بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت

متفرق ابواب
باب: حسد اور پیٹھ پیچھے برائی کی ممانعت
احادیث:1

حدیث نمبر: 6

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلا تَنَاجَشُوا، وَلا تَحَاسَدُوا، وَلا تَنَافَسُوا، وَلا تَبَاغَضُوا، وَلا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إياكم والظن، إياكم والظن، إياكم والظن، فإن الظن اكذب الحديث، ولا تناجشوا، ولا تحاسدوا، ولا تنافسوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا"
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی سے بچتے رہو، کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، اور (بغیر نیت خرید کے) کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ، اور آپس میں حسد نہ کرو، اور نہ نفسانیت سے ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اور آپس میں دشمنی پیدا نہ کرو، اور کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔"
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم