بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) باب: وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا۔

کتاب: نماز وتر کے مسائل کا بیان
باب: وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا۔
احادیث:1

قسم الحديث: فعلی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 997

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةً عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ".
حدثنا مسدد، قال: حدثنا يحيى، قال: حدثنا هشام، قال: حدثني ابي، عن عائشة، قالت:" كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وانا راقدة معترضة على فراشه، فإذا اراد ان يوتر ايقظني فاوترت".
حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، آپ نے فرمایا: نبی ﷺ تہجد کی نماز پڑھتے رہتے جبکہ میں آپ کے بستر پر لیٹی سوئی ہوتی۔ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے بیدار کر دیتے تو میں وتر پڑھ لیتی۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (تہجد کی) نماز پڑھتے رہتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر عرض میں لیٹی رہتی۔ جب وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم