بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) امام نماز میں تخفیف کرے

متفرق ابواب
باب: امام نماز میں تخفیف کرے
احادیث:1

حدیث نمبر: 105

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ، فَلْيُخَفِّفِ الصَّلاةَ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ وَفِيهِمُ السَّقِيمَ، وَإِنْ قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلاتَهُ مَا شَاءَ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا ام احدكم للناس، فليخفف الصلاة، فإن فيهم الكبير وفيهم الضعيف وفيهم السقيم، وإن قام وحده فليطل صلاته ما شاء"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب تم سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ وہ نماز میں اختصار کرے، کیونکہ مقتدیوں میں بعض بوڑھے، بعض کمزور اور بعض بیمار ہوتے ہیں، اور اگر وہ تنہا نماز پڑھے تو جس قدر چاہے لمبی نماز پڑھے۔”
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم