بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت

متفرق ابواب
باب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت
احادیث:1

حدیث نمبر: 87

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَهُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا صَلاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اللهم إني اتخذ عندك عهدا لن تخلفه، إنما انا بشر، فاي المؤمنين آذيته او شتمته او جلدته او لعنته، فاجعلها صلاة وزكاة وقربة تقربه بها يوم القيامة"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اے اللہ! میں تجھ سے عہد لیتا ہوں، جس کی ہرگز تو خلاف ورزی نہیں کرے گا، میں تو ایک بشر (انسان) ہوں، چناچہ میں نے جس کسی مومن کو تکلیف پہنچائی ہو، یا برا بھلا کہا ہو، یا سزا دی ہو، یا لعن طعن کی ہو، تو یہ (سب) اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور قرب کا ذریعہ بنا جس سے تو اسے روز قیامت اپنے قریب کر لے۔”
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟ غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89) واللہ اعلم