بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحیفہ ہمام بن منبہ) روزے کی فضیلت

متفرق ابواب
باب: روزے کی فضیلت
احادیث:1

حدیث نمبر: 16

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمًا أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلا يَجْهَلْ وَلا يَرْفُثْ، فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الصيام جنة، فإذا كان يوما احدكم صائما فلا يجهل ولا يرفث، فإن امرؤ قاتله او شاتمه فليقل: إني صائم، إني صائم"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "روزہ ڈھال ہے، پس اگر تم میں سے کوئی شخص کسی دن روزہ دار ہو، نہ تو جہالت سے پیش آئے اور نہ ہی فحش کلامی کرے۔ پس اگر کوئی شخص اس سے لڑائی کرے یا اسے گالی دے تو اس (روزہ دار) کو چاہیے کہ (جواباً) کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

    ویڈیوز
    شرعی مسائل کا حل

    کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم