شرح نهج البلاغة الابن ابى حديد:216/16
حدیث نمبر:6
و كان أبو بكر يأخذ غلتها فيدفع إليهم منها ما يكفيهم و يقسم الباقي و كان عمر كذلك ثم كان عثمان كذلك ثم كان ١ علي كذلك فلما ولي الأمر معاوية بن أبي سفيان أقطع مروان بن الحكم ثلثها و أقطع عمرو بن عثمان بن عفان ثلثها و أقطع يزيد بن معاوية ثلثها و ذلك بعد موت ٢ الحسن بن علي ع فلم يزالوا يتداولونها حتى خلصت كلها لمروان بن الحكم أيام
“اور ابو بکر اس (زمین) کی حاصلات (آمدنی) لیتے تھے اور اس میں سے ان کی ضرورت کے مطابق کا حصہ انہیں دے دیتے تھے اور باقی کو تقسیم کر دیتے تھے، اور عمر کا طرزِ عمل بھی یہی تھا، پھر عثمان کا طرزِ عمل بھی یہی رہا، اور پھر علی (علیہ السلام) کا طرزِ عمل بھی یہی تھا۔
پھر جب معاویہ بن ابی سفیان کو حکومت ملی تو انہوں نے مروان بن حکم کو اس کا ایک تہائی (3/1) حصہ جاگیر کے طور پر دے دیا، عمرو بن عثمان بن عفان کو ایک تہائی حصہ دیا، اور يزيد بن معاوية کو ایک تہائی حصہ دے دیا؛ اور یہ معاملہ حسن بن علی (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ہوا۔ پس وہ اسے آپس میں بدلتے رہے یہاں تک کہ مروان بن حکم کے دنوں میں یہ پوری کی پوری زمین اسی کے پاس چلی گئی۔۔۔”
اس روایت کے برعکس شیعہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فدک کے فیصلے کو باطل قرار دیتے ہیں اور اس پر اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی روایت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں بھی فدک کے بارے میں وہی طرزِ عمل اختیار کیا جو سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کا تھا۔ یہ روایت دیگر شیعہ کتب، جیسے: ﴿الموسوعة الكبرى عن فاطمة الزهراء :514/12﴾،﴿ الكوثر في أحوال فاطمة بنت النبي الأعظم:197/6﴾، ﴿السقيفة وفدك : 103﴾، اور ﴿موسوعة التاريخ الإسلامي :59/4﴾ میں بھی مذکور ہے۔