بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں۔

کتاب: علم کے بیان میں
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں۔
احادیث:1

ترجمۃ الباب

وَقَالَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَعَلِّمُوهُمْ» .
وقال مالك بن الحويرث قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم: «ارجعوا إلى اهليكم، فعلموهم» .
اور مالک بن الحویرث نے فرمایا کہ ہمیں نبی ﷺنے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر انھیں علم ( دین ) سکھاؤ۔
‏‏‏‏ اور مالک بن الحویرث نے فرمایا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر انہیں (دین) علم سکھاؤ۔

قسم الحديث: قولی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 87

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنِ الْوَفْدُ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ، قَالُوا: رَبِيعَةُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى، قَالُوا: إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ،" فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ. قَالَ شُعْبَةُ: رُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ، وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ، قَالَ: احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوهُ مَنْ وَرَاءَكُمْ".
حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا غندر، قال: حدثنا شعبة، عن ابي جمرة، قال: كنت اترجم بين ابن عباس وبين الناس، فقال: إن وفد عبد القيس اتوا النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: من الوفد او من القوم، قالوا: ربيعة، فقال: مرحبا بالقوم او بالوفد غير خزايا ولا ندامى، قالوا: إنا ناتيك من شقة بعيدة وبيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر، ولا نستطيع ان ناتيك إلا في شهر حرام، فمرنا بامر نخبر به من وراءنا ندخل به الجنة،" فامرهم باربع ونهاهم عن اربع، امرهم بالإيمان بالله عز وجل وحده، قال: هل تدرون ما الإيمان بالله وحده؟ قالوا: الله ورسوله اعلم، قال: شهادة ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وتعطوا الخمس من المغنم، ونهاهم عن الدباء والحنتم والمزفت. قال شعبة: ربما قال النقير، وربما قال المقير، قال: احفظوه واخبروه من وراءكم".
حضرت ابوجمرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عباس ؓ اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض انجام دیتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: ’’کون سا وفد ہے یا یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: ربیعہ خاندان سے۔ آپ نے قوم یا وفد کو کہا: ’’خوش آمدید، نہ رسوا ہوئے اور نہ ندامت ہی کی کوئی بات ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ہم بہت دور دراز کی مسافت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے، اس لیے ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں آپ کے پاس نہیں آ سکتے، لہذا آپ ہمیں کوئی ایسا کام بتا دیجیے کہ ہم اپنے پیچھے والوں کو اس سے مطلع کر دیں اور اس کے سبب ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ آپ نے انہیں چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ آپ نے انہیں ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیاَ پھر فرمایا: ’’تم جانتے ہو ایک اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا ہے۔‘‘ اور انہیں دباء، حنتم اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ کبھی کبھی ابوجمرہ نے ان کے ساتھ نقیر کا بھی ذکر کیا اور کبھی مزفت کی جگہ مقیر کہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم انہیں خوب یاد رکھو اور ان لوگوں کو مطلع کرو جو تمہارے پیچھے رہ گئے ہیں۔‘‘
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے غندر نے، ان سے شعبہ نے ابوجمرہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کے فرائض انجام دیتا تھا (ایک مرتبہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون سا وفد ہے؟ یا یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ خاندان (کے لوگ ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مبارک ہو قوم کو (آنا) یا مبارک ہو اس وفد کو (جو کبھی) نہ رسوا ہو نہ شرمندہ ہو (اس کے بعد) انہوں نے عرض کیا کہ ہم ایک دور دراز کونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ (پڑتا) ہے (اس کے خوف کی وجہ سے) ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور ایام میں نہیں آ سکتے۔ اس لیے ہمیں کوئی ایسی (قطعی) بات بتلا دیجیئے کہ جس کی ہم اپنے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو خبر دے دیں۔ (اور) اس کی وجہ سے ہم جنت میں داخل ہو سکیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار سے روک دیا۔ اول انہیں حکم دیا کہ ایک اللہ پر ایمان لائیں۔ (پھر) فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ایک اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ) اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرو اور چار چیزوں سے منع فرمایا، دباء، حنتم، اور مزفت کے استعمال سے۔ اور (چوتھی چیز کے بارے میں) شعبہ کہتے ہیں کہ ابوجمرہ بسا اوقات «نقير» کہتے تھے اور بسا اوقات «مقير‏» ۔ (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان (باتوں کو) یاد رکھو اور اپنے پیچھے (رہ جانے) والوں کو بھی ان کی خبر کر دو۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

متعلقہ مصنوعات

Sahih Muslim Urdu Translation

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 22,500.

Sahih al-Bukhari Urdu Translat

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 28,000.Current price is: ₨ 25,000.

Mishkat ul Masabih 3 Volume

Rated 0 out of 5
(0)

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.