بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق جہاد فی سبیل اللہ

متفرق ابواب
باب: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق جہاد فی سبیل اللہ
احادیث:1

حدیث نمبر: 19

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" والذي نفس محمد بيده، لولا ان اشق على المؤمنين، ما قعدت خلف سرية تغزو في سبيل الله، ولكن لا اجد سعة فاحملهم، ولا يجدون سعة فيتبعوني، ولا تطيب انفسهم ان يقعدوا بعدي"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے مومنوں پر دشواری کا احتمال نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والی کسی جماعت سے پیچھے نہ بیٹھتا۔ لیکن خود میرے پاس اتنی وسعت نہیں کہ میں ان سب کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلوں، اور انہیں بھی اتنی سواریاں میسر نہیں کہ وہ ان پر سوار ہو کر میرے ساتھ چلیں، اور نہ وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ میرے (جانے کے بعد) وہ پیچھے بیٹھے رہیں۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم