صحيفه همام بن منبه ہوم-صحيفه همام بن منبه Search Search متفرق ابواب باب نمبر1: امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کی فضیلت۔ باب نمبر2: محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ باب نمبر3: بخیل اور سخی کی تمثیل۔ باب نمبر4: حضور صلی اللہ علیہ وسلم امت کو جہنم کی آگ سے بچاتے ہیں۔ باب نمبر5: جنت کے درخت کا سایہ۔ باب نمبر6: حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت۔ باب نمبر7: جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی۔ باب نمبر8: فجر اور عصر کی نمازوں کی فضلیت۔ باب نمبر9: فرشتون کی نمازی کے لیے دعا۔ باب نمبر10: نماز میں آمین کہنے پر سابقہ گناہوں کی معافی۔ باب نمبر11: قربانی کے جانور پر سواری کی اجازت۔ باب نمبر12: کم ہسنا اور زیادہ رونا۔ باب نمبر13: چہرے پر مارنے کی ممانعت۔ باب نمبر14: دوزخ کی آگ شدت میں دنیاوی آگ سے 70 گنا زیادہ ہے۔ باب نمبر15: اللہ عزوجل کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ باب نمبر16: روزے کی فضیلت۔ باب نمبر17: روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے۔ باب نمبر18: ایک نبی کا چیونٹیوں کا جلانا۔ باب نمبر19: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق جہاد فی سبیل اللہ۔ باب نمبر20: ہر نبی کے لیے ایک دعائے مستجاب۔ باب نمبر21: اللہ سے ملاقات کی چاہت۔ باب نمبر22: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، اللہ کی اطاعت۔ باب نمبر23: قیامت کی نشانیاں۔ باب نمبر24: قیامت کی نشانی، دو بڑی جماعتوں کی جنگ۔ باب نمبر25: قیامت سے پہلے تیس جھوٹے نبیوں کا ظہور۔ باب نمبر26: قیامت کی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ باب نمبر27: اذان سن کر شیطان بھاگ جاتا ہے۔ باب نمبر28: اللہ کا ہاتھ بڑی سخاوت والا ہے۔ باب نمبر29: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر صحابی کی محبت۔ باب نمبر30: قیصر و کسریٰ کی ہلاکت کی پشین گوئی اور لڑائی مکر و فریب کا نام ہے۔ باب نمبر31: نیکوکار لوگوں کے لیے جنت میں عجیب و غریب نعمتیں۔ باب نمبر32: کثرت سوال سے پرہیز۔ باب نمبر33: جنبی کے لیے روزے کا حکم۔ باب نمبر34: اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ۔ باب نمبر35: مالدار کی بجائے غریب کو دیکھو۔ باب نمبر36: جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس جھوٹے برتن کی پاکی۔ باب نمبر37: نماز باجماعت کی تاکید اور سستی کرنے والوں کے لیے وعید شدید۔ باب نمبر38: ایک جوتا پہن کر چلنے کی ممانعت۔ باب نمبر39: نذر تقدیر کو نہیں ٹالتی، البتہ نذر ماننے سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے۔ باب نمبر40: انفاق فی سبیل للہ کی برکت۔ باب نمبر41: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ایک چور کا واقعہ۔ باب نمبر42: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن پر رعب عطا ہوا تھا۔ باب نمبر43: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے خزانچی ہیں۔ باب نمبر44: امام کی اقتداء ضروری ہے۔ باب نمبر45: انماز میں صف بندی کا حکم۔ باب نمبر46: سیدنا آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ اسلام کے درمیان مباحثہ۔ باب نمبر47: سیدنا ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیوں کی برکھا۔ باب نمبر48: سیدنا دواؤد علیہ السلام کا زبور پڑھنا اور اپنے ہاتھوں کی کمائی کھانا۔ باب نمبر49: اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ باب نمبر50: کون کسے سلام کرے۔ باب نمبر51: کفار کے ساتھ جہاد و قتال کا حکم۔ باب نمبر52: جنت اور دوزخ کے مابین مباحثہ۔ باب نمبر53: استنجا کرتے وقت طاق ڈھیلے استعمال کرو۔ باب نمبر54:ایک نیکی کا ثواب دس نیکیاں۔ باب نمبر55: جنت کی معمولی جگہ کی قدر و قیمت ساری دنیا سے بہتر ہے۔ باب نمبر56: جنت کا سب سے کم درجہ۔ باب نمبر57: انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضلیت۔ باب نمبر58: اگر بنی اسائیل اور حواء نہ ہوتیں تو۔ باب نمبر59: سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق اور سلام کا طریقہ۔ باب نمبر60: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے موت کے فرشتے کی آنکھ پھوڑ دی۔