بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(بخاری) مسجد قباء آنا کبھی سواری پر اور کبھی پیدل۔

کتاب: مکہ و مدینہ میں نماز کی فضیلت
باب: مسجد قباء آنا کبھی سواری پر اور کبھی پیدل۔
احادیث:1

قسم الحديث: فعلی

اتصال السند: متصل

قسم الحديث (القائل): مرفوع

حدیث نمبر: 1194

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا"، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله , قال: حدثني نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما , قال:" كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتي مسجد قباء راكبا وماشيا"، زاد ابن نمير، حدثنا عبيد الله، عن نافع فيصلي فيه ركعتين.
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ مسجد قباء پیدل اور سوار ہو کر تشریف لاتے تھے۔ (راوی حدیث) عبداللہ بن نمیر نے نافع سے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ اس میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، اور ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء آتے کبھی پیدل اور کبھی سواری پر۔ ابن نمیر نے اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے عبیداللہ بن عمیر نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
صحیح البخاری کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم