کتاب: علم کے بیان میں
باب: اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اپنی کسی دوسری بات میں مشغول ہو پس (ادب کا تقاضا ہے کہ) وہ پہلے اپنی بات پوری کر لے پھر پوچھنے والے کو جواب دے۔
احادیث:1
قسم الحديث: قولی
اتصال السند: متصل
قسم الحديث (القائل): مرفوع
حدیث نمبر: 59
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ. ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: سَمِعَ مَا قَالَ، فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ، قَالَ: أَيْنَ أُرَاهُ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ: هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ، قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ".
حدثنا محمد بن سنان، قال: حدثنا فليح. ح وحدثني إبراهيم بن المنذر، قال: حدثنا محمد بن فليح، قال: حدثني ابي، قال: حدثني هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، قال:" بينما النبي صلى الله عليه وسلم في مجلس يحدث القوم جاءه اعرابي، فقال: متى الساعة؟ فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث، فقال بعض القوم: سمع ما قال، فكره ما قال، وقال بعضهم: بل لم يسمع، حتى إذا قضى حديثه، قال: اين اراه السائل عن الساعة؟ قال: ها انا يا رسول الله، قال: فإذا ضيعت الامانة فانتظر الساعة، قال: كيف إضاعتها؟ قال: إذا وسد الامر إلى غير اهله فانتظر الساعة".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک مرتبہ نبی ﷺ مجلس میں لوگوں سے کچھ بیان کر رہے تھے کہ ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ ﷺ (اسے کوئی جواب دیے بغیر) اپنی باتوں میں مصروف رہے۔ (حاضرین میں سے) کچھ لوگ کہنے لگے: آپ نے دیہاتی کی بات کو سن تو لیا ہے لیکن اسے پسند نہیں فرمایا۔ اور بعض کہنے لگے: ایسا نہیں ہے بلکہ آپ نے سنا ہی نہیں۔ جب آپ اپنی گفتگو ختم کر چکے تو فرمایا: ’’قیامت کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟‘‘ دیہاتی نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔‘‘ اس نے دریافت کیا: امانت کس طرح ضائع ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ’’جب (ذمے داری کے) کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔‘‘
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ (فليح بن سليمان الأسلمي) نے بیان کیا، کہا ہلال بن علی نے، انہوں نے عطاء بن یسار سے نقل کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔ بعض لوگ (جو مجلس میں تھے) کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند نہیں کی اور بعض کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باتیں پوری کر چکے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا وہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا اس (دیہاتی) نے کہا (یا رسول اللہ!) میں موجود ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امانت (ایمانداری دنیا سے) اٹھ جائے تو قیامت قائم ہونے کا انتظار کر۔ اس نے کہا ایمانداری اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم
مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں