السلام کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعداد رکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لیے ایک نام وضع کر لیا یعنی اس کے دل میں القا کر دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو اے کام سکھا دیے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَعَلَّمْنٰهٗ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا... قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا) اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھلایا گیا ہے اگر آپ مجھے اس میں سے کچھ رشد و ہدایت (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ اس سے ایک خاص علم مراد ہے جس پر انسان از خود واقف نہیں ہو سکتا اور جب تک اللہ تعالیٰ اس پر واقف نہ فرمائے لوگ اسے قابلِ انکار سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر کے ساتھ چلے تو جب تک انہوں نے ان واقعات کی حقیقت سے موسیٰ علیہ السلام کو باخبر نہیں کر دیا وہ ان باتوں کا انکار ہی کرتے رہے اور بعض نے کہا ہے کہ آیت کریمہ: (قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ) ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا، میں بھی علم کے یہی معنی مراد ہیں یعنی جسے علمِ خصوصی حاصل تھا اور آیت: (وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ) اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ مراتب علم کے اعتبار سے علماء کے بھی مختلف درجے اور مرتبے ہیں اور آیت کریمہ: (وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ) اور ہر علم والے سے دوسرا اعلم والا بڑھ کر ہے۔ میں عَلِیْمٌ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ علم و فضل کے اعتبار سے ایک انسان دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ عَلِیْمٌ صیغہ مبالغہ لاکر اس علمی فضیلت کو بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے سے کم درجہ کے اعتبار سے عَلِیْمٌ ہے گو اپنے سے بلند درجہ عالم کے اعتبار سے ایسا نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عَلِیْمٌ سے ذاتِ باری تعالیٰ مراد ہو گو یہ لفظ نکرہ ہے کیونکہ درحقیقت اس صفت کے ساتھ موصوف ہونے کی اہل تو ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے اس صورت میں كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ سے جملہ اہلِ علم بحیثیت مجموعی مراد ہوں گے اور ہر ایک بحیثیت انفرادی مراد نہیں ہوگا جیسا کہ پہلی صورت میں تھا۔ اور آیت کریمہ: (عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے اور کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں ہے اور آیت کریمہ: (عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا... اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ) وہی غیب کا جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ اپنے علم خصوصی سے صرف انہیں کو نوازتے ہیں جو اس کے اولیاء کی صف میں داخل ہوں اور اَلْعَالِمُ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی صفت کی حیثیت سے بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات ہوتی ہے جس پر کوئی چیز بھی مخفی نہ ہو۔ جیسے فرمایا: (لَا تَعْلَمُ مِنْهَا خَافِیَةٌ) اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہیں رہے گی۔ اور یہ مفہوم صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے حق میں ہی صحیح ہو سکتا ہے کسی دوسرے کو اس معنی کے ساتھ متصف کرنا صحیح نہیں۔ اَلْعَلَامَةُ: ایسا نشان جس سے کوئی شے پہچانی جائے جیسے عَلَمُ الطَّرِیْقِ: اس نشان کو کہتے ہیں جو راستہ کی پہچان کے لیے اس میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اور فوج کے جھنڈے کو عَلَمُ الْجَیْشِ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے فوج کی پہچان ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک قرأت میں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) (وَ اِنَّهٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَةِ) کہا گیا ہے یعنی وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ اور اس معنی کے اعتبار سے پہاڑ کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے۔ اس کی جمع اَعْلَامٌ ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے: (وَمِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور اس کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں جو گویا پہاڑ ہیں۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا: (وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَـٰٔاتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ) اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔ نیز اوپر کے ہونٹ کے شگاف اور کپڑے کے نقش و نگار کو بھی عَلَمٌ کہا جاتا ہے اور محاورہ ہے فُلَانٌ عَالَمٌ فلاں مشہور و معروف ہے جھنڈے کے ساتھ تشبیہ کے اعتبار سے یہی معنی مراد ہوتے ہیں۔ اَعْلَمْتُ کَذَا کے معنی کسی چیز پر نشان لگانا کے ہیں۔ اور مَعَالِمُ الدِّيْنِ وَالدُّنْیَا میں مَعْلَمَةٌ کا واحد مَعْلَمٌ ہے اور مَعْلَمٌ اس نشان کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کی پہچان ہو سکے محاورہ ہے۔ فُلَانٌ مَعْلَمٌ بِالْخَيْرِ: فلاں خیر و برکت کا نشان ہے۔ اَلْعَلَامُ: مہندی۔ اَلْعَالِمُ: فلک الافلاک اور جن وجواہر و اعراض پر وہ حاوی ہے سب کو اَلْعَالَمُ کہا جاتا ہے دراصل یہ فَاعَلَ کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے طَابَعٌ، خَاتَمٌ، مَا یُعْلَمُ بِہٖ وغیرہ اسی طرح عَالَمٌ بھی ہے جس کے معنی ہیں مَا عُلِمَ بِهٖ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لیے جملہ کائنات اَلْعَالَمُ کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک نے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا: (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت پر غور نہیں کیا۔ اور اَلْعَالَمُ کی جمع (اَلْعَالَمُوْنَ) اس لیے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقل عالم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً عالم الانسان، عالمِ النبات، عالمِ النار وغیرہ۔ نیز ایک روایت میں ہے۔ (1) (اِنَّ لِلّٰہِ بِضْعَةَ عَشَرَ اَلْفَ عَالَمٍ) کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کیے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ (واؤ نون کے ساتھ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے (جو ذوی العقول کے ساتھ مختص ہے) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عَالَمٌ میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لیے اس کی جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبًا اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ بنا لیتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عَالَمٌ سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے، جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ (2) اس لیے اس کی جمع واؤ نون کے ساتھ لائی گئی ہے۔ امام جعفر رضی اللہ عنہ بن محمد کا قول ہے (3) کہ عَالَمِیْنَ سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد و بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لیا گیا ہے۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عَالَمٌ دو قسم پر ہے: (1) اَلْعَالَمُ الْکَبِیْرُ: یعنی فلک و ما فیہ (2) اَلْعَالَمُ الصَّغِیْرُ: یعنی انسان، کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جو عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ہے: (اَوَلَمْ یَنْتَهَوْا عَنِ الْعٰلَمِیْنَ) کیا ہم نے تم کو سارے جہاں کی حمایت و طرفداری سے منع نہیں کیا تھا۔ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ اور آیت کریمہ: (وَاَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ) کے بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصر اقوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلاء مراد لیے ہیں جن میں سے ہر ایک نوازشات الہی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عَالَمٌ سے موسوم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ: (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً) "بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک امت تھے" میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کہا ہے۔