بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

(صحيفه همام بن منبه) اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ پر خوش ہوتا ہے

متفرق ابواب
باب: اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ پر خوش ہوتا ہے
احادیث:1

حدیث نمبر: 80

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا ضَلَّتْ مِنْهُ ثُمَّ وَجَدَهَا؟" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ مِنْ أَحَدِكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا وَجَدَهَا"
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ايفرح احدكم براحلته إذا ضلت منه ثم وجدها؟" قالوا: نعم يا رسول الله، قال:" والذي نفس محمد بيده، لله اشد فرحا بتوبة عبده إذا تاب من احدكم براحلته إذا وجدها"
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی شخص کی سواری گم ہو جائے پھر وہ اسے پا لے تو اسے خوشی ہوتی ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم گمشدہ سواری پا لینے پر جتنے خوش ہوتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے کئی گنا زیادہ خوش ہوتا ہے۔“
صحيفه همام بن منبه کی تمام احادیث صحیح ہیں۔
حدیث کا حکم

مزید تخریج الحدیث اور شرح دیکھیں

ویڈیوز
شرعی مسائل کا حل

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟ دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔ واللہ اعلم