بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) ایک نیکی کا سات سو گناہ تک بڑھنا

متفرق ابواب
باب: ایک نیکی کا سات سو گناہ تک بڑھنا
احادیث:1

حدیث نمبر: 104

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلامَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا احسن احدكم إسلامه، فكل حسنة يعملها تكتب بعشر امثالها إلى سبع مائة ضعف، وكل سيئة يعملها تكتب له بمثلها حتى يلقى الله عز وجل"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اسلام کو (نیکی و اطاعت سے) اچھا بناتا ہے تو اس کی ہر نیکی جس پر وہ عمل پیرا ہوتا ہے، دس سے لے کر سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور اس کا ہر گناہ جس پر وہ عمل میں لاتا ہے اس گناہ کی مثل (یعنی صرف ایک گناہ) لکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملتا ہے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم