بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) بنی اسرائیل کی ایک نافرمانی کا بیان

متفرق ابواب
باب: بنی اسرائیل کی ایک نافرمانی کا بیان
احادیث:1

حدیث نمبر: 116

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ يَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ، فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، وَقَالُوا: حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قيل لبني إسرائيل ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة يغفر لكم خطاياكم، فبدلوا فدخلوا الباب يزحفون على استاههم، وقالوا: حبة في شعرة"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ دروازے سے سجدہ کی حالت میں داخل ہوں اور (ساتھ میں) یہ کہتے آؤ (اے اللہ!) ہماری مغفرت فرما دے (تاکہ تمہارے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں) لیکن انہوں نے اس میں تبدیلی کر ڈالی، چنانچہ وہ (بجائے سجدہ کرنے کے) اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے اور انہوں نے «حطة» کی بجائے «حبة في شعيرة» (جو میں گیہوں) کہا۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم