بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

حجیتِ حدیث اور علمِ حدیث کا تعارف

حجیتِ حدیث اور علمِ حدیث کا تعارف

الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونتوب إليه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، وسلم تسليمًا كثيرًا.

أما بعد:

فإن الله بعث محمدًا ﷺ بالهدى ودين الحق، ليظهره على الدين كله، وأنزل عليه الكتاب والحكمة – فالكتاب هو: القرآن، والحكمة هي: السنة -؛ ليبيِّن للناس ما نزل إليهم، ولعلهم يتفكرون فيهتدون ويفلحون.

فالكتاب والسنة هما الأصلان اللذان قامت بهما حجة الله على عباده، واللذان تنبني عليهما الأحكام الاعتقادية والعملية إيجابًا ونفيًا.

والمستدل بالقرآن يحتاج إلى نظر واحد وهو النظر في دلالة النص على الحكم، ولا يحتاج إلى النظر في مسنده؛ لأنه ثابت ثبوتًا قطعيًا بالنقل المتواتر لفظًا ومعنى:

 إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴿سورۃ الحجر: 9

الحمد للہ، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کے شرور اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ آپ پر، آپ کی آل پر، آپ کے صحابہ پر اور جو احسان کے ساتھ قیامت تک ان کی پیروی کریں ان پر رحمتیں نازل فرمائے، اور بہت زیادہ سلامتی عطا کرے۔

اما بعد: بیشک اللہ نے محمد ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، اور اس پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی – کتاب سے مراد قرآن ہے، اور حکمت سے مراد سنت ہے -؛ تاکہ لوگوں کے لیے وہ بیان کرے جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے، اور تاکہ وہ غور و فکر کریں تو ہدایت پائیں اور فلاح حاصل کریں۔

پس کتاب اور سنت وہ دو بنیادی اصول ہیں جن کے ذریعے اللہ کی حجت اپنے بندوں پر قائم ہوئی، اور جن پر اعتقادی اور عملی احکام، اثبات و نفی کے اعتبار سے مبنی ہیں۔

اور قرآن سے استدلال کرنے والے کو صرف ایک نظر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ نص کی حکم پر دلالت میں غور کرنا ہے، اسے اس کی سند میں غور کرنے کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ یہ لفظاً اور معناً تواتر کے ساتھ نقل ہونے کی وجہ سے قطعی الثبوت ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

 بیشک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ﴿سورۃ الحجر: 9

اور سنت سے استدلال کرنے والے کو دو نظروں (غور و فکر) کی ضرورت ہوتی ہے:

پہلی: اس بات میں غور کرنا کہ آیا وہ نبی ﷺ سے ثابت ہے یا نہیں؛ کیونکہ ہر وہ چیز جو آپ ﷺ کی طرف منسوب کی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ دوسری: نص کی حکم پر دلالت میں غور کرنا۔

اور پہلی نظر کی وجہ سے کچھ قواعد وضع کرنے کی ضرورت پیش آئی؛ تاکہ نبی ﷺ کی طرف منسوب باتوں میں سے مقبول کو مردود سے ممیز (الگ) کیا جا سکے۔ اور علماء – رحمہم اللہ – نے یہ کام سرانجام دیا اور اسے “مصطلح الحدیث” کا نام دیا۔

قال العِراقيُّ: فهو عِلمٌ يُعرَفُ به حالُ الراوي والمَرويِّ من حيثُ القَبولُ والردُّ، وما يتعلقُ بذلك من مَعرفة اصطلاحِ أهلِه

حافظ عراقی نے فرمایا: یہ وہ علم ہے جس کے ذریعے راوی اور مروی (روایت) کے حال کو قبول اور رد کے اعتبار سے پہچانا جاتا ہے، اور اس سے متعلق اہل علم کی اصطلاحات کی معرفت حاصل کی جاتی ہے۔

 ﴿شرح التبصرة والتذكرة الفيہ العراقي 97:1﴿منتهى الرغبہ في حل ألفاظ النخبہ:113/1

علم اُصولِ حدیث تمام علوم میں سے اہم اور دقیق علم ہے جیسا کہ علامہ نوویؒ نے صحیح مسلم کی شرح کے مقدمہ میں کہا ہے۔ ﴿شرح النووی علی مسلم: 1/9، مکتبہ البشری

 اور علم الرجال نصف علم ہے جیسا کہ امام علی بن المدینیؒ نے کہا ہے۔ ﴿المحدث الفاصل بین الراوی والواعی: ص325 رقم: 204

حدیث وحی ہے:

 دینِ اسلام میں قرآن و حدیث دونوں حجت ہیں اور دونوں وحی ہیں، قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وحی متلو (وحی جلی) ہے جبکہ حدیث نبی ﷺ کا فعل و فرمان اور وحی غیر متلو وحی خفی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ’’اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے بیان کر دیں جو نازل کیا گیا ہے اور شاید وہ غور و فکر کریں۔‘‘﴿سورۃ النحل: 44

دوسرے مقام پر فرمایا: ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴿سورۃ القيامہ: 19 ’’پھر اس کا بیان ہمارے ذمہ ہے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وإنما كان الذي أوتيت وحيا أوحاه الله إلي ’’مجھے جو دیا گیا ہے وہ وحی ہے جسے اللہ نے مجھ پر نازل فرمایا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 7327، صحیح مسلم: 152

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: فأوحي إلي أنكم تفتنون في قبوركم ’’پس میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جاتا ہے۔‘‘ ﴿صحیح بخاری: 86

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:وإن الله أوحى إلي ان تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد ولا يبغي أحد على أحد” اور بے شک اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ (لوگو!) تواضع اختیار کرو حتیٰ کہ کوئی کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے۔” ﴿صحیح مسلم: 2865

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ألا إني أوتيت الكتاب ومثله معه “سن لو! مجھے کتاب اور اس کی مثل (وحیِ حدیث) عطا کی گئی ہے۔” اس میں “مثل” سے مراد وحیِ غیر متلو (یعنی حدیث) ہے۔ ﴿ عون المعبود ج 4 ص 328، ح: 4604

مشہور ثقہ تابعی حسن بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “کان جبريل ينزل على رسول اللہ ﷺ بالسنة كما ينزل عليه بالقران ويعلمه إياه كما يعلمه القران” جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس سنت (حدیث) لے کر ایسے نازل ہوتے جیسے قرآن لے کر نازل ہوتے تھے اور وہ آپ کو جس طرح قرآن سکھاتے، اُسی طرح یہ بھی (سنت/حدیث) سکھاتے تھے۔ ﴿السنۃ للامام محمد بن نصر المروزی: 102، وسندہ صحیح

واللہ اعلم بالصواب

تحقیق و تدوین

فیضان ظفر

حسنین

حسنین متبع ٹیم (Muttabi Team) کے رکن اور محقق ہیں۔آپ تقابلِ ادیان، بین المسالک اختلافات اور علمی ردود کے محقق ہیں۔

متعلقہ مصنوعات

No product found.