بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

اس بیان میں کہ علم (کا درجہ) قول و عمل سے پہلے ہے۔ (بخاری)

کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بیان میں کہ علم (کا درجہ) قول و عمل سے پہلے ہے۔
احادیث:1

ترجمۃ الباب

لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَاعْلَمْ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ} فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ، وَأَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ- وَرَّثُوا الْعِلْمَ- مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. وَقَالَ جَلَّ ذِكْرُهُ: {إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ} وَقَالَ: {وَمَا يَعْقِلُهَا إِلاَّ الْعَالِمُونَ}، {وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ}. وَقَالَ: {هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ}. وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ» . وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لَوْ وَضَعْتُمُ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ- ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لأَنْفَذْتُهَا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {كُونُوا رَبَّانِيِّينَ} حُكَمَاءَ فُقَهَاءَ. وَيُقَالُ الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ.
لقول الله تعالى: {فاعلم انه لا إله إلا الله} فبدا بالعلم، وان العلماء هم ورثة الانبياء- ورثوا العلم- من اخذه اخذ بحظ وافر، ومن سلك طريقا يطلب به علما سهل الله له طريقا إلى الجنة. وقال جل ذكره: {إنما يخشى الله من عباده العلماء} وقال: {وما يعقلها إلا العالمون}، {وقالوا لو كنا نسمع او نعقل ما كنا في اصحاب السعير}. وقال: {هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون}. وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، وإنما العلم بالتعلم» . وقال ابو ذر لو وضعتم الصمصامة على هذه واشار إلى قفاه- ثم ظننت اني انفذ كلمة سمعتها من النبي صلى الله عليه وسلم قبل ان تجيزوا علي لانفذتها. وقال ابن عباس: {كونوا ربانيين} حكماء فقهاء. ويقال الرباني الذي يربي الناس بصغار العلم قبل كباره.
ارشاد باری تعالٰی ہے : " آپ جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں (اور اپنے گناہوں سے استغفار کریں۔) اللہ تعالٰی نے علم سے ابتدا کی ہے اور علماء حضرات انبیاء کے وارث ہیں۔ ان انبیاء نے وراثت میں علم چھوڑا ہے۔ جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے انبیاء کی میراث کا وافر حصہ حاصل کر لیا اور جو شخص حصول علم کے لیے کسی راستے پر گامزن ہوگا، اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا، نیز ارشاد باری تعالٰی ہے: "اللہ تعالٰی سے اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی ڈرتے ہیں۔ نیز فرمایا : " قرآن کی بیان کردہ مثالوں کو صرف علماء ہی سمجھتے ہیں۔ اہل جہنم کہیں گے: اگر ہم سنتے یا عقل رکھتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے ۔ نیز فرمایا:" کیا جاہل اور عالم برابر ہو سکتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دینی معاملات میں بصیرت عطا کر دیتا ہے ۔ اور علم تو سیکھنے ہی سے آتا ہے۔"حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی گدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اگر تم شمشیر براں میری گردن پر رکھ دو اور مجھے گمان ہو کہ میں گردن الگ ہونے سے پہلے پہلے اپنی زبان سے کوئی ایسا کلمہ بیان کر سکوں گا جسے میں نے نبی ﷺسے سنا ہے، تو میں ضرور اس کلمے کو ادا کروں گا۔
‏‏‏‏ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «فاعلم أنه لا إله إلا الله‏» (آپ جان لیجیئے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے) تو (گویا) اللہ تعالیٰ نے علم سے ابتداء فرمائی اور (حدیث میں ہے) کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ (اور) پیغمبروں نے علم (ہی) کا ورثہ چھوڑا ہے۔ پھر جس نے علم حاصل کیا اس نے (دولت کی) بہت بڑی مقدار حاصل کر لی۔ اور جو شخص کسی راستے پر حصول علم کے لیے چلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ اور (دوسری جگہ) فرمایا اور اس کو عالموں کے سوا کوئی نہیں سمجھتا۔ اور فرمایا، اور ان لوگوں (کافروں) نے کہا اگر ہم سنتے یا عقل رکھتے تو جہنمی نہ ہوتے۔ اور فرمایا، کیا علم والے اور جاہل برابر ہیں؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔ اور علم تو سیکھنے ہی سے آتا ہے۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر تم اس پر تلوار رکھ دو، اور اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا، اور مجھے گمان ہو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ایک کلمہ سنا ہے، گردن کٹنے سے پہلے بیان کر سکوں گا تو یقیناً میں اسے بیان کر ہی دوں گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حاضر کو چاہیے کہ (میری بات) غائب کو پہنچا دے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت «كونوا ربانيين‏» سے مراد حکماء، فقہاء، علماء ہیں۔ اور «رباني» اس شخص کو کہا جاتا ہے جو بڑے مسائل سے پہلے چھوٹے مسائل سمجھا کر لوگوں کی (علمی) تربیت کرے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

Sahih Muslim Urdu Translation

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 22,500.

Sahih al-Bukhari Urdu Translat

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 25,000.

Mishkat ul Masabih 3 Volume

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.