بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) حقیقی مسکین کون ہے

متفرق ابواب
باب: حقیقی مسکین کون ہے
احادیث:1

حدیث نمبر: 75

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ هَذَا الطَّوَّافَ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي لا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَيَسْتَحْيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليس المسكين هذا الطواف الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان، إنما المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه، ويستحيي ان يسال الناس، ولا يفطن له فيتصدق عليه"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”در در گھومنے والا، جو لوگوں کے پاس چکر لگاتا اور جو لقمہ دو لقمے اور کھجور دو کھجور لے کر واپس چلا جاتا ہے وہ مسکین نہیں ہے۔ بلکہ اصل مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکے اور لوگوں سے سوال کرنے میں حیا محسوس کرتا ہے، نیز (اس کی ظاہری کیفیت سے مسکینی) محسوس نہیں ہوتی، کہ اس پر صدقہ کیا جا سکے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم